یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏1 ص.‏ 7-‏17
  • یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوؔواہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
  • ‏”‏مجھے صیوؔن کیلئے بڑی غیرت ہے“‏
  • ‏”‏شہرِصدق“‏
  • یہوؔواہ کے لوگوں کیلئے امن
  • یہوؔواہ کیلئے انتہائی مشکل؟‏
  • ‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ اُنکا خدا ہونگا“‏
  • ‏”‏سچائی اور امن کو عزیز رکھو“‏!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • خدائی اَمن کے پیامبروں کے طور پر خدمت انجام دینا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حقیقی اَمن—‏کس ماخذ سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حجی اور زکریاہ کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏1 ص.‏ 7-‏17

یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہے

‏”‏مَیں اُنکو شفا دُونگا اور امن‌وسلامتی [‏”‏سچائی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی کثرت اُن پر ظاہر کرونگا۔“‏—‏یرمیاہ ۳۳:‏۶‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ امن کے سلسلے میں، قوموں کا ریکارڈ کیا ہے؟ (‏ب)‏ ۶۰۷ ق .‏س.‏ع.‏ میں، یہوؔواہ نے اسرائیل کو امن کی بابت کیا سبق سکھایا؟‏

امن‏!‏ یہ کسقدر پسندیدہ ہے، تاہم انسانی تاریخ میں اسکی کتنی قلّت رہی ہے!‏ بالخصوص، ۲۰ویں صدی امن والی صدی ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اسکی بجائے، اس نے انسانی تاریخ کی دو انتہائی تباہ‌کُن جنگیں دیکھی ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد، عالمی امن کو برقرار رکھنے کیلئے لیگ آف نیشنز قائم کی گئی۔ یہ تنظیم ناکام ہو گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، اسی نصب‌العین کیساتھ اقوامِ‌متحدہ کی تنظیم قائم کی گئی۔ یہ جاننے کیلئے ہمیں صرف روزانہ کے اخبارات پڑھنے کی ضرورت ہے کہ یہ بھی کس بُری طرح سے ناکام ہو رہی ہے۔‏

۲ کیا ہمیں اس بات سے حیران ہونا چاہئے کہ انسانی تنظیمیں امن نہیں لا سکتیں؟ ہرگز نہیں۔ تقریباً ۲،۵۰۰ سال پہلے، خدا کی برگزیدہ قوم، اسرائیل، کو اس سلسلے میں ایک سبق سکھایا گیا تھا۔ ساتویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں، اسرائیل کے امن کو اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت، بابلؔ کی طرف سے خطرہ لاحق تھا۔ اسرائیل نے امن کیلئے مصرؔ پر اُمید لگائی۔ مصرؔ ناکام ہو گیا۔ (‏یرمیاہ ۳۷:‏۵-‏۸؛‏ حزقی‌ایل ۱۷:‏۱۱-‏۱۵)‏۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں، بابلی فوجوں نے یرؔوشلیم کی دیواروں کو مسمار کر دیا اور یہوؔواہ کی ہیکل کو جلا ڈالا۔ یوں اسرائیل نے بُری طرح سے انسانی تنظیموں پر بھروسے کے بے‌اثر ہونے کی بابت سیکھا۔ امن سے لطف‌اندوز ہونے کی بجائے، قوم بابلؔ کی اسیری میں جانے پر مجبور ہو گئی۔—‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۱۷-‏۲۱‏۔‏

۳.‏ یرؔمیاہ کی معرفت یہوؔواہ کے الفاظ کی تکمیل میں، کونسے تاریخی واقعات نے اسرائیل کو امن کی بابت ایک دوسرااہم سبق سکھایا؟‏

۳ تاہم، یرؔوشلیم کے زوال سے پہلے، یہوؔواہ نے آشکارا کر دیا تھا کہ اسرائیل میں حقیقی امن مصرؔ کی بجائے وہ خود لائیگا۔ یرؔمیاہ کی معرفت اُس نے وعدہ کِیا:‏ ”‏مَیں اُنکو شفا دُونگا اور امن‌وسلامتی [‏”‏سچائی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی کثرت اُن پر ظاہر کرونگا۔ اور مَیں یہوؔداہ اور اسرؔائیل کو اسیری سے واپس لاؤنگا اور اُنکو پہلے کی طرح بناؤنگا۔“‏ (‏یرمیاہ ۳۳:‏۶، ۷‏)‏ یہوؔواہ کا وعدہ ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ میں پورا ہونا شروع ہوا جب بابلؔ کو فتح کر لیا گیا اور جلاوطن اسرائیلیوں کو آزادی کی پیشکش کی گئی۔ (‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۲۲، ۲۳‏)‏۵۳۷ ق.‏س.‏ع.‏ کے آخری حصہ میں، اسرائیلیوں کی ایک جماعت نے ۷۰ سال میں پہلی بار اسرائیل کی سرزمین میں عیدِخیام منائی!‏ عید کے بعد، وہ یہوؔواہ کی ہیکل کی تعمیرنو کیلئے روانہ ہوئے۔ اُنہوں نے اس کی بابت کیسا محسوس کِیا؟ بیان کہتا ہے:‏ ”‏جب وہ خداوند کی ستایش کر رہے تھے تو سب لوگوں نے بلند آواز سے نعرہ مارااسلئے کہ خداوند کے گھر کی بنیاد پڑی تھی۔“‏—‏عزرا۳:‏۱۱۔‏

۴.‏ یہوؔواہ نے اسرائیل کو ہیکل کی تعمیر کا کام کرنے کیلئے کیسے جوش دلایا، اور اُس نے امن کی بابت کونسا وعدہ کِیا؟‏

۴ تاہم، اس خوشگوار آغاز کے بعد، اسرائیلی مخالفین کی وجہ سے بے‌حوصلہ ہو گئے تھے ہیکل کی تعمیر کا کام روک دیا۔ چند سال بعد، یہوؔواہ نے حجیؔ اور زکرؔیاہ نبی کو برپا کِیا تاکہ اسرائیلیوں کو تعمیرنو کے کام کو مکمل کرنے کیلئے جوش دلائیں۔ اُن کیلئے حجیؔ کو اُس ہیکل کی بابت جوکہ تعمیر کی جائیگی یہ کہتے سننا کسقدر ہیجان‌خیز رہا ہوگا:‏ ”‏اس پچھلے گھر کی رونق پہلے گھر کی رونق سے زیادہ ہوگی رب‌الافواج فرماتا ہے۔ اور مَیں اس مکان میں سلامتی [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ بخشونگا۔“‏—‏حجی ۲:‏۹۔‏

یہوؔواہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے

۵.‏ زکریاہ آٹھ باب کی بابت کونسی بات قابلِ‌غور ہے؟‏

۵ بائبل کی زکرؔیاہ نام کی کتاب میں، ہم بیشمار ایسی الہامی رویتیں اور پیشینگوئیاں پڑھتے ہیں جنہوں نے پیچھے چھٹی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں خدا کے لوگوں کو تقویت بخشی۔ یہی پیشینگوئیاں ہمیں بھی یہوؔواہ کی حمایت کی یقین‌دہانی کراتی ہیں۔ وہ ہمیں یہ یقین رکھنے کی ہر وجہ فراہم کرتی ہیں کہ یہوؔواہ ہمارے زمانے میں بھی اپنے لوگوں کو امن بخشے گا۔ مثال کے طور پر، اُس کے نام کی حامل کتاب کے آٹھویں باب میں، زکرؔیاہ نبی دس مرتبہ یہ الفاظ ادا کرتا ہے:‏ ’‏یہوؔواہ یوں فرماتا ہے۔‘‏ ہر بار، یہ الفاظ ایک الہٰی فیصلے کو سامنے لاتے ہیں جو خدا کے لوگوں کے امن سے وابستہ ہے۔ ان وعدوں میں سے چند نے پیچھے زکرؔیاہ کے زمانہ میں تکمیل پائی تھی۔ تمام کے تمام پورے ہو گئے ہیں یا آجکل پورے ہونے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔‏

‏”‏مجھے صیوؔن کیلئے بڑی غیرت ہے“‏

۶، ۷.‏ کن طریقوں سے یہوؔواہ ’‏صیوؔن اسرائیل کیلئے غیرت سے سخت غضبناک‘‏ ہوا تھا؟‏

۶ یہ اصطلا‌ح پہلی مرتبہ زکریاہ ۸:‏۲ میں آتی ہے، جہاں ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ مجھے صیوؔن کیلئے بڑی غیرت ہے بلکہ مَیں غیرت سے سخت غضبناک ہوا۔“‏ اپنے لوگوں کیلئے غیور ہونے یعنی بڑی غیرت رکھنے سے یہوؔواہ کے وعدہ کا مطلب یہ تھا کہ وہ اُنکے امن کو بحال کرنے میں چوکس ہوگا۔ اسرائیل کی اپنے مُلک میں بحالی اور ہیکل کی تعمیرنو اس غیرت کے ثبوت تھے۔‏

۷ تاہم، اُن کی بابت کیا ہے جنہوں نے یہوؔواہ کے لوگوں کی مخالفت کی تھی؟ اپنے لوگوں کیلئے اسکی غیرت ان دُشمنوں پر اُس کے ”‏سخت غضب“‏ کے ہمسر ہوگی۔ جب وفادار یہودی دوبارہ تعمیرشُدہ ہیکل میں پرستش کرینگے تو وہ بابلِ‌عظیم کے بُرے انجام پر، جوکہ اب تباہ ہو چکا تھا، غور کرنے کے قابل ہونگے۔ وہ اُن دُشمنوں کی یکسر ناکامی کی بابت بھی سوچ سکتے تھے جنہوں نے ہیکل کی تعمیرنو کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ (‏عزرا۴:‏۱-‏۶؛ ۶:‏۳)‏ اور وہ یہوؔواہ کا شکر ادا کر سکتے تھے کہ اُس نے اپنا وعدہ پورا کِیا ہے۔ اُس کی غیرت اُنکی فتح کا باعث بنی!‏

‏”‏شہرِصدق“‏

۸.‏ زکرؔیاہ کے دِنوں میں، ابتدائی وقتوں کی نسبت کسطرح یرؔوشلیم شہرِصدق بن گیا تھا؟‏

۸ دوسری مرتبہ زکرؔیاہ لکھتا ہے:‏ ”‏خداوند یوں فرماتا ہے۔“‏ اس موقع پر یہوؔواہ کے کیا الفاظ ہیں؟ ”‏مَیں صیوؔن میں واپس آیا ہوں اور یرؔوشلیم میں سکونت کرونگا اور یرؔوشلیم کا نام شہرِصدق ہوگا اور رب‌الافواج کا پہاڑ کوہِ‌مُقدس کہلائیگا۔“‏ (‏زکریاہ ۸:‏۳)‏۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ سے پہلے، یرؔوشلیم کسی بھی طرح سے شہرِصدق نہیں تھا۔ اس کے کاہن اور نبی بداطوار تھے اور اُسکے لوگ بیوفا تھے۔ (‏یرمیاہ ۶:‏۱۳؛‏ ۷:‏۲۹-‏۳۴؛‏ ۱۳:‏۲۳-‏۲۷‏)‏ اب خدا کے لوگ پاک پرستش کیلئے اپنی ذمہ‌داری کو ظاہر کرتے ہوئے، ہیکل کی تعمیرنو کر رہے تھے۔ ایک بار پھر یہوؔواہ روحانی طور پر یرؔوشلیم میں سکونت کرتا تھا۔ پاک پرستش سے متعلق سچائیاں ایک بار پھر اُس میں سنائی دے رہی تھیں، اسلئے یرؔوشلیم کو ”‏شہرِصدق“‏ کہا جا سکتا تھا۔ اُسکا بلند محل‌وقوع ”‏خداوند کا پہاڑ“‏ کہلا سکتا تھا۔‏

۹.‏ ۱۹۱۹ میں، ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کو کس غیرمعمولی حالت کی تبدیلی کا تجربہ ہوا تھا؟‏

۹ جب یہ دونوں اعلانات قدیم اسرائیل کے لئے معنی‌خیز تھے تو جب ۲۰ویں صدی اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہے تو یہ ہمارے لئے بھی انتہائی پُرمطلب ہیں۔ تقریباً ۸۰ سال قبل، پہلی عالمی جنگ کے دوران، چند ہزار ممسوح لوگ جو اُس وقت ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کی نمائندگی کرتے تھے روحانی اسیری میں چلے گئے، بالکل اُسی طرح جیسے قدیم اسرائیل بابلؔ کی اسیری میں چلا گیا تھا۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۶‏)‏ نبوّتی طور پر، اُنہیں سڑکوں پر پڑی ہوئی لاشوں کے طور پر بیان کِیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، وہ ”‏روح اور سچائی سے“‏ یہوؔواہ کی پرستش کرنے کی مخلصانہ خواہش رکھتے تھے۔ (‏یوحنا ۴:‏۲۴‏)‏ لہٰذا، ۱۹۱۹ میں، اُنہیں اُن کی روحانی طور پر مُردہ حالت سے بیدار کرتے ہوئے، یہوؔواہ اُنہیں اسیری سے واپس لایا۔ (‏مکاشفہ ۱۱:‏۷-‏۱۳‏)‏ یوں یہوؔواہ نے یسعیاؔہ کے اس نبوّتی سوال کا جواب گونج‌دار ہاں کے ساتھ دیا:‏ ”‏کیا ایک دن میں کوئی مُلک پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا یکبارگی ایک قوم پیدا ہو جائے گی“‏؟ (‏یسعیاہ ۶۶:‏۸‏)‏ ۱۹۱۹ میں، یہوؔواہ کے لوگ ایک بار پھر روحانی قوم کے طور پر اپنے ذاتی ”‏مُلک“‏ یا زمین پر روحانی حالت میں بحال ہو گئے۔‏

۱۰.‏ ۱۹۱۹ سے شروع کرکے، ممسوح مسیحی اپنے ”‏مُلک“‏ میں کن برکات سے لطف‌اندوز ہوتے رہے ہیں؟‏

۱۰ اس مُلک میں محفوظ، ممسوح مسیحی یہوؔواہ کی عظیم روحانی ہیکل میں خدمت بجا لائے۔ یسوؔع کے زمینی مفادات کی دیکھ‌بھال کرنے کی ذمہ‌داری کو قبول کرتے ہوئے، ایک ایسا استحقاق جس سے وہ اب بھی جبکہ یہ ۲۰ویں صدی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے مستفید ہوتے ہیں، اُنہیں ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کے طور پر مقرر کِیا گیا تھا۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ اُنہوں نے بخوبی جان لیا ہے کہ یہوؔواہ ”‏اطمینان [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کا خدا“‏ ہے۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲۳‏۔‏

۱۱.‏ مسیحی دُنیا کے مذہبی پیشواؤں نے خود کو خدا کے لوگوں کے دُشمن کیسے ظاہر کِیا ہے؟‏

۱۱ تاہم، خدا کے اسرائیل کے دُشمنوں کی بابت کیا ہے؟ اپنے لوگوں کیلئے یہوؔواہ کی غیرت مخالفین کے خلاف اُسکے غضب سے خوب میل کھاتی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران، مسیحی دُنیا کے مذہبی پیشوا بے‌حد ناقابلِ‌برداشت دباؤ ڈالتے رہے جبکہ اُنہوں نے—‏حق‌گو مسیحیوں کے اس چھوٹے گروہ کو ختم کرنے کی کوشش کی—‏اور ناکام رہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران، مسیحی دُنیا کے خادم صرف ایک چیز میں متحد تھے:‏ لڑائی کی دونوں جانب سے، اُنہوں نے یہوؔواہ کے گواہوں کو ختم کرنے کیلئے حکومتوں پر دباؤ ڈالا۔ آجکل بھی، بہت سے ممالک میں مذہبی پیشوا حکومتوں کو یہوؔواہ کے گواہوں کی مسیحی منادی کے کام کو روکنے یا اُس پر پابندی عائد کرنے پر اُکسا رہے ہیں۔‏

۱۲، ۱۳.‏ مسیحی دُنیا کے خلاف یہوؔواہ کے غضب کا اظہار کیسے کِیا گیا ہے؟‏

۱۲ یہوؔواہ اس سے غافل نہیں رہا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد، مسیحی دُنیا نے، باقیماندہ بڑے بابلؔ سمیت، تباہی کا سامنا کِیا۔ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۸‏)‏ دُنیائے‌مسیحیت کی تباہی کی حقیقت اُس وقت منظرِعام پر آئی جب، ۱۹۲۲ سے شروع کرکے، اُسکی روحانی طور پر مُردہ حالت اور اُس پر آنے والی بربادی کی آگاہی کو کھلم کھلا طور پر بے‌نقاب کرتے ہوئے، سلسلہ‌وار علامتی وبائیں نازل کی گئیں۔ (‏مکاشفہ ۸:‏۷–‏۹:‏۲۱‏)‏ اس بات کے ثبوت کے طور پر، وباؤں کا نازل ہونا جاری ہے، ۲۳ اپریل، ۱۹۹۵ کو، پوری دُنیا میں ایک تقریر ”‏جھوٹے مذہب کا خاتمہ قریب“‏ پیش کی گئی، جسکے بعد بادشاہتی خبر کے خصوصی شمارے کی لاکھوں کاپیاں تقسیم کی گئیں۔‏

۱۳ آجکل، مسیحی دُنیا کی حالت قابلِ‌رحم ہے۔ ۲۰ویں صدی کے دوران، اُس کے اراکین نے کینہ‌پرور جنگوں میں جنہیں اُس کے پادریوں اور خادموں نے برکت دی ہے، ایک دوسرے کو قتل کِیا ہے۔ بعض ممالک میں اُسکا اثر درحقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ باقیماندہ بڑے بابلؔ سمیت وہ بربادی کیلئے مقرر کی گئی ہے۔—‏مکاشفہ ۱۸:‏۲۱‏۔‏

یہوؔواہ کے لوگوں کیلئے امن

۱۴.‏ امن‌پسند لوگوں کی کیا نبوّتی لفظی تصویرکشی کی گئی ہے؟‏

۱۴ دوسری جانب، اس سال ۱۹۹۶ میں، یہوؔواہ کے لوگ اپنے بحال‌شُدہ مُلک میں امن سے بکثرت لطف‌اندوز ہوتے ہیں، جیسے‌کہ یہوؔواہ کے تیسرے اعلان میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ یرؔوشلیم کے کوچوں میں عمررسیدہ مردوزن بڑھاپے کے سبب سے ہاتھ میں عصا لئے ہوئے پھر بیٹھے ہونگے۔ اور شہر کے کوچے کھیلنے والے لڑکے لڑکیوں سے معمور ہونگے۔“‏—‏زکریاہ ۸:‏۴، ۵۔‏

۱۵.‏ قوموں کی لڑائیوں کے باوجود، یہوؔواہ کے خادموں نے کس امن سے لطف اُٹھایا ہے؟‏

۱۵ یہ دلکش لفظی تصویر اس جنگ سے تباہ‌حال دُنیا میں—‏امن سے رہنے والے لوگوں کی بابت ایک شاندار چیز کی تصویرکشی کرتی ہے۔ ۱۹۱۹ سے لیکر، یسعیاؔہ کے نبوّتی الفاظ کی تکمیل ہو گئی ہے:‏ ”‏خداوند فرماتا ہے .‏ .‏ .‏ سلامتی [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اُس کو جو دُور ہے اور اُس کو جو نزدیک ہے اور مَیں ہی اُسے صحت بخشونگا۔ لیکن .‏ .‏ .‏ میرا خداوند فرماتا ہے کہ شریروں کے لئے سلامتی [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ نہیں۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۷:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ یقیناً، یہوؔواہ کے لوگ دُنیا کا حصہ نہ ہوتے ہوئے، قوموں کی گھبراہٹ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۵، ۱۶‏)‏ بعض ممالک میں، وہ شدید مشکلات برداشت کرتے ہیں اور چند ایک کو قتل بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حقیقی مسیحیوں کے پاس دو بنیادی طریقوں سے امن ہے۔ اوّل، اُنہیں ”‏خدا کے ساتھ اپنے خداوند یسوؔع مسیح کے وسیلہ سے صلح حاصل ہے۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۱‏)‏ دوئم، وہ آپس میں بھی امن رکھتے ہیں۔ وہ ”‏اُوپر سے حکمت“‏ کو پیدا کرتے ہیں جوکہ ”‏اوّل تو پاک ہوتی ہے۔ پھر ملنسار۔“‏ (‏یعقوب ۳:‏۱۷؛‏ گلتیوں ۵:‏۲۲-‏۲۴‏)‏ علاوہ‌ازیں، وہ انتہائی کامل مفہوم میں اُس وقت امن سے لطف‌اندوز ہونے کی اُمید رکھتے ہیں جب ”‏حلیم مُلک کے وارث ہونگے اور سلامتی [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۱۱‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ ”‏عمررسیدہ مردوزن“‏ اور اسکے علاوہ ”‏لڑکے لڑکیوں“‏ نے کیسے یہوؔواہ کی تنظیم کو مضبوط بنایا ہے؟ (‏ب)‏ کیا چیز یہوؔواہ کے لوگوں کے امن کو ظاہر کرتی ہے؟‏

۱۶ ابھی تک یہوؔواہ کے لوگوں کے درمیان ممسوح ”‏عمررسیدہ مردوزن“‏ موجود ہیں جنہیں یہوؔواہ کی تنظیم کی ابتدائی شاندار کامیابیاں یاد ہیں۔ اُنکی وفاداری اور برداشت کی بہت زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ جوان ممسوح اشخاص نے ۱۹۳۰ کے عشروں اور دوسری عالمی جنگ کے شعلہ‌فشاں ایام کے دوران اور اس کے بعد ہونے والی تیزرفتار ترقی کے سالوں میں پیشوائی کی۔ اس کے علاوہ، خاص طور پر ۱۹۳۵ سے لیکر، ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کی ”‏بڑی بِھیڑ“‏ نے خود کو ظاہر کِیا ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹؛‏ یوحنا ۱۰:‏۱۶‏)‏ جب ممسوح مسیحی بوڑھے ہو گئے ہیں اور تعداد میں بہت کم رہ گئے ہیں تو دوسری بھیڑوں نے منادی کے کام کو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور اسے پوری زمین پر پھیلا دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں خدا کے مُلک میں دوسری بھیڑوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف گزشتہ سال ہی میں، اُن میں سے ۳،۳۸،۴۹۱ نے یہوؔواہ کے لئے اپنی مخصوصیت کی علامت میں بپتسمہ لیا!‏ ایسے نئے اشخاص روحانی اعتبار سے یقیناً بالکل نوجوان ہیں۔ اُن کی تازگی اور جوش قابلِ‌تعریف ہیں جبکہ وہ اُن لوگوں کی صفوں میں اضافہ کرتے ہیں جو ”‏ہمارے خدا کی .‏ .‏ .‏ جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّہ کی“‏ متشکر تعریف کرتے ہیں۔—‏مکاشفہ ۷:‏۱۰‏۔‏

۱۷ آجکل، ’‏کوچے لڑکوں اور لڑکیوں سے معمور ہیں،‘‏ جوانوں جیسی طاقت کے مالک گواہ۔ ۱۹۹۵ کے خدمتی سال میں ۲۳۲ ممالک اور سمندر کے جزائر سے رپورٹیں موصول ہوئی تھیں۔ لیکن ممسوحوں اور دوسری بھیڑوں کے درمیان کوئی بین‌الاقوامی رقابت، بین‌القبائلی نفرت، حسد نہیں ہے۔ سب کے سب محبت میں متحد ہو کر، روحانی طور پر اکٹھے ملکر ترقی کرتے ہیں۔ یہوؔواہ کے گواہوں کی عالمگیر برادری واقعی منظرِعالم پر منفرد ہے۔—‏کلسیوں ۳:‏۱۴؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۱۷‏۔‏

یہوؔواہ کیلئے انتہائی مشکل؟‏

۱۸، ۱۹.‏ ۱۹۱۹ سے لیکر، یہوؔواہ نے وہ سب کچھ کیسے سرانجام دیا ہے جو شاید انسانی نقطۂ‌نظر سے مشکل دکھائی دیتا تھا؟‏

۱۸ پیچھے ۱۹۱۸ میں جب ممسوح بقیہ روحانی اسیری میں چند ہزار افراد پر مشتمل بے‌حوصلہ تھا تو کوئی بھی واقعات کو پیش‌ازوقت نہیں دیکھ سکتا تھا جو صورت وہ اختیار کریں گے۔ تاہم، یہوؔواہ جانتا تھا—‏جیسے‌کہ اُس کے چوتھے نبوّتی اعلان سے تصدیق ہو جاتی ہے:‏ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ اگرچہ اُن ایام میں یہ امر ان لوگوں کے بقیہ کی نظر میں حیرت‌افزا ہو تو بھی کیا میری نظر میں حیرت‌افزا ہوگا؟ رب‌الافواج فرماتا ہے۔“‏—‏زکریاہ ۸:‏۶۔‏

۱۹ ۱۹۱۹ میں، یہوؔواہ کی روح نے اُسکے لوگوں کو آئندہ کام کرنے کیلئے ازسرِنو بحال کِیا۔ پھربھی، یہوؔواہ کے پرستاروں کی چھوٹی سی تنظیم کیساتھ وابستہ رہنے کیلئے ایمان کی ضرورت تھی۔ وہ بہت کم تھے اور بہت سی چیزیں بالکل واضح نہیں تھیں۔ تاہم، آہستہ آہستہ یہوؔواہ نے اُنہیں تنظیمی لحاظ سے مضبوط کِیا اور اُنہیں خوشخبری کی منادی کرنے اور شاگرد بنانے کے مسیحی کام کیلئے تیار کِیا۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۱۷،‏ ۱۹؛‏ متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ بتدریج اُس نے اُنہیں غیرجانبداری اور عالمی حاکمیت جیسے اہم مسائل کی سمجھ حاصل کرنے میں مدد دی۔ کیا یہوؔواہ کیلئے گواہوں کے اس چھوٹے گروہ کے ذریعے اپنی مرضی پوری کرانا انتہائی مشکل تھا؟ جواب یقیناً نہیں ہے!‏ اس رسالے کے ۱۰ تا ۱۵ صفحات پر اس بات کی تصدیق کی گئی ہے جو ۱۹۹۵ کے خدمتی سال کیلئے، یہوؔواہ کے گواہوں کی کارکردگی کے چارٹ کو پیش کرتے ہیں۔‏

‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ اُنکا خدا ہونگا“‏

۲۰.‏ خدا کے لوگوں کا جمع کِیا جانا کتنا وسیع ہوگا اسکی بابت کیا پیشینگوئی کی گئی تھی؟‏

۲۰ پانچواں اعلان آجکل یہوؔواہ کے گواہوں کی پُرمسرت حالت کو مزید ظاہر کرتا ہے:‏ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے دیکھ مَیں اپنے لوگوں کو مشرقی اور مغربی ممالک سے چھڑالُونگا۔ اور مَیں اُنکو واپس لاؤنگا اور وہ یرؔوشلیم میں سکونت کرینگے اور وہ میرے لوگ ہونگے اور مَیں راستی‌وصداقت سے اُنکا خدا ہونگا۔“‏—‏زکریاہ ۸:‏۷، ۸۔‏

۲۱.‏ یہوؔواہ کے لوگوں کا بکثرت امن کس طریقے سے برقرار رکھا گیا اور وسیع کِیا گیا ہے؟‏

۲۱ ۱۹۹۶ میں ہم بِلاجھجک کہہ سکتے ہیں کہ خوشخبری کی منادی پوری دُنیا میں ”‏مشرق سے مغرب“‏ تک ہو چکی ہے۔ سب قوموں کے لوگوں میں سے شاگرد بنائے گئے ہیں اور اُنہوں نے یہوؔواہ کے وعدہ کی تکمیل دیکھی ہے:‏ ”‏تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی [‏”‏امن،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کامل ہوگی۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏)‏ ہمیں امن حاصل ہے کیونکہ ہم نے یہوؔواہ سے تعلیم پائی ہے۔ اس مقصد کیلئے، لٹریچر کی نشرواشاعت ۳۰۰ سے زائد زبانوں میں کی گئی ہے۔ صرف گزشتہ سال ہی میں، مزید ۲۱ زبانوں کا اضافہ ہوا۔ مینارِنگہبانی رسالہ اب ۱۱۱ زبانوں میں اور جاگو!‏ ۵۴ زبانوں میں بیک‌وقت شائع ہوتا ہے۔ نیشنل اور انٹرنیشنل کنونشنیں خدا کے لوگوں کے امن کا عوامی مظاہرہ پیش کرتی ہیں۔ ہفتہ‌وار اجلاس ہمیں متحد کرتے اور حوصلہ‌افزائی مہیا کرتے ہیں جو ہمیں مستحکم رہنے کیلئے درکار ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۳-‏۲۵‏)‏ جی‌ہاں، یہوؔواہ ”‏راستی‌وصداقت“‏ سے اپنے لوگوں کو تعلیم دے رہا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو امن عطا کر رہا ہے۔ اُس بکثرت امن میں حصہ‌دار ہونے کیلئے ہم کسقدر مبارک ہیں!‏ (‏۸ ۰۱/۰۱ w۹۶)‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

▫ جدید زمانے میں، یہوؔواہ کس طرح اپنے لوگوں کیلئے ’‏غیرت سے سخت غضبناک‘‏ ہوا ہے؟‏

▫ جنگ سے تباہ‌حال ممالک میں بھی کیسے یہوؔواہ کے لوگ امن سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں؟‏

▫ کسطرح سے ’‏شہر کے کوچے لڑکے لڑکیوں سے معمور‘‏ ہیں؟‏

▫ یہوؔواہ کے لوگوں کو تعلیم دینے کیلئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں؟‏

‏[‏چارٹ]‏

‏(‏چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

‏[‏تصویر]‏

چھٹی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں، ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے والے وفادار یہودیوں نے جان لیا کہ صرف یہوؔواہ ہی امن کا قابلِ‌بھروسہ ذریعہ ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں