مطالعے کا مضمون نمبر 49
گیت نمبر 44 دُکھی بندے کی فریاد
ایوب کی کتاب اِصلاح کرتے وقت آپ کے کام آ سکتی ہے
”ایوب! مہربانی سے میری بات سنیں۔“—ایو 33:1۔
غور کریں کہ . . .
ہم ایوب کی کتاب سے یہ کیسے سیکھ سکتے ہیں کہ ہم اپنے کسی دوست کی اِصلاح کرتے وقت اُس سے کیا کہہ سکتے ہیں اور کس طرح سے کہہ سکتے ہیں۔
1-2. ایوب کے تین دوستوں اور اِلیہو کو ایوب کو تسلی دینا کیوں مشکل لگ رہا ہوگا؟
پورے مشرق میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایوب نام کا امیرکبیر شخص اپنا سب کچھ کھو بیٹھا ہے۔ جب ایوب کے تین دوستوں نے یہ بُری خبر سنی تو وہ ایوب کو تسلی دینے کے لیے اُن سے ملنے عُوض گئے۔ اِن تین دوستوں کے نام اِلیفز، بِلدد اور ضوفر تھے۔ جب اُنہوں نے ایوب کی حالت دیکھی تو اُنہیں بہت دھچکا لگا۔
2 اب ذرا اِس منظر کا تصور کریں۔ ایوب بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں! اُن کے اُونٹوں، گائیوں، بیلوں اور بھیڑوں میں سے کچھ چوری ہو گئے ہیں اور کچھ مر گئے ہیں۔ اُن کے سب بچے مارے گئے ہیں اور اُن کے زیادہتر نوکروں کو تلوار سے قتل کر دیا گیا ہے۔ جس گھر میں ایوب کے بچوں کی جان گئی ہے، وہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ یہ آفتیں کم نہیں تھیں کہ ایوب کو ایک تکلیفدہ بیماری بھی لگ گئی ہے۔ اُن کا پورا جسم دردناک پھوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ اب اِلیفز، بِلدد اور ضوفر ایوب کے ملک پہنچ گئے ہیں۔ اُنہیں دُور سے ایوب دِکھائی دے رہے ہیں جو غم سے چُور راکھ میں بیٹھے ہیں۔ اب یہ تینوں ایوب کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ تقریباً سات دن ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے ایوب سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایوب بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔ (ایو 2:12، 13) اِسی دوران اِلیہو نام کا ایک جوان شخص بھی ایوب سے ملنے آیا ہے اور وہ اُن تینوں آدمیوں کے قریب آ کر بیٹھ گیا ہے۔ آخر ایوب خاموشی توڑتے ہوئے بات شروع کرتے ہیں۔ وہ اُس دن کو کوس رہے ہیں جب وہ پیدا ہوئے تھے اور کہہ رہے ہیں کہ کاش وہ پیدا ہوتے ہی مر جاتے۔ (ایو 3:1-3، 11) بےشک ایوب کو مدد اور تسلی کی بہت زیادہ ضرورت ہے! اب ایوب کے دوستوں اور اِلیہو کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی باتوں سے ایوب کا حوصلہ بڑھائیں اور یہ ثابت کریں کہ وہ اُن کے سچے دوست ہیں۔ لیکن آئیے دیکھیں کہ اِن آدمیوں نے کیا کِیا۔
3. اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
3 یہوواہ نے اپنی پاک روح کے ذریعے موسیٰ سے لکھوایا کہ ایوب کے تین دوستوں اور اِلیہو نے اُن سے کیا کچھ کہا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اِلیفز نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں جو ایک بُرے فرشتے نے اُن کے ذہن میں ڈالی تھیں۔ لیکن اِلیہو نے وہ باتیں کی تھیں جو یہوواہ اُن سے کہلوانا چاہتا تھا۔ (ایو 4:12-16؛ 33:24، 25) اِسی وجہ سے ایوب کی کتاب میں جہاں ہمیں کچھ بہترین نصیحتیں ملتی ہیں وہیں کچھ ایسی بُری نصیحتیں بھی ملتی ہیں جو کبھی ہی کسی نے کسی کو دی ہوں گی۔ ایوب کی کتاب پر غور کرنے سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے دوستوں کی اِصلاح کیسے کرنی چاہیے۔ تو اِس مضمون میں سب سے پہلے ہم ایوب کے بُرے دوستوں کی مثال پر غور کریں گے اور پھر اِلیہو کی اچھی مثال پر بات کریں گے۔ ہر مثال پر بات کرتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ ایوب کی کتاب پر سوچ بچار کرنے سے بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
ایوب کے تین دوستوں نے اُن کی اِصلاح کیسے کی؟
4. ایوب کے تین دوست اُنہیں تسلی کیوں نہیں دے پائے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
4 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب ایوب کے تین دوستوں نے اُن پر آنے والی مصیبتوں کے بارے میں سنا تو وہ یہ سوچ کر اُن سے ملنے گئے تھے کہ وہ ”اُن کے دُکھ میں شریک ہوں گے اور اُنہیں تسلی دیں گے۔“ (ایو 2:11) لیکن وہ ایسا کرنے میں بُری طرح سے ناکام ہو گئے۔ کیوں؟ کم سے کم تین باتوں کی وجہ سے۔ سب سے پہلی بات: اُنہوں نے نہ تو ایوب کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اُن کی بات سنی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے خود سے ہی یہ اندازہ لگا لیا کہ ایوب کو اُن کے گُناہوں کی وجہ سے سزا مل رہی ہے۔a (ایو 4:7؛ 11:14) دوسری بات: اُنہوں نے ایوب کی اِصلاح کرنے کے لیے جو باتیں کیں، وہ سننے میں تو بڑی سمجھداری کی لگ رہی تھیں لیکن اِن سے ایوب کو کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ (ایو 13:12) اِس کے علاوہ اُنہوں نے ایوب سے ایسی سخت باتیں کہیں جن سے ایوب کا بہت دل دُکھا۔ مثال کے طور پر بِلدد نے دو بار ایوب سے کہا کہ وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں۔ (ایو 8:2؛ 18:2) اور کبھی کبھار تو اِن آدمیوں نے بالکل ہی لحاظ نہیں کِیا۔ مثال کے طور پر ضوفر نے ایوب کو ایک ”بےعقل شخص“ کہا۔ (ایو 11:12) اور تیسری بات: بھلے ہی یہ آدمی ایوب پر نہ تو چیخے اور نہ چلّائے لیکن اُنہوں نے ایوب کو لگا لگا کر باتیں کیں، اُن پر اِلزام لگائے اور اُن کی بےعزتی کی۔ (ایو 15:7-11) اِن آدمیوں کا دھیان ایوب کے زخمی دل پر مرہم لگانے سے زیادہ اُنہیں غلط ثابت کرنے پر تھا۔
کسی شخص کی اِصلاح کرتے وقت اُسے یہ احساس نہ دِلائیں کہ آپ اُس سے زیادہ بہتر ہیں۔ اِصلاح کرنے کا مقصد ایک شخص کی مدد کرنا ہونا چاہیے۔ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. اِلیفز، بِلدد اور ضوفر نے ایوب کی جو اِصلاح کی، اُس کا کیا نتیجہ نکلا؟
5 جب اِلیفز، بِلدد اور ضوفر نے اپنی بات ختم کی تو ایوب اپنی صورتحال کو لے کر پہلے سے بھی زیادہ بُرا محسوس کرنے لگے اور اُن تینوں آدمیوں کی باتوں نے اُن کے دل کو چھلنی کر دیا۔ (ایو 19:2) واقعی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایوب کیوں بار بار خود کو بےقصور ثابت کرنے کے لیے اِتنی صفائیاں دے رہے تھے اور وہ کیوں کچھ ایسی باتیں کہہ گئے جو اُنہیں نہیں کہنی چاہیے تھیں۔ (ایو 6:3، 26) اِن تینوں آدمیوں نے ایوب سے نہ تو ایسی باتیں کیں جن سے یہوواہ کی سوچ ظاہر ہوتی اور نہ ہی اُنہوں نے ایوب کے لیے ہمدردی دِکھائی۔ اِسی وجہ سے وہ شیطان کے ہاتھوں کی کٹھپتلی بن گئے۔ (ایو 2:4، 6) اب آئیے دیکھیں کہ ایوب کے اِن تینوں دوستوں کی بُری مثال پر غور کرنے سے بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
6. بنیاِسرائیل کے بزرگوں کو ایوب کے اُن تین دوستوں کی بُری مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟
6 بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو اپنی قوم بنانے کے بعد اُن میں کچھ بزرگ مقرر کیے جو لوگوں کا اِنصاف کرتے تھے اور اُنہیں شریعت کے مطابق چلنا سکھاتے تھے۔ (اِست 1:15-18؛ 27:1) یہوواہ اِن آدمیوں سے یہ توقع کرتا تھا کہ وہ کسی کی بھی اِصلاح کرنے یا کوئی بھی فیصلہ سنانے سے پہلے پوری بات کو دھیان سے سنیں۔ (2-توا 19:6) وہ خود سے اندازے لگانے کی بجائے معاملے کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے سوال پوچھیں۔ (اِست 19:18) اِس کے علاوہ وہ اُن لوگوں سے سختی سے بات نہ کریں جو اُن سے مدد کی فریاد کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اگر بزرگ اِن لوگوں سے سختی سے بات کرتے تو اِن لوگوں کے لیے کُھل کر بزرگوں کو اپنے احساسات بتانا بہت مشکل ہو جاتا۔ (خر 22:22-24) یہ کچھ ایسے سبق ہیں جو یقیناً بنیاِسرائیل کے بزرگوں نے ایوب کے تین دوستوں کی بُری مثال پر غور کرنے سے سیکھے ہوں گے۔
7. بنیاِسرائیل کے بزرگوں کے علاوہ اَور کون دوسروں کی اِصلاح کر سکتے تھے اور اُنہیں ایوب کی کتاب پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ (اَمثال 27:9)
7 بےشک صرف بنیاِسرائیل کے بزرگ ہی دوسروں کی اِصلاح نہیں کرتے تھے۔ دراصل کوئی بھی اِسرائیلی پھر چاہے وہ جوان ہوتا یا بوڑھا یا پھر مرد ہوتا یا عورت، اپنے اُس دوست کی اِصلاح کر سکتا تھا جسے یہوواہ کی عبادت میں بہتری لانے اور اپنے چالچلن کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ (زبور 141:5) اِن معاملوں میں اپنے دوستوں کی اِصلاح کرنا سچی دوستی کا نشان ہوتا ہے۔ (اَمثال 27:9 کو پڑھیں۔) اگر بنیاِسرائیل نے اِس بات پر غور کِیا ہوگا کہ اِلیفز، بِلدد اور ضوفر نے ایوب سے کیسے بات کی تھی تو یقیناً اُنہوں نے یہ سیکھ لیا ہوگا کہ اُنہیں اپنے دوستوں کی اِصلاح کرتے وقت کیا نہیں کرنا اور کون سی باتیں نہیں بولنیں۔
8. دوسروں کی اِصلاح کرتے وقت ہمیں کون سے تین کام نہیں کرنے چاہئیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
8 ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟ جب ہمارے بہن بھائی تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ہم دل سے اُن کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت ہمیں وہ کام نہیں کرنے چاہئیں جو ایوب کے تین دوستوں نے کیے تھے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں فوراً سے کوئی رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے اور اُنہیں کوئی نصیحت کرنے سے پہلے تمام حقائق جان لینے چاہئیں۔ دوسرا، ہمیں خدا کے کلام کی بنیاد پر نصیحت کرنی چاہیے نہ کہ اِلیفز کی طرح اپنی رائے کے مطابق۔ (ایو 4:8؛ 5:3، 27) اور تیسرا، ہمیں اپنے بہن بھائیوں سے کوئی بھی سخت یا دل دُکھانے والی بات نہیں کہنی چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اِلیفز اور اُن کے باقی دو دوستوں نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں جو سچ تھیں اور بعد میں تو پولُس رسول نے بھی اِلیفز کی کچھ باتوں کا حوالہ دیا تھا۔ (ایوب 5:13 کا 1-کُرنتھیوں 3:19 سے موازنہ کریں۔) لیکن اِلیفز، بِلدد اور ضوفر نے خدا کے بارے میں زیادہتر جھوٹی باتیں کی تھیں اور اِن سے ایوب کا بہت دل دُکھا تھا۔ اِسی لیے یہوواہ نے اُن تینوں سے کہا کہ اُنہوں نے اُس کے بارے میں سچ نہیں بولا۔ (ایو 42:7، 8) تو جب ہم کسی کی اِصلاح کرتے ہیں تو ہمیں اِس بات کا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے اُس شخص کو یہ لگے کہ یہوواہ بہت بےرحم اور سخت ہے اور وہ اُس کی محبت کے لائق نہیں ہے۔
جب آپ کسی کی اِصلاح کرتے ہیں تو (1)کچھ بھی کہنے سے پہلے تمام حقائق جان لیں، (2)خدا کے کلام کو اِستعمال کریں اور (3)پیار اور نرمی سے بات کریں۔ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)
اِلیہو نے ایوب کی اِصلاح کیسے کی؟
9. (الف)ایوب کو اُس وقت مدد کی ضرورت کیوں تھی جب اُن کے تینوں دوستوں نے اپنی بات ختم کر لی تھی؟ (ب)یہوواہ نے ایوب کی مدد کیسے کی؟
9 ایوب اور اُن کے تینوں دوست کافی دیر تک بحث کرتے رہے۔ اُن تینوں آدمیوں نے اِتنی لمبی بحث کی کہ بائبل کے 28 باب اُن کی باتوں سے بھرے ہیں اور اِن میں سے زیادہتر باتیں تو غصے اور بیزاری میں کی گئی تھیں۔ اِسی وجہ سے ایوب کا درد کم ہونے کی بجائے اَور بڑھ گیا۔ ایوب کو ابھی بھی تسلی اور اپنی سوچ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت تھی۔ تو یہوواہ نے اُن کی مدد کیسے کی؟ اُس نے اِلیہو کے ذریعے ایسا کِیا۔ اِلیہو نے اب تک بات کیوں نہیں کی تھی؟ اِس لیے کیونکہ اِلیہو نے اُن آدمیوں سے کہا: ”آپ لوگ عمر میں بڑے ہیں اور مَیں چھوٹا ہوں اِس لیے مَیں احتراماً خاموش رہا۔“ (ایو 32:6، 7) اِلیہو جانتے تھے کہ بڑی عمر کے لوگوں میں جوان لوگوں سے زیادہ سمجھ ہوتی ہے کیونکہ اُن کے پاس زندگی کا تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن جب اِلیہو نے بڑے صبر سے ایوب اور اُن کے تینوں دوستوں کی باتیں سنیں تو اب اُن سے اَور چپ نہیں رہا گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا: ”صرف عمر کسی کو دانشمند نہیں بناتی؛ صرف بڑھاپا کسی کو صحیح غلط کا فرق نہیں سکھاتا۔“ (ایو 32:9) اِلیہو نے آگے کیا کہا اور کس طرح سے کہا؟
10. اِلیہو نے ایوب کی اِصلاح کرنے سے پہلے کیا کِیا؟(ایوب 33:6، 7)
10 اِلیہو نے ایوب کی اِصلاح کرنے سے پہلے ایک اچھا ماحول قائم کِیا۔ وہ کیسے؟ سب سے پہلے تو اِلیہو نے خود کو پُرسکون کِیا۔ ہم یہ بات اِس لیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ پہلے اِلیہو ایوب اور اُن کے تینوں دوستوں کی باتوں کو سُن کر بہت غصے میں آ گئے تھے۔ (ایو 32:2-5) تو اپنے غصے کو قابو میں کرنے کی وجہ سے اِلیہو نے ایوب سے کوئی دل دُکھانے والی بات نہیں کی۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے خاکساری اور ہمدردی سے ایوب سے بات کی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے ایوب سے کہا: ”دیکھیں، سچے خدا کی نظر میں مَیں بھی آپ کی طرح ہوں۔“ (ایوب 33:6، 7 کو پڑھیں۔) اِس کے بعد اُنہوں نے اپنی باتوں سے ایوب کو یہ احساس دِلایا کہ اُنہوں نے ایوب کی باتیں بہت دھیان سے سنی ہیں۔ دراصل اُنہوں نے تو ایوب کی کہی باتوں میں سے چھ کا خلاصہ بھی کِیا۔ (ایو 32:11؛ 33:8-11) اِلیہو نے ایسا ہی اُس وقت بھی کِیا جب وہ ایوب کی اِصلاح کر رہے تھے۔—ایو 34:5، 6، 9؛ 35:1-4۔
11. اِلیہو نے ایوب کی اِصلاح کیسے کی؟ (ایوب 33:1)
11 جب اِلیہو نے ایوب کی اِصلاح کی تو اُنہوں نے ایوب کے لیے عزت دِکھائی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے ایوب سے بات کرتے وقت اُن کا نام اِستعمال کِیا جو کہ غالباً ایوب کے تین دوستوں نے نہیں کِیا تھا۔ (ایوب 33:1 کو پڑھیں۔) شاید اِلیہو نے وہ وقت بھی یاد کِیا ہوگا جب ایوب اور اُن کے دوست آپس میں بحث کر رہے تھے اور اُن کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی بیچ میں بولیں۔ اِس لیے اب جب وہ ایوب کی اِصلاح کر رہے تھے تو اُنہوں نے ایوب کو بھی بولنے کا موقع دیا۔ (ایو 32:4؛ 33:32) اِلیہو نے واضح طور پر ایوب کو یہ بھی بتایا کہ اُن کی کچھ باتیں صحیح کیوں نہیں تھیں۔ پھر اُنہوں نے بڑے پیار سے ایوب کو یہوواہ کی دانشمندی، اُس کی طاقت، اِنصاف اور اٹوٹ محبت کے بارے میں یاد دِلایا۔ (ایو 36:18، 21-26؛ 37:23، 24) اِلیہو کی اچھی نصیحتوں کی وجہ سے اب ایوب یہوواہ کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کو پانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو گئے تھے۔ (ایو 38:1-3) آئیے دیکھیں کہ اِلیہو کی مثال پر غور کرنے سے بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا اور آج ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے۔
12. یہوواہ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اپنی قوم کے لوگوں کی مدد کیسے کی اور بنیاِسرائیل کو اِلیہو کی اچھی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟
12 بنیاِسرائیل کو کیسے فائدہ ہوا ہوگا؟ یہوواہ نے اکثر اپنے نبیوں کے ذریعے بنیاِسرائیل کو اپنی مرضی کے بارے میں بتایا اور اُن کی درستی بھی کی۔ مثال کے طور پر قاضیوں کے زمانے میں یہوواہ نے دبورہ نبِیّہ کے ذریعے اپنی قوم کی رہنمائی کی۔ پھر اُس نے سموئیل نبی کے بچپن سے ہی اُنہیں بنیاِسرائیل کو ہدایتیں دینے کے لیے چُنا۔ (قُضا 4:4-7؛ 5:7؛ 1-سمو 3:19، 20) اِس کے بعد بنیاِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے میں یہوواہ نے بار بار اپنے نبیوں کو اپنی قوم کے پاس بھیجا تاکہ وہ صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کرتے رہیں۔ اور جب بھی کچھ لوگ اُس کی نافرمانی کرتے تھے تو یہوواہ اپنے نبیوں کے ذریعے اُن کی اِصلاح کرتا تھا۔ (2-سمو 12:1-4؛ اعما 3:24) اِلیہو کی اچھی مثال پر غور کرنے سے وفادار اِسرائیلی مرد اور عورتوں نے یہ سیکھا ہوگا کہ دوسروں کی اِصلاح کرتے وقت اُنہیں کیا کہنا ہے اور کس طرح سے کہنا ہے۔
13. آج مسیحی اپنے ہمایمانوں کی حوصلہافزائی کیسے کر سکتے ہیں؟
13 ہمیں کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟ مسیحیوں کے طور پر ہم بھی دوسروں کو یہوواہ کی مرضی کے بارے میں وہی باتیں بتاتے ہیں جو اُس کے کلام میں بتائی گئی ہیں۔ لیکن ہم ایک اَور طریقے سے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے بہن بھائیوں کو تسلی دیتے اور اُن کا حوصلہ بڑھاتے وقت بھی صحیح الفاظ اِستعمال کر سکتے ہیں۔ (1-کُر 14:3) کلیسیا کے بزرگوں کو تو اِس بات کا اَور بھی زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ پیار اور نرمی سے بات کریں، اُن لوگوں کے ساتھ بھی جو غصے یا پریشانی میں کوئی بات کہہ جاتے ہیں۔—1-تھس 5:14؛ ایو 6:3۔
14-15. ایک مثال دے کر بتائیں کہ کلیسیا کا ایک بزرگ کسی کو نصیحت کرتے وقت اِلیہو کی مثال پر کیسے عمل کر سکتا ہے۔
14 فرض کریں کہ ایک بزرگ کو پتہ چلتا ہے کہ اُس کی کلیسیا میں ایک بہن بہت پریشان اور بےحوصلہ ہے۔ وہ بزرگ کلیسیا کے ایک اَور بزرگ کے ساتھ مل کر اُس بہن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُس سے ملنے جاتا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ باتچیت کے دوران وہ بہن بتاتی ہے کہ وہ عبادتوں اور مُنادی میں تو جاتی ہے لیکن اُسے ایسا کرنے سے کوئی خوشی نہیں ملتی۔ یہ بات سُن کر اب وہ بزرگ کیا کرے گا جو باتچیت میں پیشوائی کر رہا ہے؟
15 سب سے پہلے تو وہ اُس بہن کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرے گا جس کی وجہ سے وہ ایسا محسوس کر رہی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ اُس سے کچھ سوال پوچھے گا اور پھر اُس بہن کی بات کو دھیان سے سنے گا۔ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ کیا وہ بہن اِس لیے ایسا محسوس کر رہی ہے کیونکہ وہ خود کو یہوواہ کی محبت کے لائق نہیں سمجھتی؟ یا کیا وہ اپنی روزمرہ کی ضرور توں کو پورا کرنے کی وجہ سے بہت فکرمند ہے؟ (لُو 21:34) پھر وہ بزرگ اُن اچھے کاموں کے لیے اُس بہن کی تعریف بھی کرے گا جو وہ کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر وہ اُس کی یہ تعریف کر سکتا ہے کہ بھلے ہی اُسے عبادتوں اور مُنادی میں جانا مشکل لگتا ہے لیکن وہ پھر بھی ایسا کر رہی ہے۔ اور آخر میں جب وہ بزرگ اُس بہن کی صورتحال کو اور اُس کے احساسات کو اچھی طرح سے سمجھ جائے گا تو وہ اُسے بائبل سے یقین دِلائے گا کہ یہوواہ اُس سے بہت محبت کرتا ہے۔—گل 2:20۔
ایوب کی کتاب سے اہم سبق سیکھتے رہیں
16. ہم ایوب کی کتاب سے اہم سبق سیکھتے رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
16 بےشک ہم ایوب کی کتاب کا مطالعہ کرنے سے اَور بھی بہت سے اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں سیکھا تھا، یہوواہ کی پاک روح کے ذریعے لکھی گئی اِس کتاب سے ہمیں نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے بلکہ اِس میں ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم مصیبتوں میں بھی یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں۔ اور اِس مضمون سے ہم نے سیکھا ہے کہ ہم سبھی کو کسی کی اِصلاح کرتے وقت ایوب کے تین دوستوں کی بُری مثال پر نہیں بلکہ اِلیہو کی اچھی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔ کسی کی اِصلاح کرنے سے پہلے اُن باتوں پر پھر سے سوچ بچار کریں جو آپ نے ایوب کی کتاب سے سیکھی ہیں۔ اور اگر آپ کو ایوب کی کتاب کو پڑھے ہوئے کچھ وقت ہو گیا ہے تو پھر سے اِس شاندار کتاب کو پڑھنے کے بارے میں سوچیں۔ اِس طرح آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ پائیں گے کہ یہ کتاب آج بھی اُتنی ہی فائدہمند ہے جتنی اُس وقت تھی جب اِسے لکھا گیا تھا۔
گیت نمبر 125 رحمدل خوش رہتے ہیں
a ایسا لگتا ہے کہ ایک بُرے فرشتے نے اِلیفز کو یہ یقین دِلایا تھا کہ یہوواہ کسی بھی اِنسان کو نیک نہیں سمجھتا اور چاہے اِنسان کچھ بھی کر لے، وہ یہوواہ کو کبھی خوش نہیں کر سکتا۔ اِلیفز نے اِس غلط سوچ پر یقین کر لیا تھا۔ اِسی وجہ سے ہر بار ایوب سے بات کرتے وقت اُنہوں نے اِس غلط سوچ کا ذکر کِیا۔—ایو 4:17؛ 15:15، 16؛ 22:2۔