تشدد—جلد ہی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگا!
”تشدد قوم کیلئے خطرے کا باعث ہے۔“—دی نیو یارک ٹائمز، ریاستہائے متحدہ۔
”گھر میں تشدد“—او گلوبو، برازیل۔
”دُنیا کی خواتین تشدد کا شکار ہیں“—دی گلوب اینڈ میل، کینیڈا۔
شمالی اور جنوبی امریکہ کے اخباروں کی ایسی شہسرخیاں ایک تشویشناک عالمی رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عالمی ادارۂصحت نے حال ہی میں اسے یوں بیان کِیا، ”تمام اقسام کے تشدد میں حالیہ عشروں کے دوران ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔“
کچھ سنجیدہ اعدادوشمار پر غور کریں:
مردمکُشی۔ لاطینی امریکہ اور کریبیئن میں روزانہ تقریباً ۱،۲۵۰ لوگ پُرتشدد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ”علاقے کے نصف ممالک میں ۱۵ سے ۲۴ سال کے نوجوان لوگوں میں موت کی دوسری بڑی وجہ قتل ہے۔“
بچوں پر تشدد۔ پوری دُنیا کو بچوں کے جسمانی، جنسی اور جذباتی استحصال کے مسائل کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر، ”متعدد صنعتی ممالک میں بالغوں کے سروے سے پتا چلتا ہے کہ ۱۰ سے ۱۵ فیصد بچے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنتے ہیں—جن میں سے بیشتر لڑکیاں ہوتی ہیں۔“
عورتوں پر تشدد۔ ۱۹۹۷ میں عالمی پیمانے پر کی جانے والے انسانی حقوق کے استحصال کی تحقیق کے بعد، محققین نے نتیجہ اخذ کِیا کہ ”دُنیا کے تقریباً تمام ممالک میں گھریلو تشدد خواتین کے زخمی ہونے کا سب سے بنیادی سبب رہا ہے۔“ (ہیومن رائٹس واچ ورلڈ رپورٹ ۱۹۹۸) گھریلو تشدد اگرچہ بہت عام ہے تاہم یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی رپورٹ درج نہیں کرائی جاتی، اسے اب ”۲۰ویں صدی کے خاموش بحران کا نام دیا جا رہا ہے۔“ دی گلوب اینڈ میل، کینیڈا۔
نوح کے زمانے میں بھی زمین اسی طرح ”ظلم سے بھری تھی۔“ (پیدایش ۶:۹-۱۲) تاہم یہوواہ خدا نے ”راستبازی کے منادی کرنے والے“ اور اُسکے خاندان کو اُس وقت بچا لیا جب اُس نے ”بےدین دنیا پر طوفان“ بھیجا تھا۔ خدا ہمارے زمانے میں بھی ایسا ہی کریگا۔ وہ ”دینداروں“ کو بچا لیگا جبکہ بدکار اور متشدّد لوگوں کو ختم کر کے اپنی موعودہ نئی دُنیا میں اس زمین کو فردوس بنائیگا۔ (۲-پطرس ۲:۴-۹؛ ۳:۱۱-۱۳) کیا آپ یہ جان کر پُرجوش محسوس نہیں کرتے کہ تشدد کو بہت جلد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائیگا؟