یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏7 ص.‏ 7-‏11
  • بائبل درحقیقت جو کچھ ہے اُسے ویسے ہی قبول کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل درحقیقت جو کچھ ہے اُسے ویسے ہی قبول کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہ پڑھے اور سمجھے جانے کیلئے تھی
  • عبادتخانوں میں صحائف کی پڑھائی
  • ذاتی جوابی‌عمل اور اطلاق
  • نگہبانی کے عہدوں پر فائز لوگوں کی ذمہ‌داری
  • روزانہ کی بائبل پڑھائی سے فائدہ اُٹھانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • بائبل پڑھائی—‏بااجر اور پُرلطف
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ‏’‏زندگی کے کلام‘‏ پر قائم رہیں
    سچے خدا کی عبادت کریں
  • خود کو پڑھائی کیلئے وقف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏7 ص.‏ 7-‏11

بائبل درحقیقت جو کچھ ہے اُسے ویسے ہی قبول کریں

‏”‏ہم بھی بِلاناغہ خدا کا شکر کر تے ہیں کہ جب خدا کا پیغام ہماری معرفت تمہارے پاس پہنچا تو تم نے اُسے آدمیوں کا کلام سمجھ کر نہیں بلکہ (‏جیسا حقیقت میں ہے)‏ خدا کا کلام جان کر قبول کِیا اور وہ تم میں جو ایمان لائے ہو تاثیر بھی کر رہا ہے۔“‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ بائبل کے اندر کس قسم کی معلومات اِس کتاب کو واقعی ممتاز بنا دیتی ہیں؟‏

مُقدس بائبل دُنیا کی سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والی اور وسیع پیمانے پر تقسیم ہونے والی کتاب ہے۔ اِسے ادبیات کے شاہکاروں میں سے ایک کے طور پر بخوشی تسلیم کِیا گیا ہے۔ تاہم، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بائبل ایسی راہنمائی فراہم کرتی ہے جس کی ہر نسل اور ہر قوم کے لوگوں کو، زندگی میں اُنکے پیشے یا حیثیت سے قطع‌نظر، فوری طور پر ضرورت ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۶، ۷‏)‏ دل‌ودماغ دونوں کو مطمئن کرنے والے انداز میں، بائبل ایسے سوالوں کا جواب دیتی ہے جیسے:‏ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ (‏پیدایش ۱:‏۲۸؛‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ نوعِ‌انسان کی حکومتیں دیرپا اَمن اور سلامتی کو عمل میں لانے کے اہل کیوں نہیں ہوئیں؟ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳؛‏ مکاشفہ ۱۳:‏۱، ۲‏)‏ لوگ کیوں مرتے ہیں؟ (‏پیدایش ۲:‏۱۵-‏۱۷؛‏ ۳:‏۱-‏۶؛‏ رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ اِس مصیبت‌زدہ دُنیا کے درمیان، ہم کسطرح کامیابی کیساتھ زندگی کے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں؟ (‏زبور ۱۱۹:‏۱۰۵؛‏ امثال ۳:‏۵، ۶‏)‏ مستقبل ہمارے لئے کیا تھامے ہوئے ہے؟—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳-‏۵‏۔‏

۲.‏ بائبل کیوں ہمارے سوالات کے مکمل طور پر قابلِ‌اعتماد جوابات فراہم کرتی ہے؟‏

۲ بائبل ایسے سوالوں کا جواب اتنے وثوق کے ساتھ کیوں دیتی ہے؟ کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اُس نے تحریر کیلئے انسانوں کو استعمال کِیا، لیکن جیسا کہ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶ میں واضح طور پر بیان کِیا گیا ہے کہ ”‏ہر ایک صحیفہ .‏ .‏ .‏ خدا کے الہام سے ہے۔“‏ یہ انسانی واقعات کی انفرادی توضیح کی پیداوار نہیں ہے۔ ”‏نبوّت [‏ہونے والی باتوں کی بابت بیانات، الہٰی احکام، بائبل کا اخلاقی معیار]‏ کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی رُوح‌القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کیطرف سے بولتے تھے۔“‏—‏۲-‏پطرس ۱:‏۲۱‏۔‏

۳.‏ (‏ا)‏ ایسی مثالیں دیں جو ظاہر کریں کہ مختلف ممالک کے لوگوں نے بائبل کی کتنی زیادہ قدر کی ہے۔ (‏ب)‏ صحائف کو پڑھنے کی خاطر مختلف اشخاص اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کیلئے کیوں تیار تھے؟‏

۳ بائبل کی قدروقیمت کو سراہتے ہوئے، اِسے اپنے پاس رکھنے اور پڑھنے کیلئے بہت سے لوگوں نے قیدوبند، حتیٰ‌کہ موت، کا بھی خطرہ مول لیا ہے۔ کیتھولک سپینؔ کے اندر گذشتہ سالوں میں یہ بات سچ تھی، جہاں پادری طبقے کو یہ خوف تھا کہ اگر لوگ اُنکی اپنی زبان میں بائبل پڑھیں گے تو اُنکا اثرورسوخ کمزور پڑ جائیگا؛ اؔلبانیہ میں بھی یہ بات سچ تھی، جہاں تمام مذہبی اثرورسوخ کو ختم کرنے کی غرض سے مُلحدانہ نظامِ‌حکومت کے تحت سخت اقدامات کئے گئے تھے۔ تاہم، خداترس افراد نے صحائف کی نقلوں کو سینے سے لگائے رکھا، اُنہیں پڑھا اور ایک دوسرے کیساتھ اُن پر بات‌چیت کی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران، زاکسنؔ‌ہاؤزن کے مرکزِاسیران میں، بائبل کو بڑی احتیاط سے ایک کوٹھڑی سے دوسری تک منتقل کِیا جاتا تھا (‏اگرچہ یہ ممنوع تھا)‏، اور جنہیں اِس تک رسائی حاصل تھی اُنہوں نے دوسروں کیساتھ بات‌چیت کیلئے کچھ حصے زبانی یاد کر لئے۔ ۱۹۵۰ کے عشرے کے دوران، اُسوقت کے کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں، اپنے ایمان کے باعث قید کئے جانے والے یہوؔواہ کے گواہوں نے رات کے وقت پڑھے جانے کی وجہ سے بائبل کے چھوٹے چھوٹے حصوں کو ایک قیدی سے دوسرے تک پہنچانے سے طویل قیدِتنہائی کا خطرہ مول لیا۔ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟ کیونکہ اُنہوں نے پہچان لیا کہ بائبل خدا کا کلام ہے اور وہ یہ جانتے تھے کہ ”‏انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا“‏ بلکہ ”‏ہر بات سے جو خداوند کے مُنہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے۔“‏ (‏اِستثنا ۸:‏۳)‏ بائبل میں درج، اِن اظہارات نے، اُن گواہوں کو ناقابلِ‌یقین ظلم کا نشانہ بننے کے باوجود روحانی طور پر زندہ رہنے کے قابل بنایا۔‏

۴.‏ بائبل کو ہماری زندگیوں میں کیا مقام حاصل ہونا چاہئے؟‏

۴ بائبل کبھی‌کبھار پڑھی جانیوالی کتاب نہیں ہے جسے محض طاق پر رکھ دیا جائے، نہ ہی اِسکا مقصد صرف اُسوقت استعمال کِیا جانا ہے جب ساتھی ایماندار عبادت کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ ہر روز اِسے ہمیں درپیش حالتوں پر روشنی ڈالنے اور ہمیں چلنے کیلئے سیدھا راستہ دکھانے کیلئے استعمال کِیا جانا چاہئے۔—‏زبور ۲۵:‏۴، ۵‏۔‏

یہ پڑھے اور سمجھے جانے کیلئے تھی

۵.‏ (‏ا)‏ اگر کسی بھی طرح ممکن ہو تو ہم میں سے ہر ایک کے پاس کیا ہونا چاہئے؟ (‏ب)‏ قدیم اسرائیل میں، لوگوں نے کیسے معلوم کِیا کہ صحائف کے اندر کیا ہے؟ (‏پ)‏ زبور ۱۹:‏۷-‏۱۱ بائبل پڑھائی کی جانب آپکے رویے کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟‏

۵ ہمارے زمانے میں، بیشتر ممالک کے اندر بائبل کی کاپیاں بآسانی دستیاب ہیں، اور ہم مینارِنگہبانی کے ہر قاری کو اِس کی ایک کاپی حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اُسوقت جبکہ بائبل لکھی جا رہی تھی، کوئی چھاپہ‌خانے نہیں تھے۔ بالعموم لوگوں کے پاس ذاتی کاپیاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن جو کچھ لکھا جا چکا تھا اُسے سننے کیلئے یہوؔواہ نے اپنے خادموں کے واسطے بندوبست کِیا۔ لہٰذا، خروج ۲۴:‏۷ بیان کرتی ہے، جو کچھ یہوؔواہ نے ہدایت دی تھی موسیٰؔ کے اُسے لکھ لینے کے بعد، اُس نے ”‏عہدنامہ لیا اور لوگوں کو پڑھکر سنایا۔“‏ کوہِ‌سیناؔ پر مافوق‌الفطرت مظاہروں کے گواہ ہونے کی حیثیت سے، اُنہوں نے تسلیم کِیا کہ جو کچھ بھی موسیٰؔ نے اُنہیں پڑھکر سنایا وہ خدا کیطرف سے تھا اور یہ کہ اُنہیں اِن معلومات کو جاننے کی حاجت تھی۔ (‏خروج ۱۹:‏۹، ۱۶-‏۱۹؛ ۲۰:‏۲۲)‏ جو کچھ خدا کے کلام میں درج ہے ہمیں بھی اُسے جاننے کی ضرورت ہے۔—‏زبور ۱۹:‏۷-‏۱۱‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ اسرائیلی اُمت کے ملکِ‌موعود میں داخل ہونے سے قبل، موسیٰؔ نے کیا کِیا؟ (‏ب)‏ ہم موسیٰؔ کے نمونے کی تقلید کسطرح کر سکتے ہیں؟‏

۶ لہٰذا بیابان میں اپنی خانہ‌بدوش زندگی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، جب اسرائیلی اُمت نے ملکِ‌موعود میں داخل ہونے کیلئے دریائے یرؔدن کو پار کرنے کی تیاری کی تو اُن کیلئے یہوؔواہ کی شریعت اور اپنے ساتھ اُسکے برتاؤ کا اعادہ کرنا موزوں تھا۔ خدا کی رُوح سے تحریک پاکر، موسیٰؔ نے اُنکے ساتھ ملکر شریعت کا اعادہ کِیا۔ اُس نے اُنہیں شریعت کی تفصیلات یاد دلائیں، اور اُن بنیادی اصولوں اور رجحانات کو اُجاگر کِیا جو یہوؔواہ کیساتھ اُنکے رشتے پر اثرانداز ہونے تھے۔ (‏استثنا ۴:‏۹، ۳۵؛ ۷:‏۷، ۸؛ ۸:‏۱۰-‏۱۴؛ ۱۰:‏۱۲، ۱۳)‏ جب ہم نئی تفویضات قبول کرتے ہیں یا زندگی میں نئی صورتحالات کا سامنا کرتے ہیں تو جو کچھ ہم کر رہے ہیں اُس پر صحائف کو جسطرح اثرانداز ہونا چاہئے اُس پر غور کرنا ہمارے لئے مفید ہوگا۔‏

۷.‏ اسرائیلیوں کے یرؔدن کو پار کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد، یہوؔواہ کی شریعت کو اُنکے ذہنوں اور دِلوں میں نقش کرنے کیلئے کیا کِیا گیا تھا؟‏

۷ اسرائیل کے دریائے یرؔدن کو پار کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد، لوگ دوبارہ جو کچھ یہوؔواہ نے موسیٰؔ کی معرفت فرمایا تھا اُسکا اعادہ کرنے کیلئے جمع ہوئے۔ اُمت یرؔوشلیم کے شمال میں کوئی ۵۰ کلومیڑ کے فاصلے پر جمع ہوئی۔ آدھے قبیلے کوہِ‌عیباؔل کے سامنے اور آدھے کوہِ‌گرؔزیم کے سامنے تھے۔ وہاں یشوؔع نے ”‏شریعت کی سب باتیں یعنی برکت اور لعنت .‏ .‏ .‏ پڑھ کر سنائیں۔“‏ لہٰذا پردیسی باشندوں سمیت مردوں، عورتوں اور چھوٹے بچوں نے ایسے طرزِعمل کو متاثر کرنے والے قوانین کے بروقت اعادے کو سنا جو یہوؔواہ کی ناپسندیدگی پر اور یہوؔواہ کی فرمانبرداری کرنے کی صورت میں اُنہیں حاصل ہونے والی برکات پر منتج ہوگا۔ (‏یشوع ۸:‏۳۴، ۳۵)‏ اُنہیں صاف طور پر ذہن میں رکھنے کی ضرورت تھی کہ یہوؔواہ کے نقطۂ‌نظر سے کیا اچھا اور کیا بُرا تھا۔ مزیدبرآں، اُنہیں اپنے دلوں میں نیکی کے لئے محبت اور بدی کے لئے نفرت کو نقش کرنے کی ضرورت تھی، جیسے کہ آجکل ہم میں سے ہر ایک کرتا ہے۔—‏زبور ۹۷:‏۱۰؛‏ ۱۱۹:‏۱۰۳، ۱۰۴؛‏ عاموس ۵:‏۱۵۔‏

۸.‏ اسرائیل میں خاص قومی اجتماعات پر خدا کے کلام کی وقتاًفوقتاً پڑھائی کا کیا فائدہ تھا؟‏

۸ اُن تاریخی مواقع پر شریعت کی پڑھائیوں کے علاوہ، استثنا ۳۱:‏۱۰-‏۱۲ میں خدا کے کلام کی باقاعدہ پڑھائی کیلئے فراہمی کا ذکر کِیا گیا تھا۔ ہر ساتویں سال تمام اُمت کو خدا کے کلام کی پڑھائی سننے کیلئے جمع ہونا تھا۔ اِس بندوبست نے اُن کیلئے روحانی خوراک فراہم کی۔ اِس نے اُنکے دلوں اور ذہنوں میں نسل کی بابت وعدوں کو برقرار رکھا اور یوں وفادار اشخاص کی مسیحا تک راہنمائی کرنے کا کام سرانجام دیا۔ اسرائیل کے بیابان میں داخل ہونے کے وقت سے لیکر شروع کئے جانے والے روحانی خوراک فراہم کرنے کے انتظامات اُنکے ملکِ‌موعود میں داخل ہونے کے وقت ختم نہ ہوئے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۳، ۴‏)‏ بلکہ، انبیا کے مزید انکشافات شامل کرنے سے خدا کے کلام کو بہتر بنا دیا گیا۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ جب اسرائیلی بڑے گروہوں کی صورت میں جمع ہوتے تھے تو کیا وہ صرف اُسی وقت صحائف کو پڑھتے تھے؟ وضاحت کریں۔ (‏ب)‏ انفرادی خاندانوں کے اندر صحائف میں پائی جانیوالی ہدایت کیسے دی جاتی تھی، اور کس مقصد کیساتھ؟‏

۹ خدا کے کلام کی مشورت کا اعادہ صرف اُنہی اوقات تک محدود نہیں ہونا تھا جب لوگ ایک بڑے گروہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے۔ خدا کے کلام کے حصوں اور اِس میں شامل اصولوں پر روزانہ گفتگو کی جانی تھی۔ (‏استثنا ۶:‏۴-‏۹)‏ آجکل زیادہ‌تر مقامات پر، نوجوان لوگوں کیلئے بائبل کی ایک ذاتی کاپی رکھنا ممکن ہے اور اُن کیلئے ایسا کرنا نہایت مفید ہے۔ لیکن قدیم اسرائیل میں، ایسا معاملہ نہیں تھا۔ اُس زمانے میں، جب والدین خدا کے کلام سے ہدایات دیتے تھے تو اُنہیں اُن چھوٹے چھوٹے اقتباسات سمیت جو اُنہوں نے شاید ذاتی طور پر لکھے ہوں جو کچھ اُنہوں نے زبانی یاد کِیا ہوتا تھا اُس پر اور اُن سچائیوں پر ہی اکتفا کرنا پڑتا تھا جو اُنہوں نے اپنے دلوں میں ذخیرہ کی ہوتی تھیں۔ مسلسل دوہرائی کرنے سے، وہ اپنے بچوں میں یہوؔواہ اور اُسکی راہوں کیلئے محبت کو بڑھائینگے۔ مقصد صرف حقائق پر مبنی علم سے ذہن کو بھر لینا نہیں تھا بلکہ خاندان کے ہر فرد کی مدد کرنا تھا کہ ایسے طریقے سے زندگی بسر کریں جو یہوؔواہ اور اُسکے کلام کیلئے محبت کو ظاہر کرے۔—‏استثنا ۱۱:‏۱۸، ۱۹، ۲۲، ۲۳۔‏

عبادتخانوں میں صحائف کی پڑھائی

۱۰، ۱۱.‏ عبادتخانوں میں صحائف کی پڑھائی کے کس پروگرام پر عمل کِیا جاتا تھا، اور یسوؔع نے اِن مواقع کو کیسا خیال کِیا؟‏

۱۰ یہودیوں کے بابلؔ میں اسیر کر لئے جانے کے تھوڑے عرصہ بعد، پرستش کیلئے مقامات کے طور پر عبادتخانوں کو قائم کِیا گیا۔ اِن اجتماعی مقامات پر خدا کے کلام کے پڑھے جانے اور اِس پر بات‌چیت کرنے کی غرض سے، صحائف کی مزید نقلیں بنائی گئیں۔ یہ عبرانی صحائف کے حصوں پر مشتمل تقریباً ۶،۰۰۰ سال پُرانی ہاتھ سے تحریرشُدہ نقلوں کے بچ جانے میں ایک عنصر تھا۔‏

۱۱ عبادتخانہ کے مذہبی اجتماع کا ایک خاص حصہ توریت کی پڑھائی ہوا کرتا تھا جو جدید بائبلوں کی پہلی پانچ کتابوں کے مساوی ہے۔ اعمال ۱۵:‏۲۱ بیان کرتی ہے کہ پہلی صدی س.‏ع.‏ میں، ہر سبت پر ایسی پڑھائی ہوتی تھی، اور مِشنہ (‏یہودی روایات کا مجموعہ)‏ ظاہر کرتی ہے کہ دوسری صدی کے وقت تک، ہفتے کے دوسرے اور پانچویں دِن پر توریت کی پڑھائیاں ہوتی تھیں۔ یکے‌بعددیگرے، تفویض‌کردہ حصوں کی پڑھائی میں بہت سے اشخاص شرکت کرتے تھے۔ بابلؔ میں رہنے والے یہودیوں کا دستور سال کے سال پوری توریت کو پڑھنا تھا؛ فلسطینؔ کے اندر تین سال کے عرصے تک پڑھائی کو جدوَل کرنے کا دستور تھا۔ انبیا کی تحریروں میں سے کچھ حصے کی پڑھائی اور تشریح بھی کی جاتی تھی۔ یسوؔع کا یہ دستور تھا کہ جہاں وہ رہتا تھا اُس جگہ پر سبت کی بائبل پڑھائی کے پروگراموں کیلئے حاضر ہوا کرتا تھا۔—‏لوقا ۴:‏۱۶-‏۲۱‏۔‏

ذاتی جوابی‌عمل اور اطلاق

۱۲.‏ (‏ا)‏ جب موسیٰؔ نے لوگوں کے سامنے شریعت کو پڑھا تو لوگ کیسے مستفید ہوئے؟ (‏ب)‏ لوگوں نے کیسا جوابی‌عمل دکھایا؟‏

۱۲ الہامی صحائف کی پڑھائی کا مقصد محض رسمی ہونا نہیں تھا۔ یہ فقط لوگوں کے تجسّس کو مٹانے کی خاطر نہیں کی جاتی تھی۔ جب موسیٰؔ نے میدان میں کوہِ‌سیناؔ کیطرف مُنہ کرکے اسرائیل کو ”‏عہدنامہ“‏ پڑھکر سنایا تو اُس نے ایسا اسلئے کِیا تاکہ وہ خدا کے حضور اپنی ذمہ‌داریوں کو جانیں اور اُنہیں پورا کریں۔ کیا وہ کرینگے؟ پڑھائی نے جوابی‌عمل کا تقاضا کِیا۔ لوگوں نے اِس بات کو پہچان لیا اور وہ یہ کہتے ہوئے پکار اُٹھے:‏ ”‏جو کچھ خداوند نے فرمایا ہے اُس سب کو ہم کرینگے اور تابع رہینگے۔“‏—‏خروج ۲۴:‏۷؛ مقابلہ کریں خروج ۱۹:‏۸؛ ۲۴:‏۳۔‏

۱۳.‏ جب یشوؔع نے نافرمانی کے باعث مصائب کی بابت پڑھا تو لوگوں کو کیا کرنا تھا، کس مقصد کیساتھ؟‏

۱۳ بعدازاں، جب یشوؔع نے اُمت کو موعودہ برکات اور مصائب یا لعنتوں کی بابت پڑھکر سنایا تو جوابی‌عمل کا تقاضا کِیا گیا تھا۔ لعنتوں میں سے ہر ایک کے بعد، یہ ہدایت دی گئی:‏ ”‏سب لوگ کہیں آمین۔“‏ (‏استثنا ۲۷:‏۴-‏۲۶)‏ لہٰذا، نقطہ‌بہ‌نقطہ وہ بیان‌کردہ بُرائیوں کیلئے یہوؔواہ کی سزا سے متفق ہوتے گئے۔ جب پوری قوم نے بلند آواز میں اپنے متفق ہونے کا اقرار کِیا تو یہ کتنا اثرآفرین سماں ہوا ہوگا!‏

۱۴.‏ نحمیاؔہ کے دِنوں میں، شریعت کی عوامی پڑھائی کیوں بالخصوص مفید ثابت ہوئی؟‏

۱۴ نحمیاؔہ کے دنوں میں، جب تمام لوگ شریعت کو سننے کیلئے یرؔوشلیم میں جمع ہوئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ وہاں تحریرکردہ ہدایات کی پوری طرح پیروی نہیں کر رہے تھے۔ اُس موقع پر اُنہوں نے جو کچھ سیکھا اُسکا بِلاتاخیر اطلاق کِیا۔ نتیجہ کیا تھا؟ ”‏بہت بڑی خوشی۔“‏ (‏نحمیاہ ۸:‏۱۳-‏۱۷‏)‏ عید کے دوران روزانہ بائبل پڑھائی کے ایک ہفتے کے بعد، اُنہوں نے جان لیا کہ ابھی اَور کچھ درکار تھا۔ اُنہوں نے دُعائیہ انداز میں اؔبرہام کے زمانے سے لیکر آگے تک اپنے لوگوں کیساتھ یہوؔواہ کے برتاؤ کی تاریخ کا اعادہ کِیا۔ اِس سب نے اُنہیں شریعت کے تقاضوں کی پابندی کرنے، غیرقوم لوگوں کیساتھ باہمی بیاہ شادی رچانے سے احتراز کرنے، اور ہیکل اور اُسکی خدمت کو قائم‌ودائم رکھنے کے سلسلے میں ذمہ‌داریاں قبول کرنے کیلئے حلف اُٹھانے کی تحریک دی۔—‏نحمیاہ، ۸-‏۱۰ ابواب۔‏

۱۵.‏ استثنا ۶:‏۶-‏۹ کی ہدایات کیسے ظاہر کرتی ہیں کہ خاندان کے اندر خدا کے کلام میں پائی جانیوالی ہدایت کو محض رسمی نہیں ہونا تھا؟‏

۱۵ اِسی طرح، خاندان کے اندر، صحائف کی تعلیم دینے کو محض رسمی نہیں ہونا تھا۔ جیسے کہ پہلے دیکھا جا چکا ہے، استثنا ۶:‏۶-‏۹ میں علامتی اصطلا‌حات میں، لوگوں کو ’‏خدا کے کلام کو نشان کے طور پر اپنے ہاتھوں پر باندھنے‘‏ کے لئے کہا گیا تھا—‏یوں وہ نمونے اور عمل کے ذریعے یہوؔواہ کی راہوں کیلئے اپنی محبت کا مظاہرہ کرینگے۔ اور اُنہیں خدا کے کلام کو ’‏اپنی آنکھوں کے درمیان ٹیکے‘‏ کی مانند لگانا تھا—‏یوں وہ صحائف میں شامل اصولوں کو ذہن‌نشین کرینگے اور اپنے فیصلوں کیلئے بنیاد کے طور پر اِنہیں استعمال کرینگے۔ (‏خروج ۱۳:‏۹، ۱۴-‏۱۶ میں استعمال‌کردہ زبان کیساتھ مقابلہ کریں۔)‏ اُنکو ’‏اِنہیں اپنے گھروں کے دروازوں کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر لکھنا تھا‘‏—‏یوں وہ اپنے گھروں اور اپنے علاقوں کی شناخت ایسی جگہوں کے طور پر کرینگے جہاں خدا کے کلام کا احترام اور اطلاق کِیا جاتا تھا۔ باالفاظِ‌دیگر، اُنکی زندگیوں کو اِس بات کا بھرپور ثبوت دینا تھا کہ وہ یہوؔواہ کے راست اخلاقی اُصولوں کو عزیز رکھتے اور اِنکا اطلاق کرتے تھے۔ یہ کسقدر مفید ہو سکتا تھا!‏ کیا ہمارے گھرانوں کی روزمرّہ زندگی میں خدا کے کلام کو اِسی قسم کی نمایاں حیثیت حاصل ہے؟ افسوس کی بابت ہے کہ یہودیوں نے اِس سب کو محض رسمی بنا دیا، وہ صحائف پر مشتمل تعویذ پہنتے تھے جیسے کہ یہ ٹونے ٹوٹکے ہوں۔ اُنکی عبادت دل سے نکلنا بند ہوگئی اور یہوؔواہ نے اُسے رد کر دیا۔—‏یسعیاہ ۲۹:‏۱۳، ۱۴؛‏ متی ۱۵:‏۷-‏۹‏۔‏

نگہبانی کے عہدوں پر فائز لوگوں کی ذمہ‌داری

۱۶.‏ یشوؔع کیلئے صحائف کی باقاعدہ پڑھائی کیوں اہم تھی؟‏

۱۶ صحائف کی پڑھائی کے معاملے میں اُن پر خاص توجہ دی گئی تھی جو اُمت میں نگہبان تھے۔ یہوؔواہ نے یشوؔع سے کہا:‏ ”‏اِحتیاط رکھ کر ساری شریعت کے مطابق عمل کر۔“‏ اُسکے اُس ذمہ‌داری کو پورا کرنے کے پیشِ‌نظر، اُسے بتایا گیا تھا:‏ ”‏تُو اِسے دن اور رات دھیمی آواز کیساتھ ضرور پڑھنا، .‏ .‏ .‏ کیونکہ تب ہی تجھے کامیابی حاصل ہوگی اور اِسی صورت میں تُو دانشمندی کیساتھ کام کریگا۔“‏ (‏یشوع ۱:‏۷، ۸، این‌ڈبلیو)‏ جیسا کہ یہ آجکل ہر مسیحی نگہبان کے حق میں درست ہے، یشوؔع کی صحائف کی باقاعدہ پڑھائی اُن خصوصی احکام کو ذہن میں واضح رکھنے کیلئے اُسکی مدد کریگی جو یہوؔواہ نے اپنی اُمت کو دئے تھے۔ جسطرح یہوؔواہ نے مختلف حالات کے تحت اپنے خادموں کیساتھ برتاؤ کِیا تھا یشوؔع کو اُسے بھی سمجھنے کی ضرورت تھی۔ جب اُس نے یہوؔواہ کے مقصد کی بابت بیانات کو پڑھا تو اُس کیلئے اُس مقصد کے سلسلے میں اپنی ذاتی ذمہ‌داری کی بابت سوچ‌بچار کرنا نہایت اہم تھا۔‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ بادشاہوں کے اُس طریقے کے مطابق صحائف کی پڑھائی سے مستفید ہونے کے لئے جو یہوؔواہ نے بیان کِیا تھا، اُنکی پڑھائی کیساتھ ساتھ اَور کس چیز کی ضرورت تھی؟ (‏ب)‏ مسیحی بزرگوں کیلئے باقاعدہ بائبل پڑھائی اور غوروخوض کیوں نہایت اہم ہے؟‏

۱۷ یہوؔواہ نے ہدایت دی کہ اُسکی اُمت پر بطور بادشاہ کے خدمت انجام دینے والا ہر شخص اپنی بادشاہت کے شروع میں خدا کی شریعت کی ایک نقل تیار کرے جو اُس نقل پر مبنی ہو جو کاہنوں کے پاس ہوتی تھی۔ پھر اُسے ”‏اپنی ساری عمر اُسکو پڑھنا“‏ تھا۔ مقصد محض اِسکی چیدہ‌چیدہ باتوں کو اَزبر کر لینا نہیں تھا۔ بلکہ، یہ تھا کہ ”‏وہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا .‏ .‏ .‏ سیکھے“‏ اور یہ کہ ”‏اُسکے دِل میں غرور نہ ہو کہ وہ اپنے بھائیوں کو حقیر جانے۔“‏ (‏استثنا ۱۷:‏۱۸-‏۲۰)‏ اِس نے اِس بات کا تقاضا کِیا کہ وہ جو کچھ پڑھ رہا تھا اُس پر گہرا غوروخوض بھی کرے۔ بعض بادشاہوں نے بظاہر یہ سوچا کہ وہ ایسا کرنے کیلئے انتظامی فرائص کے سلسلے میں بہت زیادہ مصروف ہیں، اور اُنکی غفلت کے نتیجے میں ساری اُمت نے مصیبت اُٹھائی۔ مسیحی کلیسیا میں بزرگوں کا کردار بادشاہوں جیسا ہرگز نہیں ہے۔ تاہم، جیسا کہ بادشاہوں کے حق میں درست تھا، بزرگوں کیلئے نہایت ضروری ہے کہ خدا کے کلام کو پڑھیں اور اُس پر غوروخوض کریں۔ اُنکا ایسا کرنا اُنکی نگہداشت میں دئے گئے لوگوں کی بابت ایک مناسب نظریہ قائم رکھنے میں اُنکی مدد کریگا۔ یہ اُنہیں بطور اساتذہ اپنی ذمہ‌داری کو ایسے طریقے سے پورا کرنے کے قابل بھی بنائیگا جو واقعی خدا کو عزت دیتا اور ساتھی مسیحیوں کو روحانی طور پر مستحکم کرتا ہے۔—‏ططس ۱:‏۹‏؛ مقابلہ کریں یوحنا ۷:‏۱۶-‏۱۸‏؛ موازنہ کریں ۱-‏تیمتھیس ۱:‏۶، ۷‏۔‏

۱۸.‏ بائبل کی باقاعدہ پڑھائی اور مطالعہ پولسؔ رسول کے قائم‌کردہ کس نمونے کی تقلید کرنے میں ہماری مدد کریگا؟‏

۱۸ پولسؔ رسول، پہلی صدی کا مسیحی نگہبان، ایسا شخص تھا جو صحائف سے بخوبی واقف تھا۔ جب اُس نے قدیم تھسلنیکےؔ میں لوگوں کو گواہی دی تو وہ مؤثر انداز میں اُنکے ساتھ صحائف میں سے استدلال کرنے کے قابل ہوا اور اِسکا مفہوم سمجھنے میں اُنکی مدد کی۔ (‏اعمال ۱۷:‏۱-‏۴‏)‏ وہ خلوصدل سامعین کے دِلوں تک پہنچا۔ لہٰذا، بہتیرے جنہوں نے اُسے سنا ایماندار بن گئے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱۳‏)‏ بائبل پڑھائی اور مطالعہ کیلئے اپنے پروگرام کے نتیجے کے طور پر، کیا آپ مؤثر انداز میں صحائف سے استدلال کرنے کے قابل ہیں؟ آپکی زندگی میں بائبل پڑھائی کو اور جس طریقے سے آپ یہ کرتے ہیں اُسکو جو مقام حاصل ہے کیا وہ یہ شہادت دیتا ہے کہ آپ واقعی اِس بات کی قدر کرتے ہیں کہ خدا کے کلام کا آپکے پاس ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اگلے مضمون میں، ہم غور کرینگے کہ کیسے وہ لوگ بھی جنکے جدوَل نہایت مصروف ہیں اِن سوالات کا مثبت جواب دے سکتے ہیں۔ (‏۸ ۵/۰۱ w۹۵)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ بائبل کو پڑھنے کی خاطر لوگ زندگی اور آزادی کو خطرے میں ڈالنے کیلئے تیار کیوں رہے ہیں؟‏

▫ خدا کے کلام کو سننے کیلئے قدیم اسرائیل کو دستیاب کی گئی فراہمیوں کا اعادہ کرنے سے ہم کیسے مستفید ہوتے ہیں؟‏

▫ جو کچھ ہم بائبل میں پڑھتے ہیں ہمیں اُسکے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟‏

▫ مسیحی بزرگوں کیلئے باقاعدہ بائبل پڑھائی اور غوروخوض کیوں اہم ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں