یہوواہ کا کلام زندہ ہے
عزرا کی کتاب سے اہم نکات
عزرا کی تاریخی داستان انہی واقعات کے بعد شروع ہوتی ہے جن کا ذکر تواریخ کی دوسری کتاب کے اختتام پر ہوا تھا۔ سب سے پہلے عزرا کی کتاب میں شاہِفارس خورس کے اُس فرمان کا ذکر ہے جس میں اُس نے بابل میں اسیر یہودیوں کو یروشلیم واپس لوٹنے کی اجازت دی تھی۔ عزرا کی کتاب کے اختتام پر بتایا جاتا ہے کہ یہودی آسپاس کی قوموں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی وجہ سے ناپاک ہو گئے تھے اور عزرا نے اُن کی خطا دُور کرنے کے لئے قدم اُٹھائے۔ اس داستان میں ۷۰ سال کے دوران، یعنی سن ۵۳۷ سے لے کر ۴۶۸ قبلِمسیح تک ہونے والے واقعات کا ذکر کِیا جاتا ہے۔
عزرا نے اپنی کتاب میں صرف ایسے واقعات کو بیان کِیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ نے بنیاسرائیل کو دئے ہوئے اپنے تمام وعدوں کو پورا کِیا تھا۔ عزرا نے بتایا کہ خدا کے وعدوں کے مطابق اسرائیلیوں نے بابل کو چھوڑ کر یروشلیم میں نئے سرے سے یہوواہ کی پاک عبادت کرنی شروع کر دی۔ اُس نے ہیکل یعنی خدا کے گھر کی تعمیر کے بارے میں بتایا۔ دُشمنوں کی مخالفت اور بنیاسرائیل کی غلطیوں کے باوجود ہیکل تعمیر ہوا اور سچی عبادت کو بحال کِیا گیا۔ ہمارے لئے یہ داستان بہت فائدہمند ہے کیونکہ ہمارے زمانے میں بھی سچی عبادت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ ’یہوواہ کے گھر کے پہاڑ‘ کے پاس آ رہے ہیں اور ”زمین [یہوواہ] کے جلال سے عرفان سے معمور“ ہونے والی ہے۔—یسعیاہ ۲:۲، ۳؛ حبقوق ۲:۱۴۔
ہیکل کی تعمیر
(عزرا ۱:۱–۶:۲۲)
بادشاہ خورس کے فرمان پر بابل میں اسیر یہودیوں کو آزادی ملی اور ان میں سے ۵۰ ہزار یروشلیم واپس لوٹے۔ ان کی پیشوائی حاکم زرُبابل نے کی جس کا نام شیسبضر بھی تھا۔ اپنی سرزمین پہنچ کر یہودیوں نے سب سے پہلے ایک مذبح بنایا اور یہوواہ کے لئے قربانیاں چڑھائیں۔
ایک سال بعد اسرائیلیوں نے یہوواہ کے گھر کی بنیاد ڈالی۔ یہ دیکھ کر اُن کے دُشمن انہیں روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے بادشاہ ارتخششتا کو ایک خط لکھنے پر اُکسایا جس میں یہودیوں کو ہیکل بنانے سے منع کِیا گیا۔ لیکن حجی نبی اور زکریاہ نبی نے لوگوں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ اس پابندی کے باوجود یہوواہ کے گھر کی تعمیر جاری رکھیں۔ پھر شاہی محل میں بادشاہ خورس کے اس فرمان کی تحریر دریافت ہوئی جس میں اُس نے ”خدا کے گھر کی بابت“ حکم جاری کِیا تھا۔ (عزرا ۶:۳) جب فارس کا ایک بادشاہ ایک حکم جاری کرتا تھا تو بعد میں آنے والا بادشاہ اُسے مسترد نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا، اسرائیلیوں کے دُشمن انہیں روکنے میں ناکام ہو گئے اور ہیکل بنانے کا کام جلد ہی مکمل ہو گیا۔
صحیفائی سوالات کے جواب:
۱:۳-۶—ایسے اسرائیلی جو اپنے وطن واپس لوٹنے کی بجائے بابل میں رہے، کیا اُن کا ایمان کمزور تھا؟ ہو سکتا ہے کہ بابل کے بعض یہودی وہاں کی آرامدہ زندگی چھوڑنا نہیں چاہتے تھے یا پھر وہ خدا کی سچی عبادت میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے نیک نیت سے بابل میں رہنے کا فیصلہ کِیا۔ ۱،۶۰۰ کلومیٹر [۱،۰۰۰ میل] دُور یروشلیم تک سفر کرنے میں چار یا پانچ مہینے لگتے تھے۔ اس کے علاوہ یہودیوں کی سرزمین ۷۰ سال تک ویران رہی تھی اور اسے آباد کرنے کے لئے توانا لوگوں کی ضرورت تھی۔ اس لئے بعض یہودی جو بیمار یا بوڑھے تھے یا پھر خاندانی ذمہداریاں رکھتے تھے، ان کے لئے یروشلیم جانا ممکن نہیں تھا۔
۲:۴۳—نتنیم کون تھے؟ وہ ایسے غیراسرائیلی لوگ تھے جو ہیکل میں غلاموں یا خادموں کے طور پر خدمت کرتے تھے۔ ان میں جبعونیوں کی اولاد کے علاوہ ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہیں ”داؔؤد اور امیروں نے لاویوں کی خدمت کے لئے مقرر کِیا تھا۔“—عزرا ۸:۲۰۔
۲:۵۵—سلیمان کے خادموں کی اولاد کون تھے؟ وہ بھی ایسے غیراسرائیلی لوگ تھے جنہیں یہوواہ کی خدمت میں خاص ذمہداریاں سونپی گئی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ منشیوں اور نقلنویسوں کے طور پر خدا کے گھر میں خدمت کرتے تھے۔
۲:۶۱- ۶۳—کیا اسرائیلی بابل سے واپس لوٹنے کے بعد بھی اُوریموتمیم استعمال کرتے تھے؟ اُوریموتمیم وہ قرعے تھے جو کسی معاملے میں یہوواہ کی مرضی دریافت کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ اگر بابل سے واپس لوٹنے کے بعد بھی اسرائیلیوں کے پاس یہ قرعے ہوتے تو ایسے افراد جو کاہنوں کی اولاد ہونے کا ثبوت پیش نہیں کر سکے، وہ اُوریموتمیم کو استعمال کرکے یہ ثبوت پیش کر سکتے۔ لیکن عزرا نے یہ نہیں کہا کہ اُنہوں نے واقعی ایسا کِیا تھا۔ خدا کے کلام میں نہ تو اُس زمانے اور نہ ہی اس کے بعد کے زمانوں میں اُوریموتمیم کے استعمال کا ذکر ہوا ہے۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ جب ۶۰۷ قبلِمسیح میں یروشلیم کی ہیکل کو تباہ کر دیا گیا تو اُوریموتمیم غائب ہو گئے تھے۔
۳:۱۲—وہ ”عمررسیدہ لوگ جنہوں نے پہلے گھر کو دیکھا تھا“ کیوں رونے لگے؟ اُن آدمیوں کو سلیمان کی عالیشان ہیکل کی یاد آ رہی تھی۔ نئی عبادتگاہ کی بنیاد ’ان کی نظر میں ناچیز تھی۔‘ (حجی ۲:۲، ۳) انہیں شاید یقین نہیں تھا کہ نئی ہیکل اتنی ہی شاندار ہوگی جتنی سلیمان کی ہیکل ہوا کرتی تھی۔ وہ ہمت ہار کر رونے لگے۔
۳:۸-۱۰؛ ۴:۲۳، ۲۴؛ ۶:۱۵، ۱۶—ہیکل کی تعمیر میں کتنے سال لگے؟ اس کی بنیاد ۵۳۶ قبلِمسیح میں ڈالی گئی، یعنی یہودیوں کے یروشلیم میں ”آ پہنچنے کے بعد دوسرے برس“ میں۔ سن ۵۲۲ قبلِمسیح میں بادشاہ ارتخششتا نے اس کام کو روک لیا۔ بادشاہ دارا کی حکومت کے دوسرے سال میں یعنی ۵۲۰ قبلِمسیح میں یہ پابندی اُٹھا دی گئی۔ پھر بادشاہ دارا کی حکومت کے چھٹے سال میں یعنی ۵۱۵ قبلِمسیح میں خدا کے گھر کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ (بکس ”فارسی بادشاہوں کا سلسلہ—سن ۵۳۷ سے لے کر ۴۶۷ قبلِمسیح تک“ پر غور کیجئے۔) لہٰذا ہیکل کی تعمیر میں تقریباً ۲۰ سال لگے تھے۔
۴:۸–۶:۱۸—عزرا نے ان آیات کو ارامی زبان میں کیوں لکھا؟ ان آیات میں عزرا نے سرکاری اہلکاروں اور بادشاہوں کے خطوط کی نقل اُتاری جو ارامی زبان میں لکھے گئے تھے۔ عزرا کے زمانے میں لوگ تجارتی اور سیاسی معاملوں کے سلسلے میں عام طور پر یہ زبان استعمال کرتے تھے۔ ان آیات کے علاوہ عزرا ۷:۱۲-۲۶، یرمیاہ ۱۰:۱۱ اور دانیایل ۲:۴ب–۷:۲۸ بھی ارامی زبان میں لکھی گئی ہیں۔
ہمارے لئے سبق:
۱:۲۔ یسعیاہ ۴۴:۲۸ کی پیشینگوئی ۲۰۰ سال کے بعد پوری ہوئی۔ واقعی، یہوواہ کے کلام میں جو پیشینگوئیاں ہیں وہ سب کی سب تکمیل پاتی ہیں۔
۱:۳-۶۔ آجکل بہت سے ایسے یہوواہ کے گواہ ہیں جو کُلوقتی خدمت میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں یا جو کسی ایسے علاقے میں منتقل نہیں ہو سکتے ہیں جہاں زیادہ مُنادوں کی ضرورت ہے۔ لیکن ایسے مسیحی ان اسرائیلیوں کی مثال سے سیکھ سکتے ہیں جو بابل میں رہنے پر مجبور تھے۔ مثال کے طور پر وہ ان مسیحیوں کی مدد اور حوصلہافزائی کر سکتے ہیں جو خاص طریقوں سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روپیہ عطا کرنے سے بھی بادشاہت کی مُنادی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
۳:۱-۶۔ سن ۵۳۷ قبلِمسیح کے ساتویں مہینے میں (جسے تشری کہا جاتا تھا، ہمارے سن کے مطابق ستمبر/اکتوبر کا مہینہ) اسرائیلی اپنی اسیری سے یروشلیم واپس لوٹ کر قربانیاں چڑھانے لگے۔ غور کریں کہ بابلی لشکر ۶۰۷ قبلِمسیح کے پانچویں مہینے میں (آب، یعنی جولائی/اگست) یروشلیم میں داخل ہوئے۔ اس کے دو ہی مہینے بعد یروشلیم بالکل تباہ کر دیا گیا۔ (۲-سلاطین ۲۵:۸-۱۷، ۲۲-۲۶) یرمیاہ نبی کی پیشینگوئی کی تکمیل میں عین ۷۰ سال کے بعد یروشلیم کی بربادی ختم ہوئی۔ (یرمیاہ ۲۵:۱۱؛ ۲۹:۱۰) یہوواہ کا کلام ہمیشہ سچ ثابت ہوتا ہے۔
۴:۱-۳۔ خدا کے وفادار اسرائیلیوں نے جھوٹے مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ (خروج ۲۰:۵؛ ۳۴:۱۲) اسی طرح آج بھی یہوواہ کے خادم دوسرے مذاہب کے کاموں اور تقریبوں میں شریک نہیں ہوتے۔
۵:۱-۷؛ ۶:۱-۱۲۔ جب ایک معاملے میں یہوواہ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے تو اُس کے خادم کامیاب ہوتے ہیں۔
۶:۱۴، ۲۲۔ اگر ہم پورے دل سے خدا کی خدمت کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی برکتوں سے نوازتا ہے۔
۶:۲۱۔ چند ایسے سامری لوگ جو اسرائیلی سرزمین پر آباد ہو گئے تھے اور ایسے اسرائیلی جنہوں نے جھوٹی پرستش کے طورطریقوں کو اپنا لیا تھا، وہ یہوواہ کے خادموں کی کامیابی کو دیکھ کر اپنی زندگی میں تبدیلیاں لانے لگے۔ آجکل ہمیں بھی پورے دل سے خدا کے حکموں پر عمل کرنا چاہئے جن میں خدا کی بادشاہت کی مُنادی کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔
یروشلیم کا جائزہ
(عزرا ۷:۱–۱۰:۴۴)
سن ۴۶۸ میں عزرا دوسرے اسرائیلیوں سمیت شہر بابل چھوڑ کر یروشلیم آیا۔ وہ اُس مال اور پیسے کو اپنے ساتھ لایا جو خدا کی عبادت کے لئے دیا گیا تھا۔ اُس وقت ۵۰ سال سے خدا کے گھر میں عبادت ہو رہی تھی۔ لیکن عزرا نے یروشلیم میں کونسے حالات پائے؟
سرداروں نے عزرا کو بتایا کہ ”اسرائیل کے لوگ اور کاہن اور لاوی اِن اطراف کی قوموں سے الگ نہیں رہے۔“ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ”سرداروں اور حاکموں کا ہاتھ اِس بدکاری میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔“ (عزرا ۹:۱، ۲) یہ سُن کر عزرا بیزار ہو گیا۔ اُسے یہ نصیحت دی گئی کہ ”ہمت باندھ کر کام میں لگ جا۔“ (عزرا ۱۰:۴) جب عزرا نے لوگوں کے گُناہ کو دُور کرنے کے لئے قدم اُٹھائے تو وہ فوراً اپنی غلطی کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔
صحیفائی سوالات کے جواب:
۷:۱، ۷، ۱۱—ان آیات میں جس بادشاہ کا ذکر کِیا گیا ہے، کیا وہ وہی ارتخششتا تھا جس نے ہیکل کی تعمیر کو روکا تھا؟ جینہیں۔ ارتخششتا کا نام دو الگ بادشاہوں کو دیا گیا۔ جس بادشاہ نے ۵۲۲ قبلِمسیح میں خدا کے گھر کی تعمیر کو روکا تھا، وہ گوماتا یا بردیا نامی ایک شخص تھا۔ جس وقت عزرا یروشلیم گیا تو ایک اَور شخص یعنی ارتخششتا لونگیمانس فارس کا بادشاہ بن گیا تھا۔
۷:۲۸–۸:۲۰—بابل میں رہنے والے یہودی، عزرا کے ساتھ یروشلیم جانے سے کیوں ہچکچا رہے تھے؟ اگرچہ یہودیوں کا پہلا گروہ اس واقعے کے ۶۰ سال پہلے یروشلیم پہنچا تھا لیکن اس شہر میں ابھی بھی کم ہی لوگ آباد تھے۔ یروشلیم کے شہریوں کو مشکل حالات اور طرح طرح کے خطروں کا سامنا کرنا پڑا۔ آرام کی زندگی گزارنا یروشلیم میں ممکن نہیں تھا۔ اس کے علاوہ یروشلیم کا سفر بھی دشوار اور خطرناک تھا۔ جو لوگ واپس جانے کو تیار تھے، ان کو یہوواہ پر ایمان اور سچی عبادت کے لئے جوش کے علاوہ بہت جرأت کی بھی ضرورت تھی۔ عزرا نے خود بیان کِیا کہ اُس نے یہوواہ کے ہاتھ سے تقویت پائی تھی۔ پھر اُس نے لوگوں کا حوصلہ بڑھایا اور ۱،۵۰۰ خاندان (تقریباً ۶،۰۰۰ افراد) اُس کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ عزرا کے ایک اَور بلاوے پر ۳۸ لاوی اور ۲۲۰ نتنیم یروشلیم واپس جانے کے لئے تیار ہو گئے۔
۹:۱، ۲—اِردگِرد کی قوموں کے ساتھ شادی کے رشتے باندھنے میں کیا حرج تھا؟ مسیحا کے آنے تک یہوواہ کی سچی عبادت کی حفاظت اسرائیلی قوم ہی کے ذمے پڑتی تھی۔ بُتپرست قوموں کے ساتھ شادی کے رشتے باندھنے سے اسرائیلی قوم اس خطرے میں تھی کہ وہ خود بھی بُتپرستی کرنے پر اُتر آتی۔ اگر ایسا ہوتا تو سچی عبادت کا نامونشان ہی مٹ جاتا۔ پھر مسیحا کس قوم میں آتا؟ یہی بات عزرا کی پریشانی کا باعث تھی۔
۱۰:۳—اجنبی عورتوں کے ساتھ ساتھ اُن کے بچوں کو کیوں بنیاسرائیل میں سے بھیج دیا گیا؟ اگر بچے اپنی ماؤں سے جُدا ہوتے تو بہت سی مائیں ان کی وجہ سے واپس آتیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچوں کو ویسے ہی ماں کی دیکھبھال کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے لئے سبق:
۷:۱۰۔ عزرا نے ہمارے لئے ایک عمدہ مثال قائم کی۔ وہ خدا کے کلام کا گہرا علم رکھتا تھا اور اس نے بڑی کامیابی سے دوسروں کو اس کی تعلیم بھی دی۔ خدا کی شریعت پر غور کرنے سے پہلے اُس نے یہوواہ سے دُعا کرکے اپنے دل کو تیار کِیا۔ شریعت پر غور کرتے وقت اُس نے یہوواہ کی مرضی دریافت کرنے کی پوری کوشش کی۔ عزرا نے سیکھی ہوئی باتوں کو نہ صرف دوسروں کو سکھایا بلکہ اُس نے خود بھی ان پر عمل کِیا۔
۷:۱۳۔ یہوواہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو ”اپنی خوشی سے“ اُس کی خدمت کرتے ہیں۔
۷:۲۷، ۲۸؛ ۸:۲۱-۲۳۔ عزرا نے یہوواہ خدا ہی کی ستائش کی۔ یروشلیم کے لمبے اور خطرناک سفر پر چل دینے سے پہلے اُس نے خدا کی مدد مانگی۔ وہ خدا کے نام کی بڑائی کرنے کے لئے خطرے مول لینے کو بھی تیار تھا۔ واقعی، ہم عزرا کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
۹:۲۔ ”صرف خداوند میں“ شادی کرنے کا حکم ہمارے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
۹:۱۴، ۱۵۔ بدکار لوگوں سے میلجول رکھنے سے ہم یہوواہ خدا کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔
۱۰:۲-۱۲۔ جن اسرائیلیوں نے اجنبی عورتوں سے شادی کی تھی، اُنہوں نے توبہ کرکے اپنی غلط روش کو چھوڑ دیا۔ ان کا یہ ردِعمل مثالی ہے۔
یہوواہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
واقعی، عزرا کی کتاب سے ہم بہت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہوواہ نے وعدہ کِیا تھا کہ اُس کے لوگ بابل سے رِہا ہو کر دوبارہ سے یروشلیم میں اُس کی عبادت کریں گے۔ اور عین وقت پر خدا نے اس وعدے کو پورا کِیا۔ اس بات پر غور کرنے سے خدا کے وعدوں پر ہمارا ایمان اَور بھی مضبوط ہو جائے گا۔
عزرا کی کتاب میں کئی بہت اچھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ عزرا اور اُس کے ساتھ واپس لوٹنے والے یہودیوں نے یہوواہ خدا کے لئے اپنی لگن ظاہر کی۔ اس کتاب میں کئی غیراسرائیلیوں کا بھی ذکر کِیا گیا ہے جو خدا پر پکا ایمان رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے گُناہوں سے توبہ کرنے والے لوگوں نے بھی مثالی ردِعمل دکھایا۔ واقعی، عزرا کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ ’خدا کا کلام زندہ اور مؤثر ہے۔‘—عبرانیوں ۴:۱۲۔
[صفحہ ۱۸ پر چارٹ/تصویر]
فارسی بادشاہوں کا سلسلہ—سن ۵۳۷ سے لے کر ۴۶۷ قبلِمسیح تک
خورس (عزرا ۱:۱) وفات: ۵۳۰ قبلِمسیح
کمبیسیس، یعنی اخسویرس (عزرا ۴:۶) ۵۳۰-۵۲۲ قبلِمسیح
ارتخششتا، یعنی بردیا یا گوماتا (عزرا ۴:۷) ۵۲۲ قبلِمسیح (سات ماہ کی
حکمرانی کے بعد اُسے قتل کر دیا گیا)
دارا اوّل (عزرا ۴:۲۴) ۵۲۲-۴۸۶ قبلِمسیح
خشا، یعنی اخسویرسa ۴۸۶-۴۷۵ قبلِمسیح (سن ۴۹۶-۴۸۶
قبلِمسیح کے عرصے میں اُس نے دارا
اوّل کیساتھ ساتھ حکمرانی کی)
ارتخششتا لونگیمانس (عزرا ۷:۱) ۴۷۵-۴۲۴ قبلِمسیح
[فٹنوٹ]
a عزرا کی کتاب میں خشا کا ذکر نہیں ہوا لیکن آستر کی کتاب میں اسکا ذکر اخسویرس کے نام سے ہوا ہے۔
[تصویر]
اخسویرس
[صفحہ ۱۷ پر تصویر]
خورس
[صفحہ ۱۷ پر تصویر]
خورس کی یہ تحریر اسیروں کا اپنے وطن واپس لوٹنے کا اجازتنامہ ہے
[تصویر کا حوالہ]
Cylinder: Photograph taken by courtesy of the British Museum
[صفحہ ۲۰ پر تصویر]
عزرا دوسروں کو خدا کی شریعت کی تعلیم دینے میں کامیاب کیوں رہا؟