سوالی بکس
▪ کیا کلیسیا کی مدد کرنے کیلئے مختلف تقریبات کے ذریعے مالی عطیات جمع کرنا دُرست ہے؟
مذہبی تنظیموں میں کھانےپینے کی چیزوں، میلوں یا دیگر تقریبات کے ذریعے امداد جمع کرنا ایک عام بات ہے۔ بعض شاید محسوس کریں کہ یہ نیک کام ہے اور اِس سے دوسروں کو بھی عطیات دینے کی تحریک مل سکتی ہے۔ یہوواہ کے گواہ اِس طریقے سے مالی امداد جمع نہیں کرتے۔
اگست ۱۵، ۱۸۷۹ کے واچ ٹاور نے چرچوں کی نقل نہ کرنے اور اُن سے فنڈز نہ لینے کے مؤقف کی بابت یوں بیان کِیا: ”ہم یہوواہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ’زائنز واچ ٹاور‘ (مینارِنگہبانی کا پُرانا نام) کی پُشتپناہی کرتا ہے۔ یہوواہ کہتا ہے: ’چاندی میری ہے اور سونا میرا ہے۔‘ اِس وجہ سے ہم آدمیوں سے کبھی بھی مالی امداد نہیں مانگیں گے۔ اگر یہوواہ کسی وجہ سے درکار مالی مدد فراہم نہیں کرتا تو ہمیں سمجھ جانا چاہئے کہ یہ اِس کام کو کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔“
ہمیں اِس صحیفائی اُصول پر عمل کرتے رہنا چاہئے: ”جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے۔ نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ (۲-کر ۹:۷) کنگڈم ہال میں عطیات کے ڈبے رکھے ہوتے ہیں تاکہ ہر کوئی اپنی خوشی سے عطیات ڈال سکے۔ (۲-سلا ۱۲:۹) یہ عطیات مانگے نہیں جاتے اور نہ ہی بدلے میں کچھ حاصل کرنے کے مقصد کے ساتھ دئے جاتے ہیں۔