۱۹۹۶ ”خدائی امن کے پیامبر“ ڈسٹرکٹ کنونشن
۱ اس سال ڈسٹرکٹ کنونشن پروگرام اپنے خدائی امن کو برقرار رکھنے میں یقیناً ہماری مدد کریگا، اور یہ ایسے امن کو حاصل کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کرنے میں ہمارے کردار کی وضاحت کریگا۔ موضوع ہوگا ”خدائی امن کے پیامبر۔“ کیا آپ نے اپنے منصوبے بنا لئے ہیں تاکہ آپ کسی بھی پروگرام سے غیرحاضر نہ ہوں؟
۲ سہروزہ پروگرام: ہم جانتے ہیں کہ آپ اس سال کی کنونشن سے بھرپور لطف اُٹھائینگے اور نئے جذبے کیساتھ گھر واپس لوٹیں گے۔ (۲-تواریخ ۷:۱۰) اس سال پھر ہمارے پاس سہروزہ پروگرام ہوگا۔ کیا آپ نے پہلے ہی سے دُنیاوی کام سے چھٹی لینے کے انتظامات کر لئے ہیں تاکہ آپ سارے وقت کیلئے حاضر ہو سکیں؟ اگر آپ کے سکول کی عمر والے بچے ہیں تو کیا آپ نے بڑے احترام سے اُنکے اساتذہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ اپنی مذہبی تربیت کے اس اہم حصے کیلئے بدھ اور جمعرات کو غیرحاضر ہونگے؟
۳ پاکستان میں منعقد ہونے والی کنونشنوں کی فہرست کلیسیاؤں کو ارسال کر دی گئی ہے اور اب تک آپکی کلیسیا کا سیکرٹری آپکو آگاہ کر چکا ہے۔
۴ تینوں دن پروگرام صبح ۳۰:۹ بجے شروع ہوگا اور جمعہ کو تقریباً شام ۰۰:۴ بجے ختم ہوگا۔ کیا ہم زیادہ سہولت والی اور آرامدہ جگہوں میں نشستوں کو خالی رکھنے سے اپنے عمررسیدہ اور کمزور بھائیوں کیلئے مہربانی کا اظہار کرینگے؟ یاد رکھیں کہ ”محبت . . . اپنی بہتری نہیں چاہتی۔“—۱-کرنتھیوں ۱۳:۴، ۵؛ فلپیوں ۲:۴۔
۵ کیا آپ تیز ہو جائینگے؟ امثال ۲۷:۱۷، ”لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے،“ کا حوالہ دینے کے بعد، اگست ۱۵، ۱۹۹۳ کے واچٹاور نے بیان کِیا: ”ہم اوزاروں کی مانند ہیں جنہیں باقاعدگی سے تیز کئے جانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہوؔواہ کیلئے محبت ظاہر کرنے اور اپنے ایمان پر مبنی فیصلے کرنے کا مطلب دُنیا سے فرق ہونا ہے، گویا ہمیں ہمیشہ اکثریت سے ہٹ کر ایک فرق راہ پر چلنا ہے۔“ ہم اس مشورت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟
۶ ہم دُنیا سے فرق ہیں اور رہنا بھی چاہئے۔ اگر ہمیں نیک کاموں کیلئے سرگرم رہنا ہے تو اس کام کو سرانجام دینے کیلئے مسلسل کوشش کو جاری رکھنا ہے۔ (ططس ۲:۱۴) اسی لئے واچٹاور کے متذکرہبالا مضمون نے مزید کہا: ”جب ہم یہوؔواہ سے محبت کرنے والے دیگر لوگوں کیساتھ ہوتے ہیں تو ہم ایکدوسرے کو تیز کرتے ہیں—ہم ایکدوسرے کو محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔“ ڈسٹرکٹ کنونشن روحانی طور پر تیز رہنے میں ہماری مدد کیلئے یہوؔواہ کی طرف سے فراہمیوں میں سے ایک ہے۔ ہم پروگرام کے کسی بھی حصے سے غیرحاضر نہیں رہ سکتے۔
۷ عقلمند آدمی سنیگا: سننا ایک فن ہے جسے فروغ دیا جانا چاہئے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ایک عام شخص جوکچھ سنتا ہے اُسکا تقریباً نصف حصہ ہی یاد رکھتا ہے—خواہ اپنے خیال میں اُس نے خوب احتیاط سے ہی کیوں نہ سنا ہو۔ چونکہ ہم انتشارِخیالات کے دَور میں رہتے ہیں، بعضاوقات ہمیں زیادہ دیر تک توجہ دینے میں مشکل کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ کیا ہم اپنی توجہ کے دورانیے کو بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب ایک بڑے اجتماع میں بیٹھے کسی کا کلام سن رہے ہیں؟ کنونشن سے گھر لوٹنے کے بعد اگر آپ سے ہر دن کے پروگرام کا خلاصہ بیان کرنے کیلئے کہا جائے تو کیا آپ ایسا کرنے کے قابل ہونگے؟ ہم سب اپنی سننے کی لیاقت کو کیسے بہتر بنا سکتے اور کنونشن پروگرام کے ہر حصے پر گہری توجہ دے سکتے ہیں؟
۸ گہری دلچسپی لازمی ہے، کیونکہ حافظے کی الہٰی بخشش اسکے بغیر مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتی۔ مثال کے طور پر، ایک شخص جتنا زیادہ کسی مضمون میں دلچسپی لیتا ہے، اُس کیلئے اُتنا ہی زیادہ ایک تقریر یا پروگرام کے حصے کے خاص نکات کو یاد رکھنا آسان ہوتا ہے۔ تاہم، بڑی حد تک اسکا انحصار اُن باتوں پر ہمارے معمول سے بڑھکر توجہ دینے پر ہے جنہیں ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر سننے کا ہمیں شرف ملتا ہے۔ کنونشن پروگرام کے ہر حصے میں ہماری گہری دلچسپی اور التفات کا ہماری موجودہ روحانی حالت اور ہمارے آئندہ امکانات پر اثر ہوتا ہے۔ کنونشنوں پر ہمیں یہوؔواہ کی راہوں کی تعلیم دی جاتی ہے اور زندگی بچانے والے کام کو سرانجام دینے کیلئے ہدایات دی جاتی ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۶) خود کو متلاطم سمندر میں ایک جہاز کی مانند خیال کریں۔ یہوؔواہ کے وعدے اُمید کے ٹھوس لنگر ہیں۔ اگر ایک شخص مسیحی پروگراموں پر توجہ نہیں دیتا اور اپنے ذہن کو بھٹکنے کی اجازت دیتا ہے تو وہ مشورت اور ہدایت کے اُن اہم نکات سے محروم رہ سکتا ہے جو اُسے روحانی جہاز کی تباہی کا شکار ہونے سے بچا سکتے تھے۔—عبرانیوں ۲:۱؛ ۶:۱۹۔
۹ دُنیا کے بیشتر حصوں میں، ہمارے بھائی اجلاسوں پر حاضر ہونے کیلئے بہت زیادہ جسمانی کوشش کرتے ہیں۔ کنونشنوں پر اُن کے انہماک کو دیکھنا حیرانکُن ہے۔ تاہم، بعض جگہوں پر، مختلف اشخاص نے سیشنوں کے دوران کنونشن کے احاطے میں اِدھراُدھر گھومنے سے دوسروں کی توجہ میں خلل ڈالا ہے۔ دیگر دیر سے آتے ہیں۔ بعض کیلئے گزشتہ کنونشنوں پر، پروگرام کے پہلے چند منٹ تک سننا مشکل تھا کیونکہ بہتیرے بیٹھنے کی جگہوں کے پیچھے چلپھر رہے تھے۔ یہ عموماً کام کی تفویضات سرانجام دینے والے بھائی یا اپنے چھوٹے بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی مائیں نہیں ہوتیں۔ زیادہتر وہ لوگ خلل کا سبب بنتے ہیں جو محض خوشگپیوں میں مگن ہوتے ہیں۔ اس سال حاضرباشی کا شعبہ اس مسئلے پر زیادہ توجہ دے گا، اور اُمید ہے کہ تمام اُسوقت تک بیٹھ جائینگے جب چیئرمین ہمیں ایسا کرنے کیلئے مدعو کرتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کے تعاون کی بڑی قدر کی جائیگی۔
۱۰ کنونشن پروگرام پر زیادہ توجہ دینے کیلئے اور جوکچھ پیش کِیا جاتا ہے اُس میں سے زیادہتر کو یاد رکھنے کیلئے کونسی عملی تجاویز ہماری مدد کرینگی؟ گزشتہ سالوں میں جوکچھ کہا گیا ہے اُسکی دہرائی لازمی ہے: (ا) کنونشن والے شہر میں جانے کے بنیادی مقصد کو دھیان میں رکھیں۔ یہ تفریح کرنا نہیں، بلکہ سننا اور سیکھنا ہے۔ (استثنا ۳۱:۱۲) ہر رات کافی آرام کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کنونشن پر بہت تھکے ہوئے آتے ہیں تو توجہ دینا مشکل ہوگا۔ (ب) اپنی گاڑی پارک کرنے اور پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے بیٹھ جانے کیلئے آپکے پاس کافی وقت ہونا چاہئے۔ آخری لمحے پر کرسیوں کی طرف بھاگنا عموماً آپ کیلئے کچھ افتتاحی حصے سے محروم ہو جانے کا باعث بنیگا۔ (پ) اہم نکات کے مختصر نوٹس لیں۔ حد سے زیادہ نوٹ لینا پوری طرح سننے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ لکھتے وقت اس بات کا یقین کر لیں کہ اپنے نوٹس پر توجہ دینے کی وجہ سے آپ دیگر نکات سے محروم نہ رہ جائیں۔ (ت) جب کنونشن کا کوئی حصہ متعارف کرایا جاتا ہے تو پُرتپاک اشتیاق دکھائیں۔ خود سے پوچھیں، ’مَیں اس حصے سے کیا سیکھ سکتا ہوں جو یہوؔواہ کیلئے میری قدردانی اور محبت کو بڑھائیگا؟ معلومات بھرپور انداز میں نئی انسانیت کو ظاہر کرنے کیلئے کیسے میری مدد کر سکتی ہیں؟ میری خدمتگزاری میں بہتری لانے کیلئے یہ کیسے میری مدد کریگا؟‘
۱۱ طرزِعمل جو ہماری خدمتگزاری کو رونق بخشتا ہے: پولسؔ نے ططسؔ کی حوصلہافزائی کی کہ اپنےآپ کو ”نیک کاموں کا نمونہ بنا۔“ اپنی تعلیم میں پاکیزگی دکھانے سے، ططسؔ ”ہمارے منجّی خدا کی تعلیم کو رونق“ بخشنے کیلئے دوسروں کی مدد کریگا۔ (ططس ۲:۷، ۱۰) ہر سال، ہم اس بات کی بابت مہربانہ یاددہانیاں حاصل کرتے ہیں کہ کنونشن پر جانے یا وہاں سے آنے کیلئے ہمارے سفر کرتے وقت اور خود کنونشن پر خداپرستانہ طرزِعمل کیوں اسقدر ضروری ہے۔ گزشتہ سال پھر ہم نے دل کو گرما دینے والے بعض تبصرے سنے جو ہم آپکو سنانا چاہینگے۔
۱۲ ایک ہوٹل کے مینیجر نے بیان کِیا: ”گواہوں کو رہائش مہیا کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے کیونکہ وہ صابر، معاون ہیں، اور وہ اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔“ ایک ہوٹل کے کلرک نے کہا کہ یہ اُسکے کام کو ”اتنا آسان بنا دیتا ہے جب گواہ ہوٹل میں داخل ہونے اور باہر جانے کیلئے اندراج کراتے ہیں کیونکہ، قطار میں انتظار کرنے کے باوجود، وہ ہمیشہ مہذب، صابر، اور بامروّت رہتے ہیں۔“ نیو انگلینڈؔ میں ایک عورت اپنے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرنے والے گواہ نوجوانوں سے اتنی متاثر ہوئی کہ اُس نے ہماری تنظیم کی بابت کچھ لٹریچر کی درخواست کی۔
۱۳ دوسری جانب، بعض حلقوں میں بہتری لانے کی گنجائش ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کیلئے تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ مسیحی طرزِعمل صرف خاص موقعوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ جب ہم کنونشن کی حدود سے نکل جاتے ہیں تو یہ ختم نہیں ہو جاتا۔ اسے دن میں ۲۴ گھنٹے قائم رہنا چاہئے۔ گلی اور بازاروں میں ہمارا طرزِعمل اُتنا ہی باعزت ہونا چاہئے جتناکہ سیشنوں کے دوران اپنے بھائیوں کیساتھ بیٹھے ہوئے، یہوؔواہ سے تعلیم پاتے وقت ہوتا ہے۔—یسعیاہ ۵۴:۱۳؛ ۱-پطرس ۲:۱۲۔
۱۴ اگرچہ ہماری کنونشنوں پر کھانا پیش کرنا بند کر دیا گیا ہے، پھربھی کرائے پر جگہ حاصل کرنے، پارکنگ فراہم کرنے، اور مختلف معاملات کی دیکھبھال کرنے میں کافی خرچ ہوتا ہے۔ ہمارے رضاکارانہ عطیات ان اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔ ایک بہن اپنے جواںسال بچوں کے ہمراہ محدود فنڈز کیساتھ کنونشن پر آئی۔ تاہم، اُس نے اور بچوں نے پھربھی تھوڑے سے عطیے کیساتھ مدد کی۔ کوئی اس سلسلے میں جوکچھ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ ذاتی معاملہ ہوتا ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ ایسی یاددہانیوں کی قدر کرتے ہیں۔—اعمال ۲۰:۳۵؛ ۲-کرنتھیوں ۹:۷۔
۱۵ اپنے طرزِلباس سے پہچانے گئے: جس طرح کا ہم لباس پہنتے ہیں وہ ہماری بابت اور دوسروں کیلئے ہمارے احساسات کی بابت کافی کچھ ظاہر کرتا ہے۔ زیادہتر جواںسال اور بہتیرے بالغ سکول میں یا اپنی جائےملازمت پر لباس کے خبطی اور گھٹیا اسٹائلوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ ہر سال لباس کے اسٹائلز اَور جدتپسند، یہانتککہ بھڑکیلے ہوتے جاتے ہیں۔ اگر ہم محتاط نہیں ہیں تو ہم بآسانی دُنیاوی ہمسروں سے اُنہی کی مانند لباس پہننے کیلئے متاثر ہو سکتے ہیں۔ بہت سے اسٹائلز اجلاسوں پر عبادت کیلئے پہننا نامناسب ہیں۔ یقیناً ہم سب کنونشن اور پروگرام کے بعد باہمی رفاقت دونوں پر ایسے طریقے سے لباس پہننا چاہتے ہیں جو مسیحی خادموں کیلئے موزوں ہے۔ ہم تمام موقعوں پر مسیحیوں کیلئے ”حیادار لباس سے شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ“ سنورنے کی بابت پولسؔ رسول کی مشورت پر کان لگا کر اچھا کرتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۲:۹۔
۱۶ کسے یہ طے کرنے کا حق حاصل ہے کہ منکسرالمزاج، ”حیادار“ لباس کیا ہوتا ہے؟ منکسرالمزاج ہونے کا مطلب ”نہ تو گستاخ نہ ہی جارحیتپسند ہونا ہے۔“ لغت منکسرالمزاج کو ”سیدھاسادہ“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ لباس اور بناؤسنگھار کی بابت نہ تو سوسائٹی کو نہ ہی بزرگوں کو قانون وضع کرنے چاہیں۔ تاہم، کیا ایک مسیحی کو یہ بات صاف طور پر معلوم نہیں ہونی چاہئے کہ لباس کے کونسے اسٹائلز قطعی طور پر سادہ یا مہذب نہیں ہیں؟ (مقابلہ کریں فلپیوں ۱:۱۰) ہمارے بناؤسنگھار اور لباس کو بہت زیادہ توجہ حاصل نہیں کرنی چاہئے۔ ہمیں وضعقطع میں دلکش ہونا چاہئے، دُنیاوی یا ناپسندیدہ نہیں۔ خوشخبری کے خادموں کے طور پر، اُس وقت کے دوران جبکہ ہم ڈسٹرکٹ کنونشن والے شہر میں ہیں ہمارا موزوں انداز سے لباس پہننا اور بناؤسنگھار کرنا یہوؔواہ کیلئے عزت اور تنظیم کیلئے نیکنامی کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا، والدین نمونہ قائم کرینگے اور پھر اسے یقینی بنائینگے کہ اُنکے بچے تقریب کیلئے مناسب لباس پہنتے ہیں۔ بزرگ اچھا نمونہ قائم کرنا اور اگر ضروری ہو تو مہربانہ مشورت پیش کرنا چاہینگے۔
۱۷ کیمرے، ویڈیو کیمرے، اور آڈیوکیسٹس ریکارڈرز: کیمرے اور دیگر ریکارڈنگ کے آلات استعمال کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ ہم دیگر حاضرین کیلئے پاسولحاظ دکھاتے ہیں۔ اگر ہم سیشنوں کے دوران تصویریں اُتارتے پھرتے ہیں تو نہ صرف ہم دوسروں کی توجہ منتشر کرینگے جو سننے کی کوشش کر رہے بلکہ ہم خود بھی کچھ پروگرام سے محروم رہ جائینگے۔ ہم عموماً مقررین کو گہری توجہ دینے اور مختصر نوٹس لینے سے کنونشن سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ شاید ہم ایسے بھائی یا بہن کیلئے ریکارڈنگ کر رہے ہیں جو بیماری کے باعث گھر سے باہر نہیں نکل سکتے؛ تاہم، اپنے استعمال کی خاطر، ہمیں گھر لوٹنے پر شاید معلوم ہو کہ گھنٹوں پروگرام کو ریکارڈ کرنے کے بعد، جوکچھ ہم نے ریکارڈ کِیا تھا اُس میں سے زیادہ کا اعادہ کرنے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہوگا۔ کسی بھی قسم کے ریکارڈنگ کے آلات کو بجلی یا صوتی نظاموں کیساتھ منسلک نہیں کرنا چاہئے، نہ ہی آلات کو درمیانی راستوں، گزرگاہوں، یا دوسروں کے دیکھنے میں حائل ہونا چاہئے۔
۱۸ نشستوں کا بندوبست: نشستوں کو محفوظ کرنے کے معاملے میں ہم بہتری نوٹ کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال، آپ میں سے بہتروں نے ان ہدایت پر عمل کِیا تھا: نشستیں صرف آپ کے قریبی خاندانی افراد اور آپ کیساتھ آپ کی گاڑی میں سفر کرنے والے کسی بھی شخص کیلئے محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ آپ نے غالباً اسے کم مشکل پایا کیونکہ بہتیرے ان واضح ہدایات کی پیروی کر رہے تھے۔ اس سے بھی کہیں زیادہ اہم، آپکی فرمانبرداری یہوؔواہ کیلئے اور ’دیانتدار نوکر‘ کیلئے جو روحانی خوراک دیتا ہے، پسندیدہ تھی۔—متی ۲۴:۴۵۔
۱۹ ہمارے ایسے بھائیوں کی بھی کافی تعداد ہے جو خاص صحت کی حاجات رکھتے ہیں۔ بعض ویلچیئرز پر کنونشن کیلئے آتے ہیں اور خاندان کے افراد کی طرف سے دیکھبھال کئے جانے کے حاجتمند ہوتے ہیں۔ دیگر دل کے مسائل یا دَوروں جیسی مزمن بیماریوں کیلئے مختلف ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ روحانی خوراک سے کچھ بھی نہ کھونے پر اٹل، ان عزیز بھائیوں اور بہنوں کو کنونشن پر دیکھنا ہمارے دل کو جوش سے بھر دیتا ہے۔ تاہم، کبھیکبھار، بعض اشخاص کے کنونشن کے دوران بیمار ہو جانے کا مسئلہ پیش آیا ہے، جب خاندان یا کلیسیا کے افراد میں سے کوئی بھی مدد کیلئے نہیں ہوتا۔ بعض مخصوص حالات میں بھائی یا بہن کو ہسپتال پہنچانے کیلئے کنونشن انتظامیہ سے فوری طبّی سہولت فراہم کرنے کا تقاضا کِیا گیا تھا۔ کسی دائمی مرض کی دیکھبھال کی ذمہداری بنیادی طور پر خاندان کے افراد اور قریبی رشتہداروں پر عائد ہونی چاہئے۔ کنونشن کا ابتدائی طبّی امداد کا شعبہ کسی دائمالمرض کیلئے نگہداشت فراہم کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے خاندان کے کسی فرد کو خاص نگہداشت کی ضرورت ہے تو براہِمہربانی یاد رکھیں کہ اُسے اکیلا نہ چھوڑیں شاید کہیں کوئی ہنگامی صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔ اسکے علاوہ، ایسی الرجیز کے شکار لوگوں کو جو اُنہیں عام نشستگاہوں میں بیٹھنے سے باز رکھتی ہیں جگہ فراہم کرنے کیلئے کنونشنوں پر مخصوص کمروں کے کوئی انتظامات نہیں ہونگے۔ بزرگ اپنی کلیسیا میں موجود کسی ایسی شخص کے سلسلے میں ہوشمندی سے کام لینا چاہینگے جو صحت کی خاص حاجات رکھتا ہے، اور اس بات کا یقین کرینگے کہ انکی دیکھبھال کیلئے وقت سے پہلے انتظامات کر لئے گئے ہیں۔
۲۰ کنونشن پر کھانے کی ضروریات: اپنا ذاتی کھانا لانے کے فوائد کے سلسلے میں بہت سے مثبت تبصرے کئے گئے۔ ایک بھائی نے لکھا: ”مَیں واضح طور پر اس سے بڑے روحانی فائدے کو دیکھ سکتا ہوں۔ اب اُس سارے وقت اور توانائی کا رُخ روحانی معاملات کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ مَیں نے کوئی بھی منفی رائے نہیں سنی۔“ ایک بہن نے لکھا: ”نمونے سے، آپ پیارے بھائی مسیحی اشخاص کے طور پر اپنےآپ کا جائزہ لینے کیلئے اور اپنی زندگیوں کو سادہ بنانے اور اپنی تھیوکریٹک کارگزاری کو بڑھانے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں۔“ ایک سفری نگہبان نے سابقہ کھانا پیش کرنے کی فراہمیوں کی بابت کہا: ”پُرانا انتظام بہت سے بھائیوں کیلئے سارے اسمبلی پروگرام سے غیرحاضر رہنے کا باعث بنتا تھا۔“ جو کھانا بھائی لائے اُسکی بابت، ایک بزرگ نے کہا: ”جو وہ چاہتے تھے اُنہیں وہی مل گیا، اور اُنہیں اسکے لئے قطار میں انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔“ آخر میں، ایک بہن نے لکھا: ”سیشنوں کے بعد پُرسکون اور خاموشی کا عالم تھا اور خوشی کا سماں تھا۔“ جیہاں، بعدازدوپہر کے وقفے میں اپنی بھوک مٹانے کیلئے ہر ایک کچھ نہ کچھ لا سکتا ہے۔ بہتیروں نے اس حقیقت پر تبصرہ کِیا کہ اُنہیں دوستوں سے باتچیت کرنے کا زیادہ وقت ملا تھا۔
۲۱ اس سال بھی کوئی کھانا پیش نہیں کِیا جائے گا۔ عملی، غذائیتبخش اشیائےخوردونوش کی بابت جو کنونشن پر لائی جا سکتی ہیں تجاویز کیلئے آپ مئی ۱۹۹۵ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے ضمیمہ کے پیراگراف ۲۶ کا اعادہ کرنے کے لئے چند منٹ نکال سکتے ہیں۔ مہربانی سے یاد رکھیں، کوئی بھی شیشے کے مرتبان یا الکحلی مشروبات کنونشن کی جگہ پر نہ لائے جائیں۔ اگر چھوٹے کولر لازمی ہیں تو اُنہیں آپکی کُرسی کے نیچے رکھا جانا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ جوکچھ بھی آپ لاتے ہیں اُس میں سے کھانے اور پینے کیلئے دوپہر کے وقفے کے دوران کافی وقت ہوتا ہے۔ جیسےکہ اپنے کنگڈم ہالز میں اجلاسوں کے دوران، ہم ہمیشہ کنونشن سیشنوں کے دوران کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ یوں ہم پرستش اور فراہم کی جانے والی روحانی خوراک کے انتظام کیلئے احترام ظاہر کرتے ہیں۔
۲۲ جلد ہی ”خدائی امن کے پیامبر“ ڈسٹرکٹ کنونشنیں شروع ہو جائینگی۔ کیا آپ نے حاضر ہونے کیلئے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، اور کیا آپ اب سہروزہ خوشآئند رفاقت اور روحانی اچھی چیزوں سے لطفاندوز ہونے کیلئے تیار ہیں؟ یہ ہماری پُرخلوص دُعا ہے کہ یہوؔواہ اس کنونشن پر حاضر ہونے کیلئے آپکی کوششوں کو برکت دے۔
[Box]
ڈسٹرکٹ کنونشن یاددہانیاں
بپتسمہ: جمعرات کی صبح پروگرام شروع ہونے سے پہلے بپتسمے کے اُمیدواروں کو مقررہ حصے میں بیٹھنا چاہئے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اس قسم کے لباس پہنتے ہیں جو مہذب نہیں ہوتے یا موقع کی سنجیدگی کو کم کرتے ہیں۔ ہر ایک کو جو بپتسمہ پانے کا منصوبہ رکھتا ہے سادہ لباس اور ایک تولیہ ساتھ لانا چاہئے۔ بپتسمے کے اُمیدواروں کیساتھ اپنی خدمتگزاری ضمیمہ میں سے سوالات کا اعادہ کرنے والے کلیسیائی بزرگ اس بات کا یقین کرنا چاہینگے کہ ہر ایک ان نکات کو سمجھتا ہے۔ بپتسمے کی تقریر اور مقرر کی دُعا کے بعد، سیشن چیئرمین اُمیدواروں کو مختصر ہدایات دے گا اور پھر گیت گانے کیلئے کہیگا۔ آخری جملے کے بعد، حاضرباش اُمیدواروں کو بپتسمے کی جگہ کی طرف لیکر جائینگے۔ چونکہ بپتسمہ کسی کی مخصوصیت کی علامت میں اُس شخص اور یہوؔواہ کے درمیان ایک نزدیکی اور ذاتی معاملہ ہے اسلئے نامنہاد مشترکہ بپتسموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے جن میں ایک یا زیادہ بپتسمے کے اُمیدوار بپتسمہ لیتے وقت بغلگیر ہوتے یا ہاتھ پکڑتے ہیں۔
بیج کارڈز: براہِمہربانی کنونشن پر اور کنونشن کی جگہ پر آنے اور وہاں سے جانے کیلئے سفر کرتے ہوئے ۱۹۹۶ کا بیج کارڈ پہن کر رکھیں۔ یہ اکثر سفر کے دوران ہمارے لئے عمدہ گواہی پیش کرنے کو ممکن بناتا ہے۔ بیج کارڈز اور ہولڈرز اپنی کلیسیا کے ذریعہ حاصل کرنے چاہئیں کیونکہ وہ کنونشن پر دستیاب نہیں ہونگے۔ اپنے اور اپنے خاندان کیلئے کارڈز کی درخواست کرنے کیلئے کنونشن سے چند روز پہلے تک انتظار نہ کرتے رہیں۔ اپنا تازہ ایڈوانس میڈیکل ڈائریکٹو/ریلیز کارڈ پاس رکھنا ضرور یاد رکھیں۔
رضاکارانہ خدمات: کھانا پیش نہ کئے جانے کی وجہ سے، بہتیرے جو پہلے اس شعبے میں کام کرتے تھے اب جانتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے کام میں رضاکارانہ خدمت پیش کر سکتے ہیں۔ کیا آپ شعبوں میں سے کسی ایک میں مدد کرنے کیلئے وقت نکال سکتے ہیں؟ اپنے بھائیوں کی خدمت کرنا، خواہ صرف چند گھنٹوں کیلئے ہی، بہت مفید ہو سکتا ہے اور کافی اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ اگر آپ مدد کر سکتے ہیں تو کنونشن پر رضاکارانہ خدمات کے شعبے کو مطلع کریں۔ ۱۶ سال سے کم عمر کے بچے بھی ماں یا باپ یا کسی دوسرے ذمہدار بالغ کے زیرِہدایت کام کرنے سے عمدہ حصہ لے سکتے ہیں۔
احتیاط کی چند باتیں: امکانی مسائل کی بابت خبردار رہیں تاکہ غیرضروری مشکل سے بچیں۔ اکثر چور اور دیگر بددیانت اشخاص اُن لوگوں کو شکار بناتے ہیں جو اپنے گھر کے ماحول سے دُور ہیں۔ یقین کر لیں کہ آپکی گاڑی ہر وقت بند ہے، اور کبھی بھی کوئی چیز سامنے کھلی نہ چھوڑیں کہ کہیں کوئی چوری کرنے کی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔ چور اور جیبتراش بڑے اجتماعات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ قیمتی اشیاء کو اپنی نشست پر رکھنا عقلمندی نہیں ہوگی۔ آپ یہ یقین نہیں رکھ سکتے کہ آپ کے اِردگِرد ہر ایک شخص مسیحی ہے۔ آزمائش کا موقع کیوں دیں؟ بعض اجنبیوں کے بچوں کو بہلاپھسلا کر لے جانے کی کوشش کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ہر وقت اپنے بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھیں۔
ہم لاہور اور کراچی میں ”خدائی امن کے پیامبر“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر آپکے ساتھ پروگرام میں شامل ہونے کے منتظر ہیں۔