یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏1 ص.‏ 6-‏8
  • جرم کا خاتمہ کرنے کیلئے کوشاں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جرم کا خاتمہ کرنے کیلئے کوشاں
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا یہ نظریہ انتہائی منفی ہے؟‏
  • حکومتیں کوشش کر رہی ہیں
  • اعتماد کھونا
  • کیا کوئی مُلک جُرم سے پاک ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1997ء
  • آخرکار–‏ایک حکومت جُرم کا خاتمہ کریگی
    جاگو!‏—‏1997ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏1 ص.‏ 6-‏8

جرم کا خاتمہ کرنے کیلئے کوشاں

‏”‏نوجوان دعویٰ کرتے ہیں کہ نوعمروں میں جُرم کی بنیادی وجہ اُکتاہٹ ہے،“‏ ایک مشہور برطانوی اخبار کی شہ سُرخی نے بیان کِیا۔ ”‏گھریلو جھگڑا بڑھتے ہوئے جُرم کیلئے موردِالزام،“‏ ایک دوسرے اخبار نے بیان کِیا۔ اور ایک تیسرے نے بیان کِیا:‏ ”‏نشہ‌بازیاں ’‏ہزاروں جرائم کو ہوا دیتی ہے۔‘‏“‏ رسالے فلپائن پینوراما نے تخمینہ لگایا کہ منیلا میں تمام متشدّد جرائم میں سے ۷۵ فیصد کے مرتکب منشیات کا ناجائز استعمال کرنے والے لوگ تھے۔‏

دیگر عناصر بھی مجرمانہ طرزِعمل کو بھڑکانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ”‏غربت بالمقابل دولت“‏ ایک عنصر ہے جس کی نشاندہی نائجیریا کے پولیس کے انسپکٹر جنرل نے کی۔ ہمسروں کا دباؤ اور ملازمت کے امکانات کا فقدان، ٹھوس قانونی سدِراہ کی عدم‌موجودگی، خاندانی اقدار میں عام تنزلی، اختیار اور قانون کیلئے احترام کی کمی اور فلمز اور ویڈیوز میں بہت زیادہ تشدد بھی قابلِ‌ذکر ہیں۔‏

ایک دوسرا عنصر یہ ہے کہ بہت سے لوگ اب یہ یقین نہیں رکھتے کہ جُرم نفع‌بخش نہیں ہے۔ اٹلی میں بولوگنا یونیورسٹی کے ماہرِعمرانیات نے مشاہدہ کِیا کہ کئی سالوں کے دوران ”‏پولیس کو جن چوریوں کی رپورٹ موصول ہوئی اُن کی تعداد میں تو اضافہ ہوا مگر ان کے لئے سزا بہت کم لوگوں کو دی گئی۔“‏ اُس نے بیان کِیا کہ ”‏رپورٹ کی جانے والی چوریوں کی مجموعی تعداد کے متناسب اقبالِ‌جرم کی تعداد ۵۰ سے کم ہو کر ۷.‏۰ فیصد ہو گئی ہے۔“‏

دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے الفاظ افسوسناک مگر سچ ہیں:‏ ”‏بڑھتا ہوا جُرم تمام جدید صنعتی معاشروں کا نمایاں حصہ دکھائی دیتا ہے اور ملکی یا تعزیری قوانین میں نت‌نئی تبدیلیوں کا بھی اس مسئلے پر کوئی خاطرخواہ اثر نہیں ہوا۔ .‏ .‏ .‏ جدید شہری معاشرے کیلئے جس میں معاشی ترقی اور ذاتی کامیابی نمایاں اقدار ہیں، یہ فرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ جُرم کی شرح میں مسلسل اضافہ نہیں ہوگا۔“‏

کیا یہ نظریہ انتہائی منفی ہے؟‏

کیا حالت واقعی اسقدر خراب ہے؟ کیا بعض علاقوں سے جُرم میں کمی کی رپورٹ موصول نہیں ہوتی؟ سچ ہے کہ بعض علاقوں میں ایسا ہے لیکن اعدادوشمار گمراہ‌کُن ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ رپورٹ دی گئی کہ اسلحے پر پابندی کے بعد فلپائن میں جُرم میں ۲۰ فیصد کمی واقع ہوئی۔ لیکن ایشیاویک نے وضاحت کی کہ ایک اہلکار تسلیم کرتا ہے کہ کار چوروں اور بینک لوٹنے والوں نے اب کاریں چرانا اور بینک لوٹنے چھوڑ دئے ہیں اور ”‏اغوا کرنے کی طرف رُخ موڑ“‏ لیا ہے۔ بینک لوٹنے اور کار چوریوں میں کمی جُرم کے مجموعی واقعات میں کمی کا باعث ہوئی ہے لیکن اغواؤں میں چار گُنا اضافے کے پیشِ‌نظر یہ کمی اپنی اہمیت کھو بیٹھی!‏

ہنگری کی بابت رپورٹ پیش کرتے ہوئے، رسالے ایچ‌وی‌جی نے لکھا:‏ ”‏۱۹۹۳ کے پہلے نصف حصے کی نسبت جُرم کی تعداد ۲.‏۶ فیصد کم ہو گئی ہے۔ پولیس جس چیز کا ذکر کرنا بھول گئی وہ یہ ہے کہ کمی .‏ .‏ .‏ بنیادی طور پر انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔“‏ مالی سطح جس کی بنیاد پر چوری، فراڈ یا تہذیب‌سوزی کے مقدمے پہلے درج کئے جاتے تھے اُس میں ۲۵۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا جائیداد سے متعلق جرائم جنکی مالیت اس سطح سے کم ہے اب درج نہیں کئے جاتے۔ چونکہ مُلک میں جائیداد سے متعلق جرائم تمام جُرم کا تین چوتھائی ہیں اسلئے کمی بمشکل ہی حقیقی تھی۔‏

جُرم کے صحیح اعدادوشمار تک پہنچنا واقعی مشکل ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ بہت سے جُرائم—‏شاید بعض حلقوں میں ۹۰ فیصد—‏کا اندراج ہی نہیں ہوتا۔ لیکن اس سلسلے میں بحث کرنا کہ آیا جُرم میں کمی واقع ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے درحقیقت غیرمتعلقہ بات ہے۔ لوگ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ جُرم ختم ہو نہ کہ محض کم۔‏

حکومتیں کوشش کر رہی ہیں

اقوامِ‌متحدہ کے ۱۹۹۰ کے سروے نے آشکارا کِیا کہ جُرم پر قابو پانے کے لئے انتہائی ترقی‌یافتہ ممالک اپنے سالانہ بجٹ کا اوسطاً ۲ سے ۳ فیصد جبکہ ترقی‌پذیر ممالک اَور زیادہ، اوسطاً ۹ سے ۱۴ فیصد صرف کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں پولیس فورس بڑھانے اور اسے بہتر ہتھیار فراہم کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن نتائج غیرواضح ہیں۔ ہنگری کے بعض شہری شکایت کرتے ہیں:‏ ”‏مجرم پکڑنے کیلئے پولیس والے کبھی بھی کافی تعداد میں نہیں ہوتے لیکن ٹریفک کی خلاف‌ورزی کرنے والوں کو پکڑنے کیلئے ہمیشہ بہت ہوتے ہیں۔“‏

حال ہی میں بہت سی حکومتوں نے جُرم سے متعلق سخت قانون نافذ کرنے کو ضروری سمجھا ہے۔ مثال کے طور پر چونکہ ”‏لاطینی امریکہ میں اغوازوروں پر ہے،“‏ ٹائم میگزین بیان کرتا ہے، حکومتوں نے وہاں ایسے قوانین کیساتھ جوابی‌اقدام اُٹھائے ہیں جو ”‏انتہائی سخت اور غیرمؤثر ہیں۔ .‏ .‏ .‏ قوانین نافذ کرنا ایک بات ہے،“‏ یہ تسلیم کرتا ہے، ”‏اُنکا اطلاق کرنا الگ بات ہے۔“‏

یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ۱۹۹۲ میں اڑوس‌پڑوس کے تحفظ کیلئے ۱۰۰،۰۰۰ سکیمیں موجود تھیں جو کم‌ازکم چار ملین گھروں کا احاطہ کرتی تھیں۔ ۱۹۸۰ کے دہے کے وسط میں، آسٹریلیا میں بھی اسی طرح کے پروگرام عمل میں لائے گئے۔ آسٹریلیا کا ادارۂ‌جُرمیات بیان کرتا ہے کہ اُنکا مقصد ”‏عوامی تحفظ کی بابت شہریوں کو بہتر طور پر آگاہ کرنے سے، آس‌پڑوس میں جُرم اور مشتبہ واقعات کی رپورٹ دینے کے سلسلے میں مکینوں کے رجحانات اور طرزِعمل کو بہتر بنانے سے اور املاک کی شناخت کی مدد سے اور مؤثر حفاظتی آلات نصب کرنے سے جُرم کیلئے غیرمحفوظ ہونے میں کمی کرنے کیساتھ“‏ جُرم کو کم کرنا ہے۔‏

بعض جگہوں پر تجارتی عمارتوں کیساتھ پولیس تھانوں کا رابطہ قائم کرنے کیلئے ایسے ٹیلی‌ویژن نصب کئے جاتے ہیں جو خطرے کا سگنل دیتے ہیں۔ پولیس، بینک اور سٹورز مانع جُرم کے طور پر یا قانون‌شکنوں کی شناخت کیلئے ایک آلہ کے طور پر ویڈیو کیمرے استعمال کرتے ہیں۔‏

نائجیریا میں ڈاکوؤں اور کار چوروں کو گرفتار کرنے کی کوشش میں شاہراہوں پر پولیس چوکیاں قائم ہیں۔ فراڈ کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت نے تجارت کے ناجائز کام پر ٹاسک فورس کو تعینات کر دیا ہے۔ مقامی رہنماؤں پر مشتمل پولیس عوامی رابطہ کمیٹیاں مجرمانہ کارگزاری اور مشکوک افراد کی بابت پولیس کو مطلع کرتی ہیں۔‏

فلپائن کی سیاحت کرنے والوں نے نوٹ کِیا ہے کہ گھروں کو عموماً چوکیدار کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا اور یہ کہ بہتیرے لوگ نگرانی کرنے کیلئے کتّے رکھتے ہیں۔ کاروباری لوگ اپنے کاروبار کی حفاظت کیلئے نجی سیکورٹی گارڈز کو ملازم رکھتے ہیں۔ کاروں کیلئے چوری کے خلاف آگاہ کرنے والے آلات خوب فروخت ہوتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ بڑے محفوظ چھوٹے علاقوں یا اپارٹمنٹس میں منتقل ہو جاتے ہیں۔‏

لندن کے اخبار دی انڈی‌پنڈنٹ نے تبصرہ کِیا:‏ ”‏جیسے جیسے قانون کے اختیار پر سے اعتماد اُٹھتا جاتا ہے، شہریوں کی بڑی تعداد اپنے علاقوں میں خود حفاظتی انتظامات کر رہی ہے۔“‏ اور بیشتر لوگ خود کو مسلح کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے متحدہ میں، یہ تخمینہ لگایا ہے کہ ہر دوسرے گھرانے کے پاس کم‌ازکم ایک بندوق ہوتی ہے۔‏

حکومتیں جُرم کا مقابلہ کرنے کیلئے متواتر نئے طریقے ایجاد کر رہی ہیں۔ لیکن یوکرائن میں امورِخانہ اکیڈمی کے وی۔وسولوڈو نشاندہی کرتے ہیں تاکہ یواین ذرائع کے مطابق، بہت سے چالاک لوگ ”‏مجرمانہ کارگزاری کو جاری رکھنے کے منفرد طریقے“‏ تلاش کر رہے ہیں کہ ”‏قانون نافذ کرنے والے عملے کی تربیت“‏ اُنکا مقابلہ نہ کر سکے۔ عیار مجرم معاشرے کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کیلئے اور ”‏اپنے لئے معاشرے میں اعلیٰ مقام پیدا کرنے کیلئے“‏ بھاری رقوم واپس کاروبار اور سماجی خدمات میں لگا دیتے ہیں۔‏

اعتماد کھونا

بعض ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد یہ یقین کرنے لگی ہے کہ حکومت خود اس مسئلے کی ذمہ‌دار ہے۔ ایشیاویک نے انٹی‌کرائم گروہ کے ایک سرغنہ کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا:‏ ”‏مشکوک افراد جنہیں ہم گرفتار کرتے ہیں اُن میں سے تقریباً ٪۹۰ پولیس یا ملٹری کے آدمی ہوتے ہیں۔“‏ خواہ یہ بات سچ ہے یا نہیں، اس طرح کی رپورٹس ایک قانون‌ساز کے یہ تبصرہ کرنے کا باعث بنیں:‏ ”‏اگر وہ جو قانون کا دفاع کرنے کا حلف اُٹھاتے ہیں خود ہی قانون‌شکن ہوں تو ہمارا معاشرہ مصیبت میں مبتلا ہے۔“‏

بدعنوانی کے افسوسناک واقعات نے جن میں اعلیٰ اہلکار ملوث ہیں شہریوں کے اعتماد کو مزید کمزور کرتے ہوئے، دُنیا کے مختلف حصوں میں حکومتوں کو بوکھلا دیا ہے۔ جُرم پر قابو پانے کی حکومتوں کی اہلیت پر اعتماد کھونے کے علاوہ، لوگ اب ایسا کرنے کے اُن کے عزمِ‌مُصمم کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک مُعلم نے پوچھا:‏ ”‏یہ اربابِ‌اختیار اب جُرم کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں جبکہ وہ خود جُرم کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؟“‏

حکومتیں آتی اور چلی جاتی ہیں لیکن جُرم قائم رہتا ہے۔ تاہم، ایک ایسا وقت جلد آنے والا ہے جب جُرم نہیں ہوگا!‏

‏[‏صفحہ 7 پر تصویریں]‏

مانعِ‌جُرم:‏ خطرے کا سگنل دینے والا ٹی‌وی کیمرہ اور مانیٹر، آہنی دروازہ اور گارڈ کیساتھ سدھایا ہوا کُتا

‏[‏صفحہ 8 پر تصویر]‏

جُرم لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا دیتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں