یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م‌ع25 نمبر 1 ص.‏ 6-‏8
  • کیا ہم جنگوں اور لڑائیوں کو ختم کر سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا ہم جنگوں اور لڑائیوں کو ختم کر سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2025
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • حکومتیں معاشی حالات کو بہتر کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں
  • حکومتیں معاہدوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں
  • ہتھیاروں کی تعداد میں کمی یا اِنہیں ختم کرنا
  • ملک ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے آپس میں اِتحاد کرتے ہیں
  • کیا ڈپلومیسی عالمی اَمن لائے گی؟‏
    جاگو!‏—‏2004ء
  • لوگ امن اور سلامتی سے کیوں نہیں رہ سکتے؟—‏پاک کلام میں اِس حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟‏
    مزید موضوعات
  • حقیقی اَمن—‏کس ماخذ سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • جنگیں اور لڑائیاں کیسے ختم ہوں گی؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2025
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2025
م‌ع25 نمبر 1 ص.‏ 6-‏8

کیا ہم جنگوں اور لڑائیوں کو ختم کر سکتے ہیں؟‏

لوگ فرق فرق باتوں کے لیے لڑتے ہیں۔ کچھ لوگ سیاسی معاملوں کی وجہ سے لڑتے ہیں، کچھ مالی حالات کی وجہ سے لڑتے ہیں اور کچھ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے لڑتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی علاقے یا قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ بہت سے لوگ فرق نسل یا مذہب کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ اِن لڑائیوں کو روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے کون سی کوششیں کی گئی ہیں؟ کیا ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ یہ کوششیں کبھی کامیاب ہوں گی؟‏

ایک پھٹی ہوئی تصویر جس میں تعمیراتی کام کرنے والے لوگ ایسی عمارت میں کھڑے ہیں جس کی تعمیر چل رہی ہے اور وہ اِس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‏

Drazen_/E+ via Getty Images

حکومتیں معاشی حالات کو بہتر کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں

مقصد:‏ لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا۔ اِس کی وجہ سے امیری غریبی کا فرق ختم یا پھر کم ہو سکتا ہے جو لڑائیوں اور جنگوں کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔‏

مشکل:‏ ایسا کرنے کے لیے حکومتوں کو دیکھنا ہوگا کہ اُنہیں کہاں پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا چاہیے اور کہاں پر کم۔ 2022ء میں پوری دُنیا میں مختلف علاقوں میں لوگوں کے معیارِزندگی کو بہتر بنانے کے لیے 1.‏34 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ لیکن اِسی سال میں جنگوں پر جو خرچہ کِیا گیا، یہ اُس کا صرف 4.‏0 فیصد ہے۔‏

‏”‏ہم جنگوں کو روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے جتنے پیسے اور وسائل لگاتے ہیں،‏ اُس سے زیادہ پیسے اور وسائل ہم جنگیں لڑنے میں لگا دیتے ہیں۔“‏—‏اینٹونیو گیٹیرس،‏ سیکرٹری جنرل اقوامِ‌متحدہ۔‏

پاک کلام میں کیا بتایا گیا ہے؟‏ دُنیا کی حکومتیں اور اِدارے غریبوں کی مدد تو کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی غربت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔—‏اِستثنا 15:‏11؛‏ متی 26:‏11‏۔‏

ایک پھٹی ہوئی تصویر جس میں دو لوگ ہاتھ ملا رہے ہیں۔‏

حکومتیں معاہدوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں

مقصد:‏ بات‌چیت کر کے ایسا حل نکالنا جس سے دونوں ملکوں یا گروہوں کو فائدہ ہو اور لڑائی سے بچا جا سکے یا اِسے روکا جا سکے۔‏

مشکل:‏ شاید ایک یا ایک سے زیادہ ملک یا گروہ بات‌چیت یا تعاون نہ کرنا چاہیں یا کسی معاہدے کو قبول نہ کریں۔ اور امن معاہدے تو آسانی سے توڑ دیے جاتے ہیں۔‏

‏”‏بات‌چیت کر کے معاہدوں سے ہمیشہ کامیابی نہیں ملتی۔‏ ہو سکتا ہے کہ کسی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جو معاہدہ تیار کِیا گیا ہو،‏ اُس میں اِتنی زیادہ کمی ہو کہ جنگ اَور زیادہ آگ پکڑ لے۔“‏—‏ریمنڈ سمِتھ،‏ امریکی سفارت‌کار۔‏

پاک کلام میں کیا بتایا گیا ہے؟‏ لوگوں کو ”‏صلح قائم کرنے کی کوشش“‏ کرنی چاہیے۔ (‏زبور 34:‏14‏)‏ لیکن آج‌کل بہت سے لوگ ’‏بے‌وفا، ضدی اور دھوکے‌باز‘‏ ہیں۔ (‏2-‏تیمُتھیُس 3:‏1-‏4‏)‏ ایسے لوگوں کی وجہ سے اُن سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی مشکل کھڑی ہو جاتی ہے جو دل سے دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔‏

ایک پھٹی ہوئی تصویر جس میں ایک پستول ٹوٹی ہوئی ہے۔‏

ہتھیاروں کی تعداد میں کمی یا اِنہیں ختم کرنا

مقصد:‏ نیوکلیائی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کو کم یا ختم کرنا جو کہ ایک ہی وقت میں پورا پورا ملک یا پوری زمین کو تباہ کر سکتے ہیں۔‏

مشکل:‏ بہت سے ملک اپنے ہتھیاروں میں کمی نہیں کرنا چاہتے یا اِنہیں ختم نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اُنہیں اِس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ اُن کی طاقت چلی جائے گی یا پھر اُن کا دُشمن اُن پر آسانی سے حملہ کر سکے گا۔ ہتھیاروں کی کمی سے اُس مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا جس کی وجہ سے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں۔‏

‏”‏بہت سی حکومتوں نے سرد جنگ کے آخر پر یعنی 1991ء میں یہ وعدہ کِیا کہ وہ اپنے اپنے ہتھیاروں میں کمی لائیں گی لیکن اُنہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کِیا اور اُنہوں نے وہ قدم بھی نہیں اُٹھائے جو خطروں کو کم کرنے،‏ بین‌الاقوامی سطح پر خراب تعلقات کو بہتر بنانے اور دُنیا کو ایک محفوظ جگہ بنانے کے لیے اُٹھانے تھے۔“‏—‏”‏سیکیورنگ آور کامن فیوچر:‏ این ایجنڈا فار ڈِس‌آرممنٹ۔“‏

پاک کلام میں کیا بتایا گیا ہے؟‏ لوگوں کو ہتھیاروں کو چھوڑ دینا چاہیے اور ’‏اپنی تلواروں کو پِیٹ کر پھالے بنا لینا‘‏ چاہیے۔ (‏یسعیاہ 2:‏4‏)‏ لیکن لوگوں کو اِس سے بھی زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ اُنہیں ظلم کو اپنے دل سے نکالنا ہوگا کیونکہ ظلم کی شروعات دل سے ہوتی ہے۔—‏متی 15:‏19‏۔‏

ایک پھٹی ہوئی تصویر جس میں کچھ حکمران ایک میز کے اِردگِرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ایک جیسی دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔‏

ملک ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے آپس میں اِتحاد کرتے ہیں

مقصد:‏ کئی ملک دُشمن سے حفاظت کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ کرتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی ملک اِن میں سے کسی ایک ملک پر بھی حملہ کرے گا تو اُسے اِن سب ملکوں کی فوج کا سامنا کرنا ہوگا۔‏

مشکل:‏ اگر کسی فوج کو اِس بات سے ڈرایا جائے کہ اُسے ایک ہی وقت میں کئی ملکوں کی فوج سے لڑنا ہوگا تو یہ اِس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ امن قائم ہو جائے گا۔ کئی ملک ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اِس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ وہ حملہ کرنے والے کے خلاف کب اور کیسے کارروائی کریں گے۔‏

‏”‏حالانکہ کئی ملکوں کا مل کر دُشمن سے ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کے معاہدے نے انجمنِ‌اقوام کے معاہدے میں بہت اہم کردار ادا کِیا اور یہ اقوامِ‌متحدہ کے معاہدے میں بھی شامل ہے لیکن اِس کی وجہ سے جنگیں ہونا بند نہیں ہوئیں۔“‏—‏”‏اِنسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا۔“‏

پاک کلام میں کیا بتایا گیا ہے؟‏ اکثر مل کر کام کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ (‏واعظ 4:‏12‏)‏ لیکن اِنسانوں کے بنائے ہوئے اِدارے ہمیشہ تک امن اور سلامتی قائم نہیں کر سکتے۔ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏حاکموں پر بھروسا نہ کرو اور نہ ہی کسی اِنسان پر کیونکہ وہ نجات نہیں دِلا سکتے۔ اُن کا دم نکل جاتا ہے اور وہ مٹی میں لوٹ جاتے ہیں؛ اُسی دن اُن کے خیال مٹ جاتے ہیں۔“‏—‏زبور 146:‏3، 4‏۔‏

اگرچہ بہت سے ملک ابدی امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی جنگیں ایک ناسور کی طرح ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔‏

کیا اِس دُنیا میں پہلے سے زیادہ امن ہے؟‏

کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس دُنیا میں پہلے سے زیادہ امن قائم ہو چُکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی جو جنگیں لڑی جاتی ہیں، وہ چھوٹی ہوتی ہیں اور اِن میں پچھلی صدیوں میں لڑی جانے والی جنگوں سے کم جانی نقصان ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اِن دعووں سے اِتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگوں کے حوالے سے کچھ اَور باتوں پر بھی غور کرنا چاہیے نہ کہ صرف اِس بات پر کہ جانی نقصان کتنا ہوا ہے۔‏

لوگوں کی رائے چاہے کچھ بھی ہو، سچ تو یہ ہے کہ جنگوں کی وجہ سے دُنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو نقصان پہنچتا ہے اور کہیں نہ کہیں ہم سب پر بھی اِس کا اثر ہوتا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں