یسوع کی پیروی کریں
۱ ایک موقع پر یسوع نے فرمایا: ”اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب [”سولی“، اینڈبلیو۔] اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔“ (متی ۱۶:۲۴) ہم یقیناً یسوع کے الفاظ کیلئے مثبت ردِعمل ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اُسکی دعوت کے ہر جزوِجملہ میں کیا کچھ شامل ہے۔
۲ ”اپنی خودی کا انکار کرے“: جب ہم اپنی زندگیاں یہوواہ کیلئے مخصوص کرتے ہیں تو ہم اپنی خودی کا انکار کرتے ہیں۔ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”انکارکرنا“ کِیا گیا ہے، اسکا مطلب ”نہیں کہنا“ ہے۔ اِسکا مطلب یہ ہے کہ—ہمیشہ یہوواہ کو خوش کرنے کے پُختہعزم کے ساتھ—ہم رضاکارانہ طور پر اپنی تمناؤں، خواہشات، آسائشوں اور خودغرضانہ خوشیوں سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔—رومیوں ۱۴:۸؛ ۱۵:۳۔
۳ ”اپنی سولی اُٹھائے“: ایک مسیحی کی زندگی ایسی زندگی ہے جس میں اُسے یہوواہ کے لئے خودایثارانہ خدمت کی سولی اُٹھانی پڑتی ہے۔ ایک طریقہ جس سے خودایثارانہ جذبہ ظاہر کِیا جا سکتا ہے، وہ خدمتگزاری میں مصروفِعمل رہنا ہے۔ اِس سال ابھی تک، بہتیرے پبلشر امدادی پائینر خدمت سے لطفاندوز ہوتے رہے ہیں۔ آپ بھی اُن میں سے ایک ہو سکتے اور دعوےٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ جو قربانیاں آپ کرتے ہیں اُن سے کہیں زیادہ برکات آپ حاصل کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو امدادی پائینر خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں اُنہوں نے بارہا کلیسیائی پبلشروں کے طور پر اپنی منادی کے کام میں زیادہ وقت صرف کرنے کا بندوبست کِیا ہے۔ اِس نشانے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بعض کلیسیائیں اپنے اجلاس برائے میدانی خدمت معمول سے چند منٹ پہلے منعقد کرنے کا انتظام کر رہی ہیں۔ موسمِبہار کی آمد کے ساتھ، بہتیرے پبلشر میدانی خدمت کے لئے اِس اضافی وقت سے خوش ہیں۔ بعض نے ’صرف ایک اَور گھر‘ پر ملاقات کرنے یا ’چند منٹ زیادہ‘ صرف کرنے کا فیصلہ کرنے سے انتہائی عمدہ نتائج حاصل کئے ہیں۔
۴ ایک اَور طریقہ جس سے خودایثارانہ جذبہ ظاہر کِیا جاتا ہے وہ اپنے ذاتی نشانے قائم کرنا ہے۔ محتاط منصوبہسازی کرنے اور اپنے شیڈول میں ردوبدل کرنے سے، بعض ریگولر پائنیر بن گئے ہیں۔ دیگر نے اپنے معاملات کو اِس طرح منظم کِیا ہے کہ وہ بیتایل یا مشنری خدمت کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ بعض ایسے علاقے میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں بادشاہتی مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔
۵ ”میرے پیچھے ہو لے“: اگرچہ یسوع کے شاگردوں نے بہت سی آزمائشوں کا سامنا کِیا تو بھی اُنہوں نے خدمتگزاری کے لئے اُس کی گرمجوشی اور صبر سے حوصلہافزائی حاصل کی۔ (یوحنا ۴:۳۴) اُس کی موجودگی اور اُس کے پیغام سے اُنہوں نے اپنے اندر ایک نیا جذبہ محسوس کِیا۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے اُس کی پیروی کی وہ حقیقی خوشی سے معمور ہو گئے۔ (متی ۱۱:۲۹) آئیے بادشاہت کی منادی کرنے اور شاگرد بنانے کے اہم کام میں ثابتقدم رہنے کے لئے ہم بھی ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرتے رہیں۔
۶ دُعا ہے کہ ہم سب خودایثارانہ جذبے کو فروغ دینے سے یسوع کی پیروی کرتے رہنے کی اُسکی دعوت کیلئے مثبت ردِعمل ظاہر کریں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم اب بھی انتہائی خوشی حاصل کرینگے اور مستقبل میں اِس سے کہیں زیادہ شاندار برکات کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔