عدممساوات کیا یہ خدا کا مقصد تھا؟
ایک لفظ میں جواب ہے جینہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہے۔
خدا کا مقصد تھا کہ تمام انسانوں کے پاس زندگی اور خوشی سے لطف اُٹھانے کے لئے یکساں مواقع ہوں۔ انسانی تخلیق کی بابت ہم پڑھتے ہیں: ”خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اور اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔“ زمینی تخلیق کے مکمل ہونے پر ”خدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“—پیدایش ۱:۲۶، ۳۱۔
کیا خدا آجکل عدممساوات کی صورتحال کے سلسلے میں یہ اعلان کر سکتا ہے کہ ”بہت اچھا ہے“؟ ہرگز نہیں کیونکہ ”خدا محبت ہے۔“ (۱-یوحنا ۴:۸) اسکی بابت کہا گیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ”رُورعایت نہیں کرتا“ اور یہ کہ ”اسکی صنعت کامل ہے۔ کیونکہ اُسکی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔ وہ منصف اور برحق ہے۔“ (استثنا ۱۰:۱۷؛ ۳۲:۴؛ ایوب ۳۴:۱۹ سے مقابلہ کریں۔) لہٰذا پطرس رسول نے نتیجہ اخذ کِیا: ”مجھے پورا یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
چونکہ خدا شفیق، غیرجانبدار، منصف، صادق اور راست ہے اسلئے جہاں تک انسانوں کے خوشی سے لطف اُٹھانے کا تعلق ہے وہ تو کس طرح انہیں موروثی عدممساوات کیساتھ خلق کر سکتا تھا؟ لوگوں کے درمیان تعصّب کی اجازت دینا اور انہیں مساوات سے عاری نظام میں رکھنا اسکی شخصیت کے عین منافی ہوگا۔ اُسکا مقصد تھا کہ وہ تمام ”آزاد پیدا ہوں اور وقار اور حقوق میں مساوی ہوں۔“ تاہم، آجکل یقیناً حالات اس طرح کے نہیں ہیں۔ کیوں نہیں؟
عدممساوات کا بنیادی سبب
خدا کا انسانوں کو برابر خلق کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک کیلئے اس نے طے کر دیا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے برابر ہوں۔ اُنکی صلاحیتیں، دلچسپیاں اور شخصیت مختلف ہو سکتی ہے۔ وہ مرتبے یا اختیار کے لحاظ سے بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آدمی اور عورت ہر لحاظ سے برابر نہیں ہیں کیونکہ خدا نے عورت کو مرد کی ”مددگار“ [تکملہ] کے طور پر خلق کِیا ہے۔ (پیدایش ۲:۱۸) یقیناً والدین اور بچے اختیار میں مختلف ہیں۔ تاہم، اس تمام تنوع کے باوجود، تمام—مردوں، عورتوں اور بچوں—کو خوشی کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے خداداد حق کے مساوی مواقع سے فائدہ اُٹھانا تھا۔ انہیں یقینی طور پر خدا کے حضور مساوی وقار اور حیثیت سے لطف اُٹھانا ہے۔
اسی طرح، خدا کے روحانی بیٹوں کو جو انسانوں سے پہلے خلق ہوئے، مختلف تفویضات اور ذمہداریاں عطا کی گئیں۔ (پیدایش ۳:۲۴؛ ۱۶:۷-۱۱؛ یسعیاہ ۶:۶؛ یہوداہ ۹) تاہم، ان پر عائدکردہ تمام حدود کے اندر وہ تمام کے تمام زندگی اور خوشی کیلئے الہٰی فراہمیوں سے مساوی فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔ یوں انہوں نے ایک شاندار طریقے سے خدا کی غیرجانبداری کی عکاسی کی۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک روحانی مخلوق خدا کے غیرجانبدار انتظام سے مطمئن نہ تھا۔ خدا نے جو کچھ اسے دیا تھا وہ اس سے زیادہ چاہتا تھا یعنی اس نے ایک اعلیٰ، بلند مرتبے کی خواہش کی۔ اس غلط خواہش کو پروان چڑھانے سے، اس نے خود کو یہوواہ کا دشمن بنا لیا جو خالق کی حیثیت سے تمام اقتدار کا جائز مالک ہے۔ بعدازاں خدا کے اس باغی روحانی بیٹے نے انسانوں کو بھی خدا سے زیادہ کا تقاضا کرنے کی ترغیب دی۔ (پیدایش ۳:۱-۶؛ یسعیاہ ۱۴:۱۲-۱۴ سے مقابلہ کریں۔) لہٰذا، زندگی اور خوشی سے لطف اُٹھانے کیلئے یہوواہ کی فراہمی انتہائی غیرمتوازن بنتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ یہ روحانی باغی جس کی شناخت مکاشفہ ۲۰:۲ میں ”ابلیس اور شیطان“ کے طور پر کرائی گئی ہے، انسانی عدممساوات کا بدطینت ترغیب دینے والا بن گیا۔
کیا صورتحال کبھی تبدیل ہوگی؟
ایک لفظ میں جواب ہے۔ جیہاں!
لیکن مطلوبہ تبدیلیاں کون لائے گا؟ بلاشُبہ انسانی لیڈروں میں سے بعض نے پوری خلوصدلی کیساتھ صدیوں سے یہ کوشش کی ہے۔ اُنہیں بڑی تھوڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے جس سے بہتیرے لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی عدممساوات کے مسئلے کے کبھی حل ہونے کی توقع کرنا غیرحقیقتپسندانہ ہے۔ تاہم، خدا کا نظریہ یسعیاہ ۵۵:۱۰، ۱۱ میں درج ہے: ”جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہ وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے اور اسکی شادابی اور روئیدگی کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی دے۔ اُسی طرح میرا کلام جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ بےانجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جسکے لئے میں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“
یہ جاننا کتنا تسلیبخش ہے کہ یہوواہ خدا نے یہ اعلان کرا دیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو زندگی میں خوشی کی خاطر مساوی مواقع مہیا کرنے کے لئے اپنا ابتدائی مقصد ضرور پورا کرے گا! سچائی کے خدا کے طور پر، اس نے جو کچھ وعدہ کِیا ہے اس نے خود کو اس کا پابند کر لیا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ اور اختیار دونوں رکھتا ہے۔ وہ اسے کیسے سرانجام دے گا؟
یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو جس بادشاہت کے لئے دُعا کرنا سکھایا اُسی میں جواب پنہاں ہے: ”اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے . . . تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (متی ۶:۹، ۱۰) جیہاں، خدا کی بادشاہت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جسے یہوواہ اس وقت کی موجودہ ”مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست“ کرنے کیلئے استعمال کرے گا اور پھر یہ ”ابد تک قائم رہینگی۔“—دانیایل ۲:۴۴۔
آسمانی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت، ایک نیا انسانی معاشرہ اُبھرے گا۔ اس سلسلے میں، یوحنا رسول نے بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ میں تحریر کِیا: ”مَیں نے ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی۔“ (مکاشفہ ۲۱:۱) عدممساوات کے تمام بھیانک چہرے—غربت بیماری، جہالت، تعصّب اور دیگر انسانی مصیبتیں جاتی رہیں گی۔a
ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے یہوواہ کے گواہ اس بادشاہت کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔ (متی ۲۴:۱۴) چھپے ہوئے مواد اور ذاتی مدد کے ذریعے اُنہوں نے بائبل میں درج خدا کے مقصد کا علم حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی مدد کرنے میں جانفشانی کی ہے۔ تاہم ان کے عالمگیر تعلیمی کام نے نہ صرف لوگوں کو مستقبل میں مساوات اور خوشی کے ساتھ رہنے کی اُمید دی ہے بلکہ یہ عین اس وقت بھی عدممساوات کی وبا کا سدِباب کرتے ہوئے لوگوں کے لئے مفید ثابت ہوا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ کیسے۔
[فٹنوٹ]
a خدا کی بادشاہت کیسے تمام لوگوں کیلئے مساوات قائم کریگی اس کی بابت مکمل بحث کیلئے براہِمہربانی علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کتاب کے ابواب ۱۰ اور ۱۱ دیکھیں جسے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک انکارپوریٹڈ نے شائع کِیا ہے۔
[صفحہ 5 پر عبارت]
خدا کا مقصد تھا کہ تمام انسانوں کے پاس زندگی اور خوشی کیلئے مساوی مواقع ہوں