نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
کیا مجھے ذاتی دفاع کرنا سیکھنا چاہئے؟
”سکول میں واقعی یہ بڑا خراب گینگ ہے،“ جیسیؔ کہتا ہے۔ ”اگر وہ آپ کو سکول کے برآمدے میں دیکھ لیتے ہیں اور آپکی سنیکرز، جیکٹ یا پتلون بھی لینا چاہتے ہیں تو وہ اُتروا لیتے ہیں۔ اگر آپ اس کی رپورٹ کر تے ہیں تو وہ دوبارہ آپ پر حملہ کرینگے۔“
تشدد سے نپٹنا بہت سے نوجوانوں کیلئے ایک طرزِزندگی بن گیا ہے۔ یوایساے ٹوڈے رسالے نے کہا: ”ہائی سکول کے ہر پانچ میں سے تقریباً ایک طالبعلم باقاعدہ طور پر آتشیں اسلحہ، چاقو، اُسترا، ڈنڈا، یا کوئی دوسرا ہتھیار اُٹھائے پھرتا ہے۔ بہتیرے اُنہیں سکول لیجاتے ہیں۔“ ہیرؔو نام ایک نوعمر لڑکا براہِراست یہ جانتا ہے۔ ”ہمارا سکول [نیو یارک شہر میں] میٹل ڈیٹیکٹرز [دھات کی چیزوں کا کھوج لگانے والے برقی آلات] رکھنے میں پہلا تھا،“ وہ کہتا ہے، ”لیکن یہ بچوں کو چاقو اور بندوقیں رکھنے سے باز نہیں رکھتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ اُنہیں اندر کیسے لے آتے ہیں لیکن وہ لاتے ضرور ہیں۔“
قابلِفہم طور پر، حملے کے اندیشے نے بہت سے نوجوانوں کو اسکی بابت سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ نوجوان لاؔلہ اظہارِخیال کرتی ہے: ”میرے سکول کی ایک لڑکی کو کانوں کی بالیوں کیلئے موت کے گھاٹ اُتار دئیے جانے کے بعد، اُنہوں نے سکول میں ذاتی دفاع کے کورسز سکھانے کا آغاز کر دیا۔ تقریباً ہر ایک نے دستخط کئے۔“ دیگر نوجوانوں نے کیمیکل سپرے اور دوسرے ہتھیار پاس رکھنے کیطرف رجوع کِیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ذاتی دفاع (سلفڈیفنس) کے طریقے واقعی آپکو محفوظ رکھتے ہیں؟
مارشل آرٹس
وہ ہر وقت—مارشل آرٹس کے ماہرین کو ایک ناچنے والی کی ادا کی طرح ہوا میں چھلانگیں لگاتے، ٹھوکریں اور مکے مارتے ہوئے ٹیوی پر دکھاتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں بدمعاش لڑکے بےحسوحرکت زمین پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ حیرانکُن! مارشل آرٹس حتمی تحفظ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، حقیقت میں، زندگی فلموں کی طرح نہیں ہے۔ کراٹے میں سالوں کا تجربہ رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ”اس کیلئے صرف ایک گولی کی ضرورت ہے۔ اگر دُور کھڑے شخص کے پاس بندوق ہے تو آپ کے پاس کوئی موقع نہیں ہے۔ اگر آپکے پاس حرکت کرنے کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے تو یہ اس صورت میں بھی زیادہ مؤثر نہیں ہے۔“
یہ بھی یاد رکھیں کہ مارشل آرٹس کا ماہر بننے کیلئے، ایک شخص کو بہت زیادہ پیسہ صرف کرنا ہوگا اور کئی سالوں تک زبردست تربیت حاصل کرنی ہوگی۔ اور اگر آپ تربیت حاصل کرتے نہیں رہتے تو آپکی انوکھی حرکات کی قابلیت جلد ہی خطرناک حد تک زنگآلود ہو سکتی ہے۔ باکسنگ جیسی ذاتی دفاع کی دوسری اقسام کی بابت بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ، ایسی شہرت رکھنا کہ آپ لڑنا جانتے ہیں اغلب ہے کہ بےاختیار توجہ مبذول کرائے۔ مشکل پیدا کرنے والے شاید ایک چیلنج کے طور پر آپ سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کریں۔
تاہم، مارشل آرٹس سیکھنے میں اَور بھی زیادہ خطرہ ہے۔ دی اکانومسٹ رسالے نے حال ہی میں بیان کِیا: ”اگر سب کا نہیں تو زیادہتر مارشل آرٹس نہایت پیچیدہ انداز میں مشرقِبعید کے تین بڑے مذاہب بدھازم، تاؤازم اور کنفیوشیانزم کیساتھ تعلق رکھتا ہے۔“ ایک اَور ماخذ اضافہ کرتا ہے: ”ہر کام جو کراٹے میں کِیا جاتا ہے—ہر حرکت، ہر احساس—کو زِن کے کسی نہ کسی اُصول کیساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔“ زِن بدھازم کا ایک فرقہ ہے جو مذہبی مراقبے پر زور دیتا ہے۔ یہ مذہبی جڑیں ۲-کرنتھیوں ۶:۱۷ میں بائبل کے الفاظ کے پیشِنظر مسیحیوں کیلئے سنجیدہ مسئلہ کھڑا کر دیتی ہیں: ”اس واسطے خداوند فرماتا ہے کہ اُن [جھوٹے پرستاروں] میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ۔“
ہتھیاروں کا استعمال
تاہم، بندوق یا چاقو رکھنے کی بابت کیا ہے؟ ایسا کرنا یقینی طور پر آپکو اعتماد بخش سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ غیرضروری خطرات یا مصیبت مول لینا شروع کر دیتے ہیں تو یہ اعتماد مُہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بائبل آگاہ کرتی ہے: ”جو بدی کی تلاش میں ہے وہ اُسی کے آگے آئیگی۔“ (امثال ۱۱:۲۷) اور اگر ناخواستہ مشکل آپکے راستے میں حائل ہوتی ہے تو ہتھیار نکالنا واقعی جھگڑے کو اَور زیادہ ہوا دے گا۔ آپ جان سے مارے جا سکتے ہیں—یا کسی دوسرے کو قتل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے تشدد کا استعمال کرنے سے گریز کِیا ہوتا تو زندگی کا سرچشمہ، خدا، آپ کے کاموں کو کیسا خیال کریگا؟—زبور ۱۱:۵؛ ۳۶:۹۔
سچ ہے کہ بعض واقعی مُہلک ہتھیار استعمال کرنے کا میلان نہیں رکھتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کہیں کہ وہ محض حملہآوروں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے ہتھیار رکھتے ہیں۔ لیکن ہیلتھ رسالہ کہتا ہے: ”آتشیں اسلحہ کی تربیت دینے والے اتفاق کرتے ہیں: اگر آپ بندوق استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو اسے مت خریدیں۔ آتشیں اسلحے کو رعب جمانے کیلئے لہراتے پھرنا بعض حملہآوروں کو خوفزدہ کر سکتا ہے لیکن یہ دوسروں کو محض غضبناک کریگا۔“
”محفوظ“ ہتھیاروں کی بابت کیا ہے جیسےکہ کیمیکل سپرے وغیرہ؟ اس حقیقت کے علاوہ کہ وہ بعض جگہوں پر غیرقانونی ہیں، ان ہتھیاروں کی سنگین خرابیاں بھی ہیں۔ کسی منشیات کے عادی حملہآور کو ناقابلِحرکت بنانے کی بجائے، ہو سکتا ہے کہ وہ صرف اُسے طیش دلانے ہی میں کامیاب ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہوا شاید اُس کیمیکل کو حملہآور کی بجائے آپکے چہرے کی طرف ہی اُڑا دے یعنی فرض کر لیں کہ سپرے پہلے آپ پر پڑتی ہے۔ آپ کو اپنی جیبوں یا پرس کو بُری طرح اُلٹپلٹ کرتے دیکھ کر، ہو سکتا ہے کہ حملہآور یہ فرض کر لے کہ آپ بندوق نکال رہے ہیں اور اپنی طرف سے کوئی جارحانہ قدم اُٹھانے کا فیصلہ کر لے۔ لہٰذا ایک پولیس سراغرساں بیان کرتی ہے: ”اسکی کوئی ضمانت نہیں کہ تحفظ کیلئے کوئی کیمیکل سپرے، یا کوئی دوسرا ہتھیار کارگر ثابت ہوگا۔ یا یہ کہ آپ اُسے وقت پر نکالنے کے قابل ہونگے۔ ہتھیار کبھی کسی حالت کو بہتر نہیں بناتے۔ لوگ اُن پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔“
ہتھیار—خدائی نظریہ
پیچھے یسوؔع کے زمانے میں تشدد کا خطرہ حقیقی تھا۔ اُسکی انتہائی مشہور تمثیلوں میں سے ایک نے جو عام طور پر نیک سامری کی تمثیل کہلاتی ہے، پُرتشدد راہزنی کے ایک واقعہ کو بیان کِیا۔ (لوقا ۱۰:۳۰-۳۵) جب یسوؔع نے اپنے شاگردوں سے تقاضا کِیا کہ خود کو تلواروں سے لیس کر لیں تو یہ حفاظت کیلئے نہیں تھا۔ درحقیقت، یہ اُس کے اپنے اس اُصول کو بیان کرنے کا باعث بنا: ”جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔“—متی ۲۶:۵۱، ۵۲؛ لوقا ۲۲:۳۶-۳۸۔
اسلئے، سچے مسیحی اپنے ساتھی انسانوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے خود کو مسلح نہیں کرتے۔ (مقابلہ کریں یسعیاہ ۲:۴۔) وہ رومیوں ۱۲:۱۸ کی بائبل کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں: ”جہاں تک ہو سکے تُم اپنی طرف سے سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو۔“ کیا اسکا مطلب نہتے ہونا ہے؟ ہرگز نہیں!
حکمت—ہتھیاروں سے بہتر
ایسے دَور میں جبکہ ہر چیز ایک مفید آلہ دکھائی دیتی ہے، شاید آپ یہ جان کر حیران ہوں کہ آپ بھی اپنے پاس ایک حفاظتی آلہ رکھ سکتے ہیں جوکہ کسی بھی انسان ساختہ ہتھیار سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔ واعظ ۹:۱۸ میں، ہم پڑھتے ہیں: ”حکمت لڑائی کے ہتھیاروں سے بہتر ہے۔“ یہ حکمت اُس سے کہیں بڑھ کر ہے جسے بعض ”پُرتشدد ماحول میں ہوشیاری“ کا نام دیتے ہیں۔ یہ بائبل اُصولوں کا اطلاق ہے، اور سب سے پہلے تو یہ اکثر آپکو پُرتشدد حالتوں سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مثال کے طور پر ہیرؔو جس نے شروع میں اپنے پُرتشدد سکول کو بیان کِیا، ۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۱ میں درج بائبل کے الفاظ: ”چپچاپ رہنے اور اپنا کاروبار کرنے . . . کی ہمت کرو“ کا اطلاق کرنے سے مصیبت سے پرے رہتا ہے۔ ہیرؔو کہتا ہے: ”اگر آپ جانتے ہیں کہ لڑائی متوقع ہے تو آپ کو اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے گھر چلے جانا چاہئے۔ بعض وہاں ٹھہرے رہتے ہیں اور وہی وقت ہے جب وہ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔“
”ہر ایک کو یہ بتا دینا کہ مَیں یہوؔواہ کی گواہ ہوں میرا سب سے بہترین تحفظ ہے،“ نوجوان لاؔلہ بیان کرتی ہے۔ ”مجھے لوگ تنگ نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مَیں اُن کیلئے کسی قسم کا خطرہ نہیں بنونگی۔“ ”اس میں محض یہ کہنے سے کہ آپ گواہ ہیں زیادہ کچھ شامل ہے،“ ایلیوؔ اضافہ کرتا ہے۔ ”اُنہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آپ فرق ہیں۔“ مسیحیوں کو ”دُنیا کا حصہ نہیں“ ہونا چاہئے۔ (یوحنا ۱۵:۱۹) لیکن محتاط رہیں کہ برتری کے رجحان کا تاثر نہ دیں۔ (امثال ۱۱:۲) ایک نوجوان اسے یوں بیان کرتا ہے: ”برآمدے میں اس طرح مت گھومیں گویا یہ آپکی ملکیت ہے۔“ یہ آزردگی کو ہوا دے سکتا ہے۔ لیوؔچی نامی ایک مسیحی نوجوان بیان کرتی ہے: ”مَیں بامروّت ہوں اور مَیں اپنی ہمجماعتوں سے باتچیت کرتی ہوں، بس مَیں اُن کے سے کام نہیں کرتی۔“
آپ جسطرح کا لباس پہنتے ہیں یہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ”مَیں ایسی چیزیں پہننے میں احتیاط برتتا ہوں جو توجہ مبذول کراتی ہیں،“ ایک نوجوان کہتا ہے۔ ”مَیں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ خوبصورت نظر آنے کیلئے مجھے سب سے قیمتی فیشن پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ حیادار لباس پہننے کی بائبل کی مشورت پر عمل کرنا ہو سکتا ہے کہ آپ کو زیادہ نمایاں نہ ہونے دے اور مصیبت سے بچائے رکھے۔—۱-تیمتھیس ۲:۹۔
اگر آپکو تشدد کا سامنا ہو جاتا ہے
تاہم، کیا ہو اگر خطرے سے دُور رہنے کی آپکی کوششوں کے باوجود، آپکو تشدد کا خطرہ لاحق ہوتا ہے؟ سب سے پہلے، امثال ۱۵:۱ کے اُصول کا اطلاق کرنے کی کوشش کریں: ”نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضبانگیز ہیں۔“ نوجوان ایلیوؔ جب سکول میں تھا تواس نے ایسا ہی کِیا۔ وہ کہتا ہے: ”بعضاوقات یہ محض غصہور بیانات کو سنجیدگی سے نہ لینے کا معاملہ ہوتا ہے۔ زیادہ معاملات میں، آپ جسطرح کا جوابی عمل دکھاتے ہیں وہی مصیبت کا باعث بنتا ہے۔“ ”بدی کے عوض بدی“ نہ کرنے سے آپ صورتحال کو بےقابو ہونے سے روکنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔—رومیوں ۱۲:۱۷۔
تاہم، جب حکمتِعملی ناکام ہو جاتی ہے تو آپکو خود کو بچانے کیلئے اقدام اُٹھانے چاہئیں۔ اگر نوجوانوں کا گروہ تقاضا کرتا ہے کہ آپ اُنہیں اپنے سنیکرز یا کوئی قیمتی چیز اُتار کر دے دیں تو اُنہیں دے دیں! جو چیزیں آپکے پاس ہیں آپکی زندگی اُن سے کہیں زیادہ گراںقدر ہے۔ (لوقا ۱۲:۱۵) اگر تشدد ناگزیر دکھائی دیتا ہے تو وہاں سے چلے جائیں—اس سے بھی بہتر ہے کہ بھاگ جائیں! ”لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑ دو،“ امثال ۱۷:۱۴ کہتی ہے۔ (مقابلہ کریں لوقا ۴:۲۹، ۳۰؛ یوحنا ۸:۵۹۔) اگر بھاگنا ناممکن ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپکے پاس حتیالمقدور تشدد سے بچنے کے علاوہ انتخاب کا کوئی اَور راستہ نہ ہو۔ اسکے بعد، ضرور ہے کہ جوکچھ واقع ہوا اُس سے اپنے والدین کو آگاہ کریں۔ شاید وہ کسی طرح سے مددگار ثابت ہو سکیں۔
جیسےکہ بائبل نے پیشینگوئی کی، ہم پُرتشدد ایّام میں رہتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) لیکن بندوق رکھنا یا کراٹے کی ٹھوکریں آپ کو محفوظ نہیں بنائیں گی۔ محتاط رہیں۔ جب مصیبت کا سامنا ہو تو خدائی حکمت استعمال کریں۔ اور سب سے بڑھ کر، یہوؔواہ پر ایمان اور بھروسہ رکھیں۔ زبورنویس کی طرح آپ اعتماد کیساتھ دُعا کر سکتے ہیں: ”تُو مجھے تندخو آدمی سے رہائی دیتا ہے۔“—زبور ۱۸:۴۸۔
[تصویر]
مسیحیوں کیلئے مارشل آرٹس حل نہیں ہیں