نوجوان جو اپنے خالق کو یاد رکھتے ہیں
”اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر۔“—واعظ ۱۲:۱۔
۱. ایک ۱۱سالہ لڑکے کے کونسے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا خالق اُس کے نزدیک حقیقی ہے؟
کتنی اچھی بات ہے جب نوجوان لوگ ایسے طریقے سے گفتگو اور عمل کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہوواہ خدا کو ایک حقیقی شخص سمجھتے ہیں جسکی وہ ستائش کرتے اور جسے خوش کرنا چاہتے ہیں! ایک ۱۱سالہ لڑکے نے کہا: ”جب مَیں تنہائی میں کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوں تو مَیں دیکھتا ہوں کہ یہوواہ کی مخلوقات کتنی شاندار ہیں۔ پھر مَیں اس بات کی بابت عالمِتصور میں کھو جاتا ہوں کہ مستقبل میں فردوس کتنا خوبصورت ہوگا اور اُس وقت مَیں جانوروں کو کیسے چُھو سکونگا۔“ (یسعیاہ ۱۱:۶-۹) اُس نے مزید بیان کِیا: ”جب مَیں تنہا ہوتا ہوں تو مَیں یہوواہ سے دُعا کرتا ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ وہ اس بات سے کبھی خفا نہیں ہوگا کہ مَیں ہر وقت اُس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ مجھے دیکھتا ہے۔“ کیا ہمارا خالق جتنا اُس لڑکے کے لئے حقیقی ہے ہمارے لئے بھی اتنا ہی حقیقی ہے؟
آپ کیلئے خدا کتنا حقیقی ہے؟
۲. (ا) آپکا خالق آپ کیلئے حقیقی کیسے بن سکتا ہے؟ (ب) اپنے بچوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینے کیلئے کہ خدا ایک حقیقی شخص ہے والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
۲ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہوواہ اور اُس کے وعدے آپ کے لئے حقیقی ثابت ہوں تو ضرور ہے کہ پہلے آپ اُسکی بابت اور بائبل میں بیانکردہ راستباز نئی دُنیا میں شاندار مستقبل کی بابت علم حاصل کریں جو وہ آپکو پیش کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) اگر آپ کے والدین نے آپ کو ان باتوں کی بابت سکھایا ہے توپھر آپ کے پاس شکرگزار ہونے کی وجہ موجود ہے کیونکہ یہ آپکو اس الہامی حکم پر دھیان دینے کے قابل بناتی ہے: ”اپنے خالق کو یاد کر۔“ (واعظ ۱۲:۱) ایک نوجوان لڑکی نے اپنے ماںباپ کی طرف سے ابتدائی تربیت کے سلسلے میں کہا: ”زندگی کے ہر معاملے میں یہوواہ ہمیشہ شامل تھا۔ یہ میرے لئے اپنے خالق کو یاد رکھنے کا بنیادی عنصر تھا۔“ ایک اَور نوجوان خاتون نے بیان کِیا: ”مَیں اپنے والدین کی ہمیشہ مشکور رہونگی کہ اُنہوں نے مجھے سکھایا کہ یہوواہ ایک حقیقی شخص ہے۔ اُنہوں نے مجھ پر ظاہر کِیا کہ کیسے اُس سے محبت رکھیں اور مجھے اُس کی کُلوقتی خدمت کرنے کی خوشی کی بابت بتایا۔“
۳، ۴. یہوواہ کو ایک حقیقی شخص خیال کرنے میں کونسی چیز آپکی مدد کر سکتی ہے؟
۳ تاہم، بہتیرے لوگ خدا کو ایک ایسے حقیقی شخص کے طور پر قبول کرنا مشکل پاتے ہیں جو اُن میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کیا آپ مشکل پاتے ہیں؟ دی واچٹاور کے اس بیان نے ایک نوجوان کی ذاتی طور پر خدا کی بابت سوچنے میں مدد کی: ”یہوواہ جسامت کے اعتبار سے کتنا بڑا ہے ہم نہیں جانتے۔“ بِلاشُبہ، خدا کی فضیلت کا انحصار اُسکے سائز یا شکلوصورت پر نہیں ہے جیسےکہ اُس واچٹاور میں اگلے جملے نے بیان کِیا: ”اُسکی حقیقی عظمت اس میں ہے کہ وہ کس قسم کا خدا ہے،“ یقیناً، وفادار، رحمدل، شفیق اور معاف کرنے والا خدا۔a (خروج ۳۴:۶؛ استثنا ۳۲:۴؛ زبور ۸۶:۵؛ یعقوب ۵:۱۱) کیا آپ یہوواہ کو ایسا شخص تسلیم کرنے لگے ہیں، ایک قابلِبھروسہ دوست جس کے ساتھ آپ بیشقیمت رشتہ رکھ سکتے ہیں؟—یسعیاہ ۴۱:۸؛ یعقوب ۲:۲۳۔
۴ یسوع نے اپنے ابتدائی پیروکاروں کی خدا کے ساتھ ذاتی رشتے سے محظوظ ہونے کیلئے مدد کی۔ لہٰذا، جب یوحنا رسول نے آسمانی زندگی کیلئے اپنی متوقع قیامت کی بابت لکھا تو یوحنا نے بیان کِیا: ”ہم بھی [خدا] کی مانند ہونگے کیونکہ اُسکو ویسا ہی دیکھینگے جیسا وہ ہے۔“ (۱-یوحنا ۳:۲؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۴) آجکل نوجوان لوگوں کی بھی مدد کی جا سکتی ہے کہ خدا کو ایک حقیقی شخص خیال کریں یعنی ایک ایسا شخص جسے اگرچہ وہ ذاتی طور پر دیکھ تو نہیں سکتے لیکن پھربھی بخوبی واقفیت پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک نوجوان شخص نے بیان کِیا: ”میرے والدین نے بہت سے سوال پوچھنے سے یہوواہ کو یاد رکھنے میں میری مدد کی جیسےکہ، ’یہوواہ کیا کہتا ہے؟ آپ اپنے الفاظ میں اسکی کیسے وضاحت کرینگے؟ اسکا کیا مطلب ہے؟‘“ کیا ایسے سوالات ہمیں خدا کیساتھ اپنے ذاتی رشتے کی بابت سوچنے کی تحریک نہیں دیتے؟
یاد رکھنے کا کیا مطلب ہے
۵. بائبل کی کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کسی کو یاد رکھنے میں محض اُسکا نام یاد رکھنے سے زیادہ کچھ شامل ہے؟
۵ ”اپنے خالق کو یاد کر،“ اس حکم پر کان لگانے کا مطلب یہوواہ کی بابت محض سوچنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ اس میں عمل شامل ہے یعنی وہ کام کرنا جو اُسے خوش کرتا ہے۔ جب ایک مجرم نے یسوع سے التجا کی کہ ”جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا“ تو وہ چاہتا تھا کہ یسوع اُسکا نام یاد رکھنے سے زیادہ کچھ کرے۔ وہ چاہتا تھا کہ یسوع اُسے زندہ کرنے کیلئے عمل کرے۔ (لوقا ۲۳:۴۲) اسی طرح، یوسف نے قید میں اپنے حق میں عمل کی توقع کی جب اُس نے فرعون کے ساقی سے فرعون کے سامنے اُسے یاد کرنے کی درخواست کی۔ اور جب ایوب نے خدا سے التجا کی کہ ”مجھے یاد کر“ تو ایوب یہ منت کر رہا تھا کہ مستقبل میں کسی وقت خدا اُسے زندہ کرنے کیلئے کارروائی کرے۔—ایوب ۱۴:۱۳؛ پیدایش ۴۰:۱۴، ۲۳۔
۶. ”یاد کر“ کے لئے عبرانی لفظ یاد رکھی ہوئی چیز یا شخص کے لئے اشتیاق کی دلالت کیسے کرتا ہے؟
۶ ایک مستند کتاب بیان کرتی ہے کہ عبرانی لفظ جسکا ترجمہ ”یاد کرنا“ کِیا گیا ہے وہ ”ذہنی اشتیاق اور یادداشت کے ساتھ واقع ہونے والے عمل“ کی دلالت کرتا ہے۔ لفظ ”یاد“ میں ”اشتیاق“ کے پہلو کو بیابان میں ”ملیجلی گروہ“ کی اس چیخوپکار سے دیکھا جا سکتا ہے: ”ہمکو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں . . . کھاتے تھے۔“ جیسے ایوب نے التجا کی کہ خدا اُسے مہربانی سے یاد رکھے ویسے ہی حزقیاہ، نحمیاہ، داؤد اور ایک بےنام زبورنویس نے بھی استدعا کی کہ یہوواہ اُنہیں اُنکی ایمانداری کے صلے میں اشتیاق سے یاد رکھے۔—گنتی ۱۱:۴، ۵؛ ۲-سلاطین ۲۰:۳؛ نحمیاہ ۵:۱۹؛ ۱۳:۳۱؛ زبور ۲۵:۷؛ ۱۰۶:۴۔
۷. اگر ہم اشتیاق سے خدا کو یاد رکھتے ہیں تو یہ ہمارے چالچلن پر کیا اثر ڈالیگا؟
۷ پس ہم پوچھ سکتے ہیں، ’کیا ہم اپنے خالق کو اشتیاق سے یاد رکھتے ہیں اور ایسے کام سے گریز کرتے ہیں جو اُسکے لئے دُکھ یا درد محسوس کرنے کا باعث بنتا ہے؟‘ ایک نوجوان لڑکی نے بیان کِیا: ”میری والدہ نے یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ یہوواہ احساسات رکھتا ہے اور اوائل عمری ہی میں مَیں اس بات سے باخبر تھی کہ میرے اعمال کا اُس پر گہرا اثر پڑتا تھا۔“ (زبور ۷۸:۴۰-۴۲) ایک اَور لڑکی نے وضاحت کی: ”مَیں جانتی تھی کہ شیطان نے یہوواہ کو جو چیلنج کِیا ہے میرے اعمال اُسکا جواب دینے میں یا تو مدد کرینگے یا پھر رُکاوٹ ڈالینگے۔ مَیں یہوواہ کے دل کو شاد کرنا چاہتی تھی لہٰذا اس بات نے میری مدد کی اور ابھی تک مسلسل میری مدد کرتی ہے۔“—امثال ۲۷:۱۱۔
۸. (ا) کس چیز کا حصول یہ ظاہر کریگا کہ ہم یہوواہ کو اشتیاق سے یاد رکھتے ہیں؟ (ب) نوجوان دانشمندی سے کن سوالات پر غور کرینگے؟
۸ مانا کہ اس بدکار نظام میں، ایسی کارگزاری میں بھرپور حصہ لیکر جو اُسے خوش کرتی ہے یہوواہ کو یاد رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہے۔ تاہم یہ کتنا اچھا ہوگا اگر آپ ایک پائنیر خادم کی حیثیت سے کُلوقتی مسیحی خدمت کی جستجو کرنے سے پہلی صدی کے جوان تیمتھیس—نیز آجکل کے ہزاروں خداترس نوجوانوں—کی نقل کرتے ہیں! (اعمال ۱۶:۱-۳؛ ۱-تھسلنیکیوں ۳:۲) تاہم، یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے، کیا آپ پائنیر خدمت میں اپنی کفالت کرنے کے قابل ہونگے؟ اور اگر آپ کی شادی ہو جاتی ہے تو کیا آپکے پاس اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے ہنر ہونگے؟ (۱-تیمتھیس ۵:۸) یہ ضروری سوالات ہیں اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنا آپ کیلئے نہایت اہم ہے۔
بامقصد تعلیم
۹. دُنیاوی تعلیم کے سلسلے میں نوجوانوں کو کس فیصلے کا سامنا ہے؟
۹ انسانی معاشرہ جُوںجُوں زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے، پائنیر خدمت میں اپنی کفالت کرنے کیلئے تسلیبخش ملازمت حاصل کرنے کیلئے کافی زیادہ تعلیم درکار ہو سکتی ہے۔ شاید آپ نے غور کِیا ہو کہ بعض یونیورسٹی سے فارغالتحصیل لوگوں کو بھی ایسی نئی مہارتیں حاصل کرنے کیلئے اضافی تعلیم حاصل کرنی پڑی ہے جنکی آجکل کے آجر مانگ کرتے ہیں۔ پس آپ نوجوان جو خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں کتنی تعلیم حاصل کرینگے؟ موزوں طور پر اس الہامی حکم: ”اپنے خالق کو یاد کر“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ کِیا جانا چاہئے۔
۱۰. وہ بہترین تعلیم کیا ہے جو ہم حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۰ بِلاشُبہ، آپ وہی تعلیم حاصل کرنا چاہینگے جسے بہتیرے دُنیاوی ماہرین بھی بہترین تعلیم خیال کرتے ہیں—وہ تعلیم جو خدا کے کلام کے بغور مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جرمن کے ایک مصنف یوآنا وولفگانگ وون گوئٹے نے بیان کِیا: ”[ایک قوم] شعوری طور پر جتنی زیادہ ترقی کریگی اُتنا ہی زیادہ ممکن ہوگا کہ وہ تعلیم کی بنیاد اور آلۂکار کے طور پر بائبل کو استعمال میں لائیگی۔“ جیہاں، کسی بھی دوسری تعلیم کی نسبت بائبل کا مطالعہ آپ کو زندگی کے لئے بہتر طور پر لیس کرے گا!—امثال ۲:۶-۱۷؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۴-۱۷۔
۱۱. (ا) سب سے اہم کام کونسا ہے جو ہم کر سکتے ہیں؟ (ب) ایک نوجوان نے کچھ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟
۱۱ چونکہ خدا کا علم زندگیبخش ہے اسلئے آجکل جو زیادہ اہم کام آپ کر سکتے ہیں وہ اس علم کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔ (امثال ۳:۱۳-۱۸؛ یوحنا ۴:۳۴؛ ۱۷:۳) تاہم، اس کام کو مؤثر طریقے سے کرنے کے لئے آپ کو بنیادی طریقوں سے تعلیمیافتہ ہونا چاہئے۔ آپ کو واضح طور پر سوچنے، منطقی لحاظ سے گفتگو کرنے اور اچھی طرح پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے—ایسی مہارتیں جو سکول میں سکھائی جاتی ہیں۔ لہٰذا اپنے سکول کی تعلیم پر سنجیدگی سے دھیان دیں جیسےکہ فلوریڈا، یو.ایس.اے. میں رہنے والی نوجوان ٹریسی نے کِیا، جس نے اعلیٰ تعلیمی نمبروں کے ساتھ ہائی سکول سے تعلیم مکمل کی۔ اُس نے اپنی اُمید کا یوں اظہار کِیا: ”میرا ہمیشہ سے یہی نشانہ تھا کہ مَیں اپنے خدا یہوواہ کی کُلوقتی خادم بنوں اور مجھے اُمید ہے کہ میری تعلیم اس نشانے کو حاصل کرنے میں میری مدد کرے گی۔“
۱۲. اگر کسی اضافی دُنیاوی تعلیم کا انتخاب کِیا جاتا ہے تو یہ کونسا مقصد پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے؟
۱۲ کیا آپ نے کبھی غور کِیا ہے کہ آپ کیوں سکول جاتے ہیں؟ کیا یہ اوّلین طور پر اسلئے ہے کہ آپ خود کو یہوواہ کا مؤثر خادم بننے کیلئے لیس کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ اس بات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہینگے کہ آپ کی تعلیم کیسے اس مقصد کو بخوبی انجام دیتی ہے۔ اپنے والدین کیساتھ صلاحمشورہ کرنے کے بعد، یہ فیصلہ کِیا جا سکتا ہے کہ آپکو کمازکم قانونی تقاضے سے زیادہ تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔ ایسی اضافی تعلیم اپنی کفالت کرنے کیلئے ملازمت حاصل کرنے میں آپکی مدد کر سکتی ہے اور اسکے باوجود آپکو بادشاہتی کارگزاری میں بھرپور شرکت کرنے کیلئے وقت اور توانائی دے سکتی ہے۔—متی ۶:۳۳۔
۱۳. ثانوی تعلیم حاصل کرنے والی دو روسی مسیحی لڑکیوں نے زندگی میں اپنے مقصد کو کیسے ظاہر کِیا؟
۱۳ بعض جو ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں وہ اضافی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کُلوقتی خدمتگزاری میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ ماسکو، روس، کی دو نوعمر لڑکیوں نادیہ اور مرینہ پر غور کریں۔ دونوں نے اپریل ۱۹۹۴ میں بپتسمہ لیا اور امدادی پائنیروں کے طور پر خدمت کرنا شروع کر دی۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اُنہوں نے ہائی سکول سے تعلیم مکمل کی اور دو سالہ اکاؤنٹنگ کے پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ مئی ۱۹۹۵ میں اُنہوں نے باقاعدہ پائنیر خدمت شروع کی جبکہ اپنی اکاؤنٹنگ کی کلاسز میں اے گریڈ بھی قائم رکھا۔ مزیدبرآں، وہ سکول جانے کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے آپس میں اوسطاً ۱۴ بائبل مطالعے کرانے کے قابل بھی ہوئیں۔ لڑکیوں کو اُمید ہے کہ اُن کی اکاؤنٹنگ کی تعلیم اُنہیں تسلیبخش ملازمت حاصل کرنے کے قابل بنائیگی تاکہ وہ کُلوقتی خدمتگزاری میں اپنی کفالت کر سکیں۔
۱۴. اس سے قطعنظر کہ ہم کتنی دُنیاوی تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں، ہماری زندگیوں میں نہایت اہم چیز کیا ہونی چاہئے؟
۱۴ اگر آپ قانونی تقاضے سے بڑھکر دُنیاوی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کی وجہ کا دانشمندی سے جائز لیں۔ کیا یہ شہرت اور مالومتاع حاصل کرنے کیلئے ہے؟ (یرمیاہ ۴۵:۵؛ ۱-تیمتھیس ۶:۱۷) یا کیا آپ کا مقصد ہے کہ ثانوی تعلیم کو یہوواہ کی خدمت میں بھرپور حصہ لینے کے لئے استعمال کریں؟ مزید تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کرنے والی ایک نوجوان، لڈیہ وضاحت کرتے ہوئے، روحانی معاملات پر بڑی عمدگی سے توجہ دلاتی ہے: ”دوسرے لوگ اعلیٰ تعلیم کی جستجو کرتے ہیں اور مادہپرستی کو راہ میں حائل ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں اور وہ خدا کو بھول جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر خدا کیساتھ میرا رشتہ میرے نزدیک نہایت اہم چیز ہے۔“ ہم سب کیلئے کیا ہی قابلِتعریف رجحان!
۱۵. پہلی صدی کے مسیحی کس قسم کے تعلیمی پسمنظر رکھتے تھے؟
۱۵ نمایاں طور پر، پہلی صدی کے مسیحیوں میں طرح طرح کے تعلیمی پسمنظر پائے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر، رسول پطرس اور یوحنا کو ”اَنپڑھ اور ناواقف“ خیال کِیا جاتا تھا کیونکہ اُنہوں نے ربّیوں کے مدرسوں میں تربیت نہیں پائی تھی۔ (اعمال ۴:۱۳) دوسری جانب، پولس رسول نے آجکل کی یونیورسٹی کے مساوی تعلیم پائی تھی۔ تاہم، پولس نے اس تعلیم کو اپنی ذات پر توجہ مرکوز کرانے کیلئے استعمال نہیں کِیا بلکہ جب اُس نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو منادی کی تو یہ ایک سرمایہ ثابت ہوئی۔ (اعمال ۲۲:۳؛ ۱-کرنتھیوں ۹:۱۹-۲۳؛ فلپیوں ۱:۷) اسی طرح، مناہیم جو ”ملک کے حاکم ہیرؔودیس کے ساتھ پلا،“ [”تعلیم پائی تھی،“اینڈبلیو] اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انطاکیہ میں کلیسیا کی پیشوائی کی تھی۔—اعمال ۱۳:۱۔
اپنے پیسے کو دانشمندی سے استعمال کیوں کریں؟
۱۶. (ا) اگر ہم مقروض ہیں تو اپنے خالق کو یاد رکھنا کیوں مشکل ہو سکتا ہے؟ (ب) یسوع کی تمثیلوں میں سے ایک کیسے ہمارے پیسے خرچ کرنے سے پہلے سوچنے کی اہمیت کو آشکارا کرتی ہے؟
۱۶ اگر آپ اپنے پیسے کو دانشمندی سے استعمال کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں توپھر اپنے خالق کو وہی کام کرتے ہوئے یاد رکھنا مشکل ہو سکتا ہے جس سے وہ خوش ہوتا ہے۔ چونکہ اگر آپ قرضے تلے دب جاتے ہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپکا آقا کوئی اَور ہے۔ بائبل وضاحت کرتی ہے: ”قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔“ (امثال ۲۲:۷) یسوع کی تمثیلوں میں سے ایک ہمارے پیسہ خرچ کرنے سے پہلے سوچنے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ ”تُم میں ایسا کون ہے،“ یسوع نے فرمایا، ”کہ جب وہ ایک بُرج بنانا چاہے تو پہلے لاگت کا حساب نہ کر لے کہ آیا میرے پاس اُسکے تیار کرنے کا سامان ہے یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ جب نیو ڈال کر تیار نہ کر سکے تو سب دیکھنے والے . . . اُس پر ہنسنا شروع کریں۔“—لوقا ۱۴:۲۸، ۲۹۔
۱۷. اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنا اکثر مشکل کیوں ہوتا ہے؟
۱۷ اسلئے، دانشمندی سے آپ اس صحیفائی اُصول کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرینگے کہ ’آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو۔‘ (رومیوں ۱۳:۸) لیکن ایسا کرنا مشکل ہے خاص طور پر اُسوقت جب ایسی نئی مصنوعات کی مسلسل رسد کا سامنا ہو جس کی بابت اشتہار دینے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ آپکو انکی واقعی ضرورت ہے۔ ایک والد، جس نے فہموفراست سے کام لینے میں اپنے بچوں کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے، بیان کرتا ہے: ”ہم کافی دیر تک گفتگو کرتے ہیں کہ ضرورت کیا ہے اور خواہش کیا ہے۔“ سکول عموماً ایسے معاملات پر تعلیم دینے میں ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ اس سلسلے میں کوئی تعلیموتربیت فراہم نہیں کرتے کہ ذمہدارانہ طریقے سے پیسوں کو کیسے استعمال کریں۔ ”ہم بچت کرنے کی نسبت ایک متساویالساقین مثلث کی بابت زیادہ علم لیکر ہائی سکول سے فارغالتحصیل ہوتے ہیں،“ ایک سماجی کارکن نے بیان کِیا۔ پس، دانشمندی سے پیسہ خرچ کرنے میں کونسی چیز آپکی مدد کر سکتی ہے؟
۱۸. روپےپیسے کو دانشمندی سے استعمال کرنے کی کُنجی کیا ہے اور کیوں؟
۱۸ اس نصیحت پر دھیان دینا کہ ”اپنے خالق کو یاد کر“ اپنے روپےپیسے کو دانشمندی سے استعمال کرنے کی کُنجی ہے۔ یہ بات اس لئے سچ ہے کیونکہ جب آپ اُس حکم کو مانتے ہیں توپھر آپ یہوواہ کو خوش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اُسکے لئے آپ کا اشتیاق جس طریقے سے آپ پیسہ خرچ کرتے ہیں اُس پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پس، آپ ذاتی خواہشات کو خدا کو مخلصانہ عقیدت پیش کرنے پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دینگے۔ (متی ۱۶:۲۴-۲۶) آپ اپنی آنکھ کو ”سادہ“ رکھنے کی کوشش کرینگے یعنی خدا کی بادشاہت اور اُسکی مرضی بجا لانے پر توجہ مرکوز رکھینگے۔ (متی ۶:۲۲-۲۴) پھر آپ اس الہٰی فہمائش کو خوشکُن استحقاق خیال کرینگے کہ ”اپنے مال سے . . . خداوند کی تعظیم کر۔“—امثال ۳:۹۔
قابلِتقلید نوجوان
۱۹. ماضی میں نوجوانوں نے کیسے اپنے خالق کو یاد رکھا؟
۱۹ خوشی کی بات ہے کہ ماضی اور حال کے بہتیرے نوجوانوں نے اپنے خالق کو یاد رکھا ہے۔ اپنے ساتھی خدمتگاروں کے بدکار اثرورسوخ کے باوجود چھوٹا سموئیل ہیکل کی خدمت میں ثابتقدم رہا۔ (۱-سموئیل ۲:۱۲-۲۶) دل لبھانے والی عورت، فوطیفار کی بیوی، جوان یوسف کو حرامکاری کرنے کے لئے نہ ورغلا سکی۔ (پیدایش ۳۹:۱-۱۲) اگرچہ یرمیاہ ”بچہ“ ہی تھا، وہ سخت مخالفت کے باوجود دلیری سے منادی کا کام کرتا رہا۔ (یرمیاہ ۱:۶-۸) ایک چھوٹی اسرائیلی لڑکی نے بِلاخوف زورآور ارامی لشکر کے سردار کی راہنمائی کی کہ مدد حاصل کرنے کے لئے اسرائیل میں جائے جہاں وہ یہوواہ کی بابت سیکھ سکتا تھا۔ (۲-سلاطین ۵:۱-۴) دانیایل اور اُس کے ساتھیوں نے غذائی معاملات میں خدا کی شریعت کے سلسلے میں آزمائش کے وقت اپنے ایمان کو قائم رکھا۔ نیز سدرک، میسک اور عبدنجو نے مورت کو گِر کر سجدہ کرنے سے خدا کے لئے اپنی وفاداری کے معاملے میں مصالحت کرنے کی بجائے جلتی ہوئی بھٹی میں پھینکے جانے کو پسند کِیا۔—دانیایل ۱:۸، ۱۷؛ ۳:۱۶-۱۸؛ خروج ۲۰:۵۔
۲۰. آجکل بہتیرے نوجوانوں نے کیسے اپنے خالق کو یاد رکھا ہے؟
۲۰ آجکل ۱۹ سے ۲۵ سال کی عمر کے ۲،۰۰۰ سے زیادہ نوجوان نیو یارک سٹیٹ، یو.ایس.اے. میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکوارٹر میں خدمت کرتے ہیں۔ وہ پوری دُنیا میں اُن لاکھوں نوجوانوں کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جواپنے خالق کو یاد رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کے یوسف کی طرح، اُنہوں نے اپنی اخلاقی پاکیزگی کے معاملے میں مصالحت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب یہ انتخاب کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ کس کی خدمت کرینگے تو بہتیروں نے انسانوں کی نسبت خدا کی فرمانبرداری کی ہے۔ (اعمال ۵:۲۹) پولینڈ میں ۱۹۴۶ میں، ۱۵سالہ ہنریکا زُور نے جب مذہبی بُتپرستی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تو اُسے اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ ”تمہارا جو بھی ایمان ہے اُسے دل میں رکھو،“ اُسکے اذیت دینے والوں میں سے ایک نے مشورہ دیا، ”بس ہاتھوں سے صلیب کا کیتھولک نشان بنا دو۔“ اُس انکار کرنے کی وجہ سے اُسے گھسیٹ کر جنگل میں لے گئے اور گولی مار دی گئی مگر اُسکی ابدی زندگی کی اُمید محفوظ رہی!b
۲۱. کس دعوت کو قبول کرنا دانشمندی ہو گی، کس نتیجے کیساتھ؟
۲۱ یہوواہ کا دل ایسے نوجوانوں سے کسقدر خوش ہوا ہوگا جنہوں نے صدیوں کے دوران اُسے یاد رکھا ہے! کیا آپ اُسکی اس دعوت ”اپنے خالق کو یاد کر“ کا جواب دینگے؟ واقعی وہ اس لائق ہے کہ آپ اُسے یاد رکھیں! اُس نے آپ کیلئے جوکچھ کِیا ہے اور جو کچھ کریگا اُس پر روزانہ سوچبچار کریں اور اُسکی دعوت کو قبول کریں: ”اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“—امثال ۲۷:۱۱۔
[فٹنوٹ]
a دی واچٹاور، دسمبر ۱۵، ۱۹۵۳، صفحہ ۷۵۰۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ، ۱۹۹۴ ائیربُک آف جیہوواز وٹنسز، صفحات ۲۱۷-۲۱۸ کو دیکھیں۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ نوجوانوں کی خدا کو ایک حقیقی شخص خیال کرنے کیلئے کیسے مدد کی جا سکتی ہے؟
▫ اپنے خالق کو یاد رکھنے سے کیا مُراد ہے؟
▫ ہماری تعلیم کو کیا مقصد سرانجام دینا چاہئے؟
▫ اپنے پیسے کو دانشمندی سے استعمال کرنا نہایت اہم کیوں ہے؟
▫ کونسے نوجوان آپکے لئے قابلِتقلید ہیں؟
[تصویر]
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کیوں سکول جاتے ہیں؟
[تصویر]
کیا آپ پیسے کو دانشمندی سے استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں؟