سبق نمبر 66
عزرا نے خدا کی شریعت کی تعلیم دی
بنیاِسرائیل کے زیادہتر لوگوں کو یروشلم گئے تقریباً 70 سال ہو چُکے تھے۔ لیکن کچھ ابھی تک فارس کی سلطنت کی فرق فرق جگہوں میں رہ رہے تھے۔ اِن میں سے ایک عزرا تھے جو لوگوں کو یہوواہ کی شریعت کی تعلیم دیتے تھے۔ عزرا کو پتہ چلا کہ یروشلم کے لوگ شریعت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ اِس لیے وہ وہاں جا کر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ فارس کے بادشاہ ارتخششتا نے عزرا سے کہا: ”خدا نے تمہیں دانشمندی دی ہے تاکہ تُم لوگوں کو اُس کے حکموں کے بارے میں بتا سکو۔ تُم یروشلم جاؤ اور اگر کوئی اَور بھی تمہارے ساتھ جانا چاہے تو اُسے بھی لے جاؤ۔“ عزرا اُن لوگوں سے ملے جو یروشلم واپس جانا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے مل کر یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ اِس لمبے سفر میں اُن کا خیال رکھے۔ پھر وہ سفر پر نکل پڑے۔
چار مہینے بعد وہ سب یروشلم پہنچے۔ حاکموں نے عزرا سے کہا: ”بنیاِسرائیل یہوواہ کے حکم توڑ رہے ہیں اور جھوٹے خداؤں کی پوجا کر رہے ہیں۔“ عزرا نے کیا کِیا؟ عزرا سب لوگوں کے سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر یہوواہ سے یہ دُعا کرنے لگے: ”یہوواہ! تُو نے ہمارے لیے کتنا کچھ کِیا ہے۔ لیکن ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔“ لوگوں نے توبہ تو کر لی تھی لیکن اُنہیں صحیح کام کرنے میں مدد چاہیے تھی۔ عزرا نے بزرگ اور منصف چُنے تاکہ وہ اِن معاملوں کو حل کر سکیں۔ اگلے تین مہینوں کے دوران اُن سب لوگوں کو یروشلم سے دُور بھیج دیا گیا جو یہوواہ کی عبادت نہیں کر رہے تھے۔
بارہ سال گزر گئے۔ اِس دوران یروشلم کی دیواریں بنائی گئیں۔ عزرا نے شہر کے چوک پر لوگوں کو جمع کِیا اور خدا کی شریعت پڑھی۔ جب عزرا نے شریعت کی کتاب کھولی تو لوگ کھڑے ہو گئے۔ عزرا نے یہوواہ کی بڑائی کی اور لوگوں نے اپنے ہاتھ اُوپر اُٹھا کر یہ دِکھایا کہ عزرا جو کہہ رہے ہیں، اُنہیں وہ بالکل صحیح لگ رہا ہے۔ پھر عزرا نے شریعت میں لکھی باتیں پڑھیں اور اِن کا مطلب سمجھایا۔ لوگوں نے بہت دھیان سے سنا۔ اُنہوں نے مانا کہ وہ پھر سے یہوواہ سے دُور ہو گئے تھے اور اِس وجہ سے وہ اِتنے دُکھی ہوئے کہ وہ رونے لگے۔ اگلے دن عزرا نے شریعت میں لکھی کچھ اَور باتیں پڑھیں۔ لوگوں کو پتہ چلا کہ جلد ہی اُنہیں جھونپڑیوں کی عید منانی ہے۔ اُنہوں نے فوراً تیاریاں شروع کر دیں۔
لوگوں نے عید کے سات دن تک خوشی منائی اور اچھی فصل کے لیے یہوواہ کا شکرادا کِیا۔ یشوع کے زمانے کے بعد سے کبھی اِس طرح جھونپڑیوں کی عید نہیں منائی گئی تھی۔ عید کے بعد لوگوں نے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”یہوواہ! تُو نے ہمیں غلامی سے نکالا، ویرانے میں ہمیں کھانا دیا اور ہمیں یہ خوبصورت ملک دیا۔ لیکن ہم نے بار بار تیری نافرمانی کی۔ تُو نے ہمیں خبردار کرنے کے لیے اپنے نبی بھیجے۔ لیکن ہم نے اُن کی بات نہیں سنی۔ تُو پھر بھی ہمارے ساتھ صبر سے پیش آیا۔ تُو نے اَبراہام سے کِیا اپنا وعدہ پورا کِیا۔ اب ہم بھی تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تیری بات مانیں گے۔“ لوگوں نے اپنا یہ وعدہ لکھ لیا اور حاکموں، لاویوں اور کاہنوں نے اِس پر مُہر لگائی۔
”وہ شخص برکت والا ہے جو خدا کے کلام کو سنتا ہے اور اُس پر عمل کرتا ہے۔“—لُوقا 11:28