اَے اولاد والو! اپنے بچوں کیلئے اچھا نمونہ قائم کرو
۱ خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ ”صادق کا باپ [اور ماں] نہایت خوش“ ہونگے۔ (امثا ۲۳:۲۴، ۲۵) اپنی اولاد کیلئے اچھا نمونہ قائم کرنے والے والدین کیلئے یہ کتنی شاندار برکت ہے! برانچ کمیٹی کے ایک ممبر نے اپنے والدین کے متعلق کہا: ”اُنکی زندگی میں سچائی ہی سب کچھ تھی اور مَیں چاہتا تھا کہ میری زندگی کا محور بھی یہی ہو۔“ بچوں کو اپنے والدین میں کیا دیکھنا چاہئے؟
۲ اچھے آدابواطوار اور گہرا احترام: بچوں میں اچھی عادات پیدا کرنا والدین کی ذمہداری ہے۔ اچھے آدابواطوار محض زبانی ہدایت سے نہیں بلکہ مشاہدے اور تقلید سے سیکھے جاتے ہیں۔ لہٰذا، آپ کیسے آدابواطوار کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیا آپکے بچے آپکو ”مجھے معاف کیجئے،“ اور ”آپکا شکریہ“ کہتے ہوئے سنتے ہیں؟ خاندان میں کیا آپ ایک دوسرے کیساتھ گہرے احترام سے پیش آتے ہیں؟ جب دوسرے بات کرتے ہیں تو کیا آپ توجہ دیتے ہیں؟ جب آپکے بچے آپ سے بات کرتے ہیں تو کیا آپ غور سے سنتے ہیں؟ کیا یہ اچھی عادات کنگڈم ہال اور گھر دونوں میں نظر آتی ہیں؟
۳ پُختہ روحانیت اور پُرجوش کارگزاری: کُلوقتی خدمت میں ۵۰ سال سے زیادہ وقت صرف کرنے والا ایک بھائی کہتا ہے: ”میرے والدین اجلاسوں کیلئے قدردانی اور خدمتگزاری میں جوش کے سلسلے میں شاندار نمونہ تھے۔“ آپ اپنے بچوں پر کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ آپ اپنے گھرانے کی روحانیت برقرار رکھنے کی بابت فکرمند ہیں؟ کیا آپ ملکر روزانہ کی آیت پر غور کرتے ہیں؟ کیا آپ باقاعدہ خاندانی بائبل مطالعہ کرتے ہیں؟ کیا آپکے بچے آپکو بائبل اور سوسائٹی کی مطبوعات پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ جب آپ خاندان کیلئے دُعا کرتے ہیں تو وہ کیا سنتے ہیں؟ کیا آپ اپنے بچوں کیساتھ روحانی طور پر ترقیبخش گفتگو کرتے ہوئے سچائی اور کلیسیا کے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہیں؟ کیا آپ تمام اجلاسوں پر حاضر ہونے اور ایک خاندان کے طور پر میدانی خدمت میں حصہ لینے کے مشتاق ہیں؟
۴ اَے اولاد والو! اُس نمونے پر غور کرو جو آپ اپنے بچوں کیلئے قائم کر رہے ہیں۔ ایسا شاندار نمونہ قائم کریں جسے وہ عمربھر عزیز رکھیں گے۔ ایک سفری نگہبان کی بیوی نے جو اِس وقت اپنے ۷۰ کے دہے میں ہے کہا: ”مَیں ابھی تک اپنے شفیق مسیحی والدین کے عمدہ نمونے سے استفادہ کر رہی ہوں۔ نیز، میری یہ دلی دُعا ہے کہ مَیں آنے والے تمام وقت میں اس ورثے کو مناسب طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی بھرپور قدردانی کو ثابت کر سکوں۔“