سوالی بکس
◼ کیا دوسروں کی مہیاکردہ سواری کیلئے مالی اعانت کرنا موزوں ہے؟
ہم میں سے بعض کے ایسے حالات ہیں جو ہم سے باقاعدگی سے اجلاسوں پر حاضر ہونے اور میدانی خدمت میں شرکت کرنے کیلئے دوسروں پر انحصار کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ بعض بھائی اور بہنیں خاص کوشش کرتے ہیں اور ہمارے لئے سواری مہیا کرنے کیلئے بڑی محبت سے اپنے وقت، گاڑیوں، اور دیگر وسائل کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ اُنہیں اُسوقت کی نسبت جلد تیار ہونا پڑے جس پر کہ وہ بصورتِدیگر تیار ہوتے اور اُنہیں گھر لوٹنے میں بھی دیر ہو جاتی ہے، تو بھی وہ رضامندانہ جذبے کے ساتھ سواری فراہم کرتے ہیں۔
ہماری خدمتگزاری کے کسی بھی دوسرے پہلو کی طرح، گلتیوں ۶:۵ میں پایا جانے والا اصول لاگو ہوتا ہے: ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“ اسلئے، اگر کوئی ہمارے لئے باقاعدہ سواری مہیا کرتا ہے تو ہمیں محض اپنی باتوں ہی سے قدردانی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اگر ہم ممکنہ طور پر ایسا کر سکتے ہیں تو اخراجات کو پورا کرنے میں مدد دینے کیلئے معقول مالی اعانت بھی کرنی چاہئے۔—متی ۷:۱۲؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۴۔
اگرچہ گاڑی استعمال کرنے والا شخص مالی مدد کی درخواست نہ بھی کرے اور اسکے لئے حاجتمند دکھائی نہ دے توبھی مالی امداد کی مخلص پیشکش کو ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔ شاید ڈرائیور کوئی بھی چیز لینے سے انکار کر دے؛ لہٰذا، ہمیں فیصلہ یقیناً اُسی پر چھوڑنا چاہئے۔ لیکن آپ کے لئے پیشکش کرنا مناسب ہے۔ اگر آپ فیالوقت کسی بھی مالی اعانت کے قابل نہیں ہیں تو آپ اسے ذہن میں رکھ سکتے ہیں؛ جب آپ اگلی مرتبہ سواری قبول کرتے ہیں تو آپ کچھ زیادہ پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔—لوقا ۶:۳۸۔
گاڑیاں رکھنے والوں کیلئے دیگر ایسے لوگوں کو سواری فراہم کرنا بڑی پُرمحبت بات ہے جو شاید بصورتِدیگر اجلاسوں پر حاضر ہونے اور میدانی خدمتگزاری میں شریک ہونے کے قابل نہ ہوتے۔ (امثال ۳:۲۷) اسکے ساتھ ہی ساتھ، ایسی مہربانی سے مستفید ہونے والوں کیلئے بھی اپنے حالات کی مطابقت میں مالی اعانت کے ذریعے اپنی شکرگذاری کا اظہار کرنا محبتآمیز ہے۔—کلسیوں ۳:۱۵۔