ڈسٹرکٹ کنونشن ایک ہیجانخیز دعوت دیتی ہے! روزبروز خوشی سے یہوؔواہ کی مدحسرائی کریں!
۱ ”اگر تُرہی کی آواز صاف نہ ہو تو کون لڑائی کے لئے تیاری کرے گا؟“ پولسؔ رسول نے سوال کِیا۔ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۸) کیا یہی وہ دعوت ہے جو ”شادمان مدّاحین“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر باآوازِبلند اور واضح طور پر دی جائیگی؟ جیہاں، یقیناً۔ ’روزانہ خوشی سے یہوؔواہ کی حمد کرو‘ ایک جوش دلانے والا پیغام ہوگا! کیا آپکا دل کارروائی کرنے کیلئے اس دعوت کی بدولت جوش سے بھر جائیگا؟ کنونشن پروگرام ہمارے ازلی بادشاہ، یہوؔواہ کی مسلسل حمد کرتے رہنے کیلئے پُرزور وجوہات سے بھرپور ہے۔—زبور ۳۵:۲۷، ۲۸۔
۲ مہیب آسمان ”ہر روز“ یہوؔواہ کا جلال ظاہر کرتے ہیں۔ (زبور ۱۹:۱-۳، اینڈبلیو) اگر بےآواز، بےجان موجودات ہمیشہ یہوؔواہ کی مدحسرائی کرتی رہتی ہیں تو کیا ہم ذیشعور انسانوں کو ہر وقت اُسکی بےنظیر خوبیوں اور کامرانیوں کے لئے اُس کی تعریف میں اپنی آوازیں بلند کرنے کی تحریک محسوس نہیں کرنی چاہئے؟ ہمارے پُرشکوہ خالق کے علاوہ اور کون ہماری مسرور مدحسرائی کا زیادہ مستحق ہے؟—زبور ۱۴۵:۳، ۷۔
۳ روز بروز: مُلہَم زبورنویس نے لکھا: ”روز بروز اُسکی نجات کی بشارت دو۔ کیونکہ خداوند بزرگ اور نہایت ستایش کے لائق ہے۔“ (زبور ۹۶:۲، ۴) کیا اسکا اطلاق صرف پائنیروں ہی پر ہوتا ہے؟ جینہیں! کیا اِسکا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم کبھی بھی اور کہیں بھی دوسروں کیساتھ یہوؔواہ کی بابت گفتگو کر سکتے ہیں تو ہمیں کرنی چاہئے، یہانتک کہ اُن دِنوں پر بھی جب ہم گھرباگھر کی خدمتگزاری میں شریک نہیں ہیں؟ جیہاں! ہر روز یہوؔواہ کی ستائش کرنے اور اُسکے نجات کے بندوبست کی بابت دوسروں کو بتانا اشد ضروری ہے۔ ضرور ہے کہ لوگ جانیں کہ یہوؔواہ ازلی بادشاہ ہے اور یہ کہ اُس نے اپنے جلالی بیٹے، یسوؔع مسیح کو دُنیا کی حکمرانی عطا کی ہے۔ یہوؔواہ اور لوگوں کیلئے محبت ہمیں اس پیغام اور نجات کے متعلق اُس کی فراہمیوں کی بابت جہاں کہیں بھی لوگ مل سکتے ہیں کلام کرنے پر مجبور کریگی۔—زبور ۷۱:۱۵۔
۴ اپنی زمینی خدمتگزاری کے ہر دِن پر یسوؔع مسیح نے یہوؔواہ کے غیرمتذبذب مدّاح کے طور پر بہترین نمونہ قائم کِیا۔ اُس نے کہا: ”اَے باپ آسمان اور زمین کے خداوند مَیں اعلانیہ تیری حمد کرتا ہوں۔“ (متی ۱۱:۲۵، اینڈبلیو) اپنے کلام کی مطابقت میں، یسوؔع جہاں کہیں بھی تھا، اُس نے اعلانیہ طور پر یہوؔواہ کی حمد کی۔ اور جہاں کہیں بھی بھیڑ جمع ہوتی تھی—خواہ عبادتخانوں میں، یرؔوشلیم کے اندر ہیکل میں، پہاڑ پر یا سمندری ساحل پر—اُس نے یہوؔواہ کی ستائش کی۔ اگر ہم ہر روز اعلانیہ طور پر یہوؔواہ کو جلال دینے کیلئے بااُصول کارگزاری قائم رکھتے ہوئے، بڑی احتیاط کے ساتھ یسوؔع کے نقشِقدم پر چلتے ہیں تو ہم مسرورکُن، خوشآئند نتائج کا تجربہ کرینگے۔
۵ دعوت قبول کرنا: کیا آپ ہر روز اعلانیہ طور پر یہوؔواہ کی حمد کرنے کی دعوت کو قبول کریں گے؟ یاد رکھیں، عمر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ زبور ۱۴۸:۱۲ نوجوانوں، کنواریوں، بڈھوں اور بچوں کو یہوؔواہ کی حمد کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اے نوجوانو! کیا آپ نئے تعلیمی سال کے دوران ہممکتبوں اور اساتذہ کے درمیان یہوؔواہ کی ستائش کرینگے؟ اَے بالغو! آپ اپنی جائے ملازمت پر جن لوگوں کیساتھ کام کرتے ہیں کیا وہ باہم گفتگو کیلئے مناسب موقع پر یہوؔواہ اور اُسکے مقاصد کی بابت سن رہے ہیں؟ ہم سب کو یہوؔواہ کی بابت باتچیت کرنے کو اُسی طرح اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لینا چاہئے جیسےکہ سانس لینا اور کھانا تناول کرنا ہیں۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں اگرچہ بےحس لوگ اُس پر توجہ نہیں دیتے مگر ایک ہے جو توجہ دیتا ہے، اور وہی ہمیں اجر دیگا۔—ملاکی ۳:۱۶۔
۶ جبکہ نظام کا خاتمہ قریب آتا ہے، یہ دعوت زمین کی انتہا تک پہنچائی جا رہی ہے: ”اَے لوگو، یاؔہ کی حمد کرو!“ (زبور ۱۰۶:۱، اینڈبلیو) دُعا ہے کہ ہر گزرنے والے دِن کیساتھ ہماری حمد کی پکار اَور زیادہ بلند ہوتی جائے تاکہ سب جان لیں کہ وہ جسکا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔—زبور ۸۳:۱۸۔