ساؤل خداوند کا ایک چُنا ہوا وسیلہ
ترسس کا ساؤل مسیح کے پیروکاروں کا اسقدر مخالف تھا کہ اُنہیں قتل کراتا تھا۔ تاہم خداوند نے اُس کیلئے ایک مختلف مستقبل سوچ رکھا تھا۔ ساؤل کو اُسی مقصد کا اہم نمائندہ بننا تھا جسکی اُس نے پُرزور مخالفت کی تھی۔ یسوع نے کہا ”یہ [ساؤل] قوموں بادشاہوں اور بنیاسرائیل پر میرا نام ظاہر کرنے کا میرا چُنا ہوا وسیلہ ہے۔“—اعمال ۹:۱۵۔
جب ساؤل پر رحم ہوا تو اُس کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی اور وہ ”بےعزت کرنے والے“ کی بجائے خداوند یسوع مسیح کا ”چُنا ہوا وسیلہ“ بن گیا۔ (۱-تیمتھیس ۱:۱۲، ۱۳) جب ساؤل مسیحی رسول پولس بن گیا تو جن قوتوں نے اُسے ستفنس کو سنگسار کرنے اور یسوع کے دیگر شاگردوں کو نشانہ بنانے کی تحریک دی تھی، اُنہیں اب یکسر مختلف مقاصد کیلئے استعمال کِیا جانے لگا۔ یسوع نے بدیہی طور پر ساؤل میں عمدہ خصوصیات دیکھ لی تھیں۔ کونسی خصوصیات؟ ساؤل کون تھا؟ اُسکے پسمنظر نے اُسے سچی پرستش کو فروغ دینے کے سلسلے میں استعمال کیلئے اُسے کیسے موزوں ٹھہرایا؟ کیا ہم اُسکے تجربے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
ساؤل کا خاندانی پسمنظر
پنتِکُست ۳۳ س.ع. کے فوراً بعد، ستفنس کے قتل کے وقت ساؤل ”ایک جوان“ شخص تھا۔ فلیمون کو خط لکھتے وقت، ۶۰-۶۱ س.ع. میں وہ ایک ”بوڑھا“ آدمی تھا۔ (اعمال ۷:۵۸؛ فلیمون ۹) علماء کا خیال ہے کہ عمروں کی بابت قدیم حساب کے مطابق ”جوان“ کا مطلب ۲۴ سے ۴۰ سال کے درمیان کی عمر تھی، جبکہ ”بوڑھا“ آدمی ۵۰ سے ۵۶ سال کا ہوتا تھا۔ لہٰذا ساؤل غالباً یسوع کی پیدائش کے چند سال بعد پیدا ہوا تھا۔
اُس وقت یہودی دُنیا کے مختلف حصوں میں رہتے تھے۔ اُنکے یہودیہ سے پراگندہ ہونے کی وجوہات میں فتح، غلامی، جلاوطنی، تجارت اور اپنی مرضی سے نقلمکانی شامل تھی۔ اگرچہ اُس کا خاندان پراگندہ ہونے والے یہودیوں میں سے تھا، تاہم ساؤل نے شریعت کیساتھ اُنکی وابستگی کو نمایاں کرتے ہوئے بیان کِیا کہ ”آٹھویں دن میرا ختنہ ہؤا۔ اؔسرائیل کی قوم اور بنیمینؔ کے قبیلہ کا ہوں۔ عبرانیوں کا عبرانی۔ شریعت کے اعتبار سے فریسی ہوں۔“ ساؤل کا نام وہی تھا جو اُسکے قبیلے کے ایک مشہور شخص—اسرائیل کے پہلے بادشاہ کا تھا۔ پیدائشی طور پر رومی ہونے کی وجہ سے ترسس کے ساؤل کا لاطینی نام پولس بھی تھا۔—فلپیوں ۳:۵؛ اعمال ۱۳:۲۱؛ ۲۲:۲۵-۲۹۔
ساؤل کے پیدائشی طور پر رومی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اُسکے آباؤاجداد میں سے کسی مرد نے شہریت کا استحقاق حاصل کر لیا تھا۔ کیسے؟ اسکے بہت سے طریقے ہیں۔ ورثہ میں شہریت کا حق حاصل کرنے کے علاوہ، یہ مختلف افراد یا گروہوں کو بعض مخصوص شرائط، سیاسی مقاصد یا ریاست کیلئے کوئی خاص خدمت انجام دینے کی صورت میں انعام کے طور پر دیا جا سکتا تھا۔ ایک غلام جو کسی رومی سے اپنی آزادی خریدنے کے قابل ہوتا تھا یا جسے کوئی رومی شہری آزاد کر دیتا تھا وہ بھی رومی شہری بن جاتا تھا۔ رومی فوج کی ملازمت سے فارغ ہونے والے سابقہ فوجی بھی اسے حاصل کر سکتے تھے۔ رومی نوآبادیوں میں بسنے والے مقامی باشندے بھی کچھ عرصہ کے بعد رومی شہری بن جاتے تھے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک دَور میں تو بڑی قیمت کے عوض شہریت کا حق خریدا بھی جا سکتا تھا۔ ساؤل کے خاندان کو شہریت کا حق کیسے حاصل ہوا یہ ابھی تک ایک معمہ ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ساؤل کا تعلق ترسس سے تھا جوکہ رومی صوبے کِلکیہ (اب یہ جنوبی ترکی میں ہے) کا دارالحکومت اور ایک بڑا شہر تھا۔ اگرچہ یہودی آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد یہاں رہتی تھی تاہم ساؤل غیرقوموں کی ثقافت سے بھی واقف ہوا ہوگا۔ ترسس ایک بڑا اور خوشحال شہر تھا جو یونانی تہذیب یا یونانی زبان سیکھنے کے مرکز کے طور پر مشہور تھا۔ پہلی صدی میں اس کی آبادی کا تخمینہ ۳،۰۰،۰۰۰ سے ۵،۰۰،۰۰۰ کے درمیان لگایا گیا ہے۔ ایشیائےکوچک، ارام اور مسوپتامیہ کے درمیان واقع شاہراہ پر یہ ایک تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ ترسس کی خوشحالی کا انحصار تجارت اور آسپاس کے میدانوں کی زرخیزی پر تھا جہاں اناج، مے اور کتان پیدا ہوتا تھا۔ اس کی کپڑے کی کامیاب صنعت میں بکری کے بالوں سے بنا کپڑا شامل تھا جس سے خیمے بنتے تھے۔
ساؤل کی تعلیم
ساؤل یا پولس نے دیانتداری سے اپنی ضروریات پوری کیں اور خیمہدوزی کے ذریعے اپنی مشنری کارگزاری کی کفالت کی۔ (اعمال ۱۸:۲، ۳: ۲۰:۳۴) اُس کا آبائی شہر، ترسس، خیمہدوزی کے لئے خاص طور پر مشہور تھا۔ ساؤل نے غالباً نوعمری میں اپنے باپ سے خیمہدوزی کا کام سیکھا ہوگا۔
زبانوں کی بابت ساؤل کا علم—بالخصوص رومی حکومت کی مشترکہ زبان یونانی پر اُس کا عبور حاصل کرنا بھی اسکے مشنری کام میں بیشقیمت مدد ثابت ہوا۔ (اعمال ۲۱:۳۷-۲۲؛۲) اس کی تحریروں کے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اُس کی یونانی بہت عمدہ ہے۔ اُس کا ذخیرۂالفاظ قدیم یونان یا روم کے ادبی فنپاروں کا نمونہ یا ادیبانہ نہیں بلکہ سپتواُجنتا، عبرانی صحائف کے یونانی ترجمے کی عکاسی کرتا ہے جس سے اُس نے عموماً حوالہ یا اقتباس پیش کِیا۔ اس ثبوت کی بنیاد پر متعدد عالم یہ سمجھتے ہیں کہ ساؤل نے شاید ایک یہودی مدرسے میں کمازکم یونانی میں اچھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ عالم مارٹن ہنجل بیان کرتا ہے کہ ”قدیم وقتوں میں اچھی تعلیم—سب سے بڑھ کر یونانی تعلیم—بغیر کچھ خرچ کئے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی، اس کے لئے مالی معاونت ضروری تھی۔“ پس ساؤل کی تعلیم اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ اُس کا تعلق کسی اعلیٰ خاندان سے تھا۔
غالباً جب وہ ۱۳ سال کا تھا تو اُس نے گھر سے کوئی ۸۴۰ کلومیٹر دُور یروشلیم میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اُس نے گملیایل کے زیرِسایہ تعلیم پائی جو فریسیوں کی روایات کا معروف اور نہایت قابلِاحترام مُعلم تھا۔ (اعمال ۲۲:۳؛ ۲۳:۶) اُس وقت کی وہ تعلیم جو آج کی یونیورسٹی کی تعلیم کے مساوی ہے، اُس نے اُسے یہودیت میں ممتاز مقام حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے۔a
لیاقتوں کا اچھا استعمال
یونانی اور رومی تہذیب کے مرکزی شہر کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے ساؤل کا تعلق تین دُنیاؤں سے تھا۔ ایک وسیعالمشرب اور کثیرالزبان پسمنظر سے تعلق نے بِلاشُبہ ”سب آدمیوں کے لئے سب کچھ [بننے]“ میں اُسکی مدد کی۔ (۱-کرنتھیوں ۹:۱۹-۲۳) رومی شہریت نے بعدازاں اپنی خدمتگزاری کا قانونی طور پر دفاع کرنے اور رومی سلطنت کے اعلیٰترین حکمران تک خوشخبری لیجانے میں اُسکی معاونت کی۔ (اعمال ۱۶:۳۷-۴۰؛ ۲۵:۱۱) بِلاشُبہ قیامتیافتہ یسوع، ساؤل کے پسمنظر، تعلیم اور شخصیت سے واقف تھا جب اُس نے حننیاہ سے کہا: ”تُو جا کیونکہ یہ قوموں بادشاہوں اور بنیاسرائیل پر میرا نام ظاہر کرنے کا میرا چُنا ہوا وسیلہ ہے۔ اور مَیں اُسے جتا دونگا کہ اُسے میرے نام کی خاطر کس قدر دُکھ اُٹھانا پڑیگا۔“ (اعمال ۹:۱۳-۱۶) جب درست راہ پر رہنمائی کی گئی تو دُورافتادہ علاقوں تک بادشاہتی پیغام پھیلانے کیلئے ساؤل کا جوشوجذبہ ایک مفید ذریعہ تھا۔
خاص کام کیلئے یسوع کا پولس کو منتخب کرنا مسیحی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ تھا۔ تاہم جدید زمانے کے تمام مسیحی انفرادی خوبیوں اور صفات کے مالک ہیں جنہیں خوشخبری پھیلانے کیلئے مؤثر طور پر استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ جب پولس نے جان لیا کہ یسوع اُس سے کیا چاہتا ہے تو وہ پیچھے نہ ہٹا۔ اُس نے بادشاہتی مفادات کو فروغ دینے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق سب کچھ کِیا۔ کیا آپکی بابت بھی یہ سچ ہے؟
[فٹنوٹ]
a ساؤل نے گملیایل سے جو تعلیم پائی اُس کی نوعیت اور نصاب کی بابت مزید جاننے کیلئے جولائی ۱۵، ۱۹۹۶ کے واچٹاور کے صفحات ۲۶-۲۹ دیکھیں۔
[صفحہ 30 پر بکس/تصویر]
رومی شہریت کا اندراج اور تصدیق
رومی شہریوں کے جائز بچوں کے اندراج کا قانون بناتے ہوئے اوگوستُس نے دو قوانین وضع کئے جنکا نفاذ چوتھی اور نویں صدی س.ع. میں ہوا۔ پیدایش کے بعد ۳۰ دنوں کے اندر اندر اندراج کِیا جانا چاہئے تھا۔ صوبوں میں، ایک خاندان کو موزوں پبلک ریکارڈ آفس میں مجسٹریٹ کے سامنے یہ حلفیہ بیان دینا ہوتا تھا کہ بچہ جائز تھا اور رومی شہریت رکھتا تھا۔ والدین کے نام، بچے کا نام اور جنس اور تاریخ پیدائش کا اندراج بھی کِیا جاتا تھا۔ ان قوانین کے متعارف ہونے سے پہلے بھی، تمام رومی اضلاع، نوآبادیوں اور دفاتر میں رومی شہریوں کے اندراج کی ہر پانچ سال بعد مردمشماری کے ذریعے تجدید کی جاتی تھی۔
پس موزوں طور پر محفوظ کی گئی تاریخی دستاویزات کے ذریعے کسی کی حیثیت ثابت کی جا سکتی تھی۔ ایسے ریکارڈز کی مصدقہ نقول دو لوحہ لکڑی کے طوماروں (تہدار تختیوں) کی صورت میں حاصل کی جا سکتی تھیں۔ بعض علماء کے خیال میں، جب پولس نے رومی شہریت کا دعویٰ کِیا تو شاید وہ تصدیقی سند دکھانے کے قابل تھا۔ (اعمال ۱۶:۳۷؛ ۲۲:۲۵-۲۹؛ ۲۵:۱۱) چونکہ رومی شہریت کو ایک ”مقدس وصف“ خیال کِیا جاتا تھا اور اُسکی بِنا پر ایک شخص کو بہتیرے استحقاقات حاصل ہو جاتے تھے اس لئے ایسی جعلی دستاویزات تیار کرنا نہایت سنگین جرم تھا۔ اپنی حیثیت کے بارے میں جھوٹ بولنے کی سزا موت تھی۔
[تصویر کا حوالہ]
Dover Publications, Inc., New York/Historic Costume in Pictures
[صفحہ 31 پر بکس/تصویر]
ساؤل کا رومی نام
ہر رومی مرد کے نام کے تین حصے ہوتے تھے۔ اُس کا اپنا نام، قبائلی نام (اُس کے قبیلے یا آباؤاجداد سے متعلق) اور خاندانی نام۔ ایک مشہور مثال گیس جولیس سیزر کی ہے۔ بائبل کوئی بھی مکمل رومی نام بیان نہیں کرتی تاہم دنیوی ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ اگرپا کا پورا نام مارکس جولیس اگرپا تھا۔ گلیو، لوسیس جونیس گلیو تھا۔ (اعمال ۱۸:۱۲؛ ۲۵:۱۳) ایک شخص کے تین ناموں میں سے آخری دو ناموں کی صحیفائی مثالیں پُنطیُس پیلاطُس (زیریں عبارت)، سرگیس پولس، کلودیس لوسیاس اور پُرکیس فیستُس ہیں۔—اعمال ۴:۲۷؛ ۱۳:۷؛ ۲۳:۲۶؛ ۲۴:۲۷۔
یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا پولس ساؤل کا پہلا نام تھا یا خاندانی نام تھا۔ کسی شخص کے نام کے ساتھ اس نام کا اضافہ کر لینا جس سے اُس کے دوست احباب یا عزیزرشتہدار اُسے پکارتے ہیں کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ اس کی متبادل صورت میں ساؤل کی طرح کا ایک غیررومی نام بھی استعمال کِیا جا سکتا تھا۔ ”[ساؤل] رومی نام کے طور پر موزوں نہ تھا،“ ایک عالم بیان کرتا ہے، ”تاہم بطور ایک رومی شہری کے مقامی نام کے طور پر یہ بالکل ٹھیک تھا۔“ مختلف زبانیں بولنے والے علاقوں میں، شاید حالات ہی اس بات کا تعیّن کر سکتے تھے کہ ایک شخص استعمال کرنے کے لئے اپنے ناموں میں سے کس نام کا انتخاب کرتا ہے۔
[تصویر کا حوالہ]
Photograph by Israel Museum, ©Israel Antiquities Authority