سوالی بکس
▪ کلیسیائی اجلاس پر کسے دُعا کرنی چاہئے؟
کلیسیائی دُعا ہماری پرستش کا اہم حصہ ہے۔ یہوواہ کے حضور دوسروں کی نمائندگی کرنا ایک بیشقیمت شرف اور بھاری ذمہداری ہے۔ اسکی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بزرگوں کو اجلاس پر دُعا کرنے کے لئے لائق بھائیوں کا انتخاب کرتے وقت فہموفراست سے کام لینا چاہئے۔ کلیسیا کی نمائندگی کرنے والے بپتسمہیافتہ بھائیوں کو کلیسیا کا احترام کرنے اور اچھی شہرت رکھنے والے پُختہ مسیحی خادم ہونا چاہئے۔ اُن کی عزتوتعظیم سے پُر دُعاؤں کو یہوواہ خدا کے ساتھ اُن کے اچھے رشتے کی عکاسی کرنی چاہئے۔ مئی ۱۵، ۱۹۸۶ کے دی واچٹاور میں مضمون ”دوسروں کے سامنے فروتن دل سے دُعا کرنا“ ایسے اہم اُصول بیان کرتا ہے جو کلیسیا کی خاطر عوامی دُعا کرنے والوں کیلئے خاص طور پر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بزرگ ایسے بھائی کو دُعا کرنے کی اجازت نہیں دینگے جو قابلِاعتراض یا ناشائستہ طرزِعمل کیلئے مشہور ہے۔ ایسے بھائی کو بھی منتخب نہیں کِیا جانا چاہئے جو شکایتی رُجحان رکھتا یا عوامی دُعا کو ذاتی اختلافات ظاہر کرنے کا ذریعے خیال کرتا ہے۔ (۱-تیم ۲:۸) ایک بپتسمہیافتہ نوجوان شخص کے معاملے میں بزرگ اس بات کا خیال رکھینگے کہ آیا وہ کلیسیا کی طرف سے دُعا کرنے کیلئے روحانی پختگی رکھتا ہے۔—اعما ۱۶:۱، ۲۔
کبھیکبھار کسی لائق بھائی کی غیرموجودگی میں میدانی خدمت کے گروپ کی نمائندگی کرنے کے لئے ایک بپتسمہیافتہ بہن دُعا کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اُسے مناسب طریقے سے اپنا سر ڈھانپنا چاہئے۔ اگر اس بات کا امکان ہو کہ میدانی خدمت کے بعض اجلاسوں پر کوئی لائق بھائی موجود نہیں ہوگا تو بزرگوں کو پیشوائی کیلئے کسی لائق بہن کو مقرر کرنا چاہئے۔
عموماً عوامی اجلاس کی افتتاحی دُعا چیئرمین ہی کرتا ہے۔ تاہم، دیگر کلیسیائی اجلاس پر جب زیادہ لائق بھائی موجود ہوتے ہیں تو اجلاس کا آغاز اور اختتام کرنے والے بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں میں سے کسی کو افتتاحی یا اختتامی دُعا کرنے کیلئے کہا جا سکتا ہے۔ بہرصورت کلیسیائی اجلاس پر جس بھائی نے دُعا کرنی ہے اُسے قبلازوقت آگاہ کرنا چاہئے تاکہ وہ غوروخوض کر سکے کہ وہ دُعا میں کیا کہیگا۔ پھر وہ اُس اجلاس کی مناسبت سے واضح اور پُرخلوص دُعا کرنے کے قابل ہوگا۔
ایسی دُعاؤں کا طویل ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب کوئی بھائی عوامی دُعا کرتا ہے تو یہ اچھا ہوگا کہ وہ کھڑا ہوکر مناسب آواز اور واضح الفاظ میں دُعا کرے کیونکہ اس طرح اُس کی دُعا کو سمجھنا آسان ہوگا۔ نیز، تمام حاضرین دُعا سنکر آخر میں پورے دل سے ”آمین“ کہہ سکیں گے!—ا-توا ۱۶:۳۶؛ ۱-کر ۱۴:۱۶۔