یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م26 مئی ص.‏ 20-‏25
  • زیادہ تعلیم حاصل کرتے وقت بھی یہوواہ کے قریب رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • زیادہ تعلیم حاصل کرتے وقت بھی یہوواہ کے قریب رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وہ کام کرتے رہیں جن سے آپ یہوواہ کے قریب رہ سکیں
  • ‏’‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت کریں‘‏
  • اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں
  • اُن سے دوستی کریں جو یہوواہ سے محبت کرتے ہیں
  • تیار رہیں
  • زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے سمجھ‌داری سے فیصلے لیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • بپتسمے کے بعد بھی یسوع کی ’‏پیروی کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
م26 مئی ص.‏ 20-‏25

27 جولائی–‏2 اگست 2026ء

گیت نمبر 56 سچائی کو تھام لیں

زیادہ تعلیم حاصل کرتے وقت بھی یہوواہ کے قریب رہیں

‏”‏بہرحال ہم نے جتنی بھی پختگی حاصل کر لی ہو،‏ آئیں،‏ آگے بڑھتے رہیں۔“‏‏—‏فِل 3:‏16‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

آپ بائبل کے کن چار اصولوں کی مدد سے اُس وقت بھی یہوواہ کے قریب رہ سکتے ہیں جب آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو آگے بھی کیا کرتے رہنا چاہیے؟ (‏ب)‏’‏آگے بڑھتے رہنے‘‏ کا کیا مطلب ہے؟ (‏فِلپّیوں 3:‏16‏)‏

کچھ یہوواہ کے گواہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اَور زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے کوئی ہنر سیکھا یا پھر کوئی کورس کِیا۔ اُنہوں نے ایسا اِس لیے کِیا تاکہ وہ اپنے خرچے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ چڑھ کر یہوواہ کی خدمت کر سکیں۔ اگر آپ نے بھی زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا ہے تو آپ اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ آپ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہوواہ کے قریب رہیں؟ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ بے‌شک سکول میں پڑھائی کرتے وقت آپ پہلے ہی کئی بار ایمان کی آزمائش سے گزر چُکے ہوں گے۔ تو اب اگر آپ اَور زیادہ پڑھنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو پہلے کی طرح ’‏آگے بڑھتے رہنے‘‏ یعنی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔‏‏—‏فِلپّیوں 3:‏16 کو پڑھیں۔‏

2 جس یونانی فعل کا ترجمہ ”‏آگے بڑھتے رہیں“‏ کِیا گیا ہے، اُس سے ہمارے ذہن میں ایک ایسے فوجی کی تصویر بنتی ہے جو مارچ کرتے وقت بِنا رُکے اور بِنا مُڑے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ تو اگر آپ نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا ہے تو آپ کو بِنا رُکے اور بِنا مُڑے یہوواہ کی خدمت میں آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے بائبل کے چار اصول آپ کے بہت کام آ سکتے ہیں۔ اِن اصولوں کا اِس مضمون میں ذکر کِیا جائے گا۔ یہ اصول آپ کے لیے نئے نہیں ہیں۔ آپ اِن پر پہلے بھی عمل کر چُکے ہیں۔ لیکن اب جب آپ زیادہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو آپ کو ابھی بھی اِن پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اُس وقت بھی جب آپ اپنی تعلیم ختم کر لیتے ہیں۔‏

وہ کام کرتے رہیں جن سے آپ یہوواہ کے قریب رہ سکیں

3.‏ زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے آپ کو ہر روز کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏

3 آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏ زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے آپ زیادہ مصروف ہو جائیں گے اور آپ کے کام بھی اَور بڑھ جائیں گے۔ ظاہری بات ہے کہ آپ دل لگا کر پڑھائی کرنا چاہیں گے جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ آپ یہوواہ کی خدمت کو کم اہمیت دینے لگیں۔ آپ کے لیے تو شاید باقاعدگی سے اِجلاسوں اور مُنادی میں جانا اور ہر روز بائبل پڑھنا اور دُعا کرنا بھی مشکل ہو جائے۔—‏مُکا 2:‏4‏۔‏

4.‏ کیا چیز ”‏مالک کی خدمت میں مصروف“‏ رہنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏58‏)‏

4 پہلا کُرنتھیوں 15:‏58 کو پڑھیں۔‏ ایک سائیکل چلاتے وقت ہم تبھی آگے بڑھ سکتے ہیں اگر ہم پیڈل مارتے رہیں گے۔ اِسی طرح ہم یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو تبھی مضبوط رکھ سکتے ہیں جب ہم اُس کی خدمت میں مصروف رہیں گے۔ اِسی لیے تو بائبل میں ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ”‏مالک کی خدمت میں مصروف رہیں۔“‏ سچ ہے کہ جب ہم یہ بات پڑھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں یہوواہ کی خدمت میں زیادہ وقت لگانا چاہیے۔ لیکن یہ بات بھی بہت ضروری ہے کہ ہم مالک کی خدمت اِس لیے کریں کیونکہ یہ ہماری نظر میں بہت اہم ہے۔ کبھی نہ بھولیں کہ آپ پہلے یہوواہ کے بندے ہیں اور بعد میں کسی اِدارے کے طالبِ‌علم۔ (‏متی 22:‏37‏)‏ اِس سلسلے میں سمین‌تھا نام کی ایک جوان بہن کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں نے خود سے وعدہ کِیا تھا کہ اگر میرے لیے اپنی تعلیم کی وجہ سے یہوواہ کی خدمت کرنا مشکل ہوا تو مَیں اپنی تعلیم کو چھوڑ دوں گی۔“‏

5.‏ آپ یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

5 اِس سے پہلے کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنا شروع کریں،‏ آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ اِس بات کا پورا خیال رکھیں کہ یہوواہ آئندہ بھی آپ کی زندگی میں سب سے اہم ہو۔ ایسا کرنے کے لیے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏مَیں کیا کر سکتا ہوں تاکہ مَیں باقاعدگی سے مُنادی اور اِجلاسوں میں جاتا رہوں اور بائبل کا مطالعہ کرتا رہوں؟“‏ (‏یشو 1:‏8؛‏ متی 28:‏19، 20؛‏ عبر 10:‏25‏)‏ اور ذرا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے خود سے یہ سوال بھی پوچھیں:‏ ”‏جب مَیں سکول میں پڑھتا تھا تو مَیں اِن کاموں کو اہمیت دینے کے لیے کیسے وقت نکالتا تھا؟“‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اُس وقت آپ اِن کاموں کو اچھی طرح سے نہیں کر پا رہے تھے تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اب کیا کریں گے تاکہ وہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔ اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرتے وقت بھی یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہیں گے۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ دل لگا کر پڑھائی کریں۔ لیکن اِس میں اِتنا زیادہ وقت نہ لگائیں کہ آپ کے پاس یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے وقت اور طاقت نہ بچے۔‏a‏—‏متی 6:‏24‏۔‏

6.‏ آپ خود سے کون سے سوال پوچھ سکتے ہیں جن سے آپ یہ جان سکیں کہ آپ ابھی بھی یہوواہ کو اپنی زندگی میں زیادہ اہمیت دے رہے ہیں یا نہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

6 جب آپ آگے پڑھائی کرنا شروع کرتے ہیں تو ہر مہینے تھوڑا وقت نکال کر اِس بارے میں سوچیں کہ کیا یہوواہ ابھی بھی آپ کی زندگی میں سب سے اہم ہے؟ اپنا جائزہ لینے کے لیے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں نے اِجلاسوں میں جانا کم کر دیا ہے یا کیا مَیں اِن میں دیر سے جاتا ہوں؟ کیا مَیں اکثر اِجلاس کے دوران اپنی پڑھائی کے بارے میں سوچتا ہوں؟ کیا مَیں نے عبادت‌گاہ میں جا کر اِجلاس سننے کی بجائے ویڈیو کال کے ذریعے اِنہیں سننا شروع کر دیا ہے؟“‏ اِس بارے میں بھی سوچیں کہ کیا اب آپ نے بائبل پڑھنا اور دُعا کرنا کم کر دیا ہے؟ اور کیا اب آپ بس فرض سمجھ کر مُنادی کے لیے جاتے ہیں اور اِسے جلدی جلدی سے ختم کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ نے اِن میں سے کسی ایک یا اِس سے زیادہ سوالوں کا جواب ہاں میں دیا ہے تو فوراً خود میں بہتری لانے کے لیے قدم اُٹھائیں۔ اپنی تعلیم کی وجہ سے یہوواہ کو اپنی زندگی میں کم اہمیت نہ دیں۔‏

ایک بھائی ”‏مینارِنگہبانی“‏ کے مضمون کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے لیے اِس میں دی گئی آیتوں کو دیکھ رہا ہے۔‏

اپنی تعلیم کی وجہ سے یہوواہ کو اپنی زندگی میں کم اہمیت نہ دیں۔ (‏پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)‏


‏’‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت کریں‘‏

7.‏ زیادہ تعلیم حاصل کرنے سے آپ کی سوچ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟‏

7 آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏ کچھ کورس ایسے ہوتے ہیں جن میں شاید آپ کو ایسی باتیں یا نظریات سکھائے جائیں جو بائبل کے مطابق غلط ہیں اور جنہیں بائبل میں ”‏فلسفے اور فضول باتیں“‏ کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر شاید آپ کو یہ سکھایا جائے کہ کوئی خدا نہیں ہے اور اِنسان خود بخود وجود میں آئے ہیں۔ (‏کُل 2:‏8‏)‏ اِس کے علاوہ کچھ طرح کے کورس ایسے ہوتے ہیں جن میں اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں ذرا ایک جوان بھائی کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں جو کورس کر رہا تھا، اُس میں ہمیں صرف نئی مہارتیں ہی نہیں سکھائی گئیں بلکہ ہمیں یہ بھی سکھایا گیا کہ ہمیں کس طرح سے سوچنا چاہیے۔ اور اکثر یہ سوچ یہوواہ کی سوچ سے فرق ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر ہمارے ذہن میں یہ سوچ ڈالی گئی کہ زندگی میں خوش رہنے اور کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنا ہوگا۔ اِس سوچ کی وجہ سے مَیں یہ سوچنے لگا کہ مَیں یہوواہ کی مدد کے بغیر بھی خوش رہ سکتا ہوں۔ میرے لیے تو ہر معاملے میں یہوواہ پر بھروسا کرنا بھی بہت مشکل ہو گیا تھا۔“‏

8.‏ ہمارے لیے ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت“‏ کرنا اِتنا ضروری کیوں ہے؟ (‏اَمثال 5:‏1، 2‏)‏

8 اَمثال 5:‏1، 2 کو پڑھیں۔‏ بائبل میں ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت“‏ کریں۔ ایک چیز کی تبھی حفاظت کی جاتی ہے جب اِسے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور یہ بات ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ (‏1-‏پطر 5:‏8‏)‏ شیطان اور اُس کی دُنیا ہمیشہ اِسی کوشش میں رہتے ہیں کہ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت خراب ہو جائے۔ یہ دُنیا صحیح اور غلط کے بارے میں اور زندگی کی شروعات اور خدا کے وجود کے بارے میں جو سوچ رکھتی ہے، اِس کا اثر ہم پر بھی پڑ سکتا ہے اور ہمارے دل میں اُن باتوں کو لے کر شک پیدا ہو سکتا ہے جو بائبل میں یہوواہ کے بارے میں بتائی گئی ہیں۔ دُنیا کے لوگ اپنے نظریے کو اِس طرح سے پیش کرتے ہیں جیسے اُن کے نظریے سے بہتر اَور کوئی نظریہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ”‏دُنیا کی دانش‌مندی خدا کی نظر میں بے‌وقوفی ہے۔“‏—‏1-‏کُر 3:‏18-‏20‏۔‏

9.‏ آپ ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت“‏ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

9 اِس سے پہلے کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنا شروع کریں، آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ بائبل میں بتائی گئی باتوں پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ لیکن آپ کو ایسا کب کرنا چاہیے؟ اَور زیادہ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے نہ کہ بعد میں۔ تو خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏مَیں خدا پر ایمان کیوں رکھتا ہوں؟ مجھے کیسے پتہ ہے کہ بائبل خدا کا ہی کلام ہے؟ مَیں کس وجہ سے اِس بات پر پکا یقین رکھتا ہوں کہ بائبل میں صحیح اور غلط کے بارے میں جو معیار بتائے گئے ہیں، وہ دُنیا کے معیاروں سے اعلیٰ ہیں؟“‏ بے‌شک جب آپ سکول میں پڑھتے تھے تو آپ کو دُنیا کے لوگوں کی سوچ کا سامنا ہوا تھا۔ تو ذرا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے خود سے یہ سوال بھی پوچھیں:‏ ”‏جب مَیں دوسروں کو یہ کہتے سنتا تھا کہ وہ اِرتقا کے نظریے کو سچ مانتے ہیں تو کیا مَیں اِس بات پر شک کرنے لگ گیا تھا کہ خدا واقعی موجود ہے اور اُس نے سب چیزیں بنائی ہیں؟ کیا میرے لیے اُن غلط کاموں سے دُور رہنا مشکل ہوتا تھا جو میری کلاس کے بچے کرتے تھے؟“‏ اگر آپ نے اِن میں سے ایک یا پھر دونوں سوالوں کے جواب ہاں میں دیے ہیں تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اب اِس بات پر اپنے ایمان کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں کہ بائبل میں لکھی باتیں سچ ہیں اور آپ کے فائدے کے لیے ہیں۔ اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ دوسروں کی کہی باتوں کی وجہ سے اُن باتوں پر شک نہیں کریں گے جو واقعی سچی ہیں۔—‏2-‏تیم 2:‏16-‏18‏۔‏b

10.‏ آپ ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت“‏ کرتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

10 اگر آپ نے آگے پڑھائی کرنا شروع کر دی ہے تو باقاعدگی سے وقت نکال کر اپنا جائزہ لیتے رہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏اگر مَیں دیکھتا ہوں کہ دوسرے کوئی ایسا کام کر رہے ہیں جو یہوواہ کی نظر میں صحیح نہیں ہے تو کیا مَیں پھر بھی یہ سوچتا ہوں کہ وہ اِتنا بُرا کام نہیں کر رہے؟ جب مجھے کوئی ایسی بات سکھائی جاتی ہے جو سچ نہیں ہے تو کیا مَیں یہ دیکھ پاتا ہوں کہ یہ خدا کی نہیں بلکہ اِنسانوں کی دانش‌مندی ہے؟ کیا مَیں اِس بات پر پکا بھروسا کرتا ہوں کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی اِنسانوں کے ہر مسئلے کو حل کر سکتی ہے؟“‏ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت کرنے کے لیے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا کبھی نہ چھوڑیں۔ بائبل کا مطالعہ کرنے اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کرنے سے آپ اپنے اِس یقین کو مضبوط کر پائیں گے کہ بائبل میں لکھی ہر بات سچی ہے۔—‏1-‏تیم 4:‏15‏۔‏

اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں

11.‏ اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو آپ کے لیے اپنے وقت کو اچھی طرح سے اِستعمال کرنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟‏

11 آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏ زیادہ تعلیم زیادہ وقت مانگتی ہے۔ ایسا خاص طور پر اُس وقت ہو سکتا ہے جب آپ کے اِمتحان چل رہے ہوں یا پھر آپ کو اپنا کوئی پراجیکٹ مکمل کرنا ہو۔ تو اگر آپ اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے نہیں اِستعمال کریں گے تو آپ پریشان اور تھک کر چُور ہو جائیں گے۔ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بھی وقت نکالیں۔‏

12.‏ آپ کو کن کاموں کو کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے؟ (‏اِفِسیوں 5:‏15، 16‏)‏

12 اِفِسیوں 5:‏15، 16 کو پڑھیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے ”‏اپنے وقت کا بہترین اِستعمال“‏ کرنا مشکل ہو کیونکہ آپ کو بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو اپنی پڑھائی کرنی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے گھر والوں اور اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے لیے بھی وقت نکالیں۔ (‏زبور 133:‏1؛‏ اَمثا 18:‏1‏)‏ اِس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرتے رہنے کے لیے وقت نکالیں۔ (‏متی 6:‏33‏)‏ شاید آپ کو اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے گھر کے کچھ کام‌کاج کرنے پڑتے ہیں اور شاید آپ نوکری بھی کر رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے تھوڑا بہت آرام کرنے اور ورزش کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏واعظ 4:‏6؛‏ 1-‏تیم 4:‏8‏)‏ یہ سب کام تبھی اچھی طرح سے ہو پائیں گے اگر آپ اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں گے۔‏

13.‏ آپ اپنے وقت کا بہترین اِستعمال کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

13 اِس سے پہلے کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنا شروع کریں، آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ پہلے سے کسی کام کا منصوبہ بنانے سے کامیابی ملتی ہے۔ (‏اَمثا 21:‏5‏)‏ تو اِس سے پہلے کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنا شروع کریں، اپنے لیے ایک اچھا شیڈول بنائیں۔ ایسا کرنے کے لیے ذرا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏جب مَیں سکول میں پڑھتا تھا تو اُس وقت مَیں اپنے وقت کو کتنی اچھی طرح سے اِستعمال کرتا تھا؟“‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اُس وقت آپ نے اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال نہیں کِیا تھا تو آپ ابھی خود میں بہتری لانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ اپنے لیے ایک اچھا معمول بنائیں گے تاکہ آپ کو اِس بات کی پریشانی نہ ہو کہ آپ سارے کام وقت پر نہیں کر پائیں گے۔‏c

14.‏ آپ اپنا جائزہ لینے کے لیے خود سے کون سے سوال پوچھ سکتے ہیں؟‏

14 اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو باقاعدگی سے اپنا جائزہ لیتے رہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مجھے آرام اور ورزش کرنے کا وقت ملتا ہے؟ کیا مَیں ابھی بھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ تفریح کرنے کے لیے وقت نکال پاتا ہوں؟ کیا مَیں وقت پر اپنا ہوم ورک کر پاتا ہوں؟ اگر نہیں تو کیا اِس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس بہت سے کام ہوتے ہیں یا پھر مَیں اہم کاموں کو ٹالتا رہتا ہوں؟ کیا میرے گھر والوں اور دوستوں کو لگتا ہے کہ مجھے خود میں بہتری لانے کی ضرورت ہے؟“‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اپنے معمول میں تھوڑی بہت ردوبدل کرنے کی ضرورت ہے یا آپ کو اَور بہتر طور پر اپنے معمول کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے تو فوراً قدم اُٹھائیں۔ آپ اُن لوگوں سے بھی بات کر سکتے ہیں جو بڑے اچھے سے اپنے وقت کو اِستعمال کرنا جانتے ہیں۔—‏اَمثا 11:‏14‏۔‏

اُن سے دوستی کریں جو یہوواہ سے محبت کرتے ہیں

15.‏ زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏

15 آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏ جب آپ زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو شاید آپ کے ساتھ پڑھنے والے لوگ آپ کو اپنے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کہیں اور شاید آپ کا بھی دل ایسا کرنے کو چاہے۔ ایسا اِس لیے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ آپ کے ہم‌عمر ہیں اور شاید وہ بھی اُنہی چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں جن میں آپ لیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ کلاس میں بھی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی اُن سے کافی اچھی بات‌چیت ہو گئی ہے۔ اِس وجہ سے شاید آپ کو لگنے لگے کہ کلیسیا کے بہن بھائیوں کی بجائے آپ کی اِن لوگوں سے زیادہ بنتی ہے۔ لیکن آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بھلے ہی آپ میں اور آپ کے ساتھ پڑھنے والے لوگوں میں کچھ باتیں ملتی جلتی ہوں لیکن یاد رکھیں کہ یہ لوگ آپ سے فرق ہیں کیونکہ وہ آپ کی طرح یہوواہ کے اصولوں پر نہیں چلتے۔ تو جتنا زیادہ آپ اُن کے ساتھ وقت گزاریں گے اُتنا ہی زیادہ اُن کی سوچ کا آپ کی سوچ پر اثر پڑے گا۔ (‏1-‏کُر 15:‏33‏)‏ ایسا ہی کچھ مائیکل نام کے بھائی کے ساتھ ہوا تھا۔ اُنہوں نے الیکٹریشن کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے چار سال تک کورس کِیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں ہر ہفتے 40 سے زیادہ گھنٹے اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ گزارتا تھا۔ وہ لوگ بُری زبان اِستعمال کرتے تھے، عورتوں کی بالکل عزت نہیں کرتے تھے اور ایسے گانے سنتے تھے جو مسیحیوں کو نہیں سننے چاہئیں۔ اُن کے ساتھ وقت گزار گزار کر مَیں یہ سوچنے لگا کہ وہ جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں، وہ اِتنا بُرا نہیں ہے۔“‏

16.‏ ’‏دانش‌مندوں کے ساتھ چلنے‘‏ کا کیا مطلب ہے؟ (‏اَمثال 13:‏20‏)‏

16 اَمثال 13:‏20 کو پڑھیں۔‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ بُرے لوگوں سے دوستی کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن ”‏جو دانش‌مندوں کے ساتھ چلتا ہے، وہ دانش‌مند بن جائے گا۔“‏ تو سبق بالکل واضح ہے۔ ہم جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اُن کا ہم پر یا تو اچھا یا پھر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ اِس لیے اُن لوگوں سے پکی دوستی کریں جو آپ کی طرح یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور دل سے آپ کی خوشی اور آپ کا بھلا چاہتے ہیں۔—‏زبور 101:‏6، 7؛‏ 119:‏63‏۔‏

17.‏ آپ بُرے لوگوں سے دوستی کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

17 اِس سے پہلے کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنا شروع کریں، آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ یہ طے کریں کہ آپ اپنے ساتھ پڑھنے والے لوگوں کے ساتھ کتنا وقت گزاریں گے اور اُن سے کس حد تک دوستی کریں گے۔ اِس سلسلے میں ذرا ٹرینٹن نام کے بھائی کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے ساتھ پڑھنے والے طالبِ‌علموں سے بڑے پیار اور دوستانہ انداز میں بات کرتا ہوں لیکن مَیں کلاس کے بعد اُن کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارتا۔ مَیں اُنہیں اپنا پکا دوست نہیں بلکہ صرف اپنی کلاس میں پڑھنے والے طالبِ‌علم سمجھتا ہوں۔“‏ آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اپنے ساتھ پڑھنے والے لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزاریں؟ اِس سوال کا جواب دینے کے لیے ذرا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏جب مَیں سکول میں پڑھتا تھا تو اُس وقت مَیں نے کیا کِیا تھا تاکہ مَیں اپنی کلاس کے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزاروں؟“‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اُس وقت آپ نے اِس حوالے سے کچھ زیادہ نہیں کِیا تھا تو آپ ابھی خود میں بہتری لانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ ’‏دانش‌مندوں کے ساتھ چلتے‘‏ رہیں گے اور اُن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزاریں گے جو یہوواہ سے محبت نہیں کرتے۔‏d

18.‏ آپ کو اپنا جائزہ لینے کے لیے خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

18 اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو باقاعدگی سے اپنا جائزہ لیتے رہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں نے اپنی کلاس میں پڑھنے والے لوگوں سے بہت پکی دوستی کر لی ہے؟ کیا مَیں اُن کی طرح سوچنے لگا ہوں اور اُن جیسی باتیں اور کام کرنے لگا ہوں؟ یہوواہ کو اِن لوگوں کے ساتھ میری دوستی دیکھ کر کیسا لگتا ہوگا؟“‏ (‏زبور 1:‏1‏)‏ اگر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کو خود میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو فوراً قدم اُٹھائیں۔ اِس بات کا پورا خیال رکھیں کہ آپ اُنہی لوگوں سے پکی دوستی کریں جو آپ کی طرح یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اپنے ساتھ پڑھنے والے لوگوں کو گواہی دینے سے نہ گھبرائیں۔ چونکہ وہ آپ کو جانتے ہیں اور کلاس کے دوران آپ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اِس لیے آپ کے پاس اُنہیں یہوواہ کے بارے میں بتانے کا بہترین موقع ہے۔‏

ایک بہن اپنے ساتھ پارلر میں کورس کرنے والی لڑکی کو کلاس ختم ہونے کے بعد پرچہ ”‏کیا خدا ہر مذہب سے خوش ہے؟“‏ دِکھا رہی ہے۔‏

اپنے ساتھ کورس کرنے والے لوگوں کو گواہی دینے سے نہ گھبرائیں۔ (‏پیراگراف نمبر 18 کو دیکھیں۔)‏e


تیار رہیں

19.‏ آپ خود کو کیسے تیار کر سکتے ہیں تاکہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرتے وقت اُن مسئلوں کا مقابلہ کر سکیں جن کی وجہ سے آپ یہوواہ سے دُور ہو سکتے ہیں؟ مثال دیں۔‏

19 ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ اگر ایک شخص پیدل پہاڑ پر چڑھنا چاہتا ہے تو اُسے اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے کچھ خاص باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اُسے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ صحت‌مند اور چست ہو، اُس کے پاس صحیح کپڑے ہوں تاکہ وہ خراب موسم سے محفوظ رہ سکے اور اُسے اپنی منزل کا پتہ ہو۔ سچ ہے کہ اُسے اُن سب باتوں کا نہیں پتہ ہوتا جو سفر کے دوران ہو سکتی ہیں۔ لیکن پہلے سے کچھ باتوں کا خیال رکھنے سے وہ صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ اِسی طرح جب آپ زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو آپ کو بھی کچھ خاص باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ کو یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کرتے رہنی چاہیے اور ’‏وہ جنگی لباس پہن لینا چاہیے جو خدا کی طرف سے ہے۔‘‏ اِس کے علاوہ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ زیادہ تعلیم کیوں حاصل کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد زیادہ پیسے کمانا یا دُنیا میں نام بنانا نہیں ہے بلکہ ہر معاملے میں یہوواہ کی بڑائی کرنا ہے۔—‏اِفِس 6:‏11-‏13؛‏ 1-‏کُر 9:‏26، 27؛‏ 10:‏31‏۔‏

20.‏ آپ یہ کیسے دیکھ سکتے ہیں کہ ”‏آپ سیدھی راہ پر چل رہے ہیں یا نہیں“‏؟‏

20 بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ آپ سیدھی راہ پر چل رہے ہیں یا نہیں؛ بار بار اپنے آپ کو پرکھیں۔“‏(‏2-‏کُر 13:‏5‏)‏ لیکن آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ باقاعدگی سے اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ کیا آپ وہ سارے کام کر رہے ہیں جن کا اِس مضمون میں ذکر ہوا ہے؟ مثال کے طور پر کیا آپ وہ کام کر رہے ہیں جن سے آپ یہوواہ کے قریب رہ سکیں؟ کیا آپ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دُنیا کی دانش‌مندی سے محفوظ رکھ رہے ہیں؟ کیا آپ اپنے وقت کا صحیح اِستعمال کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنے ہم‌ایمانوں سے دوستی کر رہے ہیں اور اِس بات کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آپ بُرے لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزاریں؟ اصل میں تو یہ سوال سبھی مسیحیوں کو خود سے پوچھنے چاہئیں پھر چاہے وہ سکول میں پڑھ رہے ہوں، نوکری کر رہے ہوں یا پھر کوئی اَور کام۔ چاہے آپ کسی بھی صورتحال کا سامنا کر رہے ہوں، اِس بات کا پکا اِرادہ کریں کہ آپ اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں گے۔ یقین مانیں کہ اگر آپ یہوواہ کے قریب رہنے کی پوری کوشش کریں گے تو وہ آپ کی کوششوں کو ضرور برکت دے گا۔—‏اَمثا 3:‏5، 6‏۔‏

زیادہ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے آپ اِس بات کا پکا اِرادہ کیسے کر سکتے ہیں کہ آپ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • آئندہ بھی وہ کام کرتے رہیں گے جن سے آپ یہوواہ کے قریب رہ سکیں؟‏

  • ”‏اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت“‏ کریں گے؟‏

  • اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں گے اور بُرے لوگوں سے دوستی کرنے سے دُور رہیں گے؟‏

گیت نمبر 87 اِجلاسوں سے تازگی پائیں

a یہ جاننے کے لیے کہ آپ یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں، ویب‌سائٹ jw.org پر اِس مضمون کو دیکھیں:‏ ”‏نوجوانوں کا سوال—‏بپتسمے کے بعد مجھے کیا کرنا ہوگا؟—‏پہلا حصہ:‏ وہ کام کرتے رہیں جو آپ کو یہوواہ کے قریب لے جائیں گے۔‏‏“‏

b یہ جاننے کے لیے کہ آپ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں، مئی 2019ء کے ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ میں اِس مضمون کو دیکھیں:‏ ”‏دُنیا کی دانش‌مندی کے اثر سے بچیں!‏‏“‏

c یہ جاننے کے لیے کہ آپ ہر دن اپنے وقت کو اچھی طرح سے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں، ویب‌سائٹ jw.org پر اِس مضمون کو دیکھیں:‏ ”‏نوجوانوں کا سوال—‏مَیں اپنے وقت کا صحیح اِستعمال کیسے کر سکتا ہوں؟‏‏“‏

d یہ جاننے کے لیے کہ آپ سوچ سمجھ کر دوستوں کا اِنتخاب کیسے کر سکتے ہیں، کتاب ‏”‏خوشیوں بھری زندگی!‏“‏ کے سبق نمبر 48 کو دیکھیں جس کا عنوان ہے:‏ ”‏سوچ سمجھ کر دوست بنائیں‏۔“‏

e تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بہن پارلر کا کورس کر رہی ہے۔ وہ اُس لڑکی کو گواہی دے رہی ہے جو اُسی کی طرح پارلر میں کورس کر رہی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں