سبق نمبر 19
پہلی تین آفتیں
مصری زبردستی بنیاِسرائیل سے غلاموں کے طور پر کام کراتے تھے۔ یہوواہ نے موسیٰ اور ہارون کے ذریعے فِرعون کو یہ پیغام بھیجا: ”میرے لوگوں کو جانے دو تاکہ وہ ویرانے میں میری عبادت کر سکیں۔“ فِرعون نے بڑے غرور سے کہا: ”مَیں یہوواہ کی بات کیوں مانوں؟ مَیں بنیاِسرائیل کو نہیں جانے دوں گا۔“ اِس کے بعد فِرعون نے بنیاِسرائیل سے اَور بھی زیادہ کام لینا شروع کر دیا۔ یہوواہ اب فِرعون کو ایک سبق سکھانے والا تھا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اُس نے ایسا کیسے کِیا؟ اُس نے مصر پر دس آفتیں بھیجیں۔ یہوواہ نے موسیٰ سے کہا: ”فِرعون میری بات نہیں مان رہا۔ کل صبح وہ دریائےنیل پر ہوگا۔ اُس سے جا کر کہنا کہ اُس نے میرے لوگوں کو نہیں جانے دیا اِس لیے دریائےنیل کا پانی خون بن جائے گا۔“ موسیٰ نے یہوواہ کی بات مانی اور وہ فِرعون کے پاس گئے۔ ہارون نے فِرعون کے سامنے اپنی لاٹھی دریائےنیل پر ماری اور دریا کا سارا پانی خون بن گیا۔ دریا کی ساری مچھلیاں مر گئیں اور اُس میں سے بدبُو آنے لگی۔ اب دریا کا پانی کوئی نہیں پی سکتا تھا۔ لیکن فِرعون نے اب بھی بنیاِسرائیل کو نہیں جانے دیا۔
سات دن بعد یہوواہ نے موسیٰ کے ہاتھ فِرعون کو یہ پیغام بھیجا: ”اگر تُم نے میرے لوگوں کو نہ جانے دیا تو پورا مصر مینڈکوں سے بھر جائے گا۔“ ہارون نے اپنی لاٹھی اُٹھائی اور پورے ملک میں مینڈک پھیل گئے۔ لوگوں کے گھروں، بستروں، برتنوں اور ہر جگہ مینڈک ہی مینڈک ہو گئے! فِرعون نے وعدہ کِیا کہ وہ بنیاِسرائیل کو جانے دے گا۔ اُس نے موسیٰ سے کہا کہ وہ یہوواہ سے درخواست کریں کہ وہ اِس آفت کو روک دے۔ یہوواہ نے یہ آفت روک دی۔ مصری مرے ہوئے مینڈکوں کو جمع کرنے لگے اور ہر طرف مینڈکوں کا ڈھیر لگ گیا۔ پورے ملک میں بدبُو پھیل گئی۔ لیکن پھر بھی فِرعون نے بنیاِسرائیل کو نہیں جانے دیا۔
پھر یہوواہ نے موسیٰ سے کہا: ”ہارون اپنی لاٹھی زمین پر مارے اور پھر زمین کی مٹی مچھروں میں بدل جائے گی۔“ فوراً ہی ہر جگہ مچھر پھیل گئے۔ فِرعون کے کچھ اپنے لوگوں نے بھی اُس سے کہا: ”یہ آفت خدا کی طرف سے آئی ہے۔“ اِس سب کے بعد بھی فِرعون نے بنیاِسرائیل کو جانے نہیں دیا۔
”مَیں اپنا ہاتھ اور اپنا زور اُن کو دِکھاؤں گا اور وہ جانیں گے کہ میرا نام یہوواہ ہے۔“—یرمیاہ 16:21