سبق نمبر 65
آستر نے اپنی قوم کو بچایا
آستر ایک یہودی تھیں اور فارس کے شہر سُوسن میں رہتی تھیں۔ کئی سال پہلے آستر کے گھر والوں کو نبوکدنضر یروشلم سے لے آیا تھا۔ آستر کو اُن کے چچازاد بھائی مردکی نے پالا تھا جو کہ فارس کے بادشاہ اخسویرس کے خادم تھے۔
بادشاہ اخسویرس کو ایک نئی ملکہ چاہیے تھی۔ اُس کے خادم اُس کے پاس پورے ملک سے سب سے خوبصورت لڑکیاں لے کر آئے اور اِن میں آستر بھی تھیں۔ بادشاہ نے سب لڑکیوں میں سے آستر کو ملکہ بننے کے لیے چُنا۔ مردکی نے آستر سے کہا کہ وہ کسی کو یہ نہ بتائیں کہ وہ ایک یہودی ہیں۔
ہامان نام کا ایک شخص سب حاکموں کا سربراہ تھا اور وہ بہت ہی مغرور تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سب لوگ اُس کے سامنے جھکیں۔ لیکن مردکی نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اِس وجہ سے ہامان کو اِتنا غصہ آیا کہ وہ مردکی کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔ جب ہامان کو پتہ چلا کہ مردکی ایک یہودی ہیں تو اُس نے ملک سے سب یہودیوں کو ختم کرنے کی ایک ترکیب سوچی۔ اُس نے بادشاہ سے کہا: ”یہودی بہت خطرناک ہیں۔ آپ کو اُنہیں ختم کرنا ہوگا۔“ اخسویرس نے کہا: ”تمہیں جو صحیح لگتا ہے، وہ کرو۔“ اُس نے ہامان کو ایک حکم جاری کرنے کی اِجازت بھی دے دی۔ ہامان نے یہ حکم جاری کِیا کہ ادار کے مہینے کی 13ویں تاریخ کو سب یہودیوں کو مار ڈالا جائے گا۔ یہوواہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
آستر کو اِس حکم کے بارے میں نہیں پتہ تھا۔ اِس لیے مردکی نے اِس حکمنامے کی ایک کاپی آستر کو بھیجی اور اُن سے یہ کہا: ”جا کر بادشاہ سے بات کرو۔“ آستر نے کہا: ”اگر کوئی شخص بغیر بُلائے بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو اُسے مار ڈالا جاتا ہے۔ بادشاہ نے مجھے پچھلے 30 دن سے نہیں بُلایا۔ لیکن مَیں پھر بھی جاؤں گی۔ اگر بادشاہ نے اپنا سونے کا عصا میری طرف بڑھایا تو میری جان بچ جائے گی۔ اگر اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا تو مَیں ماری جاؤں گی۔“
آستر بادشاہ کے محل کے اندرونی صحن میں گئیں۔ جب بادشاہ نے اُنہیں دیکھا تو اُس نے اپنا عصا اُن کی طرف بڑھایا۔ وہ بادشاہ کے پاس گئیں۔ بادشاہ نے پوچھا: ”آستر! مَیں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟“ آستر نے کہا: ”مَیں آپ کو اور ہامان کو ایک دعوت میں بُلانا چاہتی ہوں۔“ اُس ہی دعوت میں آستر نے اُن دونوں کو ایک اَور دعوت میں آنے کو کہا۔ دوسری دعوت میں بادشاہ نے پوچھا: ”مَیں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟“ آستر نے کہا: ”کوئی مجھے اور میری قوم کے لوگوں کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مہربانی سے ہمیں بچا لیں۔“ بادشاہ نے پوچھا: ”کون آپ کو مار ڈالنا چاہتا ہے؟“ اُنہوں نے کہا: ”یہ بُرا آدمی ہامان!“ اخسویرس کو اِتنا غصہ آیا کہ اُس نے اُسی وقت ہامان کو مروا ڈالا۔
لیکن اُس حکم کو کوئی نہیں بدل سکتا تھا جو ہامان نے جاری کِیا تھا، یہاں تک کہ بادشاہ بھی نہیں۔ اِس لیے بادشاہ نے مردکی کو سب حاکموں کا سربراہ بنایا اور اُنہیں ایک نیا حکم جاری کرنے کا اِختیار دیا۔ مردکی نے ایک نیا حکم جاری کِیا جس میں یہودیوں کو اِس بات کی اِجازت تھی کہ جب اُن پر کوئی حملہ کرے تو وہ اپنا دِفاع کریں۔ ادار کے مہینے کی 13ویں تاریخ کو یہودیوں نے اپنے دُشمنوں کو ہرا دیا۔ اِس کے بعد سے وہ ہر سال اِس جیت کا جشن منانے لگے۔
”میری وجہ سے آپ کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کِیا جائے گا۔ پھر اُن کو اور قوموں کو گواہی ملے گی۔“—متی 10:18