خاندان کے سائز کا تعیّن کسے کرنا چاہئے؟
برازیل میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
صرف تین دن کے، لڑکے کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کر زمیندوز سٹیشن پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ لیکن ایک برازیلی اخبار نے لکھا کہ متعدد خاندانوں نے بچے کو گود لینے کی پیشکش کی۔
اگرچہ اس قسم کا مخصوص واقعہ شاذونادر ہی واقع ہوتا ہے، ناخواستہ اور بےسہارا چھوڑے ہوئے بچوں کی تعداد پوری دُنیا میں بڑھ رہی ہے۔ اکثر فرضشناس والدین کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کیا مانعِحمل اسکا حل ہے؟ کیا اپنے خاندان کے سائز کی منصوبہسازی کرنا غلط ہوگا؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، پوری دُنیا میں تقریباً ۵۰ فیصد حمل منصوبہبندی کے بغیر ہوتے ہیں۔ اکثر حمل نہ صرف منصوبہبندی کے بغیر ہوتے ہیں بلکہ ناخواستہ بھی ہوتے ہیں۔
بہتیرے صحت، رہائش یا ملازمت کے مسائل کی بِنا پر حمل سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا، برتھ کنٹرول گولیوں یا کنڈومز جیسے مانعِحمل طریقے بہت عام ہیں۔ اسقاط اور ناقابلِتولید بنا دیئے جانے کو بھی برتھ کنٹرول کے طریقوں کے طور پر استعمال کِیا جاتا ہے۔ برازیل میں اسقاط کی بابت، اخبار او ایسٹاڈو ڈی ایس. پاؤلو نے رپورٹ دی: ”ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ برازیل میں ہر سال ۱۳ ملین حاملہ خواتین میں سے ۵ ملین خفیہ طور پر حمل گِرا دیتی ہیں۔“ نیز، ٹائم میگزین نے بھی رپورٹ دی کہ بچے پیدا کرنے کی عمر والی عورتیں جو شریکِحیات کیساتھ رہتی ہیں اُنکا ۷۱ فیصد برتھ کنٹرول کو عمل میں لاتا ہے۔ ان میں سے ۴۱ فیصد گولیاں استعمال کرتی ہیں اور ۴۴ فیصد ناقابلِتولید کر دی گئی ہیں۔
ایک سروے ظاہر کرتا ہے کہ ۷۵ فیصد برازیلی یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کی تعداد کی منصوبہبندی کرنا ضروری ہے۔ دیگر مُقدر پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ خدا کی مرضی ہے کہ خاندان میں ’اُتنے بچے ہونے چاہئیں جتنے خدا دیتا ہے‘۔ خاندان کے سائز کا تعیّن کسے کرنا چاہئے—بیاہتا جوڑے کو یا پھر قومی یا مذہبی مفادات کو؟
برتھ کنٹرول—مَابہالنزاع کیوں؟
موقتی طریقے کی اجازت دینے کے باوجود، رومن کیتھولک چرچ، برازیل کا سب سے بڑا مذہب، مانعِحمل کے طریقوں پر اعتراض کرتا ہے، خواہ وہ اسقاطی ہیں یا نہیں۔ پوپ پال ششم نے بیان کِیا: ”ہر ازدواجی فعل کیلئے [لازم] ہے کہ زندگی منتقل کرنے کیلئے تیار ہو۔“ پوپ جان پال دوئم نے کہا: ”مانعِحمل، جسے واقعیتپسندانہ خیال کِیا جاتا ہے، اس قدر ناجائز فعل ہے کہ کبھی بھی، کسی بھی وجہ سے اسکی توجیہ نہیں ہو سکتی۔“ نتیجتاً، بہتیرے کیتھولک، مانعِحمل کو گناہ خیال کرتے ہوئے، اپنے خاندان کے سائز پر پابندی لگانے سے ہچکچاتے ہیں۔
اس کے برعکس، میڈیکل جرنل لنسِٹ بیان کرتا ہے: ”لاکھوں افراد اپنی زندگیاں بغیر پڑھے لکھے، بیروزگاری، ناموافق رہائش اور بنیادی صحت، صفائی کی سہولتوں کے بغیر گزار دیتے ہیں اور آبادی میں بےقابو اضافہ بنیادی سبب ہے۔“ لہٰذا، حد سے زیادہ آبادی اور غربت کے خوف سے حکومتیں، چرچ کے اعتراضات کے باوجود، خاندانی منصوبہبندی کی حوصلہافزائی کرتی ہیں۔ مثلاً، ”کوسٹاریکا نے بچوں کی اوسط تعداد [فی خاندان] ۷ سے ۳ تک کم کر دی ہے،“ ماہرِحیاتیات پال ہیرلخ بیان کرتا ہے۔
یواین اشاعت فیکٹس فار لائف—اے کمیونیکیشن چیلنج بیان کرتی ہے: ”جب ایک عورت کے چار بچے ہو جاتے ہیں تو مزید حمل ماں اور بچے دونوں کی زندگی اور صحت کیلئے بڑے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ خاص طور پر اگر گذشتہ پیدائشوں میں دو سال سے زیادہ کا وقفہ نہیں دیا گیا ہے تو بار بار کے حمل، بچے کی پیدائش، چھاتی سے دُودھ پلانے اور چھوٹے بچوں کی دیکھبھال کرنے کی وجہ سے ایک عورت کا جسم بڑی آسانی سے تھکن کا شکار ہو سکتا ہے۔“
بالخصوص افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے دیہی علاقوں میں جہاں بچوں کی شرحِاموات بہت زیادہ ہے، ابھی تک بڑے خاندانوں کا رواج ہے۔ کیوں؟ بہتیرے مانعِحمل طریقوں سے واقف نہیں ہیں۔ بعض علاقوں میں ایک عنصر یہ بھی ہو سکتا ہے، جیسےکہ ایک قانوندان نے بیان کِیا، ”ابھی بھی ایک مرد صرف اسی صورت میں خود کو ایک حقیقی مرد سمجھتا ہے اگر اُس کی بیوی ہر سال حاملہ ہوتی ہے۔“ جرنل ڈا ٹارڈی بالخصوص عورت کے نقطۂنظر سے، ایک اَور ممکنہ عنصر کا ذکر کرتا ہے: ”بچے اُنکی شاذونادر خوشی کے ذرائع میں سے ایک ہیں اور شخصی کامیابی کے احساس کا باعث بنتے ہیں۔“ مزیدبرآں، برازیل میں ماحولیات کے سابق سیکریٹری، پاؤلو نوگار نیٹو نے بیان کِیا: ”بچہ غریب لوگوں کے بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔“
بائبل کیا کہتی ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا کا کلام، بائبل، خاندان کے سائز کا تعیّن کرنے کا اختیار شوہر اور بیوی کو دیتی ہے؟ نیز یہ بیان کرتی ہے کہ شادی جائز ہے، خواہ یہ اولاد پیدا کرنے یا باعزت جنسی صحبت کے ذریعے محبت ظاہر کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳-۵؛ عبرانیوں ۱۳:۴۔
لیکن کیا خدا نے فردوس میں آدم اور حوا کو یہ حکم نہیں دیا تھا ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو“؟ (پیدایش ۱:۲۸) جیہاں، تاہم بائبل میں ایسی کوئی بات نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ ہم ابھی تک اُسی حکم کے تحت ہیں۔ مصنف ریکارڈو لیزکانو نے ظاہر کِیا: ”[کروڑوں] انسانوں پر اُسی فارمولے کو عائد کرنا جو کرۂارض کے صرف دو انسانوں پر عائد کِیا گیا تھا کسی حد تک نامعقول دکھائی دیتا ہے۔“ اگر یہ فیصلہ بھی کِیا جاتا ہے کہ اولاد پیدا نہ کریں تو یہ بھی ذاتی انتخاب ہے جسکا احترام کِیا جانا چاہئے۔
دلچسپی کی بات ہے کہ نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کا نظریہ بائبل پر مبنی ہے۔ یہ بیان کرتا ہے: ”برتھ کنٹرول کے علاوہ، جسے وہ جوڑے کے ذاتی فیصلے پر چھوڑ دیتے ہیں، اُنکے ازدواجی اور جنسی اخلاقی اصول کافی سخت ہیں۔“ یہ مزید بیان کرتا ہے: ”وہ بائبل کو اپنے عقائد اور چالچلن کے ضابطے کا واحد ماخذ سمجھتے ہیں۔“
کیا خاندان کے سائز کو محدود رکھنے کے تمام طریقے معقول ہیں؟ نہیں۔ چونکہ زندگی مُقدس ہے، خدا کی شریعت نے اسرائیل کو حکم دیا کہ جو کوئی اسقاطِحمل کرائے اُسے قاتل سمجھا جائے۔ (خروج ۲۰:۱۳؛ ۲۱:۲۲، ۲۳) نسبندی کے ذریعے ناقابلِتولید بنا دیئے جانے کے سلسلے میں، فیصلہ ذاتی ضمیر پر منحصر ہے چونکہ بائبل میں اسکا بِلاواسطہ ذکر نہیں کِیا گیا ہے۔ ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“ (گلتیوں ۶:۵)a اور جیسےکہ برتھ کنٹرول کے مختلف طریقے ہیں، طبّی راہنمائی ایک جوڑے کیلئے مدد فراہم کر سکتی ہے کہ آیا وہ کسی مخصوص طریقے کو استعمال کرنا پسند کرینگے یا نہیں۔
ایسے فیصلے کریں جن پر آپ قائم رہ سکیں
زندگی میں ہر چیز کا منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن کیا آپ گھر یا ایک کار کو ان سے متعلقہ چیزوں پر سنجیدہ توجہ دئے بغیر خریدیں گے؟ کار یا گھر دوبارہ فروخت کِیا جا سکتا ہے لیکن بچے ناقابلِواپسی ہیں۔ توپھر حمل کا منصوبہ بناتے وقت، کیا شوہر اور بیوی کی ضروریاتِزندگی فراہم کرنے کی استعداد پر غور نہیں کِیا جانا چاہئے؟
یقیناً، ہم یہ نہیں چاہینگے کہ ہمارا خاندان خوراک کی کمی کا شکار رہے، نہ ہی ہم دوسروں پر بوجھ بننا چاہینگے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸) اس کیساتھ ساتھ، خوراک اور رہائش کے علاوہ، بچوں کو تعلیم، اخلاقی اقدار اور محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
کام، پیسے اور صبر کے سلسلے میں جوکچھ درکار ہے اس کا اندازہ لگانے کے علاوہ، بیوی کی صحت پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ حمل کے وقت کا دانشمندی سے تعیّن کرنا زندگیاں بچاتا اور اچھی صحت کو فروغ دیتا ہے۔ فیکٹس فار لائف کہتا ہے: ”ماں اور بچے دونوں کے لئے حمل اور بچے کی پیدائش کے خطرات کو کم کرنے کے انتہائی مؤثر طریقوں میں سے ایک پیدائش کے وقت کا تعیّن کرنا ہے۔ زچگی میں اُس وقت خطرات زیادہ ہوتے ہیں جب ماں بننے والی عورت ۱۸ سے کم یا ۳۵ سے اُوپر ہو، یا اس سے پہلے چار یا اس سے زیادہ مرتبہ حاملہ ہو چکی ہو یا جب اس سے پہلے والے بچے میں وقفہ دو سال سے کم ہو۔“
بچے پیدا کرنے کی بابت سوچنے والے جوڑوں کو اس چیز پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جیسے بائبل نے پیشگوئی کی تھی، ہم جُرم، قحط، جنگ اور معاشی بحران سے پُر دُنیا میں رہتے ہیں۔ (متی ۲۴:۳-۱۲؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳؛ مکاشفہ ۶:۵، ۶) اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ جس دَور میں ہم رہتے ہیں اس میں بچوں کی پرورش کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، بچوں کیلئے حقیقی پیار جوڑوں کو اس دُنیا کی بابت حقیقتپسند بننے میں مدد دیگا جس میں ہم رہتے ہیں۔ لہٰذا چیزوں کو واقع ہونے دینے اور اس اُمید پر کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا، بہت زیادہ بچے پیدا کرتے رہنے کی بجائے، بہتیرے اس بات کا انتخاب کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ اُنکا خاندان کتنا بڑا ہو تاکہ اُنکی اولاد بڑی حد تک خوشی اور تحفظ سے لطفاندوز ہو سکے۔
خاندانی امور کی بابت دانشمندانہ فیصلے کرنے میں مدد دینے کے علاوہ، خدا کا کلام ہمیں مستقبل کی بابت پُختہ اُمید فراہم کرتا ہے۔ بائبل بتاتی ہے کہ انسانوں کیلئے خالق کا یہ مقصد ہے کہ وہ فردوسی زمین پر اَمن اور خوشی کیساتھ ابد تک زندہ رہیں۔ اسے سرانجام دینے کیلئے، خدا جلد ہی اس شریر نظاماُلعمل کو ختم کر دیگا۔ اسکے بعد، غربت اور بہت زیادہ آبادی سے پاک راستباز نئی دُنیا میں، بچوں کو کبھی بھی ناخواستہ خیال کرتے ہوئے پھینکا نہیں جائیگا۔—یسعیاہ ۴۵:۱۸؛ ۶۵:۱۷، ۲۰-۲۵؛ متی ۶:۹، ۱۰۔
واضح طور پر، ایک دوسرے اور بچوں کے لئے فکرمندی، اسکے علاوہ افزائشِنسل کی بابت متوازن نظریہ، ایک جوڑے کو اپنے خاندان کے سائز کا تعیّن کرنے میں مدد دیگا۔ معاملات کو کسی بھی منصوبے کے بغیر واقع ہونے دینے کی بجائے، اُنہیں دُعائیہ طور پر یہوواہ کی راہنمائی کے متلاشی ہونا چاہئے۔ ”خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اُسکے ساتھ دُکھ نہیں ملاتا۔“—امثال ۱۰:۲۲۔
[فٹنوٹ]
a مئی ۱، ۱۹۸۵ کے واچٹاور کے صفحہ ۳۱ کو دیکھیں۔
[صفحہ 21 پر تصویر]
لاکھوں بچے بےسہارا چھوڑ دئے جاتے ہیں
[صفحہ 31 پر تصویر]
بچوں کو پُرمحبت نگہداشت کی ضرورت ہے