دوسروں کو سکھائیں کہ خدا کیا تقاضا کرتا ہے
۱ آج بھی بہتیرے ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو روحانی طور پر ”خداوند کا کلام سننے“ سے محروم رہے ہیں۔ (عاموس ۸:۱۱) بعض لوگ یہ ایمان تو رکھتے ہیں کہ خدا موجود ہے لیکن وہ اُسکے مقصد اور تقاضوں سے بےخبر ہیں۔ لہٰذا ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اُنہیں زندگیبخش بادشاہتی سچائی سکھائیں۔ موزوں طور پر لیس ہونے اور ہر موقع پر گواہی دینے کیلئے تیار رہنے سے ہم اُن لوگوں کو تلاش کر سکتے ہیں جو یہ سیکھنا چاہتے ہیں کہ یہوواہ کیا تقاضا کرتا ہے۔
۲ اپریل اور مئی کے دوران، ہمارے پاس واچٹاور اور اویک! کے انتہائی بروقت شمارے ہونگے جنہیں ہم تقسیم کرینگے۔ اسکے علاوہ، ہم پہلی مرتبہ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ پیش کرینگے۔ اسکی جاذبِنظر تصاویر اور سوچ کو اُبھارنے والے سوالات اس بروشر کو اور زیادہ دلکش بنا دیتے ہیں۔ اپنی شاندار اشاعات کا بہترین استعمال کرنے میں ہماری مدد کے لئے مندرجہذیل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
۳ لوگوں کی تلاش کرنا: ایسے علاقوں میں جہاں گھرباگھر ملاقات کرتے وقت زیادہتر لوگ ہمیں گھر پر نہیں ملتے وہاں ہر ممکن جگہ پر لوگوں کو ڈھونڈنا اور اُن سے باتچیت کرنا نہایت مفید ہے۔ ستمبر ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمے نے ہر جگہ—گلیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور پارکس میں، پارکنگ کی جگہوں پر اور کاروباری علاقوں میں—خوشخبری کی مُنادی کرنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کی تھی۔ اس نے ہمیں غیررسمی گواہی دینے کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت سے بھی باخبر کِیا تھا۔ مثال کے طور پر، ایک پائنیر بہن چڑیاگھر گئی اور اگست ۸، ۱۹۹۶ کا اویک! کافی مقدار میں اپنے ساتھ لے گئی جس میں ”بعض خطرے میں مبتلا جانور—کیوں فکر کریں؟“ کے موضوع پر سلسلہوار مضامین تھے۔ ایک گھنٹے کے اندر، اُس نے جانوروں سے لگاؤ رکھنے والے چند انتہائی قدردان اشخاص کو ۴۰ کاپیاں پیش کیں! ہر جگہ خوشخبری پیش کرنے کیلئے آپ کو ابھی تک کتنی کامیابی حاصل ہوئی ہے؟ مینارِنگہبانی اور جاگو! اور اسکے ساتھ ساتھ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر بالخصوص ہر قسم کی گواہی دینے کیلئے مرتب کئے گئے ہیں کیونکہ ان میں ایسی معلومات پیش کی گئی ہیں جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہیں اور سوچنے کی صلاحیت کو تحریک دیتی ہیں۔
۴ گفتگو کا آغاز کرنا: اکتوبر ۱۹۹۶ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کا آخری صفحہ مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں کی اپنی ذاتی پیشکش تیار کرنے کی بابت تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ وہی تجاویز بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کیلئے اپنی پیشکش کو تیار کرتے ہوئے کارگر ثابت ہونگی۔ ہماری باتچیت چند جملوں پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے یا پھر اتنی طویل ہو سکتی ہے کہ اُس میں ایک صحیفائی خیال شامل ہو۔ تعارفی الفاظ کی بابت احتیاط انتہائی ضروری ہے کیونکہ انہی سے اس بات کا تعیّن ہوگا کہ آیا جس شخص سے آپ باتچیت کر رہے ہیں وہ مزید آپکی بات سنیگا۔ بعض نے اس تعارفی تبصرے سے کامیابی حاصل کی ہے: ”مَیں نے ایک مضمون پڑھا ہے جو میرے لئے نہایت حوصلہافزا ثابت ہوا اور میری خواہش ہے کہ آپ بھی اسے پڑھیں۔“ یا دوسرے شخص کو گفتگو میں شامل کرنے کیلئے ایک دلچسپ سوال اُٹھایا جا سکتا ہے۔
۵ اگر آپکے علاقے کیلئے موزوں ہو تو آپ اس مہینے کی اپنی پیشکشوں میں درج ذیل سوالات آزما سکتے ہیں:
◼ ”آجکل ہم اشتعالانگیز نعروں سے اَٹی دیواریں، کوڑاکرکٹ اور آلودگی بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ اس زمین کو صاف کرنے اور رہنے کیلئے اسے اچھی جگہ بنانے کیلئے کیا کچھ درکار ہوگا؟“ جواب دینے دیں اور اسکے بعد وضاحت کریں کہ آپ کے پاس ایسی معلومات ہیں جو ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ کب اور کیسے زمین ایک عالمگیر فردوس بن جائیگی۔ کسی تازہترین رسالے سے ایک واضح بیان، ایک مختصر صحیفہ اور ایک دلکش تصویر استعمال کریں اور پھر اسے اُس شخص کو پڑھنے کیلئے پیش کریں۔ اس سے پہلے کہ آپ گفتگو کا اختتام کریں، کسی اَور وقت باتچیت جاری رکھنے کا بندوبست بنائیں۔
◼ ”آپ کے خیال میں کیا خدا یہ چاہتا تھا کہ ہم ایسی مشکلات میں پڑے رہیں جنکا آج ہمیں سامنا ہے؟“ اُس شخص کے جواب دینے کے بعد، آپ کہہ سکتے ہیں: ”غالباً آپ اُس دُعا سے واقف ہیں جو یسوع نے اپنے پیروکاروں کو سکھائی تھی جس میں خدا کی بادشاہت کے آنے کیلئے درخواست کا ذکر ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ درحقیقت خدا کی بادشاہت کیا ہے؟“ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ سبق ۶ پر کھولیں اور سبق کے شروع میں دئے گئے سوالات پڑھیں۔ اسکے بعد، جب آپ پیراگراف ۱ پڑھتے ہیں تو پہلے سوال کے جواب کی نشاندہی کریں۔ واضح کریں کہ باقیماندہ سوالات کے جواب بھی اسی طرح اختصار کیساتھ دئے گئے ہیں۔ بروشر پیش کریں اور بادشاہت کی بابت اَور زیادہ معلومات پیش کرنے کیلئے دوبارہ ملاقات کرنے کی پیشکش کریں۔
◼ ”بہتیرے اہلِفکر دُنیا کے مذاہب کو انسان کے مسائل کے حل کی بجائے مسائل کا سبب خیال کرنے لگے ہیں۔ اس کی بابت آپ کا کیا خیال ہے؟“ اُس شخص کا نقطۂنظر جاننے کے بعد، کسی تازہترین رسالے میں سے کوئی ایسا نکتہ دکھائیں جو جھوٹے مذہب کی ناکامی یا اُس کے قریب آتے ہوئے زوال کے سلسلے میں اُسکی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ پوچھیں کہ آیا وہ اسے پڑھنا پسند کریگا۔ اُسکا نام پوچھیں اور اپنا بتائیں اور دوبارہ ملنے کی پیشکش کریں تاکہ آپ یہ بیان کر سکیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ سچے مذہب نے انسان کو مایوس نہیں کِیا۔
◼ ”آجکل خاندانی زندگی میں اتنے زیادہ مسائل کے ساتھ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خاندانی خوشی حاصل کرنے کا راز کیا ہے؟“ جواب کا انتظار کریں اور وضاحت کریں کہ بائبل میں خدا خاندانی خوشی کا حقیقی راز آشکارا کرتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو آپ یسعیاہ ۴۸:۱۷ پڑھ سکتے ہیں۔ اسکے بعد بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کے سبق ۸ پر کھولیں اور بائبل کی چند حوالہشُدہ آیات پر توجہ دلائیں جو خاندان کے ہر فرد کے لئے قابلِبھروسہ راہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ سبق کے شروع میں موجود سوالات کی فہرست پڑھیں۔ دریافت کریں کہ آیا وہ شخص جوابات پڑھنا پسند کریگا۔ اگر ایسا ہو تو اُسے بروشر دیں اور خوشحال خاندانی زندگی کیلئے بائبل میں پائی جانے والی مزید عملی راہنمائی پیش کرنے کیلئے کسی دوسرے وقت پر ملاقات کرنے کی پیشکش کریں۔
۶ مارچ ۱۹۹۷ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمے نے ہماری واپسی ملاقاتیں کرنے کے لئے دلیری حاصل کرنے کی حوصلہافزائی کی تھی۔ اس نے ابتدائی ملاقات پر یا پھر واپسی ملاقات پر بائبل مطالعے شروع کرنے کے لئے بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ استعمال کرنے کی سفارش کی تھی۔ نوعِانسان کی سب سے بڑی ضرورت خدا کے تقاضوں کی بابت جاننا اور پھر انہیں پورا کرنا ہے۔ (کلسیوں ۱:۹، ۱۰) زندگی سے متعلق خدا کے تقاضوں کی بابت ہم جوکچھ جانتے ہیں اگر ہم اُنہیں تعلیم دینا شروع کر سکیں تو مئی اور جون کے دوران ہم دوسروں کو بڑی حد تک فائدہ پہنچا سکیں گے۔—۱-کرنتھیوں ۹:۲۳۔