”یہ مجھ سے کیونکر ہو سکتا ہے جب تک کوئی مجھے ہدایت نہ کرے؟“
۱ جب مبشر فلپس نے حبشی خوجہ سے پوچھا کہ جو تُو خدا کے کلام سے پڑھتا ہے کیا اُسے سمجھتا بھی ہے تو اس نے جواب دیا: ”یہ مجھ سے کیونکر ہو سکتا ہے جب تک کوئی مجھے ہدایت نہ کرے؟“ فلپس نے یسوع کی بابت خوشخبری سمجھنے میں خوشی سے اُس کی مدد کی اور نتیجتاً اس نے فوراً بپتسمہ لے لیا۔ (اعما ۸:۲۶-۳۸) فلپس ’سب قوموں کو شاگرد بنانے اور اُنہیں بپتسمہ اور تعلیم دینے‘ کے سلسلے میں مسیح کے حکم کی تعمیل کر رہا تھا۔—متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۲ فلپس کی طرح ہمیں بھی شاگرد بنانے کے حکم کی تعمیل کرنی چاہئے۔ تاہم، جن لوگوں کیساتھ ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں اکثر وہ حبشی خوجہ کی طرح اتنی جلدی روحانی ترقی نہیں کرتے۔ ایک یہودی نومرید اور صحائف سے اچھی طرح واقف ہونے کی وجہ سے اُسکا دل آمادہ تھا اسلئے اُسے صرف یسوع کو موعودہ مسیحا قبول کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن جب ہم بائبل سے بےبہرہ، جھوٹی مذہبی تعلیمات سے گمراہ یا ذاتی نوعیت کی کٹھن مشکلات سے مغلوب لوگوں کیساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ بائبل طالبعلموں کو کامیابی کے ساتھ مخصوصیت اور بپتسمے تک لیجانے میں کونسی چیز ہماری مدد کریگی؟
۳ بائبل طالبعلم کی روحانی ضروریات کو پہچانیں: اگست ۱۹۹۸ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کا ضمیمہ بیان کرتا ہے کہ ہم تقاضا بروشر اور علم کی کتاب سے کتنے عرصے تک لوگوں کے ساتھ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس نے یہ مشورہ دیا: ”طالبعلم کے حالات اور رُجحان کے مطابق مطالعے کی رفتار کا تعیّن کرنا ضروری ہے۔ . . . کسی بھی صورت میں، ہم کتاب جلدی ختم کرنے کی خاطر طالبعلم کو صحیح سمجھ حاصل کرنے سے محروم نہیں رکھنا چاہتے۔ ہر طالبعلم کو خدا کے کلام میں اپنے نئے ایمان کے لئے پُختہ بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔“ لہٰذا، اس سوچ کے ساتھ علم کی کتاب کے مواد کا جلدی جلدی احاطہ نہیں کرنا چاہئے کہ اُسے چھ ماہ میں ختم کرنا ہے۔ بعض اشخاص کی بپتسمہ لینے میں مدد کرنے کیلئے چھ ماہ سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ جب آپ ہر ہفتے مطالعہ کراتے ہیں تو خدا کے کلام کی باتوں کو سیکھنے، سمجھنے اور قبول کرنے میں طالبعلم کی مدد کی خاطر اُس کے ساتھ زیادہ وقت صرف کریں۔ بعضاوقات، علم کی کتاب کے ایک سبق کو ختم کرنے کے لئے دو یا تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس سے حوالہشُدہ صحائف کو پڑھنے اور اُنکی وضاحت کرنے کا وقت ملے گا۔—روم ۱۲:۲۔
۴ تاہم، اگر علم کی کتاب ختم کرنے کے بعد بھی آپ محسوس کرتے ہیں کہ طالبعلم ابھی پوری طرح سچائی کو نہیں سمجھتا یا ابھی وہ سچائی کے لئے ٹھوس مؤقف اختیار کرنے اور خدا کے حضور اپنی زندگی مخصوص کرنے کے لئے تیار نہیں توپھر کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ (۱-کر ۱۴:۲۰) اُسے زندگی کی راہ پر گامزن رکھنے کیلئے آپ مزید کیا کر سکتے ہیں؟—متی ۷:۱۴۔
۵ بائبل طالبعلم کی روحانی ضروریات پوری کریں: اگر یہ ظاہر ہو کہ ایک شخص زیادہ وقت لینے کے باوجود روحانی ترقی کر رہا ہے اور سیکھی ہوئی باتوں کے لئے قدردانی دکھا رہا ہے تو تقاضا بروشر اور علم کی کتاب مکمل ہو جانے کے بعد بھی کسی اَور کتاب سے بائبل مطالعہ جاری رکھیں۔ ہر معاملے میں ممکن ہے کہ اس کی ضرورت نہ پڑے مگر جب ضروری ہو تو ٹرو پیس، پرستش میں متحد یا گاڈز ورڈ کتاب سے مطالعہ جاری رکھیں۔ اگر کلیسیا میں یہ کتابیں دستیاب نہ ہوں تو بہتیرے پبلشروں کے پاس ان کی ذاتی کاپیاں ضرور ہونگی جنہیں وہ استعمال کر سکتے ہیں۔ صرف گاڈز ورڈ کتاب بروکلن سے آرڈر پر منگوائی جا سکتی ہے۔ تمام حالتوں میں پہلے تقاضا بروشر اور علم کی کتاب کا مطالعہ کِیا جانا چاہئے۔ اگر طالبعلم دوسری کتاب مکمل ہونے سے پہلے بپتسمہ لے لیتا ہے توبھی بائبل مطالعہ، واپسی ملاقات اور مطالعہ جاری رکھنے کے لئے صرف کئے گئے وقت کو شمار کرکے رپورٹ پر لکھنا چاہئے۔
۶ کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ حال ہی میں ایک کتاب کا مطالعہ کرکے بپتسمہ لینے والے اشخاص کی اب دوسری کتاب کا مطالعہ کرنے کیلئے پھر مدد کرنی چاہئے؟ یہ ضروری نہیں ہے۔ تاہم، ممکن ہے کہ وہ بےقاعدہ ہو جانے یا سچائی میں ترقی نہ کر پانے کی وجہ سے محسوس کرتے ہوں کہ اُنہیں اپنی زندگی میں سچائی کا زیادہ اطلاق کرنے کیلئے ذاتی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک بپتسمہیافتہ پبلشر کیساتھ دوبارہ مطالعہ کرنے سے پہلے خدمتی نگہبان سے مشورہ کِیا جانا چاہئے۔ تاہم، اگر آپ ایسے اشخاص کو جانتے ہیں جو ماضی میں علم کی کتاب کا مطالعہ کر چکے ہیں مگر مخصوصیت اور بپتسمے تک ترقی نہیں کر پائے تو آپ انہیں دوبارہ بائبل مطالعہ شروع کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
۷ ہر دلچسپی رکھنے والے شخص کو جس کیساتھ ہم مطالعہ کرتے ہیں، مخلصانہ ذاتی توجہ دینا مسیحی محبت کی نشانی ہے۔ ہمارا مقصد خدا کے کلام کی سچائی کی گہری سمجھ حاصل کرنے میں طالبعلم کی مدد کرنا ہے۔ پھر وہ سچائی کیلئے ایک مضبوط اور دانشمندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہوواہ کیلئے اپنی زندگی مخصوص کر سکتا اور اس مخصوصیت کے اظہار میں پانی کا بپتسمہ لے سکتا ہے۔—زبور ۴۰:۸؛ افس ۳:۱۷-۱۹۔
۸ کیا آپ کو یاد ہے کہ حبشی خوجہ نے جب بپتسمہ لیا تو پھر کیا ہوا تھا؟ یسوع مسیح کے نئے شاگرد کے طور پر ”وہ خوشی کرتا ہوا اپنی راہ چلا گیا۔“ (اعما ۸:۳۹، ۴۰) دُعا ہے کہ ہم اور وہ لوگ جنکو ہم کامیابی کے ساتھ راہِحق پر لیکر چلتے ہیں یہوواہ کی خدمت میں اب اور ابد تک شادمان رہیں!