یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏8 ص.‏ 3-‏4
  • عدم‌مساوات کی موجودہ وبا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عدم‌مساوات کی موجودہ وبا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • عدم‌مساوات کیا یہ خدا کا مقصد تھا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • کیا سب نسلوں کے لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک ہو سکتا ہے؟—‏پاک کلام میں اِس حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟‏
    مزید موضوعات
  • عدم‌مساوات کی وبا کا سدِباب
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذمہ‌داریوں کے بغیر حقوق؟‏
    جاگو!‏—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏8 ص.‏ 3-‏4

عدم‌مساوات کی موجودہ وبا

‏”‏ہم ان سچائیوں کو بدیہی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ تمام انسان مساوی پیدا ہوئے ہیں اور یہ کہ انہیں اپنے خالق کی طرف سے بعض ناقابلِ‌انتقال حقوق عطا کئے گئے ہیں جن میں زندگی، آزادی اور خوشی کی جستجو شامل ہے۔“‏—‏ڈیکلریشن آف انڈیپینڈنس، جسے ریاستہائے‌متحدہ نے ۱۷۷۶ میں منظور کِیا۔‏

‏”‏تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور مساوی حقوق رکھتے ہیں۔“‏‏—‏ڈیکلریشن آف دی رائٹس آف مین اینڈ آف دی سٹیزن، جسے ۱۷۸۹ میں فرانس کی قومی اسمبلی نے منظور کِیا۔‏

‏”‏تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور مساوی وقار اور حقوق رکھتے ہیں۔“‏‏—‏یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس، جسے ۱۹۴۸ میں اقوامِ‌متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کِیا۔‏

اس کی بابت کوئی شک نہیں کہ انسانوں میں مساوات کی خواہش عالمگیر ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انسانی مساوات کے نظریے کی بابت اکثراوقات آواز اُٹھانی پڑتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوعِ‌انسان ابھی تک مساوات کے نظریے کو سمجھ نہیں پایا ہے۔‏

کیا کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ بحث کر سکتا ہے کہ ۲۰ویں صدی کے اختتام پر، حالات بہتری کی خاطر تبدیل ہوئے ہیں؟ کیا ریاستہائے‌متحدہ اور فرانس کے تمام شہری یا اقوامِ‌متحدہ کے ۱۸۵ رُکن ممالک کے شہری واقعی اُن مساوی حقوق سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں جن کیساتھ وہ مبیّنہ طور پر پیدا ہوئے تھے؟‏

اگرچہ تمام انسانوں کے درمیان مساوات کا نظریہ ”‏بدیہی“‏ ہو سکتا ہے توبھی تمام لوگوں کیلئے ”‏زندگی، آزادی اور خوشی کی جستجو“‏ کے حقوق کا مساوی ہونا بڑی دُور کی بات ہے۔ مثال کے طور پر، زندگی کے حق میں مساوات کی بابت ہم کیا بات کر سکتے ہیں جبکہ افریقہ میں ایک ڈاکٹر ۲،۵۶۹ لوگوں کا علاج کرتا ہے جبکہ یورپ میں ایک ڈاکٹر صرف ۲۸۹ لوگوں کا علاج کرتا ہے؟ آزادی اور خوشی کی جستجو کے حقوق کے سلسلے میں مساوات کی کیا بات کریں جبکہ انڈیا میں لڑکوں کا ایک تہائی اور لڑکیوں کا دو تہائی تو ناخواندہ رہ جاتے ہیں لیکن جاپان، جرمنی اور برطانیہ‌عظمیٰ جیسے ممالک میں عملاً ہر ایک بچے کو تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے؟‏

کیا وسطی امریکی ممالک کے لوگ ۱،۳۸۰ ڈالر کی فی‌کس آمدنی کے ساتھ زندگی میں فرانس میں رہنے والے لوگوں کی طرح کے ”‏وقار اور حقوق“‏ سے استفادہ کرتے ہیں جہاں فی‌کس آمدنی ۲۴،۹۹۰ ڈالر ہے؟ ایک افریقی عورت جس کی عمر ۵۶ سال ہے وہ شمالی امریکہ کی عورتوں کے مقابے میں کس مساوات سے فائدہ اُٹھاتی ہے جن کی عمر ۷۹ سال ہوتی ہے؟‏

عدم‌مساوات کے بہتیرے بھیانک چہرے ہیں۔ معیارِزندگی اور طبّی سہولیات اور تعلیمی مواقع میں عدم‌مساوات ان میں سے چند ایک ہیں۔ بعض‌اوقات لوگوں کو ان کے وقار اور آزادی سے محروم رکھنے میں سیاسی، نسلی یا مذہبی اختلافات حتمی کردار ادا کرتے ہیں۔ مساوات پر تمام بلند بانگ دعوؤں کے باوجود، ہم عدم‌مساوات کی دُنیا میں رہتے ہیں۔ عدم‌مساوات ایک وبا کی طرح تمام انسانی معاشرے میں پھیل گئی ہے۔ غربت، بیماری، جہالت، بیروزگاری اور تعصّب کی شکل میں پیدا ہونے والا درد ہر دل کو چھلنی کرتا ہے۔‏

‏”‏تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں۔“‏ کیا ہی خوبصورت خیال!‏ لیکن کیا ہی المناک بات ہے کہ حقیقت اسکے برعکس ہے!‏

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]‏

UN PHOTO 152113/SHELLEY ROTNER

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں