جس وقت وہ اِسے پڑھتے ہیں اور وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں
صبحسویرے:
ایک شادیشُدہ جوڑے نے، جو دونوں ہی اپنے گھر سے باہر کام کرتے ہیں، ہر صبح صرف دس منٹ جلدی جاگنے کا اور اُس وقت کو گھر سے تیزی کیساتھ چلے جانے سے پہلے ملکر بائبل پڑھنے کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کِیا۔ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہ اُنکے گھر سے چلے جانے کے بعد بھی دانشمندانہ گفتگو کیلئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
نائجیریا میں ایک بزرگ اپنے گھرانے میں خاندانی بائبل پڑھائی کیلئے تھیوکریٹک منسٹری سکول کیلئے خاکہشُدہ پروگرام کو بنیاد کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ روزانہ کی آیت پر اپنی گفتگو کے بعد وہ ہر روز اُسکا کچھ حصہ پڑھتے ہیں، عموماً صبح کے وقت۔ چند تفویضشُدہ حصوں میں سے بچوں کو باری باری پڑھنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ پھر اُنکو پڑھی جانے والی آیات پر سوالات پوچھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
جاپان میں ایک گھریلو بیوی نے ۱۹۸۵ سے سال میں ایک دفعہ پوری بائبل پڑھی ہے۔ اُسکا پروگرام ہر روز ۵ بجے سے شروع کرکے ۲۰ تا ۳۰ منٹ تک پڑھائی کرنا ہے۔ فوائد کی بابت، وہ کہتی ہے: ”میرا ایمان مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ اپنی بیماری کو بھول جانے میں اور فردوسی اُمید پر توجہ مرکوز رکھنے میں میری مدد کرتی ہے۔“
ایک بہن جو ۳۰ سال سے پائنیر رہی ہے لیکن جسکا شوہر گواہ نہیں ہے اپنی بائبل پڑھائی کرنے کیلئے ہر صبح پانچ بجے جاگتی ہے۔ اُسکے پروگرام کا تقاضا یہ ہے کہ عبرانی صحائف سے چار صفحات پڑھے، ایک باب مسیحی یونانی صحائف میں سے اور ایک آیت امثال میں سے۔ اُس نے ۱۹۵۹ سے ہر سال پوری بائبل پڑھی ہے۔ وہ کہتی ہے: ”میری پڑھائی کے نتیجے میں، مجھے یہوؔواہ کی محبت کا احساس ہوا ہے . . . مجھے حوصلہافزائی، تسلی اور اِصلاح حاصل ہوتی ہے۔“ وہ مزید کہتی ہے: ”بائبل کو پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ یہوؔواہ ہر روز میری زندگی کے اسپرنگ کو کس رہا ہے۔“
ایک بہن جس نے اُس ملک میں سچائی سیکھی جہاں پر یہوؔواہ کے گواہوں کی کارگزاری پر پابندی تھی اُسکا شوہر بھی ایسا ہی ہے جو اُسکے عقائد کا مخالف ہے۔ وہ سوموار سے جمعہ تک، صبح ۶ اور ۷ بجے کے درمیان اپنی بائبل پڑھائی کرنے کے قابل ہے۔ اِس نے اُسے باطنی تقویت بخشی ہے۔ جسطرح اُسکی پڑھائی نے اُس پر اثر ڈالا ہے اُس پر روشنی ڈالتے ہوئے، وہ کہتی ہے: ”ہم یہوؔواہ اور یسوؔع سے پیار کرنا اور خوشی سے زندگی بسر کرنا سیکھتے ہیں، حتیٰکہ مسائل اور مشکلات کے ساتھ بھی، یہ جانتے ہوئے کہ یہوؔواہ کے وعدے ادھورے نہیں رہتے۔“
پائنیر سروس سکول پر حاضر ہونے والی ایک بہن نے بائبل پڑھائی کو روزانہ کا دستور بنانے کیلئے وہاں پیشکردہ مشورت کے مطابق عمل کرنے کا عزم کِیا۔ پہلے تو وہ اِس قابل ہوئی کہ صبح ۵ اور ۶ بجے کے درمیان یہ کرے۔ جب ملازمت کی تبدیلی اِس میں حائل ہوئی تو اُس نے وقت بدل کر رات ۹ سے ۱۰ بجے کے درمیان رکھ لیا۔ جب دیگر چیلنجخیز حالتیں اُٹھ کھڑی ہوئیں، وہ کہتی ہے، ”مَیں حالات کے مطابق اپنے جدوَل میں ردوبدل کرتی رہی۔“
بعدازاں دن میں:
برازیل بیتؔایل خاندان کی رکن دو سگی بہنوں کا دستور ہے کہ ہر روز دوپہر کے کھانے کے بعد تقریباً ۲۰ منٹ کیلئے بائبل پڑھائی کریں۔ وہ تقریباً ۲۵ دفعہ ساری بائبل پڑھ چکی ہیں؛ پھر بھی وہ لکھتی ہیں: ”ہمیں ہمیشہ کوئی نئی چیز ملتی ہے، لہٰذا بائبل پڑھائی کبھی بھی یکسانیت کے باعث اُکتا دینے والی نہیں بنتی۔“
جاپان میں ایک کنواری بہن نے جان لیا کہ بطور ایک گواہ کے پرورِش پانے کے باوجود، وہ صحائف سے اچھی طرح واقف نہ تھی؛ جب وہ پائنیر بنی تو اُس نے باقاعدگی سے بائبل پڑھنے کا فیصلہ کِیا۔ اب وہ ہر ہفتے ایک بار علاج کیلئے ہسپتال کا سفر کرتے ہوئے تھیوکریٹک منسٹری سکول کیلئے اپنی پڑھائی کرتی ہے۔ بعد ازاں، گھر میں، وہ ضمنی تحقیق کرتی ہے۔ ہفتے کے آخر کے قریب، وہ کتابوں کو اُسی ترتیب کے مطابق منتخب کرتے ہوئے جس میں وہ لکھی گئی تھیں، مزید پڑھائی کرتی ہے۔
ایک ۱۳سالہ لڑکا جو پہلے ہی سے تین مرتبہ پوری بائبل پڑھ چکا ہے حالیہ وقت میں سکول سے واپس گھر آنے پر ہر روز ایک باب پڑھ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اِس نے ”یہوواہ کیلئے مزید محبت محسوس کرنے کے واسطے“ اُسکی مدد کی ہے۔
ایک گواہ جس کا جدوَل ایک ملازمت پیشہ شخص، ایک بزرگ، ایک شوہر اور ایک باپ کے طور پر بہت مصروف ہے کام کیلئے ٹرین پر سفر کرتے ہوئے بائبل آڈیوکیسٹیں سنتا ہے۔ پھر گھر میں وہ اُسی مواد کی اپنی ذاتی پڑھائی کرتا ہے۔
اپنی ذاتی پڑھائی کے علاوہ، فرانس میں ایک پائنیر کھانا تیار کرتے وقت، گاڑی چلاتے وقت، مشکل اوقات کی برداشت کرتے وقت یا محض خوشی کی خاطر بائبل آڈیوکیسٹیں سنتی ہے۔
جاپان میں ایک ۲۱ سالہ پائنیر یاد کرتا ہے کہ اُسکی ماں اصرار کِیا کرتی تھی کہ وہ روزانہ کوئی روحانی چیز حاصل کِیا کرے، اور وہ ہر روز بائبل پڑھتا رہا ہے، اگرچہ ہمیشہ ایک ہی وقت پر تو نہیں، چونکہ وہ صرف تین سال کا تھا۔ اُس حصے کو پڑھنے کے بعد جسکا اُس نے دن کیلئے انتخاب کِیا ہے، وہ مرکزی آیات کو دوبارہ ضرور پڑھتا ہے اور پھر جو کچھ اُس نے پڑھ لیا ہے اُسکا ذہنی طور پر اعادہ کرنے کیلئے چند منٹ صرف کرتا ہے۔
ایک اَور گواہ، ایک پائنیر، نے گذشتہ ۱۲ سالوں میں کوئی ۱۰ مرتبہ پوری بائبل پڑھ لی ہے۔ اُس کا شوہر بےایمان ہے، لہٰذا وہ دوپہر کے وقت اپنی پڑھائی کو جدوَل دیتی ہے۔
شام:
جاپان میں ایک بزرگ اور باقاعدہ پائنیر نے گذشتہ آٹھ سالوں سے ایسا ہی کِیا ہے کہ وہ ہر رات سونے سے قبل اپنی بائبل پڑھتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”مَیں بالخصوص اُن صحائف کا شوقین ہوں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہوؔواہ کیسے سوچتا ہے، معاملات کی بابت وہ کیسا محسوس کرتا ہے، اور صورتِحالات سے وہ کیسے نپٹتا ہے۔ اِن صحائف پر غوروخوض کرنے سے، میری مدد ہوئی ہے کہ یہوؔواہ کی سوچ کو اپنی سوچ بناؤں اور اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں اور اپنے خاندان کے ارکان کی اعانت کروں۔“
فرانس میں ایک بزرگ ۱۹۷۹ سے ہر شام ایک گھنٹے کیلئے بائبل پڑھائی کرتا رہا ہے۔ وہ موازنہ کرنے کیلئے اکثر اپنے سامنے پانچ یا چھ ترجمے کھلے رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اُسکی محتاط پڑھائی نے اِس بات کو سمجھنے میں اُسکی مدد کی ہے کہ ”کسطرح روزمرّہ کی حالتوں میں بائبل کے علم کا اطلاق کرے۔“ اِس نے اُسے صحائف سے مشورت دیتے وقت مزید مؤثر ہونے کے لائق بھی بنایا ہے۔
پچھلے ۲۸ برسوں سے، نائجیریا میں ایک بھائی نے اگلی صبح گفتگو کرنے کیلئے شام کے وقت روزانہ صحائف کی جانچ کرنا میں مہیاکردہ صحیفائی آیت کو پڑھنے کا دستور بنا رکھا ہے۔ اِسکے ساتھ، وہ بائبل میں سے اُس پورے باب کو پڑھتا ہے جہاں سے آیت لی گئی ہے۔ اُسکی شادی ہو جانے کے بعد بھی اُس نے اپنی بیوی کیساتھ ملکر پڑھائی کرتے اور مواد پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے دستور کو جاری رکھا۔
ایک نوعمر نے جسکے والدین گواہ نہیں ہیں سونے سے قبل ہر رات پانچ سے دس منٹ تک پڑھائی کرنے کا دستور بنایا ہوا ہے۔ یہ اُس کیلئے نہایت قیمتی لمحات ہیں، اور وہ پڑھائی کرنے سے پہلے اور بعد میں دونوں دفعہ دُعا کرتی ہے۔ اُسکا نصبالعین اُس پیغام کو جاننا ہے جو یہوؔواہ نے بائبلنویسوں میں سے ہر ایک کو دیا۔
بیتؔایل خدمت میں، ایک شادیشُدہ بھائی کہتا ہے کہ اُس نے گذشتہ آٹھ سالوں سے سال میں ایک مرتبہ بائبل کو پڑھا ہے۔ وہ سونے سے پہلے ۲۰ تا ۳۰ منٹوں کیلئے پڑھتا ہے۔ اگرچہ جب وہ بہت زیادہ تھکا ہوا بھی ہو، اُسے یوں لگتا ہے کہ اگر وہ پڑھائی کئے بغیر بستر پر لیٹ جاتا ہے تو وہ سو نہیں سکے گا۔ اُسے اُٹھ کر اِس روحانی حاجت کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ (۱۳ ۵/۰۱ w۹۵)