ریٹائرمنٹ—اضافی کارگزاری کا موقع؟
۱ بہتیرے محنتی لوگ اُس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب ریٹائرمنٹ اُنہیں ملازمت کی مشکلات اور دباؤ سے آزاد کریگی۔ تاہم، اکثر ریٹائرمنٹ بےحسی، تنہائی اور وقت سے پہلے بوڑھے ہونے پر منتج ہوتی ہے۔ بامقصد کارگزاری کا فقدان دماغ کو مختلف وسوسوں میں ڈال سکتا ہے۔ برازیل کا ایک اخبار بیان کرتا ہے، ریٹائرڈ اشخاص ’بےاطمینانی، چڑچڑےپن، عدمِتحفظ اور افسردگی کے باعث اپنی شناخت کھو بیٹھنے اور یہ محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں کہ اُنکی دُنیا ختم ہو رہی ہے۔‘
۲ اس کے برعکس، بہتیرے مسیحی اپنی زندگی کے اس نئے دَور کو اضافی روحانی کارگزاریوں کا موقع خیال کرتے ہیں۔ ایک بھائی جس نے ۶۵ برس کی عمر کو پہنچنے کے دو ہفتے بعد ہی پائنیر خدمت شروع کر دی، وہ یوں بیان کرتا ہے: ”مجھے اپنی زندگی میں اسقدر روحانی برکات کا تجربہ کبھی نہیں ہوا جتنا کہ پائنیر خدمت کے گزشتہ دس سال میں ہوا تھا۔“ ایک جوڑے نے لکھا: ”اصل میں ہماری زندگی کے سنہرے دَور کا آغاز اُس وقت ہوا جب ہم نے پائنیر خدمت شروع کی۔“ جیہاں، ریٹائرمنٹ اپنی خدمت کو وسیع کرنے اور یہوواہ سے بیشمار برکات حاصل کرنے کا سنہری موقع پیش کرتی ہے۔
۳ مصروف اور پھلدار ثابت ہونا: بہتیرے ریٹائر ہونے والے لوگوں نے آجکل کی بہت عام آسائشوں کے ساتھ پرورش نہیں پائی تھی اس لئے اُنہوں نے بچپن ہی سے محنت کرنا سیکھا تھا۔ اگرچہ اب اُن میں جوانی والا جوش تو نہیں توبھی وہ پھلدار کارکُن ہیں۔ ایک برانچ کے علاقے میں ۲۲ فیصد پائنیر—تقریباً ۲۰،۰۰۰ بہنبھائی—کم از کم ۶۰ برس کے ہیں۔ یہ عمررسیدہ اشخاص منادی کے کام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اُنکا تجربہ اور خدائی خوبیاں اُن کلیسیاؤں کو برکات سے مالامال کر رہی ہیں جہاں وہ خدمت انجام دیتے ہیں۔—یعقو ۳:۱۷، ۱۸۔
۴ مسیحی خدمتگزاری میں مصروف رہنا بہتر صحت اور زندگی پر منتج ہوتا ہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد پائنیر خدمت شروع کرنے والی ایک ۸۴ سالہ بہن بیان کرتی ہے: ”دلچسپی لینے والے اشخاص کیساتھ بہت سے بائبل مطالعوں نے مجھے ذہنی طور پر مستعد رہنے میں مدد دی ہے۔ میرے پاس کار نہیں لہٰذا مَیں کافی پیدل چلتی ہوں۔ اس سے میری صحت اچھی رہتی ہے۔“ ایک عمررسیدہ پائنیر جوڑے نے تبصرہ کِیا: ”خدمت ہمیں ذہنی اور جسمانی طور پر چاکوچوبند رکھتی ہے۔ ہم ہمیشہ ساتھساتھ رہتے ہیں۔ ہم بہت زیادہ ہنستے اور زندگی سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔“
۵ ضرورت والے علاقے میں خدمت کرنا: ریٹائرڈ ہو جانے والے بعض مسیحی جو مالی اعتبار سے مستحکم ہیں وہ ایسے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں بادشاہتی مُنادوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ دیگر نے دوسری زبان والے میدان میں خدمت کرنے کا انتخاب کِیا ہے۔ پولس رسول کی طرح، یہ سرگرم مبشر ’سب کچھ انجیل کی خاطر کرتے ہیں تاکہ اَوروں کے ساتھ اُس میں شریک ہوں۔‘—۱-کر ۹:۲۳۔
۶ ایک جوڑے نے اپنے دو بیٹوں کی پرورش کرنے کے بعد پائنیر خدمت شروع کی۔ کئی سال پائنیر خدمت کرنے کے بعد، اُنہوں نے چینی زبان سیکھنا شروع کر دی۔ اب جبکہ وہ ۷۰ کے دہے میں ہیں، اُنہیں ایک چینی گروپ کو کلیسیا بنتے دیکھنے کا تجربہ ہوا ہے جس کیساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ ایسے جوڑے کسقدر بابرکت ثابت ہوئے ہیں!
۷ خدمتگزاری سے کوئی ریٹائرمنٹ نہیں: اگرچہ بیشتر لوگ انجامکار اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو جاتے ہیں توبھی خدا کی خدمت سے کوئی ریٹائرمنٹ نہیں۔ سب کو ”آخر تک“ وفادار رہنا ہے۔ (متی ۲۴:۱۳، ۱۴) سچ ہے کہ عمر زیادہ ہونے کیساتھساتھ بہتیرے اشخاص یہوواہ کی خدمت میں اُتنا کام نہیں کر سکتے جتنا کہ وہ پہلے کِیا کرتے تھے۔ تاہم اُنکو دلوجان سے کام کرتے دیکھنا کتنا حوصلہافزا ہے! خدا کا کلام اُنہیں یقیندہانی کراتا ہے کہ خدا اُنکے کام اور اُس محبت کو کبھی نہیں بھولیگا جو اُنہوں نے اُسکے نام کی خاطر ظاہر کی ہے۔—لو ۲۱:۱-۴؛ عبر ۶:۱۰۔
۸ اگر آپ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے ہیں تو کیوں نہ اس بات پر دُعائیہ غوروفکر کریں کہ تبدیلشُدہ حالات کے تحت آپ اپنے وقت کا بھرپور استعمال کیسے کر سکتے ہیں؟ الہٰی مدد کیساتھ، آپ یہ دیکھیں گے کہ ریٹائرمنٹ نے آپ کے لئے اضافی کارگزاری کا دروازہ کھول دیا ہے جو یہوواہ کی حمد اور بیشمار برکات سے استفادہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔—زبور ۱۴۸:۱۲، ۱۳۔