یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 دسمبر ص.‏ 20-‏25
  • آپ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آپ کو اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیوں کرنی چاہیے؟‏
  • آپ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • مسئلوں سے نمٹنا اور اِن سے بچنا
  • شادی کی تقریب—‏ابدی خوشی کی بنیاد
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • یہوواہ کو عزت دینے والی خوشحال شادیاں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • شادیاں جو یہوواہ کو جلال دیتی ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • سوالی بکس
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 دسمبر ص.‏ 20-‏25

مطالعے کا مضمون نمبر 51

گیت نمبر 132 اب ہم ایک ہو گئے ہیں

آپ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

‏”‏سب باتیں مناسب طریقے سے اور منظم انداز میں کی جائیں۔“‏—‏1-‏کُر 14:‏40‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

یہوواہ کی عبادت کرنے والا ایک لڑکا اور لڑکی جن کی آپس میں شادی ہونے والی ہے، وہ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں۔‏

1-‏2.‏ یہوواہ شادی کے دن کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏

کیا آپ کی منگنی ہو چُکی ہے؟ اگر ہاں تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو!‏ بے‌شک ابھی آپ اپنی شادیa کی تیاریاں کرنے میں بہت مصروف ہوں گے۔ یہوواہ آپ کی شادی کے دن کے لیے بہت خوش ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ اِس دن خوب خوشیاں منائیں اور آئندہ بھی مل کر خوشیوں بھری زندگی گزاریں۔—‏اَمثا 5:‏18؛‏ غز 3:‏11‏۔‏

2 لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کی شادی کا دن ایسا ہو جس سے یہوواہ کے لیے عزت ظاہر ہو۔ مگر آپ کو اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیوں کرنی چاہیے اور آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ حالانکہ یہ مضمون اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی شادی ہونے والی ہے اور جو ابھی اپنی شادی کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن اِس میں بتائے گئے اصول اُن سبھی مسیحیوں کے کام آ سکتے ہیں جنہیں شادی پر جانے کی دعوت ملتی ہے یا جن سے شادی کی تیاریوں کے حوالے سے مشورے مانگے جاتے ہیں۔ یہ سبھی مسیحی بائبل کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اِس خاص موقعے پر یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں۔‏

آپ کو اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیوں کرنی چاہیے؟‏

3.‏ ہونے والے میاں بیوی کو اپنی شادی کے دن کی تیاریاں کرتے وقت کس بات پر غور کرنا چاہیے اور کیوں؟‏

3 ہونے والے میاں بیوی کو اپنی شادی کی تیاریاں کرتے وقت ایسے فیصلے لینے چاہئیں جو یہوواہ کے کلام کے مطابق ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ یہوواہ نے ہی شادی کے بندھن کی شروعات کی تھی۔ اُسی نے سب سے پہلے مرد اور عورت کو یعنی آدم اور حوّا کو شادی کے بندھن میں باندھا تھا۔ (‏پید 1:‏28؛‏ 2:‏24‏)‏ تو شادی کی تیاریاں کرتے وقت آپ کی نظر میں یہوواہ کی سوچ سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے۔‏

4.‏ ایک اَور اہم وجہ کیا ہے جس کی بِنا پر آپ دونوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی ہو؟‏

4 آپ دونوں کو اِس اہم بات کی وجہ سے بھی یہوواہ کی سوچ کو ذہن میں رکھ کر اپنی شادی کی تیاریاں کرنی چاہئیں:‏ یہوواہ آپ کا آسمانی باپ ہے اور آپ کا سب سے اچھا دوست ہے۔ (‏عبر 12:‏9‏)‏ بے‌شک آپ یہ دوستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کی شادی کے دن یا پھر کسی بھی اَور موقعے پر کچھ ایسا ہو جس سے آپ کے دوست کا دل دُکھے۔ (‏زبور 25:‏14‏)‏ اگر آپ اِس بات پر سوچ بچار کریں گے کہ یہوواہ نے اب تک آپ کے لیے کیا کچھ کِیا ہے اور وہ آئندہ آپ کے لیے کیا کرے گا تو یقیناً آپ اِس بات کا پورا خیال رکھیں گے کہ آپ کی شادی کے دن پر اُس کی بڑائی ہو۔—‏زبور 116:‏12‏۔‏

آپ اپنی شادی کے دن یہوواہ کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

5.‏ خدا کا کلام شادی کی تیاریوں کے حوالے سے ہونے والے میاں بیوی کی مدد کیسے کر سکتا ہے؟‏

5 بائبل میں اِس حوالے سے کوئی قانون نہیں دیا گیا کہ ایک شادی یا اِس کے بعد رکھی جانے والی دعوت کیسی ہونی چاہیے۔ تو ہونے والے میاں بیوی اپنی صورتحال، اپنی پسند اور ثقافت کے مطابق شادی کی تیاریاں کر سکتے ہیں۔ یہوواہ کے بندے اُن قوانین کی بھی پابندی کرتے ہیں جو حکومت نے شادی کے حوالے سے قائم کیے ہیں۔ (‏متی 22:‏21‏)‏ ہونے والے میاں بیوی اپنی شادی کے دن کے حوالے سے چاہے جو بھی فیصلے لیں، اگر یہ بائبل کے اصولوں کے مطابق ہوں گے تو اُس خاص دن پر یہوواہ کی بڑائی ہوگی اور وہ خوش ہوگا۔ لیکن آپ کو بائبل کے کن اصولوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏

6.‏ ہونے والے میاں بیوی کے لیے یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ حکومت کے بنائے قوانین کی پابندی کریں؟‏

6 شادی کے حوالے سے حکومت کے بنائے قوانین کی پابندی کریں۔‏ (‏روم 13:‏1، 2‏)‏ زیادہ‌تر ملکوں میں حکومت نے شادی کے حوالے سے کچھ ایسے قانون بنائے ہیں جن پر ایک لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے شادی کرنے سے پہلے عمل کرنا ہوتا ہے۔ تو ہونے والے میاں بیوی کو یہ دیکھنا چاہیے کہ جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں، وہاں اِس حوالے سے کون سے قانون ہیں۔ اگر آپ کو اِس معاملے میں مدد کی ضرورت ہے تو آپ اپنی کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لے سکتے ہیں۔‏b

7.‏ شادی کے موقعے پر کس طرح کا ماحول مسیحیوں کے لیے مُناسب ہے؟‏

7 شادی کے دن ایسا ماحول قائم کریں جو مسیحیوں کے لیے مُناسب ہے۔‏ (‏1-‏کُر 10:‏31، 32‏)‏ پوری کوشش کریں کہ آپ کی شادی کے وقت ایسا ماحول قائم ہو جس سے خدا کی روح کا پھل ظاہر ہو نہ کہ دُنیا کی روح۔ (‏گل 5:‏19-‏26‏)‏ چونکہ بائبل کے اصولوں کے مطابق دُلہا اپنے نئے گھرانے کا سربراہ ہوگا اِس لیے یہ اُس کی ذمے‌داری ہے کہ اُس کی شادی کا دن ایسا ہو جس میں سب لوگ خوش ہوں اور یہوواہ کی بڑائی ہو۔ لیکن کون سی چیز اِس حوالے سے کام آ سکتی ہے؟ شادی کے دن بائبل سے کی جانے والی تقریر۔ جب تقریر کرنے والا بھائی اِسے محبت اور عزت بھرے انداز میں کرے گا تو اِسے سننے والوں کے دل میں یہوواہ کے بنائے ہوئے اِس بندوبست کے لیے قدر بڑھے گی۔ اِس کے علاوہ تقریر کو سننے والے یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ شادی کا بندھن کتنا اہم ہے۔ اِسی وجہ سے اگر ممکن ہوتا ہے تو زیادہ‌تر مسیحی اپنا نکاح عبادت‌گاہ میں رکھواتے ہیں۔ اگر آپ اپنی شادی کے لیے عبادت‌گاہ کو اِستعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے سے بزرگوں کی جماعت کو اِس حوالے سے لکھ کر درخواست دینی ہوگی۔‏

8.‏ اگر نکاح کے بعد آپ مہمانوں کے لیے دعوت رکھتے ہیں تو آپ اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ اِس سے یہوواہ کی بڑائی ہو؟ (‏رومیوں 13:‏13‏)‏

8 رومیوں 13:‏13 کو پڑھیں۔‏ اگر نکاح کے بعد آپ مہمانوں کے لیے دعوت رکھتے ہیں تو آپ اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ دعوت کے دوران دُنیا کی روح ظاہر نہ ہو؟ رومیوں 13:‏13 میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏غیرمہذب دعوتیں“‏ کِیا گیا ہے، وہ ایسی دعوتوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے جس میں بہت زیادہ شراب پینا اور رات دیر تک موسیقی چلانا شامل ہے۔ تو اگر آپ اپنی شادی میں شراب پیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پہلے سے سوچیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ کوئی بھی حد سے زیادہ شراب نہ پیئے۔‏c اور اگر آپ گانے چلاتے ہیں تو اُس کی آواز اِتنی رکھیں جس سے مہمان بِنا چلّائے ایک دوسرے سے بات کر سکیں اور ایک دوسرے کی سُن بھی سکیں۔ اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کس طرح کی گانے چلائے جائیں گے اور گانوں کے بول کیا ہوں گے تاکہ کسی کے بھی ضمیر کو ٹھیس نہ پہنچے۔‏

9.‏ ہونے والے میاں بیوی اپنی شادی کی دعوت پر جس طرح کی تفریح کا بندوبست کریں گے، اُس حوالے سے اُنہیں کس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏

9 کچھ ملکوں میں نکاح کے بعد رکھی جانے والی دعوت میں دُلہے اور دُلہن کے دوست اور رشتے‌دار کھڑے ہو کر اُن کے بارے میں کچھ باتیں بتاتے ہیں۔ اور کچھ شادیوں میں دُلہے اور دُلہن کی کچھ تصویریں اور ویڈیوز دِکھائی جاتی ہیں یا کسی اَور طرح کی تفریح کا بندوبست کِیا جاتا ہے۔ ہونے والے میاں بیوی کو اِن سب باتوں کے حوالے سے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جو کچھ بھی لوگوں کو بتایا یا دِکھایا جائے گا، اُس سے سب کا حوصلہ بڑھے۔ (‏فِل 4:‏8‏)‏ تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا اِس بات کو بتانے یا دِکھانے سے دوسروں کے لیے عزت ظاہر ہوگی؟ کیا اِس سے شادی کے بندھن کے لیے عزت ظاہر ہوگی؟“‏ سب سے بڑھ کر تو خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏کیا اِس سے یہوواہ کی بڑائی ہوگی؟“‏ بے‌شک اگر دُلہے یا دُلہن کا کوئی دوست یا رشتے‌دار کوئی مزاحیہ بات کرتا ہے تو یہ غلط نہیں لیکن اُسے کسی بھی طرح کی کوئی نامناسب بات نہیں کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اُسے بے‌حیا باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ (‏اِفِس 5:‏3‏)‏ تو اگر آپ کے دوستوں یا رشتے‌داروں میں سے کوئی دعوت کے دوران کھڑا ہو کر کچھ کہے گا تو پہلے سے یہ دیکھ لیں کہ وہ یہ سمجھتا ہو کہ اُسے آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔‏

10.‏ ہونے والے میاں بیوی کو اپنی شادی کی تیاریاں کرتے وقت خاکساری سے کام کیوں لینا چاہیے؟ (‏1-‏یوحنا 2:‏15-‏17‏)‏

10 خاکساری سے کام لیں۔‏ (‏1-‏یوحنا 2:‏15-‏17 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ کو اُس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب اُس کے بندے دوسروں کی توجہ خود پر دِلانے کی بجائے اُس پر دِلاتے ہیں۔ خاکسار مسیحی اپنے ”‏مال‌ودولت کا دِکھاوا“‏ نہیں کرتے۔ تو ہونے والے میاں بیوی کو سادگی سے شادی کرنے سے کون سے فائدے ہو سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ذرا مائیک نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں جو ناروے سے ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم ہر طرح کے قرضے سے بچ گئے اور پہل‌کاروں کے طور پر اپنی خدمت جاری رکھ پائے۔ حالانکہ ہم نے بڑی سادگی سے شادی کی تھی لیکن سبھی کو بہت مزہ آیا اور وہ آج بھی اِسے یاد کر کے بہت خوش ہوتے ہیں۔“‏ اور اِنڈیا میں رہنے والی بہن تبیتا نے کہا:‏ ”‏سادگی سے شادی کرنے سے ہم کافی ٹینشن سے بچ گئے کیونکہ ہمیں صرف کچھ ہی باتوں کی تیاریاں کرنی پڑیں اور گھر والوں کی طرف سے بھی زیادہ اِختلافات کھڑے نہیں ہوئے۔“‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ مختلف ملکوں میں بہن بھائی اپنے ہم‌ایمانوں کی شادی میں اچھا وقت گزار رہے ہیں۔ 1.‏ ایک میاں بیوی ایک شادی کی دعوت پر ہیں اور وہ دُلہا اور دُلہن کو مبارک‌باد دے رہے ہیں۔ 2.‏ ایک دُلہا اور دُلہن عبادت‌گاہ میں اُس بھائی کے سامنے بیٹھے ہیں جو اُن کی شادی کی تقریر کر رہا ہے۔ 3.‏ ایک دُلہا اور دُلہن نے باہر ایک باغ میں اپنی شادی کی تقریب رکھی ہے۔ وہ دونوں اُس بھائی کے سامنے کھڑے ہیں جو اُن کی شادی کی تقریر کر رہا ہے۔ 4.‏ ایک دُلہا اور دُلہن اپنے مہمانوں کے ساتھ مل کر شادی کے بعد رکھی جانے والی دعوت پر کھانا کھا رہے ہیں۔‏

چاہے ہم کسی بھی ملک میں رہتے ہوں، ایک مسیحی کی شادی کو سادہ اور ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کے دل میں اچھی یادیں چھوڑ جائے۔ (‏پیراگراف نمبر 10-‏11 کو دیکھیں۔)‏


11.‏ دُلہا اور دُلہن اپنے لباس اور سجنے سنورنے کے معاملے میں حیاداری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

11 کیا آپ نے سوچ لیا ہے کہ آپ اپنی شادی کے دن کیا پہنیں گے؟ بے‌شک آپ اِس خاص دن پر بہت اچھے دِکھنا چاہتے ہیں۔ بائبل میں بتائے گئے لوگوں کے زمانے میں بھی دُلہا اور دُلہن اپنی شادی کے دن پر سجنے سنورنے پر دھیان دیتے تھے۔ (‏یسع 61:‏10‏)‏ سچ ہے کہ شادی کے دن دُلہا اور دُلہن وہ کپڑے پہنتے ہیں جو وہ عام موقعوں پر نہیں پہنتے۔ لیکن اُنہیں اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی شادی کا جوڑا بھی حیادار ہو۔ (‏1-‏تیم 2:‏9‏)‏ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ اپنی شادی کے کپڑوں اور سجنے سنورنے پر اِتنا دھیان نہ دیں کہ یہی آپ کے لیے سب سے اہم بن جائے۔—‏1-‏پطر 3:‏3، 4‏۔‏

12.‏ ہونے والے میاں بیوی کو اُن رسموں کو منانے سے کیوں بچنا چاہیے جو اُن کی ثقافت میں تو عام ہیں لیکن بائبل کے مطابق نہیں ہیں؟‏

12 ایسی رسموں سے دُور رہیں جو بائبل کے مطابق نہیں ہیں۔‏ (‏مُکا 18:‏4‏)‏ آج‌کل شادیوں میں ایسے رسم‌ورواج منائے جاتے ہیں جن کا تعلق جھوٹے مذہب، بُرے فرشتوں اور توہم‌پرستی سے ہوتا ہے۔ یہوواہ نے ہمیں ایسی ناپاک چیزوں سے دُور رہنے کا حکم دیا ہے۔ (‏2-‏کُر 6:‏14-‏17‏)‏ اگر آپ کی ثقافت میں کچھ ایسی رسمیں منائی جاتی ہیں جن کے بارے میں آپ یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ یہوواہ کو پسند ہوں گی تو اُن کے بارے میں اور بائبل کے اصولوں کے بارے میں تحقیق کریں تاکہ آپ صحیح فیصلہ لے سکیں۔‏

13.‏ تحفے لینے کے معاملے میں دُلہا اور دُلہن یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

13 جس ملک میں آپ رہتے ہیں، کیا وہاں مہمانوں کا دُلہا دُلہن کو تحفے دینا عام بات ہے؟ ہر مہمان شاید اپنی جیب کے مطابق تحفہ دے۔ بے‌شک مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو دیں کیونکہ ایسا کرنے سے اُنہیں خوشی ملے گی۔ (‏اَمثا 11:‏25؛‏ اعما 20:‏35‏)‏ لیکن دُلہا دُلہن کو اپنے مہمانوں کو یہ احساس نہیں دِلانا چاہیے کہ اُن کو لازمی اُنہیں تحفہ دینا چاہیے اور وہ بھی مہنگا تحفہ۔ ہمیں تحفے لینے کے معاملے میں یہوواہ کی مثال پر عمل کرنا چاہیے اور جو بھی لوگ ہمیں دیتے ہیں، ہمیں اُس کے لیے قدر ظاہر کرنی چاہیے۔ اِس لیے نہیں کیونکہ یہ اُن کا فرض تھا بلکہ اِس لیے کہ اُنہوں نے ہمارے بارے میں سوچا۔—‏2-‏کُر 9:‏7‏۔‏

مسئلوں سے نمٹنا اور اِن سے بچنا

14.‏ کچھ مسیحیوں کو اپنی شادی کی تیاریوں کے حوالے سے کن مسئلوں کا سامنا ہوتا ہے؟‏

14 جب آپ اپنی شادی کی تیاریوں کے حوالے سے ایسے فیصلے لیتے ہیں جن سے یہوواہ کی بڑائی ہو تو شاید اِس دوران آپ کو کچھ مسئلوں کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ مثال کے طور پر شاید آپ کو اپنی شادی کو سادہ رکھنا مشکل لگے۔ اِس سلسلے میں ذرا چارلی نام کے بھائی کی بات پر غور کریں جو سولومن جزائر میں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے لیے یہ طے کرنا بہت مشکل تھا کہ ہم کس کس کو شادی کے بعد رکھی جانے والی دعوت پر بُلائیں گے۔ ہمارے بہت سے دوست تھے اور ہماری ثقافت میں دوست اور رشتے‌دار سبھی یہ توقع کرتے ہیں کہ اُنہیں شادی پر بُلایا جائے۔“‏ اور بہن تبیتا جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے ملک میں شادی کے بعد ایک بڑی دعوت رکھنا عام ہے۔ ہمارے امی ابو کو ہمارا یہ فیصلہ قبول کرنے میں تھوڑا وقت لگا کہ ہم صرف تقریباً 100 لوگوں کو دعوت پر بُلائیں گے۔“‏ اور ذرا اِنڈیا میں رہنے والی سارہ نام کی بہن کی بات پر بھی غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏کچھ لوگ دوسروں کو دِکھانا چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس بڑا پیسہ ہے۔ میرے کزنوں کی بہت دُھوم دھام سے شادی ہوئی تھی اور اُن کی شادیوں پر بڑا پیسہ لگایا گیا تھا۔ تو مجھ پر یہ دباؤ تھا کہ مَیں اُن سے بھی زیادہ دُھوم دھام سے اپنی شادی کروں۔“‏ کیا چیز اِس طرح کے یا پھر کسی اَور طرح کے مسئلوں سے نمٹنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے؟‏

15.‏ اپنی شادی کی تیاریاں کرنے کے حوالے سے دُعا کرنا ضروری کیوں ہے؟‏

15 اپنی شادی کی تیاریوں کے حوالے سے دُعا کریں۔‏ شادی کی تیاریاں کرتے وقت آپ کو جن مسئلوں کا سامنا ہو رہا ہے، اُنہیں دُعا میں یہوواہ کو بتائیں اور اُسے یہ بھی بتائیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (‏فِل 4:‏6، 7‏)‏ اُس سے دُعا کریں کہ وہ صحیح فیصلے لینے، مشکل وقت میں پُرسکون رہنے اور ضرورت پڑنے پر دلیری دِکھانے میں آپ کی مدد کرے۔ (‏1-‏پطر 5:‏7‏)‏ پھر جب آپ دیکھیں کہ یہوواہ کس طرح سے آپ کی دُعاؤں کا جواب دے رہا ہے تو اُس پر آپ کا بھروسا بڑھ جائے گا۔ ذرا پھر سے بہن تبیتا کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اور میرا منگیتر اور ہمارے گھر والے کچھ باتوں کو لے کر ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ تو ہر بار شادی کی تیاریوں پر بات‌چیت کرنے سے پہلے ہم دُعا کرتے تھے۔ ایسا کرنے سے یہوواہ نے واقعی ہماری مدد کی اور ہم دونوں اور ہمارے گھر والے صلح سے ہر معاملے کو طے کر پائے۔“‏

16-‏17.‏ شادی کی تیاریاں کرتے وقت ایک دوسرے سے کُھل کر بات‌چیت کرنا کیوں اچھا ہو سکتا ہے؟‏

16 کُھل کر مگر احترام سے ایک دوسرے سے اور اپنے گھر والوں سے بات کریں۔‏ (‏اَمثا 15:‏22‏)‏ ہونے والے میاں بیوی کے طور پر آپ دونوں کو مل کر اپنی شادی کے حوالے سے بہت سے فیصلے لینے ہوں گے۔ اِن میں شادی کی تاریخ طے کرنا، بجٹ بنانا، مہمانوں کی لسٹ بنانا اور کئی دوسرے کام شامل ہیں۔ تو کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے مل کر اپنے آپشن پر بات‌چیت کریں، بائبل کے اصولوں پر اور ساتھ ہی ساتھ اُن مشوروں پر بھی غور کریں جو پُختہ مسیحی آپ کو دیتے ہیں۔ جب آپ ایک دوسرے سے اور اپنے گھر والوں سے اپنی پسند کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو نرمی، سمجھ‌داری اور لچک‌داری ظاہر کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے امی ابو شادی کی تقریب میں کچھ ایسی باتیں شامل کرنا چاہتے ہیں جو مناسب اور جائز ہیں تو اُن کی خواہشوں کا احترام کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کی شادی کا دن اُن کے لیے بھی بڑا خاص دن ہے۔ لیکن اگر آپ اُن کی کوئی خواہش پوری نہیں کر سکتے تو نرمی اور پیار سے اُنہیں اِس کی وجہ بتائیں۔ (‏کُل 4:‏6‏)‏ کُھل کر اپنے گھر والوں کو بتائیں کہ آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی شادی کا دن ایسا ہو جس میں سبھی کو مزہ آئے اور یہوواہ کی بڑائی بھی ہو۔‏

17 اگر آپ کے امی ابو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں تو شاید آپ کے لیے اُنہیں اپنے فیصلوں کے بارے میں بتانا اَور بھی مشکل ہو۔ لیکن آپ پھر بھی نرمی اور پیار سے اُنہیں اپنی سوچ بتا سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں اِنڈیا میں رہنے والے سنتوش نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے گھر والے چاہتے تھے کہ ہم اپنی شادی میں ہندو مذہب کے کچھ رسم‌ورواج بھی شامل کریں۔ تو مجھے اور میری منگیتر کو اپنے گھر والوں کو اپنے فیصلوں کے بارے میں سمجھانے میں کافی وقت لگا۔ ہمیں جب جب لگا کہ ہم یہوواہ کو ناراض کیے بغیر اُن کی کچھ خواہشیں پوری کر سکتے ہیں تو ہم نے ایسا کِیا۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے دعوت پر جن کھانوں کو پیش کرنے کی تجویز دی، ہم نے اُس کے مطابق اُن کی بات مان لی حالانکہ ہم نے کچھ اَور سوچا ہوا تھا۔ پھر ہم نے اپنی شادی میں گانے اور ڈانس کو بھی شامل نہیں کِیا کیونکہ میرے گھر والے شادیوں میں اِس چیز کو دیکھنے کے عادی نہیں تھے۔“‏

18.‏ آپ اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ شادی کے دن پر ہر اِنتظام اچھے سے ہو جائے؟ (‏1-‏کُرنتھیوں 14:‏40‏)‏ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

18 پہلے سے منصوبے بنائیں۔‏ اگر آپ پہلے سے ہی ہر کام کو منظم طریقے سے کر لیں گے تو شادی کے دن آپ کو کم پریشانی ہوگی۔ ‏(‏1-‏کُرنتھیوں 14:‏40 کو پڑھیں۔)‏ ذرا تائیوان میں رہنے والے بھائی کی بات پر غور کریں جن کا نام ویئن ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم نے اپنی شادی سے کچھ دن پہلے اپنے اُن دوستوں اور رشتے‌داروں کے ساتھ ایک میٹنگ رکھی جنہوں نے شادی کے دن پر مختلف اِنتظام سنبھالنے تھے۔ ہم نے اِن اِنتظامات کے حوالے سے اُن سے بات‌چیت کی اور کچھ کاموں کی پریکٹس بھی کی تاکہ ساری باتیں منظم طریقے سے ہو سکیں۔“‏ پوری کوشش کریں کہ آپ اپنے مہمانوں کے لیے احترام دِکھاتے ہوئے ہر کام وقت پر کریں۔‏

ایک لڑکا اور لڑکی جن کی ایک دوسرے سے شادی ہونے والی ہے، اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر شادی کے اِنتظامات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ وہ بھائی جس کی شادی ہونے والی ہے، اپنے ٹیبلٹ پر اپنے دوستوں کو یہ دِکھا ہے کہ سب مہمان کس ترتیب سے بیٹھیں گے۔‏

جب ہونے والے میاں بیوی اپنی شادی کے دن کے لیے پہلے سے تیاری کرتے ہیں تو اُن کی شادی پر سارے کام سلیقے اور اچھے سے ہو پاتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 18 کو دیکھیں۔)‏


19.‏ آپ اپنی شادی کے دن ہر اِنتظام کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

19 اگر آپ نے پہلے سے ہی یہ سوچا ہوگا کہ شادی کے دن کون سے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں اور آپ اِن سے کیسے نمٹیں گے تو آپ بہت سے مسئلوں سے بچ جائیں گے۔ (‏اَمثا 22:‏3‏)‏ مثال کے طور پر کچھ ملکوں میں یہ عام بات ہے کہ شادی کی دعوت پر کچھ بِن‌بلا‌ئے مہمان بھی آ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے ہاں بھی یہی رواج ہے تو اِس بات پر غور کریں کہ آپ ایسا ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔ اگر آپ کے رشتے‌دار یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں تو اُنہیں بتائیں کہ آپ اُن سے کس بات کی توقع کرتے ہیں اور شادی کی کچھ رسموں کو کیسا خیال کرتے ہیں۔ اپنی شادی کے دن ہر اِنتظام کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے آپ کسی پُختہ بھائی کو دعوت کے اِنتظام کی نگرانی کرنے کے لیے مقرر کر سکتے ہیں۔ (‏یوح 2:‏8‏)‏ اگر آپ کُھل کر اُس بھائی کے ساتھ اپنی شادی کے اِنتظامات کے بارے میں بات‌چیت کریں گے تو اُس بھائی کے لیے اِس بات کا خیال رکھنا آسان ہوگا کہ ہر چیز آپ کی مرضی کے مطابق ہو اور اچھے سے ہو سکے۔‏

20.‏ ہونے والی میاں بیوی کو اپنی شادی کے حوالے سے کون سی بات یاد رکھنی چاہیے؟‏

20 شاید آپ اُن سب باتوں کے بارے میں سوچ کو تھوڑا پریشان ہو جائیں جو شادی کی تیاریوں میں شامل ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ آپ کی شادی کا دن صرف ایک دن کی بات ہے۔ یہ تو بس اُس خوب‌صورت زندگی کی شروعات ہے جو آپ اپنے ہم‌سفر کے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے میں گزاریں گے۔ تو سادگی سے شادی کرنے کی کوشش کریں اور اِس بات کا پورا خیال رکھیں کہ اِس سے یہوواہ کی بڑائی ہو۔ یہوواہ پر بھروسا رکھیں۔ اُس کی مدد سے آپ اپنی شادی کے سارے اِنتظامات اِس طرح سے کر پائیں گے جن کے بارے میں آپ کو بعد میں سوچ کر پچھتاوا نہیں بلکہ خوشی ہوگی۔—‏زبور 37:‏3، 4‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • دُلہا اور دُلہن کو اپنی شادی کے دن پر یہوواہ کی بڑائی کیوں کرنی چاہیے؟‏

  • ہونے والے میاں بیوی اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ اُن کی شادی کا دن ایسا ہو جس میں سب لوگ خوش ہوں اور یہوواہ کی بڑائی ہو؟‏

  • ہونے والے میاں بیوی کو سادگی سے شادی کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟‏

گیت نمبر 107 محبت کی راہ

a لفظ کی وضاحت:‏ کچھ ملکوں میں ‏”‏شادی“‏ کے موقعے پر نکاح شامل ہوتا ہے جس میں دُلہا اور دُلہن خدا کے سامنے آپس میں یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔ کچھ لوگ اپنے نکاح کے بعد اپنے دوستوں اور رشتے‌داروں کے لیے ایک دعوت رکھتے ہیں۔ اگر کچھ ملکوں میں نکاح کی تقریب یا اِس کے بعد رکھی جانے والی دعوت عام نہیں ہے تو بھی یہ بہت ضروری ہے کہ ہونے والے میاں بیوی اپنی شادی کے دن پر یہوواہ کے اصولوں کا احترام کریں۔‏

b اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے کہ مسیحی، شادی کے حوالے سے حکومت کے بنائے قوانین کو کیسا خیال کرتے ہیں، اِس شمارے کو دیکھیں:‏ ‏”‏مینارِنگہبانی،“‏ 15 اکتوبر 2006ء، مضمون:‏ ”‏ایسی شادیاں جنہیں خدا اور انسان احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‏‏“‏

c ویب‌سائٹ jw.org پر یہ ویڈیو دیکھیں:‏ ‏”‏کیا مجھے اپنے مہمانوں کو شراب دینی چاہیے؟‏‏“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں