یہوؔواہ کے ذریعے جانچے جانا—کیوں فائدہمند؟
۱ ہر کوئی اچھی صحت کا خواہشمند ہوتا ہے۔ یہ زندگی کو بہت زیادہ خوشگوار بنا دیتی ہے۔ تاہم، بہتیرے جو اچھی صحت سے لطفاندوز ہوتے ہیں وہ پھربھی کبھیکبھار معائنہ کرواتے ہیں۔ کیوں؟ وہ صحت سے متعلق پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے مسائل کی بابت جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اُنکے علاج کیلئے اقدام اُٹھائے جا سکیں۔ ہماری روحانی صحت کو محفوظ رکھنے کیلئے یہ اَور بھی ضروری ہے۔ یہوؔواہ کی مقبولیت کا انحصار ہمارے ”ایمان میں صحتمند“ ہونے پر ہے۔—ططس ۱:۱۳، اینڈبلیو.
۲ یہوؔواہ کے ذریعے جانچے جانے کیلئے اب موزوں وقت ہے۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ یہوؔواہ اپنی پاک ہیکل میں ہے اور وہ تمام آدمیوں کے دلوں کو جانچ رہا ہے۔ (زبور ۱۱:۴، ۵؛ امثال ۱۷:۳) داؔؤد کی طرح، ہم یہوؔواہ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں پوری طرح سے جانچے: ”اَے خداوند! مجھے جانچ اور آزما۔ میرے دِلودماغ کو پرکھ۔“—زبور ۲۶:۲۔
۳ ہمیں اپنی روحانی صحت کو درپیش اُن خطرات سے بھی باخبر رہنا چاہئے جو ہماری ناکامل انسانی کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے اندر سے اُٹھ سکتے ہیں۔ امثال ۴:۲۳ مشورہ دیتی ہے: ”اپنے دِل کی خوب حفاظت کر کیونکہ زندگی کا سرچشمہ وہی ہے۔“
۴ ہماری روحانی صحت کو ہمارے اردگرد کی بدعنوان، بداخلاق دُنیا سے بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر ہم خود کو اس شریر نظام کے بہت قریب ہونے کی اجازت دیتے ہیں تو ہم شاید اس کی طرح سوچ اور دُنیاوی رجحانات پیدا کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ یا ہم دُنیاوی طرزِزندگی اختیار کر سکتے اور دُنیا کی روح سے مغلوب ہو سکتے ہیں۔—افسیوں ۲:۲، ۳۔
۵ ہمیں روحانی طور پر برباد کرنے کی کوشش میں شیطان اذیت یا براہِراست مخالفت کو استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم، اکثر اوقات ہمیں گمراہ کرنے کیلئے، وہ بڑی مکاری سے دلکش دُنیاوی چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ پطرؔس ہمیں ’ہوشیار اور بیدار رہنے‘ کی تاکید کرتا ہے، اسلئے کہ شیطان ”گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“ ہمیں ’ایمان میں مضبوط ہو کر اُسکا مقابلہ کرنے‘ کی تاکید کی گئی ہے۔—۱-پطرس ۵:۸، ۹۔
۶ اپنے ایمان کو ہرروز تقویت دینے سے اسے مضبوط رکھتے ہوئے ہمیں اپنی روحانی صحت کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ پولسؔ رسول سفارش کرتا ہے کہ ہم لگاتار اپنے ایمان کی جانچ کرتے رہیں۔ جیسے ہم ایک قابل ڈاکٹر کیطرف سے ہمیں دی جانے والی عملی مشورت پر دانشمندی سے دھیان دیتے ہیں، اُسی طرح جب یہوؔواہ کی طرف سے روحانی جانچ کسی ایسے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے جسے سلجھانے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم اُسکی بھی سنتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ”ازسرِنو مطابقت لانے کو“ ممکن بناتا ہے۔—۲-کرنتھیوں ۱۳:۵، ۱۱، اینڈبلیو.
۷ یہوؔواہ واقعی عظیم جانچ کرنے والا ہے۔ اُسکی تشخیص ہمیشہ صحیح ہوتی ہے۔ وہ بالکل درست طور پر جانتا ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے کلام اور ’دیانتدار نوکر‘ کے ذریعے صحتبخش روحانی غذا تجویز کرتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵؛ ۱-تیمتھیس ۴:۶) گھر پر اور کلیسیائی اجلاسوں پر باقاعدگی کیساتھ اس غذائیتبخش روحانی خوراک میں سے کھانا ہمیں روحانی طور پر صحتمند رہنے کے قابل بناتا ہے۔ خدمتگزاری اور دیگر مسیحی سرگرمیوں میں باقاعدہ روحانی ورزش بھی فائدہمند ہے۔ اسلئے، ہم یہوؔواہ کے ذریعے باقاعدہ جانچ کا خیرمقدم کرتے ہیں، اس اعتماد کیساتھ کہ وہ ہمیں بہترین روحانی صحت کی حالت میں رکھیگا۔