یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 21-‏23
  • بھینس وفادار اور مفید

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بھینس وفادار اور مفید
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُنیا کے مختلف حصوں میں پایا جانے والا ایک جسیم جانور
  • کامیاب آبادکار
  • ملکہ ماں
  • ایک متحرک ٹریکٹر سے کہیں بڑھکر
  • بھینس کی جسامت کو کم کرنا
  • گھانا کی سیر
    جاگو!‏—‏2001ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 21-‏23

بھینس وفادار اور مفید

براؔزیل میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

‏’‏بھاگو، بھاگو!‏ دیکھو شیر!‏‘‏ لڑکے چلّائے۔ وہ اپنی بھینسوں کی طرف دَوڑے، اُنکی پیٹھ پر سوار ہوئے اور سرپٹ دوڑ گئے۔ اچانک، سعیدؔجا، لڑکوں میں سے ایک، اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور قریب آنے والے شیر کے شکار کے طور پر—‏دھان کے کھیت میں گر پڑتا ہے۔ تاہم، سعیدؔجا کی بھینس دیکھتی ہے کہ کیا واقع ہوا۔ وہ واپس مڑتی ہے، اپنے چوڑے بدن کو اپنے چھوٹے دوست کیلئے ڈھال کے طور پر رکھ دیتی ہے اور شیر کا مقابلہ کرتی ہے۔ شیر حملہ کرتا ہے لیکن بھینس مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے اور سعیدؔجا کی زندگی بچاتی ہے۔‏

ایشیا میں رہنے والے ۱۹ویں صدی کے مصنف، ایڈؔارٹ ڈوویس ڈیکر کا بیان‌کردہ یہ مقابلہ، بھینس کی ایک قابلِ‌قدر خوبی:‏ وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔ آجکل بھی، وفاداری اُسکی خاص خوبی ہے۔ ”‏بھینس“‏ ایک ماہر کہتا ہے، ”‏پالتو کتّے کی مانند ہے۔ جب تک آپ اُسکے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں وہ آپکو اپنا سارا پیار دیتی ہے۔“‏

ایشیا میں، چار سال کی عمر کے بچے بھی جانتے ہیں کہ یہ کیسے کِیا جاتا ہے۔ ہر روز وہ اپنی بھاری‌بھرکم ساتھیوں کو دریا پر لیجاتے ہیں، جہاں وہ اُنکو نہلاتے ہیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کیساتھ، جانور کے کان، آنکھیں اور نتھنے صاف کرتے ہیں۔ اسکے جواب میں، بھینس، اطمینان کا سانس لیتی ہے۔ اُسکی سیاہ چمڑی بہت زیادہ گرمی جذب کرتی ہے، اور چونکہ بھینس میں گائے بیل کی نسبت پسینے کے غدود بہت کم ہوتے ہیں اسلئے اسے ٹھنڈا ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ روزانہ ان ڈبکیوں کو پسند کرتی ہے!‏ ”‏پانی یا کیچڑ میں دھنسی ہوئی، نیم بند آنکھوں کیساتھ جگالی کرتے ہوئے،“‏ ایک ماخذ بیان کرتا ہے، بھینسیں ”‏انتہائی پُرمسرت منظر پیش کرتی ہیں۔“‏

اُنکا پانی سے پیار، اگرچہ خصائل میں سے محض ایک ہے۔ وہ اَور کیا خوبیاں رکھتی ہیں؟ وہ کیوں مفید ہیں؟ سب سے پہلے تو یہ کہ وہ کیسی دکھائی دیتی ہیں؟‏

دُنیا کے مختلف حصوں میں پایا جانے والا ایک جسیم جانور

بھینس ایک بھاری‌بھرکم بیل کی طرح دکھائی دیتی ہے اور ۹۰۰ کلوگرام یا اس سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔ اسکی جِلد تقریباً بالکل صاف، گہری سُرمئی ہوتی ہے۔ کھڑے ہوئے کندھوں تک چھ فٹ قد—‏لمبے مڑے ہوئے سینگوں، سیدھی پیٹھ، لمبے جسم، جھکی ہوئی گردن اور مضبوط عضلاتی ساخت کیساتھ—‏یہ قوت کی تصویر ہے۔ اُسکی موٹی ٹانگیں ایسے سموں پر ختم ہوتی ہیں جو کیچ میں چلنے کیلئے مثالی ہیں:‏ انتہائی لچکدار جوڑوں کیساتھ پیوستہ بڑے بڑے مضبوط سُم۔ یہ لچک بھینس کو اس قابل بناتی ہے کہ اپنے سموں کو موڑ لے، رُکاوٹوں پر سے گزر جائے اور ایسے دلدل والے علاقوں میں سے چل کر نکل جائے جہاں گائے بیل نہیں چل سکتے۔‏

دُنیا کی ۱۵۰ ملین پالتو بھینسیں دو اقسام کی ہوتی ہیں:‏ دلدلی قسم اور دریائی قسم۔ فلپاؔئن سے لیکر ہندوستان تک، دلدل والی بھینس، اپنے چار سے چھ فٹ لمبے مڑے ہوئے سینگوں کیساتھ، پوسٹ‌کارڈ کیلئے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے۔ جب تصویر کیلئے نہیں تو یہ گھٹنوں تک دھان کے کھیت کے کیچڑ میں دھنسی ہوتی ہے یا پھر ایسے راستوں پر بیل‌گاڑی کھینچتے ہوئے دکھائی دیتی ہے جو کسی بھی ٹرک ڈرائیور پر کپکپی طاری کر دیگا۔‏

دریائی بھینس دلدلی بھینس جیسی ہی ہوتی ہے۔ اسکا بدن قدرے چھوٹا ہوتا ہے اور اسکے سینگ زیادہ بہتر ہوتے ہیں—‏بہت زیادہ کنڈل والے یا پھر بالکل سیدھے جھکے ہوئے۔ لیکن ۹۰۰ کلوگرام کے وزن کیساتھ یہ بھی اثرآفرین دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں، عرب تاجر اس قسم کو مغربی ایشیا سے مشرقِ‌وسطیٰ میں لائے؛ اور بعدازاں، واپس گھروں کو واپس لوٹنے والے صلیبی مجاہدوں نے اسے یورپ میں متعارف کرایا، جہاں یہ ابھی تک خوب افزائش کر رہی ہے۔‏

اگرچہ آپ بھینس کو تیزی سے سفر کرتے ہوئے تو نہیں پائینگے—‏وہ تین کلومیٹر فی گھنٹہ کی سبک‌رفتار کیساتھ سفر کرتی ہیں—‏دلدلی اور دریائی دونوں طرح کی بھینسیں پوری دُنیا میں پائی جاتی ہیں۔ وہ شمالی اسٹرؔیلیا کے ساحل کیساتھ ساتھ پائی جاتی ہیں، بحرالکاہل کے جزائر میں ملتی ہیں اور ایمزون کے جنگل میں بھی پائی جاتی ہے۔ ایمزون؟‏

کامیاب آبادکار

علمِ‌ماحول کی بابت سیکھنے والے ایمزون کے درمیان چلنے والے سیاح بیکار میں مغالطے میں ڈال دینے والے جگوار یا سبز رنگ کے بڑے بڑے سانپوں کواکثر دریا کے کناروں پر بغور دیکھتے رہتے ہیں۔ تاہم، اُنہیں جنگل میں ہزاروں کی تعداد میں ان نئی آنے والی بھینسوں—‏کو دیکھنے کیلئے دُوربین یا عینکوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔‏

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ ایمزون میں کیچڑ میں لت‌پت یہ ایشیائی آبادکار ماحول کے نظام کیلئے خطرہ پیش کرتے ہیں تو شاید آپ دریائے ڈیلٹا کے ایک جزیرے، ماؔرزو پر پولیس کیلئے احتجاج کرنے کی بابت غور کر سکتے ہیں۔ محتاط رہیں!‏ جب آپ پولیس اسٹیشن پہنچتے ہیں تو آپ کی غیرجانبدارانہ شنوائی نہیں ہوگی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود افسر ایک نڈر وفاقی کارکُن (‏ایک بھینس)‏ کی پیٹھ پر سوار ہو کر گشت کیلئے جانے والا ہو۔ یہ بالکل دُرست ہے، ایک بھینس—‏ایک دلدلی قسم کی بھینس!‏ بہرصورت کون شکایت کرنا چاہتا ہے؟‏

دراصل، بھینس ایمزون کے علاقے کیلئے ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں، براؔزیل میں بھینس پر تحقیق کرنے والے دو مراکز میں سے ایک میں کام کرنے والا مویشیوں کا ڈاکٹر، ڈاکٹر پائٹوؔرو باروسلی کہتا ہے۔ اُس نے جاگو!‏ کو بتایا کہ بھینس کا نہایت شاندار نظامِ‌انہضام ہوتا ہے جو اُنہیں اُنہی چراگاہوں سے خوراک حاصل کرنے کے قابل بناتی ہیں جو گائے بیل کو دُبلا کرتی ہیں۔ گائے پالنے والوں کو متواتر جنگل کو صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نئی چراگاہیں تیار کر سکیں، لیکن بھینس اُنہی چراگاہوں پر پھلتی‌پھولتی ہیں جو پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر باروسلی کہتا ہے کہ بھینس ”‏برساتی جنگلات کو بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔“‏

تاہم، جنگل میں زندہ رہنے کے لئے، بھینس کو وقت‌بوقت جو ہاتھ لگے اُس پر گزربسر کرنے والا ہونا چاہئے—‏اور وہ ہے۔ کتاب دی واٹر بفلو:‏ نیو پراسپیکٹس فار این انڈریوٹلائزڈ اینیمل بیان کرتی ہے کہ برساتی موسم میں جب اؔیمزون چراگاہوں کو غرقاب کر دیتا ہے تو بھینس اپنے آپکو اسی بارش والے ماحول کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ جبکہ گائے بیل، اونچی زمین کے الگ‌تھلگ ٹکڑے پر بیٹھی، حاسدانہ نظروں اور خالی پیٹ کیساتھ اپنے اردگرد کی بھینسوں کو پانی میں چلتے، تیرتے ہوئے پودوں کو کھاتے اور حتیٰ‌کہ نیچے پانی میں چرتے دیکھتی رہتی ہیں۔ جب چراگاہیں پھر سے نمودار ہوتی ہیں تو بھینسیں پہلے جیسی نرم‌وملائم دکھائی دینے لگتی ہیں۔‏

ملکہ ماں

براؔزیل کے دوسرے حصوں میں بھی بھینسیں خوب افزائش کر رہی ہیں۔ ۱۹۸۰ کے دہے کے اوائل سے، مُلک کا گلّہ بڑی تیزی کیساتھ چار لاکھ سے بڑھ کر کئی لاکھ کی تعداد کو پہنچ گیا ہے۔ درحقیقت، بھینسیں گائے کی نسبت زیادہ تیزی سے افزائش کر رہی ہیں۔ کیوں؟‏

واؔنڈرلی برناڈز، براؔزیل میں بھینس کی نسل‌کشی کرنے والے نے بیان کِیا کہ بھینس دو سال کی عمر میں گابھن ہونے کے قابل ہو جاتی ہے۔ گابھ کے دس ماہ بعد، وہ اپنے پہلے بچے کو جنم دیتی ہے۔ تقریباً ۱۴ ماہ بعد، دوسرا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ بھینس کے بچوں کے درمیان شرحِ‌اموات میں کمی اور بیماری کیلئے بہت زیادہ قوتِ‌مدافعت کے باعث، بھینس طویل اور صحت‌مند زندگی سے لطف‌اندوز ہوتی ہے۔ کتنی طویل؟ اوسطاً ۲۰ سال سے زیادہ۔ کسقدر صحت‌مند؟‏

‏”‏مَیں آپکو دکھاؤنگا،“‏ مسٹر برناؔڈز ساؔؤ پولو کے کوئی ۱۰۰ میل مغرب میں، اپنے ۷۵۰ایکڑ کے فارم کی لہلہاتی ہوئی چراگاہوں میں سے گزرتے ہوئے کہتا ہے۔ ”‏یہ رینا (‏ملکہ)‏ ہے،“‏ ایک جانور کی طرف جسکی خراب کھال اور ٹوٹے ہوئے سینگ بھینس کی طویل زندگی کو ظاہر کر رہے ہیں اشارہ کرتے ہوئے وہ محبت‌بھرے لہجے میں کہتا ہے۔ ”‏اسکی عمر ۲۵ سال ہے، اُسکے بچوں کے بچے ہیں، لیکن،“‏ وہ شگفتہ چہرے کیساتھ مزید کہتا ہے، ”‏اُس نے ابھی ابھی اپنے ۲۰ویں بچے کو جنم دیا ہے۔“‏ رینا جیسی بڑی ماؤں کیساتھ، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ماہرین پیشینگوئی کرتے ہیں کہ آئندہ صدی میں، ہو سکتا ہے کہ دُنیا کا سب سے بڑا بھینسوں کا گلّہ برازیل میں چر رہا ہو!‏

ایک متحرک ٹریکٹر سے کہیں بڑھکر

اگرچہ، ابھی تک یہ دعویٰ، دُنیا کی تقریباً نصف بھینسوں کے گھر، ہندوستان کا ہی ہے۔ وہاں اور دیگر ایشیائی ممالک میں، بھینسوں کی بدولت، لاکھوں غریب کسان خاندان سرحدی علاقوں میں زندہ ہیں۔ ایندھن یا فالتو پُرزہ‌جات کے بغیر ہی، اُنکے ”‏متحرک ٹریکٹر“‏ ہل، سہاگے، بیل گاڑیاں کھینچتے، اور ۲۰ سال سے زیادہ عرصہ تک خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ ”‏میرے خاندان کیلئے،“‏ ایشیا کی ایک بوڑھی خاتون نے کہا، ”‏بھینس مجھ سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جب مَیں مر جاؤنگی تو وہ میرے لئے روئینگے؛ لیکن اگر ہماری بھینس مر جاتی ہے تو شاید وہ بھوکوں مر جائیں۔“‏

کھیت میں مزدور کے طور پر کام کرنے کے علاوہ، بھینس بہم‌رساں خانساماں بھی ہے۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والے تمام دُودھ کا کوئی ۷۰ فیصد دریائی بھینس سے حاصل ہوتا ہے، اور بھینس کے دُودھ کی اتنی زیادہ مانگ ہے کہ گائے کا دُودھ فروخت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کیوں بہتیرے اسے ترجیح دیتے ہیں؟ ”‏بھینس کے دُودھ،“‏ کتاب دی واٹر بفلو:‏ نیو پراسپیکٹس فار این انڈریوٹلائزڈ اینیمل بیان کرتی ہے، ”‏اس میں پانی کی مقدار کم ہوتی ہے، زیادہ خالص ہوتا ہے۔ زیادہ چکنائی ہوتی ہے، مٹھاس بھی قدرے زیادہ ہوتی ہے اور گائے کے دُودھ کی نسبت زیادہ پروٹین ہوتی ہیں۔“‏ یہ بہت زیادہ توانائی بخشتا ہے، ذائقہ اچھا ہوتا ہے اور یہ موزریلا (‏پنیر)‏، ریکوٹا (‏اٹلی کا پنیر)‏ اور دیگر لذیذ پنیر تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔‏

بھینس کے گوشت کی بابت کیا ہے؟ ”‏ہم اسکی مانگ کو پورا نہیں کر سکتے،“‏ مویشیوں کے فارم کا مالک برناؔڈز کہتا ہے۔ اسٹرؔیلیا، وی‌نیزؔیولا، ریاستہائے متحدہ اور دیگر ممالک میں، پسندیدہ ذائقے کے سروے کے مطابق، بھینس کے گوشت کے پسندے گائے کے گوشت سے زیادہ پسند کئے گئے تھے۔ درحقیقت، پوری دُنیا میں لاکھوں لوگ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ گائے کے گوشت کے مزیدار پسندے کھا رہے ہیں اکثر بھینس کے گوشت کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔ ”‏لوگ اکثر اسکے خلاف ہوتے ہیں،“‏ ڈاکٹر باؔروسلی مشاہدہ کرتا ہے، ”‏لیکن بھینس کا گوشت بھی اتنا ہی لذیذ، اور اکثر گائے کے گوشت کی نسبت بہتر ہوتا ہے۔“‏

بھینس کی جسامت کو کم کرنا

اگرچہ بھینس تعداد میں بڑھ رہی ہے، یہ مشکل میں ہے۔ ”‏بڑے بڑے بھینسے جوکہ نسل‌کشی کے مقاصد کیلئے بہترین ہیں،“‏ ارتھ‌سکین بولیٹن لکھتا ہے، ”‏اکثر وزن کھینچنے والے جانوروں کے طور پر منتخب کر لئے جاتے خصی کر دیئے جاتے یا ذبح ہونے کیلئے بھیج دیئے جاتے ہیں۔“‏ اس طرح سے، بڑی جسامت کے موروثی خصائل ختم ہو جاتے ہیں اور بھینس کی جسامت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ”‏دس سال پہلے تھاؔئی‌لینڈ میں،“‏ ماہرین کہتے ہیں، ”‏۱،۰۰۰ کلوگرام [‏۲،۲۰۰ پاؤنڈ]‏ کے وزن کی بھینس تلاش کرنا عام بات تھی؛ اب ۷۵۰ کلوگرام [‏۱،۷۰۰ پاؤنڈ]‏ کی اقسام حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔“‏ کیا اس مسئلے کو حل کِیا جا سکتا ہے؟‏

جی‌ہاں، جانوروں کے ۲۸ سائنسدانوں کی مرتب‌کردہ ایک رپورٹ کہتی ہے، لیکن ”‏بھینس کی نمایاں اقسام کو بچانے اور محفوظ رکھنے کیلئے .‏ .‏ .‏ فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔“‏ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اب تک بھینس کو نظرانداز کِیا گیا ہے لیکن ”‏بھینس کی بابت بہتر سمجھ بہت سی ترقی‌پذیر قوموں کیلئے انتہائی انمول ہو سکتی ہے۔“‏ اَور زیادہ تحقیق، وہ کہتے ہیں کہ اسکی ”‏حقیقی خوبیوں کو ظاہر کرنے“‏ میں مدد دیگی۔‏

انجام‌کار، پوری دُنیا میں سائنسدان وہی دریافت کر رہے ہیں جو ایشیا کے کسان صدیوں سے جانتے ہیں:‏ وفادار اور مفید بھینس انسان کے بہترین دوستوں میں سے ایک ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں