عدممساوات کی وبا کا سدِباب
خالق جلد ہی ایسی مساوات قائم کریگا جس کے انسان مشتاق ہیں۔ اس وقت، کمازکم ہم عدممساوات کی وبا کا سدِباب کرنے کیلئے کچھ اقدام کر سکتے ہیں جو ہم پر اور ہمارے خاندانوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے بیان کے مطابق ”ایک انسان کو دوسرے انسان سے فرق کرنے والا عنصر یہ ہے کہ ہم دوسروں کی طرف سے عطاکردہ چیزوں سے نہیں بلکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اُسی سے اپنی زندگی سنوارتے ہیں۔“
تاریخ اُس کے الفاظ کی تصدیق کرتی ہے۔ ایسے بہتیرے مردوزن ہیں جنہیں پیدائش کے وقت زیادہ چیزیں میسر نہیں تھیں لیکن ان کے پاس جو کچھ بھی تھا اُسی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرکے انہوں نے ایسی کامرانیاں حاصل کیں جو انہیں انکے زیادہ خداداد قابلیت کے حامل ہمعصروں سے فرق کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، دیگر اشخاص کے پاس پیدائش کے وقت ہی سے بہت کچھ تھا جو انہوں نے فضول اُڑا دیا اور ان سے بھرپور فائدہ نہ اُٹھایا۔
جو کچھ آپ کے پاس ہے اُس سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں!
یہوواہ کے گواہ بائبل کے مطالعے کے ذریعے خدا کے مقاصد کا علم حاصل کرنے کیلئے لوگوں کی مدد کرنے میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ تاہم، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بائبل کی معلومات سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کیلئے لوگوں کو پڑھنے لکھنے کے قابل ہونا چاہئے۔ اِسی وجہ سے، یہوواہ کے گواہوں نے ہزاروں لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا ہے جن میں صرف ایک مغربی افریقی ملک میں ۲۳،۰۰۰ اشخاص (۱۹۹۰ کے وسط میں) شامل ہیں۔ یہوواہ کے گواہ جو نمایاں سماجی خدمت انجام دیتے ہیں اس کا حوالہ دیتے ہوئے، سان فرانسسکو اگزامینر بیان کرتا ہے: ”آپ انہیں قابلِنمونہ شہری خیال کر سکتے ہیں۔ وہ فرضشناسی سے ٹیکس ادا کرتے، بیماروں کی دیکھبھال کرتے، ناخواندگی کے خلاف نبردآزما ہوتے ہیں۔“
علاوہازیں، عوامی خطاب کے ترقیپسندانہ کورس کے ذریعے، یہوواہ کے گواہوں نے ہزاروں لوگوں کی لائق مقرر بننے میں تربیت کی ہے تاکہ وہ عوام میں فصاحت سے اپنا اظہار کرنے کے لائق ہوں۔ ان ہزاروں میں بعض ایسے ہیں جنہیں کبھی بولچال میں سخت مشکلات درپیش تھیں۔ جنوبی افریقہ کے ایک آدمی پر غور کریں جس نے لکھا: ”مَیں اسقدر ہکلاتا تھا کہ مَیں شرمیلا بن گیا، عام طور پر دوسروں پر انحصار کرنے لگا کہ وہ میرے لئے بولیں۔ . . . جب میں نے تھیوکریٹک منسٹری سکول میں شمولیت اختیار کی تو مجھے تھوڑے سے لوگوں کے سامنے بائبل پڑھائی کرنی تھی . . .، مَیں اسقدر ہکلایا کہ مَیں مقررہ وقت میں تفویض مکمل نہ کر سکا۔ اجلاس کے اختتام پر [مشورہ دینے والے نے] مجھے مہربانہ انداز میں عملی مشورت دی۔ اُس نے تجویز پیش کی کہ مَیں اونچی آواز میں پڑھائی کِیا کروں۔ اپنی بائبل اور مینارِنگہبانی کے رسالے کی اونچی آواز میں ہر روز پڑھائی کیلئے وقت صرف کرتے ہوئے مَیں نے ایسا ہی کِیا۔“ اس آدمی نے اس حد تک ترقی کر لی ہے کہ اب وہ سینکڑوں حتیٰکہ ہزاروں سامعین کے سامنے عوامی خطاب پیش کرتا ہے۔
بھائیوں کے درمیان مساوات کا تجربہ کرنا
جہاں تک تعلیم، طبّی نگہداشت اور معاشی اور سماجی حیثیت کا تعلق ہے تو یہوواہ کے گواہوں کے درمیان صورتحال بڑی مختلف ہے۔ یہ اختلافات ناکامل دنیاوی حالتوں کی عکاسی کرتے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ دیگر مذہبی گروہوں کے برعکس نسلی، معاشرتی اور معاشی تعصّب کا انکی صفوں سے عملاً قلعقمع کر دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے جوکچھ بائبل سے سیکھا ہے اس پر عمل کرنے کیلئے اپنی بہترین کوشش کے ذریعے یہ سب کچھ سرانجام دیا ہے۔ وہ سارے دل سے ایسے بائبل اصول قبول کرتے ہیں: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اِسلئےکہ انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] دل پر نظر کرتا ہے۔“ (۱-سموئیل ۱۶:۷) ”خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵) ”بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں اُنکی تدبیر کرو۔ جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو۔“—رومیوں ۱۲:۱۷، ۱۸؛ نیز ۱-تیمتھیس ۶:۱۷-۱۹؛ یعقوب ۲:۵، ۹ کو بھی دیکھیں۔
اتحاد کو فروغ دینے والے ان بائبل اصولوں کیساتھ گہری وابستگی کی وجہ سے یہوواہ کے گواہ اپنے اندر نسلی، معاشرتی یا معاشی اختلافات پر مبنی کسی بھی قسم کی عدممساوات کو برداشت نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، یہ پہلو مسیحی کلیسیا میں ایسا فیصلہ کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے کہ خدمتی شرف کسے دئے جائیں۔ ذمہدارانہ مرتبے جیسےکہ تعلیم دینا اور نگرانی کرنا، صرف اور صرف روحانی لیاقتوں کی بنیاد پر دئے جاتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۳:۱-۱۳؛ ططس ۱:۵-۹۔
طرفدار دنیا کی وجہ سے عدممساوات کے تحت تکلیف اُٹھانے والے لوگوں کو اس وقت کتنی تازگی حاصل ہوتی ہے جب دوسرے اُنکے ساتھ بہنوں اور بھائیوں جیسا سلوک کرتے اور انہیں خالق کے حضور مساوی حیثیت کے حامل خیال کرتے ہیں! مارٹینا اس کی تصدیق کر سکتی ہے۔ جب اس کے باپ نے خاندان کو چھوڑ دیا تو اس نے تنہا ماں کیساتھ غریب گھرانے میں پرورش پائی۔ اکثراوقات اس سے اچھوتوں جیسا سلوک کِیا جاتا تھا اس میں خود اعتمادی کی کمی تھی اور اس نے دوسروں کیساتھ گزارا کرنا مشکل پایا۔ اس نے لاپرواہی والا رُجحان پیدا کر لیا۔ تاہم، بائبل کا مطالعہ شروع کرنے اور یہوواہ کی گواہ بننے کے بعد حالات بدل گئے۔ وہ کہتی ہے: ”مجھے منفی سوچ سے ابھی تک لڑنا پڑتا ہے مگر اب مَیں مسئلے کو حل کرنے کے لائق ہوں۔ میری عزتِنفس بڑھی ہے اور میں بڑے اعتماد کیساتھ بات کرتی ہوں۔ سچائی نے مجھے احساسِذمہداری دی ہے۔ اب میں جانتی ہوں کہ یہوواہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور زندگی بسر کرنے کے لائق ہے۔“
مسیحیوں کے ایک بینالاقوامی گروہ کے طور پر یہوواہ کے گواہ ۲۳۰ ممالک میں ایک حد تک مساوات سے لطف اُٹھاتے ہیں جو آجکل کی دنیا میں واقعی بےمثال ہے۔ کیا کوئی اَور مذہبی تنظیم ایسا دعویٰ کر سکتی ہے اور ان حقائق کا ثبوت دے سکتی ہے؟
بِلاشُبہ، یہوواہ کے گواہ حقیقتپسند ہیں۔ وہ بخوشی تسلیم کرتے ہیں کہ ناکامل ماحول کی پیداوار ہونے کے باعث وہ کسی بھی دوسرے انسان کی طرح انسانی عدممساوات کو ختم کرنے کے لائق نہیں ہیں، جنہوں نے صدیوں سے لیکر کوشش کی اور ناکام ہو گئے۔ تاہم، وہ خوش ہیں کہ اُنہوں نے اپنے اندر سے اس وبا کو ختم کرنے کیلئے بہت کچھ کِیا ہے۔ لہٰذا وہ خدا کے وعدے پر مضبوط ایمان کیساتھ راستبازی کی نئی دنیا پر اُمید رکھتے ہیں جہاں عدممساوات ہمیشہ کیلئے گئی گزری بات ہوگی۔
جیہاں، تمام فرمانبردار انسان جلد ہی ”وقار اور حقوق میں“ مساوات حاصل کریں گے جس کا قصد انکے خالق نے انکے لئے ابتدا ہی سے کِیا ہے۔ کیا ہی خوبصورت خیال! پس اس مرتبہ یہ ایک حقیقت ہوگی!
[صفحہ 7 پر تصویر]
یہوواہ کے گواہ ہزاروں لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے سے ناخواندگی کے خلاف نبردآزما ہیں
[صفحہ 8 پر تصویر]
بائبل سچائی نسلی، معاشرتی اور معاشی تعصّب کا قلعقمع کرنے میں مدد دیتی ہے