کیا امن ممکن ہے؟
”کہیں نہ کہیں جنگ ہمیشہ رہے گی۔ نوعِانسان کی بابت یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔“ یہ قنوطیانہ خیال حال ہی میں نیوزویک میگزین کے اندر ایک قاری کے خط میں شائع ہوا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کیا جنگ ناگزیر اور امن ناممکن ہے؟ اگر معاملے کو تاریخی حوالے سے پرکھا جائے تو ان دونوں سوالات کا جواب ہاں میں نہ دینا مشکل ہے۔ جہاں تک ریکارڈ رکھنے کا تعلق ہے تو نوعِانسان یکےبعددیگرے جنگ میں اُلجھا رہا ہے، اور انسانوں کے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے زیادہ مؤثر طریقے ایجاد کر لینے سے فسادات زیادہ سے زیادہ تباہکُن ہو گئے ہیں۔
۲۰ویں صدی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ بےشک، اس نے پہلے سے کہیں زیادہ خونی جنگوں کو دیکھا ہے لیکن اس نے ایک نئی چیز کو بھی دیکھا ہے۔ پچاس سال قبل جاؔپان پر دو ایٹم بم گِرا کر ریاستہائےمتحدہ نے نیوکلیئر دَور کو متعارف کرایا۔ اُس وقت سے لیکر پانچ عشروں کے دوران، قوموں نے نیوکلیئر ہتھیاروں کی بڑی ذخیرہاندوزی کر لی ہے جو انسانیت کو متعدد بار تباہ کر سکتی ہے۔ کیا نیوکلیئر ہتھیاروں کا وجود انسانوں کو جنگ کرنے سے روکے گا؟ حقائق خود بتا رہے ہیں۔ ۱۹۴۵ سے لیکر کئی ملین جنگوں میں مارے گئے ہیں—اگرچہ اب تک مزید کوئی نیوکلیئر بم نہیں پھینکے گئے۔
کیوں نسلِانسانی اسقدر جنگجو ہے؟ انسائیکلوپیڈیا امریکانہ انسانی معاشرے کے چند پہلوؤں کا ذکر کرتا ہے جو تاریخی اعتبار سے جنگ کا باعث بنے ہیں۔ ان میں مذہبی تعصب، نسلپرستی، ثقافتی اختلافات، متضاد نظریات (جیسےکہ اشتمالیت اور سرمایہداری)، قومپرستی اور قومی اقتدار کا عقیدہ، معاشی حالات، اور فوجی طاقت کی عام مقبولیت شامل ہیں۔ جب آپ اس فہرست کو پڑھتے ہیں تو کیا آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں جو ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں بدل جائیگی؟ کیا قومیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کا کم ارادہ رکھتی ہیں؟ کیا انسان کم نسلپرست بن جائینگے؟ کیا مذہبی بنیادپرست کم جنونی ہونگے؟ یہ بہت مشکل ہے۔
توپھر، کیا کوئی بھی اُمید نہیں ہے کہ کسینہکسی دن حالات بہتر ہو جائینگے اور دائمی امن ہوگا؟ جیہاں، اُمید ہے۔ اس دُنیا کی افراتفری کے باوجود، آجکل بھی امن حاصل کرنا ممکن ہے۔ لاکھوں نے ایسا کِیا ہے۔ آئیے آپکو اُن میں سے چند ایک لوگوں کی بابت بتائیں اور دیکھیں کہ اُنکے تجربات آپکے لئے کیا مطلب رکھ سکتے ہیں۔ (۳ ۰۱/۰۱ w۹۶)
[تصویر کا حوالہ]
Reuters/Bettmann