خدا کے نزدیک جائیں
”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے“
آپ کو کس شخص سے تحفہ لے کر اچھا لگے گا؟ اُس شخص سے جو محبت کی وجہ سے آپ کو تحفہ دے گا یا جو صرف فرض سمجھ کر آپ کو تحفہ دے گا؟ یہ بات ہماری نظر میں بہت اہم ہوتی ہے کہ ایک شخص ہمیں کس نیت سے کوئی چیز دیتا ہے۔ اور یہ بات خدا کی نظر میں بھی بہت اہم ہے۔ آئیں، اِس سلسلے میں پاک کلام کی ایک آیت پر غور کریں جو یسوع مسیح کے شاگرد پولسُ نے خدا کے اِلہام سے لکھی تھی۔ یہ 2-کرنتھیوں 9:7 ہے۔
پولسُ نے کُرنتھس میں رہنے والے مسیحیوں کو یہ الفاظ کیوں لکھے؟ دراصل یہودیہ کے علاقے میں رہنے والے مسیحیوں کو مالی مدد کی ضرورت تھی اور اِس لئے پولسُ نے کُرنتھیوں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ اِن مسیحیوں کی مدد کریں۔ پولسُ نے اِن مسیحیوں کو مالی مدد کرنے پر مجبور نہیں کِیا بلکہ اُنہوں نے اِن کو لکھا: ”جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ آئیں، دیکھتے ہیں کہ پولسُ کی اِس بات کا کیا مطلب ہے۔
”جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے۔“ پولسُ نے اِس بات پر زور دیا کہ خدا کا ایک خادم اِس لئے دوسروں کی مدد کرتا ہے کیونکہ اُس نے ”اپنے دل میں“ ایسا کرنے کا اِرادہ کِیا ہوتا ہے۔ ایک عالم نے کہا کہ اِس آیت میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”ٹھہرایا“ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ہے: ”پہلے سے طے کرنا۔“ لہٰذا خدا کا ایک خادم پہلے سے اِس بارے میں سوچتا ہے کہ خدا کے دوسرے خادموں کو کس چیز کی ضرورت ہے اور وہ اُن کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔—1-یوحنا 3:17۔
”نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے۔“ پولسُ نے کہا کہ خدا کے خادموں کو بیزاری یا مجبوری سے نہیں دینا چاہئے۔ اِس آیت میں جس یونانی اِصطلاح کا ترجمہ ”دریغ کرکے“ کِیا گیا ہے، اُس کا لفظی مطلب ہے: ”دُکھی ہو کر۔“ ایک لغت میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص جو بیزاری سے دیتا ہے، ”اُسے اِس بات پر دُکھ ہوتا ہے کہ اُس کے ہاتھ سے پیسہ چلا گیا ہے۔“ اِسی طرح ایک شخص جو لاچاری سے کچھ دیتا ہے، وہ دوسروں کے دباؤ میں آ کر ایسا کرتا ہے۔ بِلاشُبہ ہم ایسے شخص سے تحفہ نہیں لینا چاہیں گے جو بیزاری یا مجبوری سے دیتا ہے۔
”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ پولسُ نے کہا کہ جب خدا کا ایک خادم کچھ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اُسے خوشی سے ایسا کرنا چاہئے۔ واقعی اگر ایک شخص صحیح نیت سے کچھ دیتا ہے تو اُس کو بہت خوشی ملتی ہے۔ اور اُس کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ دراصل اِس شخص کی خوشی نہ صرف اُس کے دل میں ہوتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی نظر آتی ہے اور یوں اُنہیں بھی خوشی ملتی ہے۔ اِس کے علاوہ خدا بھی بہت خوش ہوتا ہے۔ اِسی وجہ سے وہ ”خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“
”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“
پولسُ نے 2-کرنتھیوں 9:7 میں جو بات کہی، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کے خادموں کو دوسروں کو کچھ دیتے وقت کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ اگر ہم دوسروں کی خاطر اپنا وقت، توانائی یا مال قربان کرتے ہیں تو ہمیں خوشی سے ایسا کرنا چاہئے نہ کہ دوسروں کے دباؤ میں آ کر۔ یوں نہ صرف ہمیں سچی خوشی ملے گی بلکہ ہم خدا کو بھی خوش کریں گے۔
اِن ابواب کو پڑھیں: