اُنہوں نے افراتفری کی شکار دُنیا میں امن حاصل کِیا
اس رسالے کے سرِورق پر بوؔسنیا اور ہرزیگوؔینا سے لڑائی کے ایک شعلہفشاں منظر کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ کیا ایسی جگہ پر امن قائم رہ سکتا ہے؟ حیرانکُن بات ہے کہ جواب ہاں میں ہے۔ جبکہ رومن کیتھولک، ایسٹرن آرتھوڈکس، اور مسلمان فرقے اس مصیبتزدہ ملک میں علاقے کی خاطر جنگ کرتے ہیں، بہتیرے لوگ امن کے آرزومند ہیں، اور بعض نے اِسے حاصل کر لیا ہے۔
ڈؔوریمز سرائیوؔو کے رہنے والے تھے، اور وہ یہوؔواہ کے گواہ تھے۔ اُس شہر میں تمامتر افراتفری کے دوران، وہ حسبِدستور بادشاہت کی خوشخبری سنانے کیلئے اپنے پڑوسیوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ (متی ۲۴:۱۴) کیوں؟ کیونکہ ڈؔوریم خاندان جانتا تھا کہ یہ بادشاہت حقیقی ہے، جوکہ آسمانوں میں پہلے ہی سے قائم ہو چکی ہے، اور امن کیلئے نوعِانسان کی بہترین اور واحد اُمید ہے۔ یہوؔواہ کے گواہ اُس پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں جسے پولسؔ رسول نے ”صلح کی خوشخبری“ کہا۔ (افسیوں ۲:۱۷) بوؔزو اور ہؔینی ڈوریم جیسے لوگوں کی بدولت، بوؔسنیا اور ہرزیگوؔینا میں بہتیرے امن حاصل کر رہے ہیں۔
ایک حقیقی امن آنے والا ہے
ڈؔوریمز کی بابت کہنے کو اَور بھی بہت کچھ ہے۔ تاہم، آئیے پہلے ایک اَور جوڑے کی بابت گفتگو کریں جس نے خدا کی بادشاہت پر اعتماد کو پیدا کِیا۔ اُنکے نام آؔرٹر اور آؔرینا ہیں۔ وہ اور اُنکے نوجوان بیٹے سابقہ سوویت یونین کے علاقے میں ایک جمہوریہ ریاست میں رہتے تھے۔ جب خانہجنگی شروع ہوئی تو آؔرٹر فریقین میں سے ایک کی جانب سے لڑا۔ تاہم، تھوڑی ہی دیر بعد، اُس نے خود سے پوچھا، ’مَیں اُن لوگوں کے خلاف کیوں لڑ رہا ہوں جو میرے ہمسائے ہوا کرتے تھے؟‘ اُس نے ملک چھوڑ دیا اور بہت مشکلات کے بعد اپنے ننھےمنے خاندان کیساتھ ایستوؔنیا پہنچ گیا۔
سینٹ پیڑزبرگ کی سیاحت کے دوران، آؔرٹر یہوؔواہ کے گواہوں سے ملا اور جوکچھ اُس نے خدا کی بادشاہت کی بابت سیکھا اُس سے بہت متاثر ہوا۔ یہوؔواہ کی مرضی یہ ہے کہ بہت جلد خدا کی بادشاہت نوعِانسان پر واحد حکمران ہوگی۔ (دانیایل ۲:۴۴) پھر یہ زمین مزید خانہجنگیوں اور بینالاقوامی فسادات سے پاک ایک پُرامن جگہ ہوگی۔ یسعیاؔہ نے اُس وقت کی بابت پیشینگوئی کی تھی: ”وہ میرے تمام کوہِمُقدس پر نہ ضرر پہنچائینگے نہ ہلاک کرینگے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“—یسعیاہ ۱۱:۹۔
بائبل مطالعے کی ایک معاون کتاب میں مستقبل کی اُس پُرامن زمین کی بابت ایک مُصوّر کی تصویر کو دیکھتے ہوئے جو ایک گواہ نے اُسے دکھائی تھی، آؔرٹر نے بیان کِیا کہ وہ بھی ایسی جگہ پر رہا کرتا تھا جو کبھی اسکی مانند دکھائی دیتی تھی۔ اب، اگرچہ، اسے خانہجنگی سے تباہ کِیا جا رہا تھا۔ واپس ایستوؔنیا میں، آؔرٹر اور اُسکا خاندان یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعے کے ذریعے خدا کی بادشاہت کی بابت مزید سیکھ رہے ہیں۔
افراتفری کے درمیان امن
زبور ۳۷:۳۷ کہتی ہے: ”کامل آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ کیونکہ صلح دوست آدمی کیلئے اجر ہے۔“ دراصل، خدا کی نظروں میں کامل اور صلح دوست انسان کا امن اُسکے مستقبل تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہ اس وقت بھی اس سے لطفاندوز ہوتا ہے۔ یہ کسطرح ممکن ہے؟ پالؔ نامی ایک شخص کے تجربے پر غور کریں۔
پالؔ جنوبمغربی ایتھیوؔپیا میں ایک دور افتادہ پناہگزین کیمپ میں رہتا ہے، اگرچہ اُسکا تعلق درحقیقت ہمسایہ ملک سے ہے۔ اپنے آبائی وطن میں، اُسکی ملاقات یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک سے ہوئی جو ایک تیل کی کمپنی کیلئے کام کرتا تھا، اور اس شخص نے اُسے بائبل مطالعے کی ایک معاون کتاب سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے پیش کی۔a پالؔ گواہوں سے دوبارہ کبھی نہ ملا لیکن اُس نے کتاب کا بغور مطالعہ کِیا۔ خانہجنگی نے اُسے ایتھیوؔپیا میں ایک پناہگزین کیمپ میں پہنچا دیا، اور جوکچھ اُس نے سیکھا تھا وہاں اُس نے دوسروں کیساتھ اُسکی بابت گفتگو کی۔ ایک چھوٹا گروہ اسے سچائی کے طور پر قبول کرنے لگا۔ جوکچھ اُنہوں نے سیکھا تھا اُسکی بنا پر، وہ بہت جلد کیمپ میں دوسروں کو منادی کر رہے تھے۔
پالؔ نے مدد کیلئے درخواست کرتے ہوئے واچٹاور سوسائٹی کے ہیڈکوارٹر کو لکھا۔ ادیسؔ اَبابا سے بھیجا گیا خادم یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ۳۵ لوگ، خدا کی بادشاہت کی بابت مزید سیکھنے کیلئے تیار، اُسکا انتظار کر رہے تھے۔ باقاعدہ بنیاد پر مدد مہیا کرنے کیلئے انتظامات کئے گئے۔
یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ پالؔ جیسے لوگ امن سے لطف اُٹھاتے ہیں؟ اُنکی زندگیاں آسان تو نہیں ہیں لیکن وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب اس دُنیا کی افراتفری سے متاثر ہوتے ہیں تو وہ بائبل کی مشورت کا اطلاق کرتے ہیں: ”کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنت کے وسیلہ سے شکرگذاری کیساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔“ نتیجتاً، وہ ایسا اطمینان حاصل کرتے ہیں جسکی آجکل قلّت ہے۔ فلپیوں کی کلیسیا کیلئے پولسؔ کے الفاظ اُن پر عائد ہوتے ہیں: ”خدا کا اطمینان [”امن،“ اینڈبلیو] جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوؔع میں محفوظ رکھیگا۔“ یقیناً، وہ یہوؔواہ، ”امن کے خدا“ سے قریبی رشتہ محسوس کرتے ہیں۔—فلپیوں ۴:۶، ۷، ۹۔
موجودہ امن
خدا کی بادشاہت کا تختنشین بادشاہ یسوؔع مسیح ہے جسے بائبل میں ”سلامتی کا شہزادہ“ کہا گیا ہے۔ (یسعیاہ ۹:۶) اُسکی بابت قدیم نبی نے کہا: ”وہ قوموں کو صلح [”امن،“ اینڈبلیو] کا مُژدہ دیگا اور اُسکی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریایِفراؔت سے انتہایِزمین تک ہوگی۔“ (زکریاہ ۹:۱۰) اسی طرح کے الہامی الفاظ نے ہوؔسے نامی ایک شخص کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
ایک وقت ہوؔسے جیل میں تھا۔ وہ ایک دہشتگرد تھا اور پولیس کی بیرکوں کو اُڑانے کی تیاریاں کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ اُسکا خیال تھا کہ صرف تشدد ہی حکومت کو اس کے ملک میں حالات کو بہتر بنانے پر مجبور کریگا۔ جب وہ قید میں تھا تو یہوؔواہ کے گواہوں نے اُسکی بیوی کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کِیا۔
ہوؔسے کے رہا ہونے کے بعد، اُس نے بھی بائبل کا مطالعہ کِیا، اور جلد ہی زبور ۸۵:۸ کے الفاظ کا اُس پر اطلاق ہونے لگا: ”مَیں سنونگا کہ خداوند خدا کیا فرماتا ہے کیونکہ وہ اپنے لوگوں اور اپنے مُقدسوں سے سلامتی [”امن،“ اینڈبلیو] کی باتیں کریگا۔“ تاہم، یہ آیت ایک آگاہی کیساتھ اختتامپذیر ہوتی ہے: ”پر وہ پھر حماقت کی طرف رجوع نہ کریں۔“لہٰذا، وہ جو یہوؔواہ کے امن کا متلاشی ہے آزادانہ طور پر یا اُسکی مرضی کے خلاف عمل کرنے کی جرأت نہیں کریگا۔
آج، ہوؔسے اور اُسکی بیوی مسیحی خادم ہیں۔ وہ اُن مسائل کے حل کے طور پر دوسروں کی توجہ یہوؔواہ کی بادشاہت پر دلاتے ہیں جنہیں ہوؔسے نے ماضی میں گھر کے بنائے ہوئے بموں سے حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بائبل پر یقین رکھنے کیلئے تیار ہیں، جو کہتی ہے: ”جوکچھ اچھا ہے وہی خداوند عطا فرمائیگا۔“ (زبور ۸۵:۱۲) بلاشُبہ، ہوؔسے حال ہی میں اُنہی بیرکوں میں گیا جنہیں وہ تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ کیوں؟ تاکہ وہاں کے خاندانوں کیساتھ خدا کی بادشاہت کی بابت گفتگو کرے۔
پُرامن لوگ
زبور ۳۷:۱۰، ۱۱ میں ، بائبل کہتی ہے: ”تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ تُو اُسکی جگہ کو غور سے دیکھیگا پر وہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی [”امن،“ اینڈبلیو] کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“ کیا ہی شاندار امکان!
تاہم، غور کریں کہ یہوؔواہ کا امن صرف ”حلیم“ لوگوں کیلئے ہے۔ امن کے متلاشی لوگوں کو پُرامن بننے کیلئے سیکھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ نیوزؔیلینڈ کے ایک باشندے کیتھؔ کے معاملے میں یہی تھا۔ کیتھؔ کو ”جسامت اور شخصیت میں زبردست، جارحیتپسند، اور جھگڑالو“ کے طور پر بیان کِیا جاتا تھا۔ وہ ایک گینگ کا رُکن تھا اور ایک ایسے گھر میں رہتا تھا جو ایک اصلی قلعہ تھا اور اجنبیوں کو باہر رکھنے کیلئے اسکے باغیچوں میں تین محافظ کتے رکھوالی کرتے تھے۔ اُسکی بیوی، اُسکے چھ بچوں کی ماں، اُسے طلاق دے چکی تھی۔
جب کیتھؔ کی ملاقات یہوؔواہ کے گواہوں سے ہوئی تو خوشخبری نے اُس پر گہرا اثر کِیا۔ جلد ہی وہ اور اُسکے بچے گواہوں کیساتھ اجلاسوں پر حاضر ہو رہے تھے۔ اُس نے اپنی کمر تک لمبے بالوں کو کاٹ دیا اور اپنے سابقہ ساتھیوں کیساتھ خدا کی بادشاہت کی بابت کلام کرنے لگا۔ اِن میں سے بھی بعض نے بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔
پوری دُنیا میں لاکھوں راستدل اشخاص کی مانند، کیتھؔ نے پطرؔس رسول کے الفاظ کا اطلاق کرنا شروع کر دیا تھا: ”جو کوئی زندگی سے خوش ہونا اور اچھے دن دیکھنا چاہے . . . بدی سے کنارہ کرے اور نیکی کو عمل میں لائے صلح [”امن،“ اینڈبلیو] کا طالب ہو اور اُسکی کوشش میں رہے۔“ (۱-پطرس ۳:۱۰، ۱۱) کیتھؔ کی سابقہ بیوی نے اُس سے دوبارہ شادی کرنے کیلئے رضامندی کا اظہار کِیا، اور وہ اب ”صلح [”امن،“ اینڈبلیو] کا طالب“ ہونا ”اور اُسکی کوشش میں“ رہنا سیکھ رہا ہے۔
یہوؔواہ کا امن بہتیروں کیلئے زندگیبخش ثابت ہوا ہے، جس میں سابق سوویت یونین میں پیدا ہونے والا کسی زمانے کا نامور کھلاڑی شامل ہے۔ اس آدمی نے اولمپک مقابلے میں میڈل جیتے لیکن وہ مایوس ہو گیا اور منشیات اور الکحل کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ اہم واقعات سے بھرپور ۱۹ سال کے بعد جن میں ساؔئبیریا کے لیبر کیمپ میں تین سال کی سزا بھگتنا، بحری جہاز میں چھپ کر کینیڈؔا کا سفر اور اُسکی منشیات کی عادت کے باعث دو مرتبہ قریبالمرگ حالتیں شامل ہیں، اُس نے زندگی میں حقیقی مقصد حاصل کرنے کیلئے مدد کے واسطے خدا سے دُعا کی۔ روسی زبان بولنے والے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعے نے اُسے اپنے سوالات کے جواب حاصل کرنے میں اُسکی مدد کی۔ آجکل اس شخص نے، دیگر لاکھوں لوگوں کی طرح، خدا کیساتھ اور اپنے آپ میں امن حاصل کر لیا ہے۔
اُمیدِقیامت
آخر میں، آئیے سراؔئیوو میں بوؔزو اور ہؔینی ڈوریم کی طرف واپس چلیں۔ اس جوڑے کی ایک پانچ سالہ بیٹی، میگؔدلینا تھی۔ گزشتہ جولائی میں، وہ تینوں ایک بار پھر اپنی منادی کی کارگزاری میں حصہ لینے کیلئے گھر سے نکلے جب وہ سب کے سب ایک بم پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔ اُس امن کی بابت کیا ہے جسکی وہ دوسروں کو منادی کرتے تھے؟ کیا وہ بم جس نے اُنکی زندگیاں چھین لیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ حقیقی امن نہیں تھا؟
ہرگز نہیں! اس نظامالعمل میں المناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ لوگ بموں یا گولیوں سے مارے جاتے ہیں۔ دیگر بیماری سے یا حادثات میں مر جاتے ہیں۔ بہتیرے بڑھاپے سے مر جاتے ہیں۔ وہ جو خدا کے امن سے لطفاندوز ہوتے ہیں اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں لیکن ایسے واقعات کا امکان اُنہیں نااُمید نہیں کرتا۔
یسوؔع نے اپنی ہمدرد مرؔتھا سے وعدہ کِیا: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہیگا۔“ (یوحنا ۱۱:۲۵) تمام یہوؔواہ کے گواہوں کی طرح، ڈؔوریمز اس پر ایمان رکھتے تھے۔ اور ڈؔوریمز کا یہ ایمان تھا کہ اگر وہ مر بھی گئے تو وہ ایک ایسی زمین پر زندہ ہونگے جو پھر واقعی ایک پُرامن جگہ ہوگی۔ یہوؔواہ خدا ”اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۴۔
اپنے مرنے سے ذرا پہلے، یسوؔع نے اپنے پیروکاروں سے کہا: ”اپنا اطمینان [”امن،“ اینڈبلیو] تمہیں دیتا ہوں۔ . . . تمہارا دل نہ گھبرائے۔“ (یوحنا ۱۴:۲۷) ہم ڈؔوریمز کیساتھ خوشی کرتے ہیں جنکے پاس ایسا امن تھا اور جو قیامت میں یقیناً اس سے مزید بھرپور فائدہ اُٹھائینگے۔ ہم اُن سب کیلئے خوش ہیں جو امن کے خدا، یہوؔواہ کی پرستش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس ذہنی امن ہے۔ وہ خدا کیساتھ امن سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کیساتھ امن پیدا کرتے ہیں۔ اور وہ پُرامن مستقبل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جیہاں، اُنہوں نے امن حاصل کر لیا ہے، اگرچہ وہ افراتفری کی شکار دُنیا میں رہتے ہیں۔ یقیناً، وہ سب جو خدا کی پرستش روح اور سچائی سے کرتے ہیں امن سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ دُعا ہے کہ آپکو بھی ایسا امن حاصل ہو۔ (۴ ۰۱/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔