کیا غیر طبقاتی معاشرہ واقعی ممکن ہے؟
جان ایڈمز، ریاستہائےمتحدہ کا دوسرا صدر، تاریخی منشورِآزادی پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھا جس میں یہ مشہور بات بیان کی گئی تھی: ”ہم ان واضح سچائیوں کا یقین کرتے ہیں کہ تمام انسان برابر خلق ہوئے ہیں۔“ تاہم، جان ایڈمز کو بدیہی طور پر شک تھا کہ تمام انسان واقعی برابر ہیں کیونکہ اُس نے لکھا: ”قادرِمطلق خدا نے انسانی فطرت اور خدوخال کی تشکیل کے عمل میں ذہن اور جسم کی عدممساوات کچھ اس طرح قائم کر دی ہے کہ اب کسی بھی مہارت یا پالیسی سے ان میں مساوات پیدا کرنا ممکن نہیں۔“ اسکے برعکس، برطانوی مؤرخ ایچ. جی. ویلز تین عناصر پر مبنی انسانی مساوات والے معاشرے کا تصور کرنے کے قابل تھا: ایک عام لیکن سچا اور پاک عالمی مذہب، یکساں تعلیم اور مسلح افواج کا خاتمہ۔
تاریخ میں ابھی تک انسانی مساوات والا ایسا معاشرہ تشکیل نہیں پا سکا جس کا تصور ویلز نے کِیا تھا۔ انسانی مساوات کی بجائے طبقاتی امتیازات تاحال معاشرے پر مسلّط ہیں۔ کیا ان طبقات نے مجموعی طور پر معاشرے کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے؟ جینہیں۔ معاشرے میں طبقاتی نظام نے لوگوں کو منقسم کر دیا ہے جو کینہپروری، نفرت، دُکھتکلیف اور انتہائی خونریزی کا باعث بنا ہے۔ افریقہ، آسٹریلیا اور شمالی امریکہ میں سابقہ سفیدفام بالادستی والا رُجحان دوسری نسلوں کے لئے سخت تکلیف کا باعث بنا جس میں وان ڈیمینز لینڈ (موجودہ تسمانیہ) میں ابریجنی باشندوں کی مکمل نسلکُشی شامل ہے۔ یورپ میں یہودیوں کو کمتر طبقہ خیال کرنا ہالوکاسٹ کا پیشخیمہ تھا۔ طبقۂخواص کی دولتمندی اور نچلے اور متوسط طبقات میں بےاطمینانی جیسے عوامل کی وجہ سے ۱۸ ویں صدی میں فرانسیسی انقلاب اور ۲۰ ویں صدی میں روسی بالشوک انقلاب برپا ہوا۔
ماضی کے ایک دانشمند آدمی نے لکھا: ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔“ (واعظ ۸:۹) حکومت کرنے والے خواہ اشخاص ہوں یا طبقات اُسکی یہ بات بالکل درست ہے۔ جب لوگوں کا ایک گروہ خود کو دوسروں سے بلند سمجھتا ہے تو اسکا انجام سخت دُکھ اور تکلیف ہوتا ہے۔
خدا کے حضور سب برابر ہیں
کیا انسانوں کے بعض گروہ پیدائشی اعتبار سے دوسرے گروہوں سے بالاتر ہیں؟ خدا کی نظر میں ایسا بالکل نہیں ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”[خدا] نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام رُویِزمین پر رہنے کے لئے پیدا کی۔“ (اعمال ۱۷:۲۶) مزیدبرآں، خالق ”اُمرا کی طرفداری نہیں کرتا اور امیر کو غریب سے زیادہ نہیں مانتا کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کاریگری ہیں۔“ (ایوب ۳۴:۱۹) تمام انسانوں کا ایک دوسرے سے رشتہ ہے اور خدا کے حضور سب برابر ہیں۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ جب انسان مرتا ہے تو برتری کے تمام دعوے ختم ہو جاتے ہیں۔ قدیم مصری اس کا یقین نہیں کرتے تھے۔ جب کوئی فرعون مرتا تو وہ نہایت قیمتی چیزیں اس کے مقبرے میں رکھ دیتے تھے تاکہ وہ بعدازموت زندگی میں بھی ایسا ہی اعلیٰ مقام حاصل کرکے ان سے فائدہ اُٹھا سکے۔ کیا اُس کیلئے ایسا ممکن تھا؟ ہرگز نہیں۔ اس دولت کا بیشتر حصہ قبریں لوٹنے والے لے گئے جبکہ باقی بہتیری چیزیں آجکل عجائبگھروں میں دکھائی دیتی ہیں۔
فرعون ان تمام قیمتی چیزوں کو استعمال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ تو مر چکا تھا۔ موت کے بعد کسی اعلیٰ اور ادنیٰ طبقے، امیری اور غریبی کا وجود نہیں رہتا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”دانشمند مر جاتے ہیں۔ بیوقوفوحیوان خصلت باہم ہلاک ہوتے ہیں۔ . . . وہ جانوروں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔“ (زبور ۴۹:۱۰، ۱۲) خواہ ہم بادشاہ ہوں یا غلام، یہ الہامی الفاظ ہم سب پر عائد ہوتے ہیں: ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور اُنکے لئے اَور کچھ اجر نہیں۔ . . . پاتال میں جہاں تُو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔“—واعظ ۹:۵، ۱۰۔
خدا کی نظر میں ہم سب برابر پیدا ہوتے اور برابر مرتے ہیں۔ لہٰذا، اپنی قلیل زندگی میں لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے پر فوقیت دینا کتنا عبث ہے!
ایک غیرطبقاتی معاشرہ—کیسے؟
تاہم، کیا کوئی اُمید باقی ہے کہ کبھی ایسا انسانی معاشرہ قائم ہوگا جس میں طبقاتی امتیاز اہم نہیں ہوگا؟ جیہاں، ایسا ہوگا۔ تقریباً ۲،۰۰۰ سال پہلے جب یسوع زمین پر تھا تو ایسے معاشرے کی بنیاد ڈال دی گئی تھی۔ یسوع نے تمام نسلِانسانی کیلئے اپنی جان فدیے کے طور پر دیدی تاکہ ”جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“—یوحنا ۳:۱۶۔
یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اس کے شاگردوں میں سے کسی کو بھی ساتھی ایمانداروں سے خود کو بلند خیال نہیں کرنا چاہئے، یسوع نے کہا: ”تم ربّی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا اُستاد ایک ہی ہے اور تم سب بھائی ہو۔ اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔ اور نہ تم ہادی کہلاؤ کیونکہ تمہارا ہادی ایک ہی ہے یعنی مسیح۔ لیکن جو تم میں بڑا ہے وہ تمہارا خادم بنے۔ اور جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا۔“ (متی ۲۳:۸-۱۲) خدا کی نظر میں یسوع کے تمام شاگرد ایمان میں برابر ہیں۔
کیا ابتدائی مسیحی ایک دوسرے کو برابر خیال کرتے تھے؟ یسوع کی تعلیم سمجھنے والے واقعی ایسا کرتے تھے۔ وہ ایمان میں ایک دوسرے کو برابر سمجھتے اور ایک دوسرے کو ”بھائی“ کہنے سے اسکا اظہار کرتے تھے۔ (فلیمون ۱، ۷، ۲۰) کسی کی بھی خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کی حوصلہافزائی نہیں کی گئی تھی۔ مثال کے طور پر، غور کریں کہ اپنے دوسرے خط میں پطرس کسقدر فروتنی سے اپنا ذکر کرتا ہے: ”شمعوؔن پطرؔس کی طرف سے جو یسوؔع مسیح کا بندہ اور رسول ہے اُن لوگوں کے نام جنہوں نے . . . ہمارا سا قیمتی ایمان پایا ہے۔“ (۲-پطرس ۱:۱) پطرس نے ذاتی طور پر یسوع سے تعلیم پائی تھی اور ایک رسول کی حیثیت سے ذمہداری کا ایک اہم مرتبہ رکھتا تھا۔ تاہم، اس نے خود کو ایک غلام خیال کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کِیا کہ دوسرے مسیحی اس کے ساتھ ایمان سے متعلق استحقاقات میں برابر کے شریک ہیں۔
بعض کہہ سکتے ہیں کہ مسیحی دَور سے قبل خدا کا اسرائیل کو اپنی خاص اُمت قرار دینا مساوات کے اُصول کی نفی کرتا ہے۔ (خروج ۱۹:۵، ۶) وہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ نسلی برتری کی ایک مثال ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اسرائیلیوں نے ابرہام کی اولاد کی حیثیت سے خدا کیساتھ خاص رشتے سے استفادہ کِیا اور انہیں الہٰی انکشافات کے ذریعے کے طور پر بھی استعمال کِیا گیا۔ (رومیوں ۳:۱، ۲) لیکن اسکا مقصد انہیں فوقیت بخشنا نہیں تھا۔ بلکہ اس کا مقصد ’سب قوموں کو برکت دینا تھا۔‘—پیدایش ۲۲:۱۸؛ گلتیوں ۳:۸۔
تاہم، بیشتر اسرائیلیوں نے اپنے جد ابرہام کے ایمان کی نقل نہ کی۔ وہ بےوفا نکلے اور انہوں نے یسوع کو مسیحا کے طور پر رد کر دیا۔ اس وجہ سے خدا نے بھی انہیں رد کر دیا۔ (متی ۲۱:۴۳) تاہم، نوعِانسان میں سے حلیم اشخاص موعودہ برکات سے محروم نہیں ہوئے تھے۔ پنتِکُست ۳۳ س.ع. پر مسیحی کلیسیا وجود میں آئی۔ یہ روحالقدس سے مسحشُدہ مسیحیوں کی تنظیم تھی جو ’خدا کا اسرائیل‘ کہلائی اور یہ برکات حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔—گلتیوں ۶:۱۶۔
اس کلیسیا کے بعض ارکان کو مساوات کا درس سکھانے کی ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر، شاگرد یعقوب نے اُن اشخاص کو نصیحت کی جو غریب اشخاص کی نسبت دولتمند مسیحیوں کو زیادہ عزت دے رہے تھے۔ (یعقوب ۲:۱-۴) یہ غلط تھا۔ پولس رسول نے ظاہر کِیا کہ غیرقوم مسیحی کسی لحاظ سے یہودی مسیحیوں سے کمتر نہیں ہیں اور مسیحی عورتیں کسی بھی طرح مسیحی مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔ اس نے لکھا: ”کیونکہ تم سب اُس ایمان کے وسیلہ سے جو مسیح یسوؔع میں ہے خدا کے فرزند ہو۔ اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔ نہ کوئی یہودی رہا نہ کوئی یونانی۔ نہ کوئی غلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم سب مسیح یسوؔع میں ایک ہو۔“—گلتیوں ۳:۲۶-۲۸۔
آجکل ایک غیرطبقاتی اُمت
یہوواہ کے گواہ آجکل صحیفائی اُصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ معاشرتی طبقات خدا کی نظر میں کچھ معنی نہیں رکھتے۔ لہٰذا، وہ نہ تو پادری طبقے اور عام طبقے میں بٹے ہوئے ہیں اور نہ ہی اُن میں رنگودولت کی بِنا پر تفرقے پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض دولتمند ہیں توبھی وہ ”زندگی کی شیخی“ پر اپنی توجہ مُرتکز نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی چیزیں محض چندروزہ ہیں۔ (۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷) اس کے برعکس، وہ کائنات کے حاکمِاعلیٰ یہوواہ خدا کی پرستش میں متحد ہیں۔
وہ سب اپنے ساتھی انسان کو بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے کام میں شرکت کرنے کی ذمہداری قبول کرتا ہے۔ یسوع کی مانند وہ مظلوم اور بیکس لوگوں سے اُن کے گھروں میں جا کر ملتے اور انہیں خدا کے کلام کی تعلیم دینے سے ان کی عزت کرتے ہیں۔ زندگی میں ادنیٰ حیثیت والے لوگ ان کے شانہبشانہ کام کرتے ہیں جنہیں بعض اعلیٰ طبقہ خیال کرتے ہیں۔ معاشرتی طبقے کی بجائے روحانی خوبیاں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ پہلی صدی کی طرح ایمان میں سب بہنبھائی ہیں۔
مساوات باعثِتنوع
بیشک، مساوات کا مطلب مکمل یکسانیت نہیں ہے۔ اس مسیحی تنظیم میں مختلف نسلی، لسانی، قومی اور معاشی پسمنظروں سے تعلق رکھنے والے مردوزن، پیروجوان شامل ہیں۔ انفرادی طور پر، وہ مختلف ذہنی اور جسمانی لیاقتیں رکھتے ہیں۔ لیکن یہ فرق بعض کو برتر اور دوسروں کو کمتر نہیں بناتا ہے۔ بلکہ ایسا فرق خوشکُن تنوع پر منتج ہوتا ہے۔ یہ مسیحی اس بات کو پہچانتے ہیں کہ اُنکی ہر صلاحیت خدا کی بخشش ہے اسلئے ان کے پاس برتر محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
طبقاتی امتیاز انسان کے خدائی راہنمائی پر چلنے کی بجائے خود سے حکومت کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ جلد ہی، خدا کی بادشاہت اس زمین کی موجودہ حکمرانی کو اپنے ہاتھ میں لیکر انسانساختہ طبقاتی امتیاز اور عرصۂدراز سے تکلیف کا باعث بننے والی دیگر تمام حالتوں کو ختم کر دیگی۔ اسکے بعد، حقیقی مفہوم میں ’حلیم زمین کے وارث ہونگے۔‘ (زبور ۳۷:۱۱) کسی شخص کی مبیّنہ برتری کی بابت شیخی بگھارنے کی تمام وجوہات ختم ہو جائیں گی۔ پھر کبھی معاشرتی طبقات کو عالمگیر انسانی برادری کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
[صفحہ ۵ پر عبارت]
خالق ”اُمرا کی طرفداری نہیں کرتا اور امیر کو غریب سے زیادہ نہیں مانتا کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کاریگری ہیں۔“—ایوب ۳۴:۱۹۔
[صفحہ ۶ پر تصویر]
یہوواہ کے گواہ اپنے پڑوسی کی عزت کرتے ہیں
[صفحہ ۷ پر تصویریں]
سچے مسیحیوں میں روحانی خوبیاں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں