یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 مارچ ص.‏ 8-‏13
  • یہوواہ اور یسوع کی طرح سوچیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ اور یسوع کی طرح سوچیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ کی طرح سوچیں
  • خاکسار بنیں
  • ‏”‏سمجھ‌داری سے کام لیں“‏
  • ‏”‏مَیں بڑا گُناہ‌گار ہوں“‏
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • وہ ایک چٹان کی طرح بن گئے
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • اُنہوں نے اپنے مالک سے معافی کا درس حاصل کِیا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • یہوواہ کی طرح فروتن بنیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 مارچ ص.‏ 8-‏13

مطالعے کا مضمون نمبر 10

گیت نمبر 31‏:‏ خدا کے ساتھ ساتھ چلیں ہم

یہوواہ اور یسوع کی طرح سوچیں

‏”‏اپنے آپ کو[‏مسیح]‏جیسی سوچ سے لیس کریں۔“‏‏—‏1-‏پطر 4:‏1‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

جس طرح سے یسوع مسیح سوچتے تھے، اُس سے پطرس رسول نے کون سی اہم باتیں سیکھیں اور ہم اِس سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ (‏الف)‏یہوواہ سے محبت کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ (‏ب)‏یسوع مسیح نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ اپنی ساری عقل سے یہوواہ سے محبت کرتے تھے؟‏

یسوع مسیح نے واضح کِیا کہ موسیٰ کو دی گئی شریعت میں کون سا حکم سب سے زیادہ اہم تھا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہوواہ اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اپنی ساری جان، اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت کرو۔“‏ (‏لُو 10:‏27‏)‏ غور کریں کہ ہمیں اپنے سارے دل سے یہوواہ سے محبت کرنی چاہیے جس میں ہماری خواہشیں، ہمارے احساسات اور جذبات شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ ہمیں پوری جان سے یہوواہ کی بندگی کرنی چاہیے اور اپنی ساری طاقت لگا کر اُس کے لیے محبت دِکھانی چاہیے۔ لیکن یہوواہ سے محبت کرنے میں ایک اَور بات بھی شامل ہے۔ ہمیں اپنی ساری عقل سے بھی یہوواہ سے محبت کرنی چاہیے جس میں مختلف معاملوں کے حوالے سے ہماری سوچ بھی شامل ہے۔ سچ ہے کہ ہم یہوواہ کی سوچ کو پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتے لیکن ہم ”‏مسیح کی سوچ“‏ کے بارے میں جاننے سے یہوواہ کی سوچ کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ یسوع مسیح نے مکمل طور پر اپنے باپ کی سوچ ظاہر کی۔—‏1-‏کُر 2:‏16‏۔‏

2 یسوع اپنی ساری عقل سے یہوواہ سے محبت کرتے تھے۔ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اُن کا باپ اُن سے کیا چاہتا ہے اور اُنہوں نے اُس کی مرضی کے مطابق کام کرنے کا پکا عزم کِیا ہوا تھا حالانکہ ایسا کرنے سے اُنہیں بہت تکلیف سہنی پڑتی۔ چونکہ یسوع مسیح کا پورا دھیان اپنے باپ کو خوش کرنے پر تھا اِس لیے اُنہوں نے کسی بھی چیز کو اِس بات کی اِجازت نہیں دی کہ وہ اُن کا دھیان اِس مقصد سے ہٹائے۔‏

3.‏ پطرس رسول نے یسوع مسیح سے کیا سیکھا اور اُنہوں نے مسیحیوں کی کیا حوصلہ‌افزائی کی؟ (‏1-‏پطرس 4:‏1‏)‏

3 پطرس رسول اور باقی رسولوں کو یسوع مسیح کے ساتھ وقت گزارنے کے بہت سے شان‌دار موقعے ملے۔ اِس دوران اُن سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یسوع مسیح کیسی سوچ رکھتے ہیں۔ جب پطرس نے یہوواہ کے اِلہام سے اپنا پہلا خط لکھا تو اُنہوں نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ مسیح جیسی سوچ رکھیں۔ ‏(‏1-‏پطرس 4:‏1 کو پڑھیں۔)‏ جب پطرس نے کہا کہ ”‏اپنے آپ کو .‏ .‏ .‏ لیس کریں“‏ تو وہ ایک ایسی یونانی اِصطلا‌ح اِستعمال کر رہے تھے جو اُن فوجیوں کے حوالے سے اِستعمال ہوتی تھی جو جنگ میں جانے کے لیے خود کو ہتھیاروں سے لیس کرتے تھے۔ تو مسیحیوں کو خود کو ایک طاقت‌ور ہتھیار سے لیس کرنے کی ضرورت ہے جو کہ مسیح کی سوچ ہے۔ اِس طرح وہ اپنی غلط خواہشوں اور اِس دُنیا کے حاکم شیطان سے ڈٹ کر لڑ سکیں گے۔—‏2-‏کُر 10:‏3-‏5؛‏ اِفِس 6:‏12‏۔‏

4.‏ اِس مضمون کے ذریعے ہمیں پطرس کی ہدایت پر عمل کرنے میں مدد کیسے ملے گی؟‏

4 اِس مضمون میں ہم یسوع مسیح کی سوچ کے بارے میں سیکھیں گے اور دیکھیں گے کہ ہم اُن کی طرح کیسے سوچ سکتے ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ (‏1)‏ہم یہوواہ جیسی سوچ کیسے اپنا سکتے ہیں جس سے ہم سب کو ہم‌خیال ہونے میں مدد ملے گی، (‏2)‏ہم خاکسار کیسے بن سکتے ہیں اور (‏3)‏ہم سمجھ‌داری سے کام لیتے ہوئے دُعا میں یہوواہ پر بھروسا کیسے ظاہر کر سکتے ہیں۔‏

یہوواہ کی طرح سوچیں

5.‏ ایک موقعے پر پطرس کیسے یہوواہ جیسی سوچ ظاہر کرنے میں ناکام ہو گئے؟‏

5 ذرا ایک واقعے پر غور کریں جس میں پطرس نے یہوواہ جیسی سوچ ظاہر نہیں کی۔ یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو بتایا کہ وہ یروشلم جائیں گے جہاں مذہبی رہنما اُنہیں گِرفتار کریں گے۔ وہاں اُنہیں اذیت بھی دی جائے گی اور پھر قتل کر دیا جائے گا۔ (‏متی 16:‏21‏)‏ پطرس کو شاید اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگا ہوگا کہ یہوواہ یسوع کے ساتھ ایسا ہونے دے گا۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع وعدہ کیے ہوئے مسیح اور اِسرائیلیوں کی اُمید ہیں جو اُنہیں نجات دِلائیں گے۔ (‏متی 16:‏16‏)‏ اِس لیے وہ یسوع کو ایک طرف لے جا کر اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏مالک!‏ خود پر رحم کریں۔ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔“‏ (‏متی 16:‏22‏)‏ چونکہ پطرس یہوواہ جیسی سوچ ظاہر نہیں کر رہے تھے اِس لیے اُن کی اور یسوع کی سوچ میں اِختلاف تھا۔‏

6.‏ یسوع مسیح نے کس طرح ظاہر کِیا کہ اُن کی سوچ بالکل اپنے آسمانی باپ کی سوچ جیسی تھی؟‏

6 یسوع مسیح کی سوچ ٹھیک اپنے آسمانی باپ کی سوچ جیسی تھی۔ اِس لیے جو بات پطرس نے اُن سے کہی، اُس کے جواب میں یسوع نے کہا:‏ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، شیطان!‏ تُم میری راہ میں رُکاوٹ بن رہے ہو کیونکہ تُم خدا کی سوچ نہیں بلکہ اِنسان کی سوچ رکھتے ہو۔“‏ (‏متی 16:‏23‏)‏ یقیناً پطرس نے وہ بات صاف نیت سے کی ہوگی لیکن یسوع مسیح نے اُن کے مشورے پر عمل کرنے سے صاف اِنکار کر دیا۔ یسوع کے لیے یہوواہ کی یہ مرضی تھی کہ وہ تکلیف سہیں اور اپنی جان قربان کریں۔ تو اُس موقعے پر پطرس نے یہ اہم سبق سیکھا کہ وہ اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق ڈھالیں۔ اور یہی اہم سبق ہم بھی سیکھتے ہیں۔‏

7.‏ بعد میں پطرس نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں؟ (‏تصویر کو دیکھیں۔)‏

7 بعد میں پطرس نے ظاہر کِیا کہ وہ دل سے چاہتے ہیں کہ اُن کی سوچ بالکل یہوواہ کی سوچ جیسی ہو۔ مثال کے طور پر جب وہ وقت آیا کہ غیرقوم کے لوگ یہوواہ کے بندوں میں شامل ہو جائیں تو یہوواہ نے پطرس کو کُرنیلیُس کے پاس بھیجا۔ کُرنیلیُس وہ پہلے شخص تھے جو غیرقوم لوگوں میں سے مسیحی بنے۔ عام طور پر یہودی غیرقوم کے لوگوں سے میل جول رکھنے سے کتراتے تھے۔ تو پطرس کو غیرقوم کے لوگوں میں مُنادی کرنے کے حوالے سے اپنی سوچ ٹھیک کرنی تھی۔ اور جب اُنہوں نے دیکھ لیا کہ یہوواہ غیرقوم کے لوگوں کے بارے میں کیسی سوچ رکھتا ہے تو اُنہوں نے اپنی سوچ بدل لی۔ اِس لیے جب کُرنیلیُس نے پطرس کو اپنے ہاں بُلایا تو پطرس کوئی ’‏اِعتراض کیے‘‏ بغیر اُن سے ملنے کے لیے چلے گئے۔ (‏اعما 10:‏28، 29‏)‏ پطرس نے کُرنیلیُس اور اُن کے گھرانے کو خوش‌خبری سنائی اور اُن سب نے بپتسمہ لے لیا۔—‏اعما 10:‏21-‏23،‏ 34، 35،‏ 44-‏48‏۔‏

پطرس اور اُن کے ساتھی کُرنیلیُس کے گھر پر ہیں اور کُرنیلیُس اُنہیں اُوپر والے کمرے کی طرف لے جا رہے ہیں۔‏

پطرس کُرنیلیُس کے گھر کے اندر جا رہے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)‏


8.‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہماری سوچ یہوواہ کی سوچ کے مطابق ہے؟ (‏1-‏پطرس 3:‏8 اور فٹ‌نوٹ)‏

8 پھر کچھ سال بعد پطرس نے اپنے ہم‌ایمانوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ ”‏سب ہم‌خیال ہوں۔“‏ ‏(‏1-‏پطرس 3:‏8 اور فٹ‌نوٹ کو پڑھیں۔)‏ اگر ہم بائبل سے یہوواہ کی سوچ جانیں گے اور اِسے اپنائیں گے تو ہم اپنے بہن بھائیوں کے ہم‌خیال ہو پائیں گے۔ مثال کے طور پر یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کی بادشاہت کو سب سے زیادہ اہمیت دیں۔ (‏متی 6:‏33‏)‏ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فرض کریں کہ آپ کی کلیسیا میں ایک مبشر پہل‌کار کے طور پر یا پھر کسی اَور طرح سے کُل‌وقتی طور پر یہوواہ کی خدمت کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اُسے یہ مشورہ دینے کی بجائے کہ وہ اپنے لیے آسان راہ چُنے، ہم اُس سے اُس کے اِس منصوبے کے بارے میں اچھی باتیں کر سکتے ہیں اور اُس کے اِس فیصلے میں اُس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔‏

خاکسار بنیں

9-‏10.‏ یسوع مسیح نے خاکساری کی اعلیٰ مثال کیسے قائم کی؟‏

9 اپنی موت سے پہلے کی رات یسوع مسیح نے پطرس اور باقی رسولوں کو خاکساری کے حوالے سے ایک بہت ہی اہم سبق سکھایا۔ اِس سے کچھ وقت پہلے یسوع مسیح نے پطرس اور یوحنا کو اُس آخری کھانے کی تیاریاں کرنے کے لیے بھیجا جو وہ اپنی موت سے پہلے اپنے رسولوں کے ساتھ مل کر کھانا چاہتے تھے۔ اِن تیاریوں میں غالباً یہ بھی شامل تھا کہ وہ اِس بات کا خیال رکھیں کہ وہاں ایک کپڑا اور ایک برتن موجود ہو تاکہ مہمانوں کے پاؤں دھوئے جا سکیں۔ لیکن جب ایسا کرنے کا وقت آیا تو کون اِتنا خاکسار تھا جس نے اُٹھ کر دوسروں کے پاؤں دھوئے؟‏

10 یسوع یہ کام کرنے سے بالکل نہیں ہچکچائے۔ اُنہوں نے خاکساری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ رسول یہ دیکھ کر یقیناً بہت حیران ہوئے ہوں گے کہ یسوع ایک ایسا کام کر رہے تھے جو عام طور پر نوکر کِیا کرتے تھے۔ یسوع نے اپنی چادر اُتار کر ایک طرف رکھی۔ پھر اُنہوں نے ایک کپڑا لیا اور اِسے اپنی کمر پر باندھا۔ اِس کے بعد اُنہوں نے ایک برتن میں پانی لیا اور شاگردوں کے پاؤں دھونے لگے۔ (‏یوح 13:‏4، 5‏)‏ یسوع مسیح نے اپنے سبھی رسولوں کے پاؤں دھوئے، یہاں تک کہ یہوداہ اِسکریوتی کے بھی جو اُنہیں بہت جلد دھوکا دینے والا تھا۔ بے‌شک اِن 12 رسولوں کے پاؤں دھونے میں یسوع کو کچھ وقت لگا ہوگا۔ لیکن اُنہوں نے خاکساری سے یہ کام کِیا۔ اِس کے بعد یسوع نے بڑے صبر اور پیار سے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ جانتے ہیں کہ مَیں نے یہ کام کیوں کِیا ہے؟ آپ مجھے ”‏اُستاد“‏ اور ”‏مالک“‏ کہتے ہیں اور بالکل صحیح کہتے ہیں کیونکہ مَیں اُستاد اور مالک ہوں۔ اِس لیے اگر مَیں نے اُستاد اور مالک ہو کر آپ کے پاؤں دھوئے ہیں تو آپ کو بھی ایک دوسرے کے پاؤں دھونے چاہئیں۔“‏—‏یوح 13:‏12-‏14‏۔‏

دل سے خاکسار ہونے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اپنے اور دوسروں کے بارے میں کیسی سوچ رکھتے ہیں۔‏

11.‏ پطرس نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ خاکسار بننا سیکھ گئے تھے؟ (‏1-‏پطرس 5:‏5‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

11 پطرس نے سیکھ لیا کہ اُنہیں یسوع کی طرح خاکسار کیسے بننا ہے۔ جب یسوع مسیح آسمان پر واپس چلے گئے تو پطرس نے ایک معجزہ کر کے ایک ایسے آدمی کو شفا دی جو پیدائش سے لنگڑا تھا۔ (‏اعما 1:‏8، 9؛‏ 3:‏2،‏ 6-‏8‏)‏ بہت سے لوگوں نے اِس شان‌دار معجزے کو ہوتے دیکھا تھا اور وہ پطرس کے اِردگِرد جمع ہو گئے تھے۔ (‏اعما 3:‏11‏)‏ کیا پطرس لوگوں کی توجہ پا کر خود کو بہت اہم سمجھنے لگے؟ دیکھا جائے تو وہ ایک ایسی ثقافت سے تعلق رکھتے تھے جہاں عہدے اور رُتبے کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ لیکن پطرس نے ایسا نہیں کِیا۔ اُنہوں نے بڑی خاکساری سے لوگوں کی توجہ یہوواہ اور یسوع پر دِلائی اور اُنہی کی بڑائی کی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏[‏یسوع]‏کے نام سے اور اُس کے نام پر ہمارے ایمان سے یہ آدمی جسے آپ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں، تندرست ہو گیا۔“‏ (‏اعما 3:‏12-‏16‏)‏ بعد میں پطرس نے اپنے خط میں مسیحیوں کو خاکسار بننے کی اہمیت بتائی۔ اِس بات کو واضح کرنے کے لیے اُنہوں نے یونانی زبان میں ایسے الفاظ اِستعمال کیے جن میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ہم خاکساری کی خوبی کو ایک کپڑے کی طرح پہن لیں۔ اِس سے ہمیں یاد آتا ہے کہ یسوع مسیح نے کس طرح سے ایک کپڑا اپنی کمر پر باندھا تھا اور اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے تھے۔‏‏—‏1-‏پطرس 5:‏5 کو پڑھیں۔‏

پطرس اور یوحنا ہیکل میں کھڑے ہیں۔ پطرس آسمان کی طرف اِشارہ کر کے بات کر رہے ہیں اور اُن کے ساتھ وہ آدمی کھڑا ہے جو پیدائشی لنگڑا تھا لیکن اب ٹھیک ہو گیا ہے۔‏

جب پطرس نے ایک معجزہ کِیا تو اِس کے لیے اُنہوں نے یہوواہ اور یسوع کی بڑائی کی۔ اگر ہم بھی اچھے کام کریں گے اور یہ توقع نہیں کریں گے کہ دوسرے اِس کے لیے ہماری تعریف کریں تو ہم بھی پطرس کی طرح خاکساری سے کام لے رہے ہوں گے۔ (‏پیراگراف نمبر 11-‏12 کو دیکھیں۔)‏


12.‏ پطرس کی طرح ہم بھی خاکساری سے کام لینے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں؟‏

12 پطرس کی طرح ہم بھی خاکساری سے کام لینا سیکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ جو شخص دل سے خاکسار ہوتا ہے، وہ صرف اپنی باتوں سے ہی خاکساری نہیں دِکھاتا۔ لفظ ”‏خاکساری“‏ کے لیے پطرس نے جو یونانی اِصطلا‌ح اِستعمال کی، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ خاکساری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اپنے اور دوسروں کے بارے میں کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے اِس لیے مہربانی نہیں دِکھاتے تاکہ وہ ہماری تعریف کریں بلکہ ہم اِس لیے ایسا کرتے ہیں کیونکہ ہم یہوواہ اور لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم دل سے خاکسار ہیں تو ہم خوشی سے یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں کے لیے وہ سب کریں گے جو ہمارے بس میں ہے پھر چاہے دوسرے ہماری کوششوں کو دیکھیں یا نہ دیکھیں۔—‏متی 6:‏1-‏4‏۔‏

‏”‏سمجھ‌داری سے کام لیں“‏

13.‏ بتائیں کہ ”‏سمجھ‌داری سے کام“‏ لینے میں کیا کچھ شامل ہے۔‏

13 ”‏سمجھ‌داری سے کام“‏ لینے میں کیا کچھ شامل ہے؟ (‏1-‏پطر 4:‏7‏)‏ جو مسیحی سمجھ‌دار ہوتا ہے، وہ اپنے لیے ایسے فیصلے لینے کی کوشش کرتا ہے جن سے یہوواہ کی سوچ نظر آئے۔ ایسا مسیحی جانتا ہے کہ زندگی میں یہوواہ کی دوستی سے زیادہ اَور کوئی بات اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ خود کو دوسروں سے زیادہ اہم نہیں سمجھتا اور اِس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اُسے سب باتوں کا نہیں پتہ۔ وہ خاکساری سے یہوواہ سے رہنمائی کے لیے دُعا کر کے اُس پر اپنا بھروسا بھی ظاہر کرتا ہے۔‏

14.‏ ایک بار پطرس یہوواہ پر بھروسا کرنے میں ناکام کیسے ہو گئے؟‏

14 یسوع مسیح نے اپنی موت سے پہلے کی رات اپنے شاگردوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏آپ سب آج رات مجھ سے مُنہ موڑ لیں گے۔“‏ اِس پر پطرس نے بڑے اِعتماد سے کہا:‏ ”‏بھلے سب آپ سے مُنہ موڑ لیں لیکن مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔“‏ اُسی رات یسوع مسیح نے اپنے کچھ شاگردوں کو یہ ہدایت دی:‏ ”‏چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں۔“‏ (‏متی 26:‏31،‏ 33،‏ 41‏)‏ اگر پطرس نے اِس ہدایت پر عمل کِیا ہوتا تو شاید بعد میں وہ دلیری سے دوسروں کے سامنے یہ کہہ پاتے کہ وہ یسوع کے شاگرد ہیں۔ لیکن اُنہوں نے اپنے مالک کو جاننے سے اِنکار کر دیا جس پر اُنہیں بعد میں بہت پچھتاوا ہوا۔—‏متی 26:‏69-‏75‏۔‏

15.‏ یسوع زمین پر اپنی آخری رات کے دوران سمجھ‌داری سے کام کیسے لیتے رہے؟‏

15 یسوع مسیح نے یہوواہ پر مکمل بھروسا ظاہر کِیا۔ حالانکہ وہ بے‌عیب تھے لیکن وہ پھر بھی اپنی موت سے پہلے بار بار یہوواہ سے دُعا کرتے رہے۔ اِس طرح اُن میں یہوواہ کے مرضی کے مطابق کام کرنے کی ہمت اور دلیری پیدا ہوئی۔ (‏متی 26:‏39،‏ 42،‏ 44؛‏ یوح 18:‏4، 5‏)‏ بے‌شک پطرس ساری زندگی یہ نہیں بھولے ہوں گے کہ یسوع مسیح نے زمین پر اپنی آخری رات کے دوران بار بار یہوواہ سے دُعا کی تھی۔‏

16.‏ پطرس نے کیسے ظاہر کِیا کہ اُنہوں نے سمجھ‌داری سے کام لینا سیکھ لیا تھا؟ (‏1-‏پطرس 4:‏7‏)‏

16 بعد میں پطرس یہوواہ پر بہت زیادہ بھروسا ظاہر کرنے لگے۔ یسوع مسیح نے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد پطرس اور باقی رسولوں کو یقین دِلایا کہ اُنہیں پاک روح ملے گی تاکہ وہ خوش‌خبری سنانے کے کام کو پورا کر سکیں۔ لیکن یسوع مسیح نے اُن سے کہا کہ وہ اُس وقت تک یروشلم میں اِنتظار کریں جب تک اُنہیں پاک روح نہیں مل جاتی۔ (‏لُو 24:‏49؛‏ اعما 1:‏4، 5‏)‏ اِنتظار کی اُس گھڑی میں پطرس نے کیا کِیا؟ وہ اور اُن کے ہم‌ایمان ”‏مل کر دُعا“‏ کرتے رہے۔ (‏اعما 1:‏13، 14‏)‏ پطرس نے اپنے پہلے خط میں اپنے ہم‌ایمانوں کی یہ حوصلہ‌افزائی بھی کی کہ وہ سمجھ‌داری سے کام لیں اور دُعا میں یہوواہ پر اپنا بھروسا ظاہر کریں۔ ‏(‏1-‏پطرس 4:‏7 کو پڑھیں۔)‏ پطرس نے یہوواہ پر بھروسا کرنا سیکھ لیا اور وہ کلیسیا کا ایک ستون بن گئے۔—‏گل 2:‏9‏۔‏

17.‏ چاہے ہم میں جو بھی صلاحیت ہو، ہمیں کیا کرتے رہنا چاہیے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

17 ہمیں اکثر یہوواہ سے یہ دُعا کرنی چاہیے کہ وہ سمجھ‌داری سے کام لینے میں ہماری مدد کرے۔ اگر کچھ کاموں کے حوالے سے ہمیں لگتا ہے کہ اِنہیں کرنا ہمارے لیے بالکل مشکل نہیں ہے تو بھی ہمیں رہنمائی کے لیے یہوواہ سے دُعا کرنی چاہیے۔ ایسا خاص طور پر تب بہت ضروری ہوتا ہے جب ہمیں اہم فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ اُس وقت ہمیں یہ سوچ کر یہوواہ سے مدد مانگنی چاہیے کہ وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا صحیح رہے گا۔‏

پطرس نے دُعا میں یہوواہ پر بھروسا کرنا سیکھا۔ اگر ہم بھی مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کریں گے تو یہ سمجھ‌داری کی بات ہوگی، خاص طور پر اُس وقت جب ہمیں اہم فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏a


18.‏ ہم اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق اَور زیادہ کیسے ڈھال سکتے ہیں؟‏

18 ہم یہوواہ کے کتنے شکرگزار ہیں نا کہ اُس نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ ہم اُس جیسی خوبیاں ظاہر کر سکتے ہیں!‏ (‏پید 1:‏26‏)‏ سچ ہے کہ ہم کبھی بھی پوری طرح سے یہوواہ کی مثال پر عمل نہیں کر پائیں گے۔ (‏یسع 55:‏9‏)‏ لیکن پطرس کی طرح ہم بھی اپنی سوچ کو یہوواہ کی سوچ کے مطابق اَور زیادہ ڈھال سکتے ہیں۔ آئیے ایسا کرنے کے لیے ہم یہوواہ کی سوچ اپناتے رہیں اور خاکساری اور سمجھ‌داری سے کام لیتے رہیں۔‏

ہم کیسے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • یہوواہ جیسی سوچ ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

  • خاکسار رہ سکتے ہیں؟‏

  • سمجھ‌داری سے کام لے سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 30‏:‏ یہوواہ، میرا باپ اور دوست

a تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک بہن نوکری کے لیے اِنٹرویو دینے کا اِنتظار کر رہی ہے اور اِس دوران وہ دل میں دُعا کر رہی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں