جنگیں اور لڑائیاں ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئیں؟
خدا کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ جنگوں اور لڑائیوں کی اصل وجہ کیا ہے اور یہ ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئیں۔
گُناہ
خدا نے ہمارے سب سے پہلے ماں باپ یعنی آدم اور حوّا کو اپنی صورت پر بنایا۔ (پیدائش 1:27) اِس کا مطلب تھا کہ وہ دونوں اُن خوبیوں کو ظاہر کر سکتے تھے جو خدا میں ہیں اور اِن خوبیوں میں صلح صفائی، امن اور محبت شامل ہے۔ (1-کُرنتھیوں 14:33؛ 1-یوحنا 4:8) لیکن آدم اور حوّا نے خدا کی نافرمانی کی اور گُناہ کِیا۔ اِس وجہ سے ہم سب کو گُناہ اور موت ورثے میں ملے ہیں۔ (رومیوں 5:12) چونکہ ہمیں گُناہ ورثے میں ملا ہے اِس لیے ہم اکثر بُری باتیں سوچتے ہیں اور اِن بُرے خیالات کی وجہ سے ہم بُرے کام کرتے ہیں جن میں ظلم اور تشدد کرنا بھی شامل ہے۔—پیدائش 6:5؛ مرقس 7:21، 22۔
اِنسانی حکومتیں
خدا نے ہمیں اِس طرح سے نہیں بنایا کہ ہم خود پر حکمرانی کر سکیں۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”اِنسان اپنی راہ کا مالک نہیں ہے۔ وہ اپنے قدموں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ 10:23) اِس لیے اِنسانی حکومتیں جنگوں اور لڑائیوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔
شیطان اور اُس کے بُرے فرشتے
پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ ”پوری دُنیا شیطان کے قبضے میں ہے۔“ (1-یوحنا 5:19) ”شیطان“ ایک خطرناک قاتل ہے۔ (یوحنا 8:44) جنگوں اور لڑائیوں کے پیچھے اُس کا اور اُس کے بُرے فرشتوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔—مُکاشفہ 12:9، 12۔
ہم جنگوں اور لڑائیوں کی وجوہات کو ختم نہیں کر سکتے لیکن خدا ایسا کر سکتا ہے۔