سبق نمبر 96
یسوع نے ساؤل کو چُنا
ساؤل ایک رومی شہری تھے جو ترسیس میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک فریسی تھے اور یہودیوں کی شریعت کے ماہر تھے اور مسیحیوں سے نفرت کرتے تھے۔ اُنہوں نے مسیحی آدمیوں اور عورتوں کو اُن کے گھروں سے گھسیٹ کر جیل میں ڈلوا دیا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی ایک بِھیڑ نے غصے میں ستفنُس کو پتھر مار مار کر قتل کر دیا تو ساؤل وہی کھڑے یہ سب دیکھتے رہے۔
لیکن ساؤل یروشلم کے علاوہ باقی جگہوں پر بھی مسیحیوں کو گِرفتار کرانا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے کاہنِاعظم سے کہا کہ وہ اُنہیں شہر دمشق بھیج دے تاکہ وہ وہاں کے مسیحیوں کو بھی پکڑ سکیں۔ جیسے ہی ساؤل شہر کے قریب پہنچے، اُن کی چاروں طرف ایک تیز روشنی چمکنے لگی اور وہ زمین پر گِر گئے۔ اُنہوں نے یہ آواز سنی: ”ساؤل! آپ مجھے کیوں اذیت پہنچا رہے ہیں؟“ ساؤل نے پوچھا: ”آپ کون ہیں؟“ اُنہیں جواب ملا: ”مَیں یسوع ہوں۔ شہر دمشق جائیں۔ وہاں آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔“ ساؤل اُسی وقت اندھے ہو گئے اور لوگوں کو اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں شہر لے جانا پڑا۔
دمشق میں ایک مسیحی رہتا تھا جس کا نام حننیاہ تھا۔ یسوع نے ایک رُویا میں اُن سے کہا: ”یہوداہ کے گھر جائیں جو اُس سڑک پر ہے جو سیدھی کہلاتی ہے اور ساؤل سے ملیں۔“ حننیاہ نے کہا: ”مالک! مجھے اُس آدمی کے بارے میں سب کچھ پتہ ہے۔ وہ آپ کے شاگردوں کو جیل میں ڈلوا رہا ہے!“ لیکن یسوع نے اُن سے کہا: ”اُس کے پاس جائیں۔ مَیں نے ساؤل کو چُنا ہے تاکہ وہ بہت سی قوموں میں خوشخبری کی مُنادی کرے۔“
اِس لیے حننیاہ ساؤل سے ملے اور اُن سے کہا: ”میرے بھائی ساؤل! یسوع نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ دوبارہ دیکھ سکیں۔“ اُسی وقت ساؤل دوبارہ دیکھنے لگے۔ ساؤل نے یسوع کے بارے میں سیکھا اور اُن کے شاگرد بن گئے۔ اب ساؤل بپتسمہ لے چُکے تھے اور وہ دوسرے مسیحیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کی عبادتگاہوں میں مُنادی کرتے تھے۔ ذرا سوچیں کہ جب یہودیوں نے دیکھا ہوگا کہ ساؤل لوگوں کو یسوع کے بارے میں سکھا رہے ہیں تو وہ کتنے حیران ہوئے ہوں گے! وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”کیا یہ وہی آدمی نہیں ہے جس نے یسوع کے شاگردوں کا جینا مشکل کِیا ہوا تھا؟“
تین سال تک ساؤل دمشق میں مُنادی کرتے رہے۔ یہودی ساؤل سے نفرت کرتے تھے اور وہ اُنہیں مار ڈالنے کی سازش کر رہے تھے۔ لیکن بھائیوں کو اِس بارے میں پتہ چل گیا اور اُنہوں نے ساؤل کی مدد کی تاکہ وہ اپنی جان بچا کر بھاگ سکیں۔ اُنہوں نے ساؤل کو ایک ٹوکرے میں بٹھا کر شہر کی دیوار سے نیچے اُتار دیا۔
جب ساؤل یروشلم پہنچے تو اُنہوں نے دوسرے مسیحیوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ مسیحی ساؤل سے ڈرتے تھے۔ پھر ایک شاگرد جس کا نام برنباس تھا، ساؤل کو رسولوں کے پاس لے کر آیا اور اُنہیں یقین دِلایا کہ ساؤل پوری طرح بدل چُکے ہیں۔ ساؤل نے یروشلم کی کلیسیا کے ساتھ مل کر پورے جوش سے بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی کرنا شروع کر دی۔ بعد میں وہ پولُس کے نام سے مشہور ہوئے۔
”مسیح یسوع گُناہگاروں کو نجات دِلانے کے لیے دُنیا میں آئے۔ اور مَیں تو سب سے بڑا گُناہگار ہوں۔“—1-تیمُتھیُس 1:15