یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 24-‏27
  • افریقی سکول اس نے کیا سکھایا؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • افریقی سکول اس نے کیا سکھایا؟‏
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • گھر میں تعلیم‌وتربیت
  • زندگی کی مہارتیں
  • معاشرے کی ذمہ‌داری
  • مذہبی تعلیم
  • آجکل روایتی تعلیم
  • کیا میرے بچے کو سکول جانا چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • بامقصد تعلیم
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • تعلیم—‏اِسے یہوؔواہ کی حمد کے لئے استعمال کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 24-‏27

افریقی سکول اس نے کیا سکھایا؟‏

گھاؔنا میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

افریقی سکول؟ بعض اہلِ‌مغرب شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ زمانۂ‌ماضی میں درحقیقت ایسا انتظام موجود تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہاتھ میں برچھی تھامے ہوئے خطرناک وحشی کے طور پر ایک افریقی کی بابت ہالی‌وڈ کا تصور ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں قائم ہے۔ بہتیرے تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسطرح ماضی کے افریقی کسی طرح سے بھی تعلیم‌یافتہ تصور کئے جا سکتے ہیں۔‏

بِلاشُبہ یہ سچ ہے کہ روایتی معاشرے میں پروان چڑھنے والے افریقیوں نے درسی تعلیم اور باضابطہ سکول کی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ تاہم، باضابطہ یورپی تعلیم کی قسم کو اس بّراعظم میں متعارف کرانے سے بہت پہلے بہت سے افریقی معاشروں میں مؤثر تعلیمی نظام موجود تھے جنہوں نے بچوں کی خوش‌اسلوبی سے کام کرنے اور اپنی مقامی تہذیب سے واقف ہونے میں مدد کی۔ مثال کے طور پر، عکان، گھاؔنا کے دوہری زبان بولنے والے لوگوں کی تعلیم پر غور کریں۔‏

گھر میں تعلیم‌وتربیت

عکان میں، گھر بنیادی کمرۂ‌جماعت کے طور پر کام سرانجام دیتا تھا۔ بچے کی تعلیم اُسی وقت شروع ہو جاتی تھی جب وہ اپنے والدین سے بات‌چیت کرنا سیکھتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ، وہ موزوں آداب‌واطوار کے سلسلے میں بھی اپنے ابتدائی سبق لیتا تھا۔ مثلاً، جب گھر آنے والا مہمان بچے کو سلام کرتا تو بچے کو مناسب، نرم جواب دینا سکھایا جاتا تھا۔ بعدازاں، جب بچے کو باہر کام سے بھیجا جاتا تھا تو اُسے کسی بھی طرح کے پیغامات دینے کی بابت نرم رویہ سکھایا جاتا تھا۔‏

یوں عکان کا تعلیمی فلسفہ بالکل وہی تھا جو بائبل میں امثال ۲۲:‏۶ میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏لڑکے کی اس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“‏ والدین، بالخصوص باپ، بچے کی پرورش میں دلچسپی لیتا تھا۔ عکان کی ایک مثل کہتی ہے:‏ ”‏اگر بچہ اپنی ماں پر نہیں جاتا تو وہ اپنے باپ پر جاتا ہے۔“‏

جُوں جُوں بچہ بڑھتا تھا اُسی طرح اُسکی تعلیمی استعداد بڑھتی جاتی تھی۔ زندگی کی بابت حقائق سے آگاہ کِیا جاتا تھا، کتابوں کے ذریعے نہیں بلکہ تصوراتی کہانیوں کے ذریعے جیسے‌کہ ایک فرضی مکڑے کی بابت جو کواکو انانسا کہلاتا تھا۔ بچے ان کہانیوں کو کسقدر پسند کرتے تھے!‏ وہ سرِشام ہوا میں یا ایک سرد چاندنی رات کو، وہ آگ کے گرد بیٹھ جاتے اور کامرانی اور ناکامی کی اُن کہانیوں سے خوب لطف‌اندوز ہوتے۔‏

ایک مشہور کہانی بتاتی ہے کہ انانسا نے ساری دُنیا کی حکمت کو ایک کوزے میں بند کرنے کے لئے پوری دُنیا کا چکر لگایا۔ بظاہر اپنے مشن کے پورا ہو جانے پر، اُس نے اُس کوزے کو درخت پر اُونچا لٹکانے کا فیصلہ کِیا تاکہ کوئی دوسرا اُس حکمت کو حاصل نہ کر سکے۔ عقل سے معمور برتن کو ایک ڈوری کے ذریعے اپنے پیٹ کے ساتھ باندھنے کے بعد، اُس نے درخت پر چڑھنے کا مشکل کام شروع کر دیا۔ جب وہ اُوپر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا تو اُسکا پہلوٹھا بیٹا نٹیکوما، نمودار ہوا اور انانسا کو پکارا:‏ ”‏اوہ ہو، ابا، اپنے پیٹ سے کوزہ باندھ کر کون درخت پر چڑھتا ہے؟ آپ اسے اپنی کمر سے کیوں نہیں باندھ لیتے تاکہ حرکت کرنے کی بھی گنجائش ہو؟“‏ انانسا نے نیچے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور چلّایا:‏ ”‏مجھے سکھانے کی تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟“‏

لیکن اب یہ واضح ہو گیا تھا کہ کچھ حکمت ابھی بھی اُس کے کوزے سے باہر رہ گئی تھی!‏ اس احساس کے پیشِ‌نظر غصہ میں آتے ہوئے، انانسا نے کوزے کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے اور ساری حکمت اِدھراُدھر بکھیرتے ہوئے، کوزہ نیچے پھینک دیا۔ وہ لوگ جو سب سے پہلے وہاں پہنچے وہ سب سے زیادہ دانشمند بن گئے۔ سبق:‏ حکمت پر کسی کی اجارہ‌داری نہیں ہے۔ اسلئے عکان کہتے تھے:‏ ”‏ایک شخص ایک مجلس کو تشکیل نہیں دیتا۔“‏—‏مقابلہ کریں امثال ۱۵:‏۲۲؛‏ ۲۴:‏۶‏۔‏

زندگی کی مہارتیں

عکان کی تعلیم میں زندگی کی مہارتوں کی بابت تربیت دینا بھی شامل تھا۔ زیادہ‌تر لڑکے اپنے باپ کا پیشہ اختیار کرتے تھے—‏عموماً کھیتی‌باڑی۔ لیکن اسکے علاوہ بھی سیکھنے کیلئے دیگر مہارتیں تھیں، جیسے‌کہ شکار کرنا، کھجور سے شراب تیار کرنا اور ٹوکریاں بنانے جیسے فنون۔ زیادہ مشقت‌طلب کاموں کیلئے، جیسے‌کہ لکڑی پر کندہ‌کاری یا بُننا سیکھنے کیلئے لڑکوں کو ماہر کاریگروں کے پاس بٹھا دیا جاتا تھا۔ اور لڑکیاں؟ اُنکی تربیت بنیادی طور پر گھریلو مہارتوں پر مرکوز تھی جیسے‌کہ سبزیوں کا تیل نکالنا، صابن اور برتن بنانا، سوت کاتنا اور اسی طرح کے دیگر کام۔‏

سکول کے روایتی ”‏نصاب“‏ سے سائنس کا علم خارج نہیں تھا۔ ادویاتی جڑی‌بوٹیوں کا علم، اُنکی تیاری اور نسخے نسل‌درنسل منتقل کئے جاتے تھے۔ اپنی انگلیوں کو استعمال کرتے ہوئے اور کانچوں، پتھروں یا لکڑیوں پر لکیروں کے ذریعے بچے کو گنتی گننا بھی سکھایا جاتا تھا۔ اووارا اور ڈرافٹس (‏دو کھلاڑیوں کے ذریعے چیس‌بورڈ پر کھیلا جانے والا کھیل)‏ جیسی کھیلیں گنتی کی مہارتوں کو بہتر بناتی تھیں۔‏

کھلی کچہری کے اجلاسوں میں بیٹھنے سے، نوجوان عکانی سیاسی اور عدالتی نظاموں کی بابت بھی بصیرت حاصل کر لیتے تھے۔ تجہیزوتکفین اور اسکے علاوہ خوشی کی تقریبات مقامی مرثیے، شاعری، تاریخ، موسیقی، ڈھول‌ڈھمکے اور ناچ‌رنگ کو ذہن‌نشین کرنے کے مواقع تھے۔‏

معاشرے کی ذمہ‌داری

عکان کے اندر، بچہ معاشرے سے الگ نہیں ہوتا تھا۔ اوائل عمری سے اُسے معاشرے کیلئے ذمہ‌داری کا احساس دِلایا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے ابتدائی سبق اُس وقت سیکھتا تھا جب وہ کھیل کیلئے اپنے ساتھیوں کیساتھ شامل ہوتا تھا۔ بعد کے سالوں میں وہ باہمی کارگزاریوں میں شریک ہوتا تھا جیسے‌کہ لوگوں کیلئے کام کرنا۔ جب وہ بدتمیزی کرتا تھا تو سزا دی جاتی تھی، نہ صرف اُسکے والدین کی طرف سے بلکہ علاقے کے کسی بھی بالغ فرد کی طرف سے۔ بِلاشُبہ، اسے ایک بالغ شخص کی اخلاقی ذمہ‌داری خیال کِیا جاتا تھا کہ کسی بدتمیزی کرنے والے بچے کو تنبیہ کرے۔‏

ایسی تنبیہ کو اچھی طرح سنا جاتا تھا کیونکہ بچوں کو بڑوں کا گہرا احترام کرنا سکھایا جاتا تھا۔ درحقیقت، عکان کہا کرتے تھے:‏ ”‏ایک بزرگ عورت صرف فردِواحد کی دادی یا نانی نہیں ہے۔“‏ یوں عمررسیدہ کیلئے احترام اور اُنکی خدمت کرنا ایک ذمہ‌داری تھا۔ اور کوئی بھی بچہ، جو بغیر معقول وجہ کے کسی بڑے کیلئے کام کرنے سے انکار کرتا تھا اُسکی شکایت اُسکے والدین سے کی جاتی تھی۔‏

مذہبی تعلیم

نامعلوم کائنات اور قدرت کیلئے باادب رجحان رکھتے ہوئے، عکان بہت زیادہ مذہبی لوگ تھے۔ سچ بات ہے کہ وہ بہت سے معبودوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مشرک تھے۔ اسکے باوجود، عکان ایک اعلیٰ‌وبالا ہستی کے وجود پر یقین رکھتے تھے۔ (‏رومیوں ۱:‏۲۰‏)‏ ”‏خدا،“‏ کسی بھی معبود کیلئے عکان لفظ اونیاما ہے۔ تاہم، عکان کیلئے یہ لفظ خالق کو بیان کرنے کیلئے ناکافی تھا۔ اسلئے، وہ اُسے اونیان‌کوپون کہتے تھے، جسکا مطلب ہے ”‏خدا جو واحد عظیم ہستی ہے۔“‏

کمتر معبودوں کی پرستش اس نظریے کے تحت کی جاتی تھی کہ یہ عظیم خدا کا انتظام ہے۔ اُنکے ذہنوں میں یہ اس طرح سے تھا جیسے‌کہ ایک مقتدرِاعلیٰ کی دوسرے درجے کے سرداروں سے خدمت کروائی ہے۔ بہرصورت، ہر عکان بچے کو اس مذہب کی تعلیم دی جاتی تھی۔‏

آجکل روایتی تعلیم

حالیہ برسوں میں لاکھوں افریقی بڑے شہروں میں نقل‌مکانی کر گئے ہیں جہاں سکول کی باضابطہ تعلیم نے کافی حد تک تعلیم دینے کے روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تاہم، روایتی افریقی سکول بعض علاقوں، بالخصوص دیہی علاقوں میں کافی ترقی کر رہا ہے۔ اسی لئے، بعض افریقی روایتی اور باضابطہ دونوں طرح کی تعلیمات سے مستفید ہوئے ہیں!‏

مثال کے طور پر، گھاؔنا میں ایک مسیحی خادم الفرؔیڈ پر غور کریں۔ باضابطہ تعلیم سے استفادہ کرنے کے باوجود، وہ روایتی طرزِزندگی کے بہت سے پہلوؤں کے لئے بہت زیادہ احترام رکھتا ہے۔ الفرؔیڈ کہتا ہے:‏ ”‏میرے بہت سے اَن‌پڑھ رشتہ‌دار، اگرچہ اُنہوں نے صرف اپنی روایتی تربیت حاصل کی ہے، زندگی کے عملی پہلوؤں کے سلسلے میں بہت اچھے اُستاد ہیں۔ اُن کے درمیان ساتھی مسیحیوں کے ساتھ کام کرنے نے مجھے انتہائی سادہ، منکسراُلمزاج انداز سے اپنا پیغام پیش کرنے کے بہتیرے مؤثر طریقے سکھائے ہیں۔ یوں مَیں روایتی پس‌منظر رکھنے والے اور باضابطہ تعلیم حاصل کرنے والے دونوں طرح کے لوگوں سے بات‌چیت کر سکتا ہوں۔ بعض‌اوقات، مَیں ان لوگوں کے ذریعے استعمال‌کردہ کوئی مثل یا تمثیل لے لیتا ہوں، اُسے ذرا بہتر بناتا ہوں اور اسے اپنی بائبل تقاریر میں شامل کر لیتا ہوں۔ یہ اکثر سامعین کی طرف سے پُرجوش تحسین‌وآفرین حاصل کرتی ہے!‏ اگرچہ، درحقیقت، اس کا سہرا ان روایتی طور پر تربیت‌یافتہ مردوزن کے سر ہے۔“‏

توپھر، واضح طور پر، افریقی سکول کے بہت سے قابلِ‌تعریف پہلو ہیں اور یہ حقارت کے نہیں بلکہ احترام کے مستحق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے تکنیکی عجائب تو نہ کئے ہوں، لیکن اس نے مضبوط خاندانی ساخت، لوگوں کیلئے احساس، اور مخلص ذہن کے لوگ، دلکش مزاح کی حس، اور فیاضی، مہمان‌نوازی کی روح پیدا کی ہے۔ توپھر، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ بہت سے افریقی شہری کبھی‌کبھار ملاقاتیں کرنے سے اُن رشتہ‌داروں کیساتھ رابطہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جودیہاتوں میں رہتے ہیں۔ ایسے مواقع تکلیف‌دہ لمحات سے خالی نہیں ہیں۔ جب روایتی معیاروں کی بات آتی ہے تو شہروں کے رہنے والے اکثر ہچکچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اکثر وہ نہیں جانتے کہ جب آپ ایک گروہ کیساتھ مصافحہ کرتے ہیں تو ”‏مناسب“‏ طریقہ دائیں سے بائیں طرف جانا ہے۔ پھربھی، ایسی ملاقاتیں باہمی طور پر تازگی کا باعث بن سکتی ہیں۔‏

تاہم، اس بات کو تسلیم کِیا جانا چاہئے کہ اگرچہ افریقہ کے روایتی سکول نے بے حد تعظیم اور عقیدت سکھائی توبھی اس نے یہوؔواہ اور اُس کے بیٹے، یسوؔع مسیح کا زندگی‌بخش علم نہیں دیا۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ یہوؔواہ کے گواہ یہ انتہائی اہم علم فراہم کرنے کیلئے عکان اور دیگرافریقی نسلی گروہوں کے درمیان کام کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے ہزاروں ایسے افریقیوں کو تعلیم دی ہے جو پڑھنے اور لکھنے کی باضابطہ تعلیم سے محروم ہیں تاکہ وہ سب سے پہلے خدا کے کلام کا مطالعہ کر سکیں۔ اُن کیلئے جو ”‏اپنی روحانی ضرورت سے باخبر“‏ ہیں یہ سب سے اہم تعلیم ہے جو کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے۔—‏متی ۵:‏۳‏، این‌ڈبلیو۔‏

‏[‏تصویر]‏

عکان میں، بچے کو اپنے معاشرے کے لئے ذمہ‌داری کو پہچاننا سکھایا جاتا تھا

‏[‏تصویر]‏

یہوواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہال خواندگی کے درس فراہم کرتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں