مسیحی کلیسیا تقویتبخش مدد کا ذریعہ
پوپی، اپنے ۲۰ کے دہے کے اوائل میں ایک خاتون، اپنی تکلیفدہ خاندانی صورتحال کے باعث بہت مایوس تھی جوکہ اُس کے والدین کے ساتھ رابطے کی کمی کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی۔a ایک مسیحی بزرگ اور اُس کی بیوی کے سامنے اپنا دل اُنڈیلنے کے بعد اُس نے اُنہیں لکھا: ”مَیں آپ کی نہایت شکرگزار ہوں کہ آپ نے میرے ساتھ باتچیت کرنے کیلئے وقت نکالا۔ آپ نہیں جانتے کہ میرے لئے آپ کی فکرمندی کیا مطلب رکھتی ہے۔ مَیں یہوواہ کی بھی شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھے ایسے لوگ بخشے ہیں جن پر مَیں اعتماد کر سکتی ہوں اور جن سے مَیں باتچیت کر سکتی ہوں۔“
حال ہی میں بیوہ ہونے والی ایک خاتون طولہ، جسکے دو نوعمر بچے ہیں، اُس نے خود کو جذباتی اور معاشی مشکلات کی دلدل میں پھنسا ہوا پایا۔ کلیسیا کا ایک شادیشُدہ مسیحی جوڑا باقاعدگی کیساتھ اُس سے اور اُسکے بچوں سے تقویتبخش ملاقاتیں کرتا تھا۔ اپنے حالات کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد، اُس نے اُنہیں ایک کارڈ بھیجا جس میں لکھا تھا: ”مَیں آپکو ہمیشہ اپنی دُعاؤں میں یاد رکھتی ہوں۔ مجھے وہ اوقات یاد ہیں جب آپ نے میری مدد اور حمایت کی تھی۔“
کیا آپ بھی بعضاوقات محسوس کرتے ہیں کہ آپ دُنیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے ”دبے ہوئے“ ہیں؟ (متی ۱۱:۲۸) کیا ”وقت اور حادثے“ نے آپ کی زندگی کو دردناک تجربات سے متاثر کِیا ہے؟ (واعظ ۹:۱۱) تو پھر آپ اکیلے نہیں ہیں۔ پس ہزاروں افسردہ لوگوں کی طرح آپ بھی یہوواہ کے گواہوں کی مسیحی کلیسیا سے حقیقی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ پہلی صدی س.ع. میں پولس رسول نے بعض ساتھی ایمانداروں کو اپنے لئے ”تسلی کا باعث“ پایا تھا۔ (کلسیوں ۴:۱۰، ۱۱) آپ بھی ایسا تجربہ کر سکتے ہیں۔
مدد اور حمایت
مسیحی یونانی صحائف میں لفظ ”کلیسیا“ کا ترجمہ یونانی اصطلاح ایکلیسیا سے کِیا گیا ہے جسکا مطلب جمعشُدہ لوگوں کا ایک گروہ ہے۔ اس لفظ میں اتحاد اور باہمی حمایت کے نظریات بھی پائے جاتے ہیں۔
مسیحی کلیسیا خدا کے کلام کی سچائی کی تائید کرتی ہے اور اُس کی بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کرتی ہے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱۵؛ ۱-پطرس ۲:۹) تاہم کلیسیا، اپنے ساتھ رفاقت رکھنے والوں کو روحانی حمایت اور مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ وہاں کسی کو فکرمند، پُرمحبت اور پرواہ کرنے والے دوستوں کا ایک گروہ مل سکتا ہے جو مشکل اوقات میں دوسروں کی مدد کرنے اور تسلی دینے کیلئے تیار اور رضامند ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۷:۵-۷۔
یہوواہ کے پرستاروں کو ہمیشہ اُسکی کلیسیا میں تحفظ اور سلامتی حاصل ہوئی ہے۔ زبورنویس نے ظاہر کِیا کہ اُس نے خدا کے لوگوں کے مجمع میں خوشی اور سلامتی کے احساس کا تجربہ کِیا ہے۔ (زبور ۲۷:۴، ۵؛ ۵۵:۱۴؛ ۱۲۲:۱) اسی طرح آجکل، مسیحی کلیسیا ساتھی ایمانداروں پر مشتمل ایسی برادری ہے جو ایک دوسرے کو تقویت اور حوصلہافزائی دیتی ہے۔—امثال ۱۳:۲۰؛ رومیوں ۱:۱۱، ۱۲۔
کلیسیا کے ارکان کو سکھایا جاتا ہے کہ ”سب کے ساتھ نیکی کریں خاصکر اہل ایمان کے ساتھ۔“ (گلتیوں ۶:۱۰) بائبل سے حاصل ہونے والی تعلیم اُنہیں ایک دوسرے کیلئے برادرانہ محبت اور رحم ظاہر کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ (رومیوں ۱۲:۱۰؛ ۱-پطرس ۳:۸) کلیسیا میں روحانی بہن بھائی، مہربان، امنپسند اور رحمدل ہونے کی تحریک پاتے ہیں۔ (افسیوں ۴:۳) محض رسمی پرستار ہونے کی بجائے وہ دوسروں کے لئے پُرمحبت فکر ظاہر کرتے ہیں۔—یعقوب ۱:۲۷۔
لہٰذا، کلیسیا میں غمزدہ اشخاص خاندانی ماحول جیسی پُرتپاک فضا پاتے ہیں۔ (مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰) ایک پُرمحبت گروہ اور قریبی تعلقات رکھنے والے لوگوں کا حصہ ہونے کا احساس اُنہیں تقویت بخشتا ہے۔ (زبور ۱۳۳:۱-۳) کلیسیا کے ذریعے، ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ ”مناسب وقت پر“ تقویتبخش روحانی خوراک فراہم کرتا ہے۔—متی ۲۴:۴۵۔
پُرمحبت نگہبانوں کی طرف سے مدد
مسیحی کلیسیا کے ارکان اس میں پُرمحبت، قابلِفہم اور لائق چرواہے پانے کی توقع کر سکتے ہیں جو روحانی حمایت اور حوصلہافزائی فراہم کرتے ہیں۔ ایسی خوبیاں رکھنے والے چرواہے ”آندھی سے پناہگاہ کی مانند . . . اور طوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند“ ہیں۔ (یسعیاہ ۳۲:۱، ۲) روح سے مقررشُدہ بزرگ یا نگہبان خدا کے بھیڑخصلت لوگوں کی دیکھبھال کرتے، بیمار اور افسردہ لوگوں کی حوصلہافزائی کرتے اور خطاکاروں کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔—زبور ۱۰۰:۳؛ ۱-پطرس ۵:۲، ۳۔
بلاشُبہ، کلیسیا کی مجلسِبزرگان پیشہور معالج یا ہیلتھ پریکٹیشنر نہیں ہیں جو ساتھی ایمانداروں کو درپیش جسمانی یا ذہنی صحت کے مسائل کو درست کرنے کے قابل ہوں۔ اس نظاماُلعمل میں بیماری کیلئے ”طبیب کی ضرورت“ ہے۔ (لوقا ۵:۳۱) پھربھی ایسے چرواہے روحانی طور پر ضرورتمند لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ (یعقوب ۴:۱۴، ۱۵) جب بھی ممکن ہو تو بزرگ دیگر مدد کیلئے بھی بندوبست کرتے ہیں۔—یعقوب ۲:۱۵، ۱۶۔
ایسے پُرمحبت بندوبست کے پیچھے کون ہے؟ خود یہوواہ خدا! حزقیایل نبی یہوواہ کی یہ کہتے ہوئے تصویرکشی کرتا ہے: مَیں خود اپنی بھیڑوں کی تلاش کرونگا اور اُنکو ڈھونڈ نکالونگا۔ . . . اور اُنکو ہر جگہ سے جہاں وہ . . . تتربتر ہو گئی ہیں چھڑا لاؤنگا . . . مَیں ہی اپنے گلّہ کو چراؤنگا اور اُنکو لٹاؤنگا۔“ خدا کمزور اور شکستہ بھیڑوں کی بابت بھی فکرمند ہے۔—حزقیایل ۳۴:۱۱، ۱۲، ۱۵، ۱۶۔
صحیح وقت پر حقیقی مدد
کیا مسیحی کلیسیا میں حقیقی مدد دستیاب ہے؟ جیہاں، اور درجذیل مثالیں ایسے مختلف حالات کی عکاسی کرتی ہیں جن میں مسیحی کلیسیا مددگار ثابت ہوئی ہے۔
◆ کسی عزیز کی وفات۔ اینا کا شوہر دائمالمرض علالت کے بعد وفات پا گیا۔ وہ کہتی ہے، ”اُس وقت سے مَیں مسیحی برادری کی طرف سے گرمجوش محبت حاصل کر رہی ہوں۔ میرے ساتھی ایمانداروں کی طرف سے دلی وابستگی سمیت حمایت اور حوصلہافزائی کے الفاظ نے میرے دل کو ٹوٹنے کی بجائے دھڑکتے رہنے کے قابل بنایا ہے اور مَیں یہوواہ کی شکرگزار ہوں۔ اُنکی محبت نے مجھے بڑی مدد، سنبھالے جانے اور پُرمحبت دیکھبھال کا احساس دیا ہے۔“ شاید آپکو بھی موت کے سبب سے کسی عزیز کے بچھڑ جانے کا تجربہ ہوا ہو۔ ایسے اوقات پر مسیحی کلیسیا کے ارکان تسلی اور جذباتی حمایت فراہم کر سکتے ہیں۔
◆ بیماری۔ پولینڈ سے ایک سفری نگہبان آرتھر، وسط ایشیا میں کلیسیاؤں کو روحانی تقویت دینے کیلئے باقاعدگی سے دَورہ کرتا تھا۔ ان سفری دَوروں میں سے ایک کے دوران وہ بہت بیمار ہو گیا اور تندرست ہونے تک اُسے سخت مشکلات کا سامنا رہا۔ ”مَیں آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ [قازقستان کے ایک شہر میں] بھائیوں اور بہنوں نے میری کتنی زیادہ دیکھبھال کی،“ آرتھر بڑی قدردانی کے ساتھ یاد کرتے ہوئے بیان کرتا ہے۔ ”بھائی اور بہنیں، جن میں سے بیشتر کو مَیں جانتا بھی نہیں تھا—حتیٰکہ دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی پیسہ، کھانےپینے کی اشیاء اور دوائیاں لائے۔ . . . اور اُنہوں نے بڑی خوشی سے ایسا کِیا۔
”ذرا میرے احساسات کا تصور کریں جب مجھے ایک لفافہ ملا جس میں کچھ پیسے اور یہ خط تھا: ’عزیز بھائی، مَیں آپکو گرمجوش سلام بھیج رہا ہوں۔ ماں نے مجھے آئسکریم کیلئے پیسے دئے تھے مگر مَیں نے آپکو دوائی کیلئے دینے کا فیصلہ کِیا۔ براہِمہربانی جلد صحتیاب ہو جائیں۔ یہوواہ کو ابھی ہماری بہت ضرورت ہے۔ نیک تمنائیں۔ اور ہمیں کچھ اور عمدہ اور تعمیری کہانیاں سنائیں۔ وووا۔‘“ جیہاں، جیسےکہ اس معاملے سے ظاہر کِیا گیا ہے، بیماری کے اوقات میں کلیسیا کے اندر پیروجوان تقویتبخش مدد فراہم کر سکتے ہیں۔—فلپیوں ۲:۲۵-۲۹۔
◆ افسردگی۔ ٹیری، پائنیر یا کلوقتی مناد کے طور پر خدمت کرنے کی دلی خواہش رکھتی تھی۔ تاہم، مشکلات کی وجہ سے اُسے پائنیر خدمت چھوڑنا پڑی۔ وہ کہتی ہے، ”مَیں اس خدمت کو پورا سال بھی جاری نہ رکھنے کے باعث خود کو خطاکار سمجھتی تھی۔“ ٹیری نے غلط طور پر یہ خیال کِیا کہ یہوواہ کی خوشنودی اُس کی خدمت کی مقدار پر منحصر ہے۔ (مقابلہ کریں مرقس ۱۲:۴۱-۴۴) کافی افسردہ ہوتے ہوئے اُس نے خود کو تنہا کر لیا۔ پھر اُسی وقت کلیسیا سے تازگیبخش مدد آئی۔
ٹیری یاد کرتی ہے: ”ایک عمررسیدہ پائنیر بہن میری مدد کیلئے آئی اور جب مَیں نے اپنے احساسات کا اظہار کِیا تو اُس نے میری بات سنی۔ جب مَیں اُسکے گھر سے چلی آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ مجھ پر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ اُس وقت سے لیکر اُس پائنیر بہن اور اُسکے شوہر نے جوکہ کلیسیا میں ایک بزرگ ہے بیشقیمت مدد فراہم کی ہے۔ مجھے ہر روز اُن کی طرف سے پیغام موصول ہوتا ہے کہ مَیں کیسی ہوں۔ . . . اُنہوں نے بعضاوقات مجھے اپنے خاندانی مطالعہ میں بیٹھنے کی دعوت دی ہے جس نے خاندانوں کے قریب رہنے کی اہمیت میرے ذہن پر نقش کر دی ہے۔“
مخصوصشُدہ مسیحیوں اور دیگر لوگوں کے لئے بھی افسردہ، بےحوصلہ اور اکیلا محسوس کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ ہم کتنے شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ خدا کی کلیسیا میں پُرمحبت اور بےغرضانہ مدد موجود ہے۔—۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴۔
◆ آفات اور حادثات۔ خود کو چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کی جگہ پر رکھ کر سوچیں جنکی تمام چیزیں اُنکا گھر جل جانے کے باعث ختم ہو گئیں۔ جلد ہی اُنہیں ”ایک حوصلہافزا تجربہ ہوا جو ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا اور جس نے ہمیں یہوواہ کے لوگوں کے درمیان موجود حقیقی محبت کا احساس دلایا۔“ وہ وضاحت کرتے ہیں: ”فوراً ہی ہمارے روحانی بہن بھائیوں کی طرف سے ہمدردی اور حمایت کے مخلصانہ ٹیلیفون موصول ہونا شروع ہو گئے۔ فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ ہر ایک کی حقیقی فکرمندی اور محبت اس قدر تحریک دینے والی تھی کہ ہم اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے۔“
جلد ہی مقامی کلیسیا کے بزرگوں نے ایک گروپ کو منظم کِیا اور چند ہی دنوں میں اُنہوں نے اس خاندان کیلئے ایک نیا گھر تعمیر کر دیا۔ ایک پڑوسی نے پُرجوش طریقے سے کہا: ”دیکھو! وہاں ہر قسم کے لوگ کام کر رہے ہیں—مرد، عورتیں، حبشی اور ہسپانوی!“ یہ برادرانہ محبت کی واضح شہادت تھی۔—یوحنا ۱۳:۳۵۔
ساتھی مسیحیوں نے خاندان کو لباس، خوراک اور پیسہ بھی دیا۔ والد تبصرہ کرتا ہے: ”یہ کرسمس کے موقع جیسی بات ہے جب ہر کوئی تحائف دیتا ہے، تاہم ہم دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی اَور ایسی حقیقی اور حد سے زیادہ فیاضی سے لطفاندوز نہیں ہوا جس سے ہم ہوئے تھے۔“ اُنہوں نے مزید کہا: ”آگ کی یاد آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے اور مہربانیاں اور اچھے دوستوں کی یاد اسکی جگہ لے رہی ہے۔ زمین پر متحد بھائیوں کے ایسے شاندار خاندان کیلئے ہم اپنے شفیق آسمانی باپ یہوواہ کے نہایت شکرگزار ہیں اور ہم اس خاندان کا حصہ ہونے سے بےحد خوش ہیں!“
بلاشُبہ ہر ایسے حادثے کی صورت میں ایسی مدد ممکن نہیں، اور نہ ہی اسکی توقع کی جاتی ہے۔ تاہم یہ واقعہ یقینی طور پر کلیسیا کی طرف سے مہیا کی جانے والی حمایت کا مظہر ہے۔
اُوپر سے حکمت
بہتیروں نے مسیحی کلیسیا میں مدد اور تقویت کا ایک اور ذریعہ پایا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ کے ذریعے تیار کی جانے والی مطبوعات۔ ان میں مینارِنگہبانی اور جاگو! نمایاں جریدے ہیں۔ بصیرتافروز مشورت اور عملی نصیحت فراہم کرنے کیلئے یہ مطبوعات بائبل میں پائی جانے والی الہٰی حکمت پر مبنی ہیں۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵) صحیفائی معلومات کے ساتھ ساتھ ذہنی افسردگی، بدسلوکی سے نپٹنے، بہتیرے معاشرتی اور معاشی مسائل، نوجوان لوگوں کو درپیش چیلنج اور ترقییافتہ ممالک کی مشکلات کے موضوعات پر ذمہدارانہ اور مستند تحقیق بھی پیش کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر، یہ مطبوعات خدائی راہ کی زندگی کی بہترین راہ کے طور پر حمایت کرتی ہیں۔—یسعیاہ ۳۰:۲۰، ۲۱۔
ہر سال، واچ ٹاور سوسائٹی کو قدردانی کے ہزاروں خطوط موصول ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جاگو! میں خودکشی کے متعلق ایک مضمون کی بابت روس سے ایک جوان شخص نے لکھا: ”افسردگی کی جانب اپنے میلان کے سبب . . . مَیں نے کئی مرتبہ خودکشی کے متعلق سوچا ہے۔ اس مضمون نے مجھے اس یقین پر تقویت بخشی ہے کہ خدا مسائل سے نپٹنے کیلئے میری مدد کریگا۔ وہ چاہتا ہے کہ مَیں زندہ رہوں۔ اس مضمون کی بدولت اُسکی طرف سے فراہمکردہ مدد کیلئے مَیں اُسکا شکرگزار ہوں۔“
اگر اس دُنیا کی طوفانی موجیں اس قدر مُنہزور دکھائی دیں کہ اُن سے نپٹنا مشکل ہو جائے تو آپ یقین رکھ سکتے ہیں کہ مسیحی کلیسیا میں محفوظ مقام موجود ہے۔ واقعی، اگر محبت سے عاری اس نظام کا صحرا آپکی قوت کو نگل رہا ہے تو آپ یہوواہ کی تنظیم میں تقویتبخش نخلستان کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ ایسی حمایت کا تجربہ کرنے کے بعد آپ بھی ایک مسیحی خاتون جیسے جذبات کا اظہار کرنے کے قابل ہوں گے جس نے کامیابی کیساتھ اپنے خاوند کی شدید بیماری کا سامنا کِیا اور لکھا: ”ہمارے لئے دکھائی جانے والی محبت اور فکرمندی کے باعث مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہوواہ نے ہمیں اپنی ہتھیلی پر بٹھا کر مشکلات سے نکالا ہے۔ مَیں اُسکی شاندار تنظیم کا حصہ ہونے کیلئے بہت شکرگزار ہوں!“
[فٹنوٹ]
a نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔
[صفحہ 26 پر تصویریں]
ہم بیمار، غمزدہ اور دیگر لوگوں کیلئے تقویتبخش مدد فراہم کر سکتے ہیں