ملتا جلتا مواد یحگ گیت نمبر 44 دُکھی بندے کی فریاد سُن میری دُعا یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ دلیری مجھ کو دے یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ نوجوانوں سے یہوواہ کی گزارش یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ یہوواہ کی تعظیم کریں یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دو! یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ آپ نے یہ سب کچھ میرے لیے کِیا یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ ”اپنے چرواہے اور نگہبان کے پاس لوٹ“ آئیں یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں ”اپنی راہیں مجھے دِکھا“ یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“ مَیں راستی کی راہ پر چلوں گا یہوواہ کے حضور ”خوشی سے گائیں“