سبق نمبر 18
جلتی ہوئی جھاڑی
موسیٰ 40 سال تک مِدیان میں رہے۔ اُنہوں نے وہاں شادی کی اور اُن کے بچے ہوئے۔ ایک دن جب وہ کوہِسینا کے پاس اپنی بھیڑوں کی دیکھبھال کر رہے تھے تو اُنہوں نے حیران کر دینے والی ایک چیز دیکھی۔ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہوئی تھی لیکن وہ جھاڑی جل کر راکھ نہیں ہو رہی تھی۔ موسیٰ جاننا چاہتے تھے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ جب وہ یہ دیکھنے کے لیے اُس کے قریب جانے لگے تو جھاڑی میں سے یہ آواز آئی: ”موسیٰ! اَور قریب مت آنا۔ اپنے جُوتے اُتار دو کیونکہ تُم پاک زمین پر کھڑے ہو۔“ یہوواہ ایک فرشتے کے ذریعے موسیٰ سے بات کر رہا تھا۔
موسیٰ بہت ڈر گئے اور اُنہوں نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ پھر یہوواہ نے فرشتے کے ذریعے موسیٰ سے یہ کہا: ”مَیں نے دیکھا ہے کہ بنیاِسرائیل کتنی مشکلیں سہہ رہے ہیں۔ مَیں اُنہیں مصریوں سے بچاؤں گا اور اُنہیں ایک اچھے ملک میں لے جاؤں گا۔ تُم میرے بندوں کو مصر سے نکال کر لاؤ گے۔“ یہ سُن کر موسیٰ کتنے حیران رہ گئے ہوں گے نا!
موسیٰ نے یہوواہ سے پوچھا: ”جب لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے تو مَیں کیا کہوں گا؟“ خدا نے کہا: ”اُنہیں کہنا کہ مجھے یہوواہ یعنی اَبراہام کے خدا، اِضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے بھیجا ہے۔“ پھر موسیٰ نے کہا: ”اگر لوگوں نے میری بات نہیں سنی تو مَیں کیا کروں گا؟“ یہوواہ نے موسیٰ کو اِس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اُن کی مدد کرے گا۔ اُس نے موسیٰ سے کہا کہ وہ اپنی لاٹھی زمین پر پھینکیں۔ جب موسیٰ نے ایسا کِیا تو اُن کی لاٹھی سانپ بن گئی۔ جب موسیٰ نے اُس سانپ کی دُم پکڑی تو وہ سانپ پھر سے لاٹھی بن گیا۔ یہوواہ نے کہا: ”جب تُم لوگوں کو یہ نشانی دِکھاؤ گے تو اِس سے ثابت ہو جائے گا کہ مَیں نے تمہیں بھیجا ہے۔“
موسیٰ نے کہا: ”مَیں تو صحیح طرح بول بھی نہیں پاتا۔“ یہوواہ نے موسیٰ سے یہ وعدہ کِیا: ”مَیں تمہیں بتاؤں گا کہ تمہیں کیا کہنا ہے اور مَیں تمہاری مدد کرنے کے لیے تمہارے بھائی ہارون کو بھیجوں گا۔“ موسیٰ جان گئے تھے کہ یہوواہ اُن کے ساتھ ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنی بیوی اور بیٹوں کو لیا اور واپس مصر چلے گئے۔
”اِس بات کی فکر نہ کریں کہ آپ کیا کہیں گے اور کیسے کہیں گے۔ آپ کو اُس وقت ہدایت ملے گی کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔“—متی 10:19