یسوع مسیح کس طرح سے موسی کی مانند ایک نبی تھا؟
یہوواہ خدا جھوٹ نہیں بولتا۔ (ططس ۱:۲، عبرانیوں ۶:۱۸) اسلئے اسکے کلام، بائبل کی پیشینگوئیاں، سچی اور قابلبھروسہ ہیں۔ انکا پورا ہونا یقینی ہے۔
خدائی الہام سے دی گئی ان پیشینگوئیوں میں سے ایک کو عبرانی نبی موسی نے مسیحا کی بابت قلمبند کیا۔ یہوواہ کا حوالہ دیتے ہوئے، موسی نے بیان کیا: ”میں ان کے لئے [اسرائیلیوں] ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری [موسی] مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اسے حکم دونگا وہی ان سے کہے گا۔“ استثنا ۱۸:۱۷، ۱۸۔
پطرس رسول نے اس پیشینگوئی کو یسوع مسیح پر عائد کیا جب اس نے لکھا: ”چنانچہ موسی نے کہا کہ [یہوواہ] خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کریگا جو کچھ وہ تم سے کہے اسکی سننا۔“ (اعمال ۳:۲۲) درحقیقت، یسوع نے خود بیان کیا تھا: ”اگر تم موسی کا یقین کرتے تو میرا بھی یقین کرتے اسلئے کہ اس نے میرے حق میں لکھا ہے۔“ (یوحنا ۵:۴۶) کن طریقوں سے یسوع اور موسی ایک ہی طرح کے تھے؟
اپنی ابتدائی طرززندگی میں ایک ہی طرح کے موسی اور یسوع دونوں بہت کمسن لڑکوں کے قتلعام سے بچے تھے شیرخوار موسی کو دریائے نیل کے کناروں پر نرسل کے جھاؤ میں چھپایا گیا تھا اور یوں اسرائیلیوں کے نر بچوں کے قتلعام سے بچا تھا جس کا حکم مصر کے فرعون نے دیا تھا۔ بطور ایک کمسن بچے کے، یسوع بھی بیتلحم اور اس کی سرحدوں کے اندر دو سال کی عمر کے لڑکوں کے قتلعام سے بچا تھا۔ اس قتلعام کا حکم بادشاہ ہیرودیس اعظم نے دیا تھا، جو فرعون کی طرح خدا اور اسکے لوگوں کا دشمن تھا۔ خروج ۱:۲۲-۲:۱۰، متی ۲: ۱۳-۱۸۔
موسی اور یسوع دونوں نے حلممزاج، یا منکسرالمزاج روح دکھائی تھی۔ اگرچہ اسکی پرورش مصر کے طاقتور بادشاہ کے گھرانے میں ایک بیٹے کے طور پر ہوئی تھی تو بھی موسی ”تمام رو ئےزمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم“ کہلایا تھا۔ (گنتی ۱۲:۳) اسکے مدمقابل، یسوع آسمان پر زورآور شہزادے میکائیل کے طور پر خدمت کر چکا تھا لیکن انکساری کیساتھ زمین پر آ گیا۔ (دانیایل ۱۰:۱۳، فلپیوں ۲:۵-۸) علاوہازیں، یسوع لوگوں پر ترس کھاتا تھا اور کہہ سکتا تھا: ”میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔“ متی ۱۱:۲۹، ۱۴:۱۴۔
یہوواہ کی خدمت کی خاطر، موسی اور یسوع دونوں نے بلند مرتبے اور کثیر دولت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہوواہ اور اسکے لوگوں کی خدمت کرنے کیلئے، موسی نے مصر میں پروقار مرتبے اور دولت کو چھوڑ دیا۔ (عبرانیوں ۱۱:۲۴-۲۶) اسی طرح سے یسوع نے زمین پر خدا اور اسکے لوگوں کی خدمت کرنے کیلئے آسمان پر ایک نہایت ہی پسندیدہ مرتبے اور دولت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ۲-تواریخ ۸:۹۔
موسی اور یسوع دونوں خدا کے ممسوح بنے۔ موسی نبی نے اسرائیل کی قوم کیلئے یہوواہ کے ممسوح کے طور پر خدمت کی۔ جیسےکہ پولس رسول نے کہا، موسی نے ”مسیح [ممسوح] کیلئے لعنطعن اٹھانے کو مصر کے خزانوں سے بڑی دولت جانا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۶، خروج ۳:۱-۴:۱۷) یسوع کب مسیح، یا ممسوح بنا تھا؟ یہ اس وقت واقع ہوا تھا جب وہ روح القدس، یا سرگرم قوت سے، بپتسمہ پانے پر مسح ہوا تھا۔ سوخار میں یعقوب کے کنویں پر سامری عورت کو، اور اسرائیل کے سردار کاہن کے سامنے مقدمے کی سماعت کے وقت، یسوع نے گواہی دی تھی کہ وہ مسیحا، یا مسیح تھا۔ مرقس ۱۴:۶۱، ۶۲، یوحنا ۴:۲۵، ۲۶۔
موسی اور یسوع دونوں نے ۴۰ دن تک فاقہ کیا۔ خدا کے نمائندے کے طور پر اپنے ابتدائی طرززندگی میں، موسی نے ۴۰ دن تک فاقہ کیا جب وہ کوہسینا پر تھا۔ (خروج ۳۴:۲۸) یسوع نے بیابان میں ۴۰ دن تک فاقہ رکھا اور بعد میں موعودہ مسیحا کے طور پر اپنے ابتدائی طرززندگی میں شیطانی آزمائش کا مقابلہ کیا۔ متی ۴:۱-۱۱۔
دونوں آدمیوں نے یہوواہ کی ستائش کی
یہوواہ نے موسی اور یسوع دونوں کو اپنے مقدس نام کی بڑائی کرانے کے لئے استعمال کیا۔ خدا نے موسی کو اسرائیلوں کے پاس ”یہوواہ ان کے باپدادا کے خدا“ کے نام سے جانے کو کہا تھا۔ (خروج ۳:۱۳-۱۶) موسی نے فرعون کے سامنے خدا کی نمائندگی کی، جسے اس لئے زندہ رکھا گیا تھا تاکہ یہوواہ کی قوت دکھائی جا سکے اور اس کے نام کو تمام زمین پر مشہور کیا جا سکے۔ (خروج ۹:۱۶) اسی طرح سے یسوع بھی یہوواہ کے نام سے آیا تھا۔ مثال کے طور پر، مسیح نے کہا: ”میں اپنے باپ کے نام سے آیا ہوں اور تم مجھے قبول نہیں کر تے۔“ (یوحنا ۵:۴۳) یسوع نے اپنے باپ کی ستائش کی، یہوواہ کے نام کو ان آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں خدا نے اسے دیا تھا، اور اسے زمین پر خوب مشہور کیا۔ یوحنا ۱۷:۴، ۶، ۲۶۔
خدائی قوت سے، موسی اور یسوع دونوں نے معجزے کئے جن سے خدا کی ستائش ہوئی۔ موسی نے یہ ثابت کرنے کے لئے معجزے دکھائے کہ اسے یہوواہ خدا کی طرف سے تفویض ملی تھی۔ (خروج ۴:۱-۳۱) اپنے پورے طرززندگی کے دوران موسی، جسے خدا نے بحرقلزم کو دو ٹکڑے کرنے کے لئے استعمال کیا تھا ایسے معجزے کرتا رہا جن سے یہوواہ کی ستائش ہوئی۔ (خروج ۵:۱-۱۲:۳۶، ۱۴:۲۱-۳۱، ۱۶:۱۱-۱۸، ۱۷:۵-۷، زبور ۷۸:۱۲-۵۴) اسی طرح سے، یسوع نے بہت سے ایسے معجزے کرنے سے خدا کو جلال دیا۔ درحقیقت وہ معاملہ اس قدر ایسا تھا کہ یسوع کہہ سکتا تھا: ”میرا یقین کرو کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے۔ نہیں تو میرے کاموں ہی کے سبب سے میرا یقین کرو۔“ (یوحنا ۱۴:۱۱) اس کے معجزوں میں شدید طوفان کو کم کرنے کا باعث بننا شامل تھا، حتیٰ کہ گلیل کے سمندر میں سکوت ہو گیا تھا۔ مرقس ۴:۳۵-۴۱، لوقا ۷:۱۸-۲۳۔
دوسری اہم مماثلتیں
موسی اور یسوع دونوں خوراک کی اعجازی فراہمی میں شریک تھے۔ موسی یہوواہ کا نبی تھا جب معجزانہ طور پر اسرائیلیوں کیلئے خوراک فراہم کی گئی تھی۔ (خروج ۱۶:۱۱-۳۶) اسی طرح سے بائبل ریکارڈ میں دو مواقع پر، یسوع نے معجزانہ طور پر بڑیبھیڑ کو جسمانی خوراک سے سیر کیا۔ متی ۱۴:۱۴-۲۱، ۱۵:۳۲-۳۸۔
آسمان سے من موسی اور یسوع دونوں کی خدمت کے ساتھ منسلک تھا۔ موسی اسرائیلیوں کی پیشوائی کر رہا تھا جب انہیں گویا آسمان سے من فراہم کیا گیا تھا۔ (خروج ۱۶:۱۱-۲۷، گنتی ۱۱:۴-۹، زبور ۷۸:۲۵) اسی طرح سے لیکن اور زیادہ اہم طریقے سے، یسوع نے فرمانبردار بنیآدم کی زندگی کے لئے آسمان سے من کے طور پر اپنے ہی بدن کو دے دیا۔ یوحنا ۶:۴۸-۵۱۔
موسی اور یسوع دونوں نے لوگوں کو غلامی سے آزادی دلائی۔ موسی کو خدا نے اسرائیلیوں کو مصریوں کی غلامی سے اپنے لوگوں کے طور پر آزادی دلائی۔ (خروج ۱۲:۳۷-۴۲) اسی طرح سے، یسوع مسیح اپنے پیروکاروں کو آزادی دلا رہا ہے۔ مسیح فرمانبردار بنیآدم کو شیطان ابلیس کی تنظیم، نیز گناہ اور موت کی غلامی سے بھی آزادی دلائے گا۔ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۴-۲۶، کلسیوں ۱:۱۳، ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
موسی اور یسوع دونوں عہود کے درمیانی بنے۔ موسی یہوواہ اور اسرائیلیوں کے درمیان شریعتی عہد کا درمیانی تھا۔ (خروج ۱۹:۳-۹) یسوع خدا اور روحانی اسرائیل کے درمیان نئے عہد کا درمیانی ہے۔ یرمیاہ ۳۱:۳۱-۳۴، لوقا ۲۲:۲۰، عبرانیوں ۸:۶-۱۳۔
موسی اور یسوع مسیح دونوں کو انصاف کرنے کی تفویض دی گئی تھی۔ موسی نے جسمانی اسرائیل کیلئے منصف اور شریعت دینے والے کے طور پر خدمت کی۔ (خروج ۱۸:۱۳، ملاکی ۴:۴) یسوع بطور منصف کے کام کرتا ہے اور ”خدا کے [روحانی] اسرائیل“ کو اسکے آئین اور احکامات دئے ہیں۔ (گلتیوں ۶:۱۶، یوحنا ۱۵:۱۰) مسیح نے خود کہا: ”باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے تاکہ سب لوگ بیٹے کی عزت کریں جس طرح باپ کی عزت کرتے ہیں۔ جو بیٹے کی عزت نہیں کرتا وہ باپ کی جس نے اسے بھیجا عزت نہیں کرتا۔“ یوحنا ۵:۲۲، ۲۳۔
موسی اور یسوع دونوں کو خدا کے گھر میں سرداری کی ذمہداریاں دی گئی تھیں۔ موسی قدیم اسرائیل میں خدا کے گھر میں سردار کے طور پر امانتدار تھا۔ (گنتی ۱۲:۷) اسی طرح سے، یسوع کو یہوواہ کے روحانی بیٹوں کے گھر پر سردار مقرر کیا گیا تھا اور وہ اس پر دیانتدار ثابت ہوا ہے۔ بیشک یسوع ”اپنے مقرر کرنے والے کے حق میں دیانتدار تھا۔ جس طرح موسی اس کے سارے گھر میں تھا۔ کیونکہ وہ موسی سے اسقدر زیادہ عزت کے لائق سمجھا گیا جس قدر گھر کا بنانے والا گھر سے زیادہ عزتدار ہوتا ہے۔ . . . موسی تو اس کے گھر میں خادم کی طرح دیانتدار رہا تاکہ آئندہ بیان ہونے والی باتوں کی گواہی دے۔ لیکن مسیح بیٹے کی طرح اس کے گھر کا مختار ہے اور اس کا گھر ہم ہیں بشرطیکہ اپنی دلیری اور امید کا فخر آخر تک مضبوطی سے قائم رکھیں۔“ عبرانیوں ۳:۲-۶۔
موت کے سلسلے میں بھی، موسی اور یسوع ایک جیسے تھے۔ کس طرح سے؟ جیہاں، یہوواہ نے موسی کی لاش کو غائب کر دیا تھا، اور یوں آدمیوں کو اس کی بےحرمتی کرنے یا اس کی پرستش کرنے سے روک دیا۔ (استثنا ۳۴:۵، ۶، یہوداہ ۹) اسی طرح سے، خدا نے یسوع کے جسم کو ٹھکانے لگا دیا تاکہ اس پر سٹرنے کی نوبت نہ آئے اور یوں اسے ایمان کے لئے رکاوٹ بننے سے روک دیا۔ زبور ۱۶:۱۰، اعمال ۲:۲۹-۳۱، ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۰۔
پیشینگوئی پر توجہ دیں
یہ ان طریقوں میں سے ہیں جن کے ذریعے یسوع مسیح موسی کی مانند نبی ثابت ہوا۔ اس آنے والے نبی کی بابت موسی سے مخاطبکردہ خدا کے الفاظ حیرتانگیز طور پر پورے ہوئے ہیں!
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہوواہ نے موسی کی مانند ایک نبی برپا کرنے کیلئے اپنے نبوتی وعدے کو پورا کیا ہے۔ استثنا ۱۸:۱۸ کے الفاظ یسوع مسیح کی زندگی اور تجربات کے سلسلے میں پورے ہوئے تھے۔ اور اسطرح کی تکمیل ہمیں خدا کے کلام کی دوسری خصوصیات پر اعتماد رکھنے کی وجہ دیتی ہے۔ اسلئے، آئیے ہم ہمیشہ بائبل پیشینگوئی پر توجہ دیتے رہیں۔ (۲۸ ۱۱/۱۵ w۹۱)