کیا آپ ایک بامقصد کام کر رہے ہیں؟
۱ یہوواہ بامقصد خدا ہے۔ (یسع ۵۵:۱۰، ۱۱) ہمیں اس کی مانند بننے کی نصیحت کی گئی ہے۔ (افس ۵:۱) یہ بات ہماری خدمتگزاری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پس یہ سوال موزوں ہے: ”کیا آپ ایک بامقصد کام کر رہے ہیں؟“
۲ آپ کا گھربہگھر منادی کرنا، غیررسمی گواہی دینا اور لٹریچر تقسیم کرنا یہ سب بامقصد خدمتگزاری کا حصہ ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ ہمارا فرض صرف منادی کرنا ہی نہیں بلکہ شاگرد بنانا بھی ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) بادشاہتی سچائی کے بیج بونے کے بعد ہمیں انہیں پانی دینے اور اِن کی باقاعدہ دیکھبھال کرنے کیلئے دوبارہ ملاقات کرنے کی ضرورت ہے جبکہ افزائش کیلئے ہم صرف یہوواہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (۱-کر ۳:۶) ہمیں واپسی ملاقاتیں کرنے اور بائبل مطالعے شروع کرنے کی بابت فرضشناسی کا احساس رکھنے کی ضرورت ہے۔
۳ اپنی خدمتگزاری وسیع کریں: جب آپ پیچھے اپنی خدمت پر نگاہ ڈالتے ہوئے خود سے کہتے ہیں کہ ”مَیں نے جو مقصد ٹھہرایا تھا اُسے پا لیا ہے“ تو اس سے ہمیشہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔ ۲-تیمتھیس ۴:۵ کے مطابق پولس نے تاکید کی: ”اپنی خدمت کو پورا کر۔“ اس میں یہ بات شامل ہے کہ ہم حاصل ہونے والی تمام دلچسپی کی پیروی کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسیع کریں۔ اپنے ہفتہوار خدمتی شیڈول میں واپسی ملاقاتیں کرنے کیلئے قطعی وقت مختص کریں۔ راستبازی کی طرف مائل لوگوں کیساتھ بائبل مطالعے شروع کرنے کی کوشش کرنے کے نصبالعین پر کام کریں۔ خدمتگزاری میں یہ آپ کا اہم مقصد ہونا چاہئے۔
۴ پبلشروں سے پوچھیں کہ جب اُنہوں نے اسمبلی پر اپنے بائبل طالبعلموں کو بپتسمہ پاتے دیکھا تو اُنہیں کیسا محسوس ہؤا۔ وہ ممکنہ طور پر اتنا ہی خوش ہوئے ہونگے جتنا بپتسمہ پانے والے خوش ہوئے ہونگے۔ اُنہوں نے شاندار مقصد انجام دیا تھا! ایک شاگرد بنانے والے نے یوں اظہارِخیال کِیا: ”شاگرد بنانے کا مطلب یہوواہ کے اَور زیادہ مدّاحین بنانا ہے۔ سچائی قبول کرنے والوں کیلئے اس کا مطلب زندگی ہے۔ مجھے دوسروں کو سچائی سکھانے سے محبت ہے—یہ نہایت شاندار ہے! . . . ان میں سے بیشتر جو یہوواہ سے محبت کرنے لگے ہیں اب وہ میرے بہت ہی عزیز دوست بن گئے ہیں۔“
۵ کسی شخص کو یہوواہ کا مخصوصشُدہ خادم بننے میں مدد دینے کے قابل ہونے کا ذرا تصور کریں! خوشی کی کتنی بڑی وجہ! ایسا پھل خدمتگزاری میں بامقصد کام کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔—کل ۴:۱۷۔