یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏9 ص.‏ 13-‏18
  • صحیح مذہب کو جاننے کیساتھ ذمہ‌داری وابستہ ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • صحیح مذہب کو جاننے کیساتھ ذمہ‌داری وابستہ ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آپ خدا کے کلام سے‌کیسے اثرپذیر ہوتے ہیں؟‏
  • کیا یہوؔواہ کیلئے آپکی عقیدت کامل ہے؟‏
  • مسیح کی محبت آپ پر کتناگہرا اثر کرتی ہے؟‏
  • دنیا سے جُدا—‏کس حد تک؟‏
  • آپکی محبت کی رسائی کہاں تک ہے؟‏
  • بادشاہتی گواہی دینا—‏آپ کے نزدیک کسقدر اہم؟‏
  • کیا آپ نے صحیح مذہب پا لیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • خدا کو کس قسم کی عبادت قبول ہے؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • بقا کے لئے خالص مذہب پر چلنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏9 ص.‏ 13-‏18

صحیح مذہب کو جاننے کیساتھ ذمہ‌داری وابستہ ہے

‏”‏مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اُس پر عمل کر تے ہیں۔“‏—‏لوقا ۱۱:‏۲۸‏۔‏

۱.‏ کس قسم کے لوگ صحیح مذہب کی شناخت کر لینے کے بعد اپنی زندگیوں کو اسکے گرد تعمیر کرتے ہیں؟‏

صرف صحیح مذہب کی شناخت کر لینا ہی کافی نہیں ہے۔ جو بات صحیح اور سچ ہے اگر ہم اُس سے محبت رکھنے والے ہیں تو ہم صحیح مذہب کو پا لینے کے بعد اپنی زندگیوں کو اُسی کے گرد تعمیر کرینگے۔ سچا مذہب محض ایک ذہنی فلسفہ نہیں ہے؛ یہ ایک طرزِزندگی ہے۔—‏زبور ۱۱۹:‏۱۰۵؛‏ یسعیاہ ۲:‏۳‏؛ مقابلہ کریں اعمال ۹:‏۲‏۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ یسوؔع نے کیسے خدا کی مرضی کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا؟ (‏ب)‏ ہر اُس شخص پر جو صحیح مذہب سے واقف ہے کونسی ذمہ‌داری عائد ہوتی ہے؟‏

۲ یسوؔع مسیح نے اُس کام کے کرنے کی اہمیت پر زور دیا جسے خدا اپنی مرضی ہونے کے طور پر ظاہر کر چکا ہے۔ مشہورومعروف پہاڑی وعظ کو ختم کرتے وقت، یسوؔع نے واضح کیا کہ وہ سب جو اُسے خداوند کہہ کر مخاطب کرتے ہیں (‏یوں مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں)‏ بادشاہت میں داخل نہیں ہونگے؛ صرف وہی داخل ہونگے جو اُسکے باپ کی مرضی بجا لاتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ دوسرے ”‏بیدینی کے کام کرنے والوں“‏ کیطور پر رد کر دئے جائینگے۔ بیدینی کیوں؟ کیونکہ جیسے بائبل بیان کرتی ہے، خدا کی مرضی کو پورا کرنے میں قاصر رہنا گناہ ہے، اور ہر ایک گناہ شرع کی مخالفت ہے۔ (‏متی ۷:‏۲۱-‏۲۳‏، این‌ڈبلیو؛ ۱-‏یوحنا ۳:‏۴‏؛ مقابلہ کریں رومیوں ۱۰:‏۲، ۳‏۔)‏ ایک شخص شاید صحیح مذہب سے واقف ہو، ہو سکتا ہے کہ وہ اُنکی تعریف کرے جو اسکی تعلیم دیتے ہیں، اور شاید وہ اُنکی بڑائی کرے جو اس پر عمل کرتے ہیں، لیکن اُسکی یہ ذمہ‌داری بھی ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں اسکا اطلاق کرے۔ (‏یعقوب ۴:‏۱۷‏)‏ اگر وہ اس ذمہ‌داری کو قبول کرتا ہے تو وہ دیکھ لے گا کہ اُسکی زندگی سنور جائیگی اور وہ ایسی خوشی کا تجربہ کریگا جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔‏

۳ پچھلے مضمون میں، ہم نے سچے مذہب کے چھ شناختی نشانوں پر غور کیا تھا۔ اُن میں سے ہر ایک نہ صرف صحیح مذہب کی شناخت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے بلکہ ذاتی طور پر ہمارے سامنے چیلنج اور ترقی کرنے کے مواقع پیش کرتا ہے۔ کسطرح؟‏

آپ خدا کے کلام سے‌کیسے اثرپذیر ہوتے ہیں؟‏

۴.‏ (‏ا)‏ جب نئے اشخاص یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ رفاقت رکھنا شروع کرتے ہیں تو وہ گواہوں کے بائبل کو استعمال کرنے کی بابت کس چیز کا جلد مشاہدہ کر لیتے ہیں؟ (‏ب)‏ روحانی اعتبار سے خوب آسودہ ہونا یہوؔواہ کے خادموں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟‏

۴ جب یہوؔواہ کے گواہ نئے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان نئے اشخاص میں سے بہتیرے جلد ہی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جو کچھ سکھایا جا رہا ہے وہ بائبل میں سے ہے۔ اُنکے سوالوں کے جواب میں، اُنکو چرچ کے عقائد، انسانی روایات، یا ممتاز لوگوں کے خیالات کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ خدا کا اپنا کلام ہی سند ہے۔ جب وہ کنگڈم ہال جاتے ہیں تو وہاں پر بھی وہ دیکھتے ہیں کہ بائبل ہی اہم‌ترین درسی کتاب ہے۔ اس بات کو جاننے میں سچائی کے مخلص متلاشیوں کو زیادہ دیر نہیں لگتی کہ جس شادمانی کو وہ یہوؔواہ کے گواہوں کے درمیان دیکھتے ہیں اُسکا اہم عنصر یہ حقیقت ہے کہ وہ خدا کے کلام سے روحانی طور پر خوب آسودہ ہیں۔—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ جو لوگ یہوؔواہ کے گواہوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اُنکے سامنے کونسا چیلنج رکھا گیا ہے؟ (‏ب)‏ وہ گواہوں کی خوشی میں کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟‏

۵ اگر آپ اسکو تسلیم کرتے ہیں تو آپ اسکے لئے کیسا جوابی‌عمل دکھاتے ہیں؟ اگر آپ اسکے مفہوم کو سمجھ لیتے ہیں تو آپ موزوں طور پر محض ایک بے‌عمل مشاہد نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی آپ ہونا چاہینگے۔ بائبل واضح کرتی ہے کہ وہ جو ”‏محض سننے والے“‏ ہیں لیکن ”‏کلام پر عمل کرنے والے“‏ نہیں وہ ’‏خود کو جھوٹی دلیل‌بازی سے دھوکا دے رہے‘‏ ہیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۲‏)‏ وہ خود کو دھوکا دیتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو پہچاننے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ قطع‌نظر اس سے کہ وہ کچھ بھی کہیں، خدا کی فرمانبرداری کرنے میں اُنکی ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ وہ حقیقت میں اُس سے محبت نہیں کرتے۔ ایسے ایمان کا دعویٰ جسکو اعمال کی پُشت‌پناہی حاصل نہیں ہوتی وہ مردہ ایمان ہوتا ہے۔ (‏یعقوب ۲:‏۱۸-‏۲۶؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ اسکے برعکس، جو شخص ”‏عمل“‏ کرنے والا ہونے کی غرض سے یہوؔواہ کیلئے محبت سے تحریک پاتا ہے وہ ”‏برکت پائیگا۔“‏ جی‌ہاں، جیسے یسوؔع مسیح نے وضاحت کی، ”‏مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔“‏—‏یعقوب ۱:‏۲۵؛‏ لوقا ۱۱:‏۲۸؛‏ یوحنا ۱۳:‏۱۷‏۔‏

۶.‏ اگر ہم خدا کے کلام کی واقعی قدر کرتے ہیں تو ہم ذاتی طور پر کن مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے؟‏

۶ جب آپ خدا کی مرضی کے علم میں ترقی کرتے اور مزید باتیں جو آپ سیکھتے ہیں اُنکا اطلاق کرتے ہیں تو وہ شادمانی اور بھی گہری ہو جائیگی۔ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے کیلئے آپ کتنی جدوجہد کرینگے؟ ہزاروں افراد جو کہ اَن‌پڑھ تھے انہوں نے پڑھنا سیکھنے کیلئے سخت محنت کی ہے، اور خصوصاً ایسا اسلئے کِیا تاکہ وہ صحائف کو پڑھ سکیں اور دوسرے لوگوں کو اُنکی تعلیم دے سکیں۔ دیگر لوگ ہر صبح جلدی اُٹھ بیٹھتے ہیں تاکہ وہ بائبل اور بائبل مطالعے کی امدادی چیزوں، جیسے کہ مینارِنگہبانی، کو پڑھنے میں ہر روز کچھ وقت صرف کر سکیں۔ جب آپ ذاتی طور پر بائبل کی مسلسل پڑھائی کرتے ہیں یا مطالعے کے دیگر مواد میں حوالہ‌شدہ صحائف کو دیکھتے ہیں تو یہوؔواہ کے قوانین اور احکام پر احتیاط سے غور کریں، اور اُن متعدد اصولوں کی سمجھ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہیں۔ اس بات پر غوروخوض کریں کہ ہر حصہ خدا، اُسکے مقصد، اور نوعِ‌انسانی کیساتھ اُسکے برتاؤ کی بابت کیا آشکارا کرتا ہے۔ اسے اپنے دل کو تبدیل کرنے کیلئے وقت دیں۔ غور کریں کہ آیا کوئی ایسے طریقے بھی ہیں جن سے آپ اپنی ذاتی زندگی میں بائبل کی مشورت کا زیادہ مکمل طور پر اطلاق کر سکتے ہیں۔—‏زبور ۱:‏۱، ۲؛‏ ۱۹:‏۷-‏۱۱؛‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱‏۔‏

کیا یہوؔواہ کیلئے آپکی عقیدت کامل ہے؟‏

۷.‏ (‏ا)‏ عقیدۂ‌تثلیث خدا کی عبادت کرنے کیلئے لوگوں کی کوششوں پر کس طرح اثرانداز ہوا ہے؟ (‏ب)‏ جب کوئی شخص یہوؔواہ کی بابت سچائی کو سیکھتا ہے تو کیا واقع ہو سکتا ہے؟‏

۷ کئی ملین لوگوں کیلئے یہ سیکھ لینا بڑی تسکین کا باعث ہوا ہے کہ سچا خدا تثلیث نہیں ہے۔ اس وضاحت نے کہ ”‏یہ ایک بھید ہے“‏ اُنہیں کبھی بھی مطمئن نہیں کیا تھا۔ وہ ایسے خدا کے قریب کیسے جا سکتے تھے جو ناقابلِ فہم تھا؟ اس تعلیم کے نتیجے میں، وہ باپ (‏جسکا نام اُنہوں نے کبھی چرچ میں نہیں سنا تھا)‏ کو نظرانداز کرنے اور خدا کے طور پر یسوؔع کی پرستش کرنے یا اپنی پرستش کو مریم (‏جسکی بابت اُنہیں سکھایا گیا کہ وہ ”‏خدا کی ماں“‏ تھی)‏ سے منسوب کرنے کی طرف مائل ہوئے۔ لیکن اُنکے دل خوشی کیساتھ اثرپذیر ہوئے جب یہوؔواہ کے گواہوں میں سے کسی ایک نے بائبل کھولی اور اُنہیں خدا کا ذاتی نام، یہوؔواہ دکھایا۔ (‏زبور ۸۳:‏۱۸‏)‏ وینزوایلا کی ایک عورت الہٰی نام دکھائے جانے پر اسقدر خوش ہوئی کہ اُس نے حقیقت میں نوجوان گواہ لڑکی کو گلے سے لگا لیا جس نے اُس کو یہ بیش‌قیمت سچائی بتائی تھی اور ایک گھریلو بائبل مطالعہ کرنے پر راضی ہو گئی۔ جب ایسے لوگ سیکھتے ہیں کہ یسوؔع نے اپنے باپ کا ذکر ”‏اپنے خدا اور تمہارے خدا“‏ کے طور پر کیا اور یہ کہ یسوؔع نے اپنے باپ کو ”‏خدایِ‌واحد اور برحق“‏ کہہ کر مخاطب کیا تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا کی بابت بائبل جو کچھ سکھاتی ہے وہ ناقابلِ‌فہم نہیں ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳؛‏ ۲۰:‏۱۷‏)‏ جب وہ یہوؔواہ کی خوبیوں سے واقف ہو جاتے ہیں تو وہ اُسکی قربت کو محسوس کرتے ہیں، اُس سے دعا کرنا شروع کرتے ہیں، اور اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہے؟‏

۸.‏ (‏ا)‏ یہوؔواہ کیلئے اُنکی محبت اور اُسے خوش کرنے کی خواہش کے باعث، لاکھوں اشخاص کیا کر چکے ہیں؟ (‏ب)‏ مسیحی بپتسمہ کیوں نہایت اہم ہے؟‏

۸ گزشتہ دس سالوں کے دوران، چھ براعظموں اور بیسیوں جزیروں میں ۲۵،۲۸،۵۲۴ اشخاص نے یہوؔواہ کیلئے اپنی زندگیوں کو مخصوص کِیا ہے اور پھر پانی میں بپتسمہ کے ذریعے اس مخصوصیت کی علامت پیش کی ہے۔ کیا آپ اُن میں سے ایک تھے، یا کیا آپ اب بپتسمہ پانے کیلئے تیاری کر رہے ہیں؟ بپتسمہ ہر سچے مسیحی کی زندگی میں ایک اہم سنگِ‌میل ہے۔ یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا تھا کہ تمام قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُنہیں بپتسمہ دیں۔ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ یہ بھی قابلِ‌ذکر بات ہے کہ یسوؔع کے اپنے بپتسمے کے فوراً ہی بعد ایسا ہوا کہ یہوؔواہ نے یہ کہتے ہوئے خود آسمان سے کلام کیا:‏ ”‏تُو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تجھ سے میں خوش ہوں۔“‏—‏لوقا ۳:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۹.‏ یہوؔواہ کے ساتھ ایک پسندیدہ رشتہ برقرار رکھنے کے لئے ہم سے کیا تقاضا کِیا جاتا ہے؟‏

۹ یہوؔواہ کے ساتھ ایک پسندیدہ رشتہ ایسی چیز ہے جسے عزیز رکھا جانا چاہئے۔ اگر آپ مخصوصیت اور بپتسمہ کے ذریعے ایسے رشتہ میں داخل ہو گئے ہیں تو پھر ہر اُس چیز سے گریز کریں جو اس رشتے کو نقصان پہنچائے گی۔ زندگی کی فکروں اور مادی چیزوں کی بابت پریشانیوں کو اسے دوسرے درجے پر لے آنے کی اجازت مت دیں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۸-‏۱۲‏)‏ حقیقی معنوں میں امثال ۳:‏۶ کی مشورت کے مطابق زندگی بسر کریں:‏ ”‏اپنی سب راہوں میں اُس [‏یہوؔواہ]‏ کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔“‏

مسیح کی محبت آپ پر کتناگہرا اثر کرتی ہے؟‏

۱۰.‏ ہماری طرف سے یہوؔواہ کی پرستش کرنے کو ہمارے لئے یسوؔع کو نظرانداز کر دینے کا سبب کیوں نہیں بننا چاہئے؟‏

۱۰ یقیناً، واحد سچے خدا کے طور پر یہوؔواہ کیلئے مناسب قدردانی، ایک شخص کیلئے یسوؔع مسیح کو نظرانداز کرنے کا سبب نہیں بنتی۔ اسکے برعکس، مکاشفہ ۱۹:‏۱۰ کہتی ہے:‏ ”‏یسوؔع کی گواہی نبوت کی روح ہے۔“‏ پیدایش سے لیکر مکاشفہ تک، الہامی پیشینگوئیاں یہوؔواہ کے مقصد میں یسوؔع مسیح کے کردار کی بابت تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔ جب کوئی شخص اُن تفصیلات سے واقف ہو جاتا ہے تو ایک دلکش تصویر اُبھر آتی ہے جو مسیحی دنیا کی جھوٹی تعلیمات کے باعث پیدا ہونے والے بگا‌ڑ اور غلط‌فہمیوں سے پاک ہوتی ہے۔‏

۱۱.‏ خدا کے بیٹے کی بابت حقیقت میں بائبل جو تعلیم دیتی ہے اُس کو سیکھنے سے پولینڈ میں ایک عورت کیسے اثرپذیر ہوئی؟‏

۱۱ خدا کے بیٹے کی بابت سچائی کو سمجھنا کسی شخص پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ پولینڈ میں ایک عورت، ڈؔاینوتا کیساتھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ آٹھ سالوں سے اس نے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا ہوا تھا، جو کچھ بھی اُنہوں نے سکھایا اُس سے استفادہ کیا، مگر سچی پرستش کو اپنا طرزِزندگی نہیں بنا رہی تھی۔ پھر اُس نے دی گریٹسٹ مین ہُو ایور لوڈ (‏عظیم‌ترین آدمی جو کبھی ہو گزرا ہے)‏ کتاب کی ایک کاپی حاصل کی، جو یسوؔع کی زندگی کو ایک آسان فہم انداز میں پیش کرتی ہے۔‏a شام گئے، اُس نے اس خیال کیساتھ کتاب کو کھولا کہ وہ صرف ایک باب ہی پڑھے گی۔ تاہم، سحر کے وقت تک، جبتک کہ اُس نے کتاب کو مکمل نہ کر لیا اُس نے اسکو نہ چھوڑا۔ وہ اشکبار ہو گئی۔ ”‏یہوؔواہ، مجھے معاف کر دیجئے،“‏ اُس نے اِلتجا کی۔ جو کچھ اُس نے پڑھا تھا اُسکے نتیجے میں، اُس نے یہوؔواہ اور اُسکے بیٹے کے ذریعے ظاہرکردہ محبت کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح طور پر دیکھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ آٹھ سال سے وہ ناشکری کیساتھ اُس مدد سے مُنہ موڑتی رہی تھی جو خدا بڑے صبر سے اُسکو بہم پہنچاتا رہا تھا۔ ۱۹۹۳ میں اُس نے یسوؔع مسیح پر ایمان رکھنے کی بنیاد پر یہوؔواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کی علامت میں بپتسمہ لیا۔‏

۱۲.‏ یسوؔع مسیح کی بابت صحیح علم کیسے ہماری زندگیوں پر اثر ڈالتا ہے؟‏

۱۲ ”‏ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کا صحیح علم“‏ ایک سرگرم اور پھلدار مسیحی ہونے کیساتھ مربوط ہے۔ (‏۲-‏پطرس ۱:‏۸‏، این‌ڈبلیو)‏ دوسروں کو بادشاہتی پیغام میں شریک کرتے ہوئے، آپ کس حد تک ایسی کارگزاری میں حصہ لینگے؟ افراد جس قدر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں بہتیری حالتیں اُس پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ (‏متی ۱۳:‏۱۸-‏۲۳‏)‏ بعض حالات کو ہم بدل نہیں سکتے؛ بعض کو ہم بدل سکتے ہیں۔ کونسی چیز ہمیں ممکنہ تبدیلیوں کی شناخت کرنے اور اُنہیں عمل میں لانے کیلئے تحریک دیگی؟ پولسؔ رسول نے لکھا:‏ ”‏مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے“‏؛ باالفاظِ‌دیگر، ہماری خاطر اپنی جان قربان کر دینے سے جو محبت اُس نے دکھائی وہ اسقدر نمایاں ہے کہ جیسے جیسے اسکے لئے ہماری قدردانی بڑھے گی ویسے ہی ہمارے اپنے دل بہت زیادہ تحریک پائینگے۔ نتیجتاً، ہم سمجھ جاتے ہیں کہ خودغرضانہ منازل کی جستجو کرتے رہنا اور زیادہ‌تر خود کو آسودہ کرنے کیلئے زندگی گذارنا ہمارے لئے نہایت ہی غیرموزوں ہوگا۔ اسکی بجائے، ہم اُس کام کو پہلا درجہ دینے کیلئے اپنے معاملات میں ردوبدل کرتے ہیں جسکو کرنے کی تعلیم مسیح نے اپنے شاگردوں کو دی تھی۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

دنیا سے جُدا—‏کس حد تک؟‏

۱۳.‏ ہم اُس مذہب کا حصہ کیوں نہیں بننا چاہتے جس نے خود کو دنیا کا حصہ بنا لیا ہے؟‏

۱۳ مسیحی دنیا اور دیگر مذاہب کے قائم‌کردہ ریکارڈ کو دیکھنا مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ چرچ کی رقوم کو انقلابی سرگرمی کی مالی حمایت کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ پادری گوریلا سپاہی بن گئے ہیں۔ روزبروز اخبارات دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے مذہبی گروہوں کی بابت رپورٹوں کو پیش کرتے ہیں جو آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اُنکے ہاتھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔ (‏یسعیاہ ۱:‏۱۵‏)‏ اور عالمگیر سطح پر پادری سیاسی صورتحال سے بڑی چالاکی کیساتھ فائدہ اُٹھانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ سچے پرستاروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔—‏یعقوب ۴:‏۱-‏۴‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ اگر ہم نے دنیا سے علیٰحدہ رہنا ہے تو ہمیں ذاتی طور پر کس چیز سے بچنے کی ضرورت ہے؟ (‏ب)‏ دنیاوی رجحانات اور کاموں کے پھندے سے بچنے کیلئے کونسی چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۴ لیکن دنیا سے علیٰحدگی میں اس سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ زر اور زر سے خریدی جانیوالی چیزوں کی محبت، ذاتی نمود کیلئے خواہش، عیش‌وعشرت کی مسلسل جستجو، بمع دوسروں کیلئے حقیقی فکرمندی کی کمی کے، جھوٹ بولنا اور بیہودہ گفتگو، اختیار کیخلاف بغاوت، اور ضبطِ‌نفس ظاہر کرنے میں ناکامی جیسی چیزیں اس دنیا کا خاصہ ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۲-‏۵؛‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵، ۱۶‏)‏ ہماری اپنی ناکاملیت کے باعث، بعض‌اوقات کسی نہ کسی طرح سے ہم ان خصائل میں سے چند کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے پھندوں سے بچنے کیلئے کونسی چیز ہماری جدوجہد میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ ہمیں خود کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اس سب کی پُشت پر کون ہے۔ ”‏ساری دنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ خواہ کوئی روش کتنی ہی دلفریب دکھائی دے، خواہ کتنے زیادہ دوسرے لوگ اس طرح زندگی بسر کرتے ہوں، جب ہم یہوؔواہ کے سب سے بڑے دشمن، شیطان ابلیس کو اسکی پُشت پر دیکھتے ہیں تو ہم پہچان جاتے ہیں کہ یہ کسقدر گھناؤنی ہے۔—‏زبور ۹۷:‏۱۰‏۔‏

آپکی محبت کی رسائی کہاں تک ہے؟‏

۱۵.‏ جس بے‌لوث محبت کا آپ نے مشاہدہ کِیا اُس نے صحیح مذہب کی شناخت کرنے میں آپکی مدد کیسے کی تھی؟‏

۱۵ جب آپ نے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ پہلے‌پہل رفاقت رکھنا شروع کی تھی تو دنیا کی روح سے اسکے بالکل فرق ہونے کی وجہ سے اُنکے درمیان ظاہر کی جانیوالی محبت نے بلا‌شُبہ آپکو متاثر کیا تھا۔ بے‌لوث محبت پر زور دینا یہوؔواہ کی سچی پرستش کو پرستش کی دیگر تمام اقسام سے فرق کر دیتا ہے۔ شاید اسی بات نے آپکو قائل کر دیا کہ یقیناً یہوؔواہ کے گواہ ہی صحیح مذہب پر چل رہے ہیں۔ یسوؔع مسیح نے خود کہا تھا:‏ ”‏اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“‏—‏یوحنا ۱۳:‏۳۵‏۔‏

۱۶.‏ اپنی محبت میں کشادہ دل ہونے کی خاطر انفرادی طور پر ہمارے لئے کونسے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں؟‏

۱۶ کیا یہ خوبی آپکی بھی مسیح کے شاگردوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کراتی ہے؟ کیا ایسے طریقے ہیں جن سے آپ اپنی محبت دکھانے میں کشادہ دل ہو سکتے ہیں؟ بغیر کسی شک کے ہم سب ایسا کر سکتے ہیں۔ اس میں کنگڈم ہال کے اندر دوسروں کیلئے ایک دوستانہ رویہ دکھانے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ اگر ہماری محبت کی وسعت صرف اُنہی تک ہے جو ہم سے محبت رکھتے ہیں تو پھر ہم دنیا سے کتنے فرق ہونگے؟ بائبل تاکید کرتی ہے:‏ ”‏سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپس میں بڑی محبت رکھو۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۸‏)‏ ہم کن کیلئے زیادہ محبت دکھا سکتے ہیں؟ کیا یہ کوئی مسیحی بھائی یا بہن ہے جسکا پسِ‌منظر ہم سے مختلف ہے اور جسکا بعض کام کرنے کا طریقہ ہم کو غصہ دلاتا ہے؟ کیا یہ کوئی ایسا شخص ہے جو علالت یا بڑھاپے کی وجہ سے باقاعدگی کیساتھ اجلاسوں پر حاضر ہونے کے لائق نہیں رہا؟ کیا یہ ہمارا بیاہتا ساتھی ہے؟ یا کیا شاید یہ ہمارے سن‌رسیدہ والدین ہیں؟ بعض جو روح کے پھلوں، بشمول محبت، کو ظاہر کرنے میں خوب کام کر رہے تھے، جب وہ ایسی نہایت مشکل حالتوں سے دوچار ہوئے جو خاندان کے ایک ایسے فرد کی مکمل دیکھ‌بھال کرنے میں پیدا ہو سکتی ہیں جو بُری طرح سے اپاہج ہو چکا تھا تو اُنہوں نے محسوس کیا کہ جیسے وہ انکو پھر سے سیکھ رہے تھے۔ یقیناً، ایسے حالات کا سامنا کرتے وقت ہماری محبت کو بھی ہمارے اپنے گھرانے سے باہر تک جانا چاہئے۔‏

بادشاہتی گواہی دینا—‏آپ کے نزدیک کسقدر اہم؟‏

۱۷.‏ اگر ہم نے یہوؔواہ کے گواہوں کی ملاقاتوں سے ذاتی طور پر فائدہ اُٹھایا ہے تو اب ہمیں کیا کرنے کی تحریک کو محسوس کرنا چاہئے؟‏

۱۷ ایک اہم طریقہ جس سے ہم اپنے ساتھی انسانوں کیلئے محبت دکھاتے ہیں وہ اُنہیں خدا کی بادشاہت کی بابت گواہی دینا ہے۔ لوگوں کا صرف ایک ہی گروہ اس کام کو کر رہا ہے جسکی پیشینگوئی یسوؔع نے کی تھی۔ (‏مرقس ۱۳:‏۱۰‏)‏ یہ یہوؔواہ کے گواہ ہیں۔ ہم نے ذاتی طور پر اس سے فائدہ حاصل کیا ہے۔ اب یہ ہمارا شرف ہے کہ دوسروں کی مدد کریں۔ اگر ہم اس معاملے کی بابت خدا کی طرح کا نقطۂ‌نظر رکھتے ہیں تو یہ کام ہماری زندگیوں میں ممتاز ہوگا۔‏

۱۸.‏ جیہوواز وِٹنسز—‏پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم کتاب کی ہماری پڑھائی بادشاہتی گواہی میں ہماری ذاتی شرکت کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟‏

۱۸ جس طریقے سے ان آخری دنوں کے دوران بادشاہتی پیغام کو زمین کے دوراُفتادہ علاقوں تک پہنچایا گیا ہے اُس کی ہیجان‌خیز سرگزشت جیہوواز وِٹنسز—‏پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم (‏یہوؔواہ کے گواہ—‏خدا کی بادشاہت کے مُناد)‏ کتاب میں بیان کی گئی ہے۔ اگر یہ آپ کی زبان میں دستیاب ہے تو اس کو پڑھنے میں غفلت نہ کریں۔ اور جب آپ پڑھتے ہیں تو اُن تمام طریقوں پر خصوصاً غور کریں جن کے ذریعے مختلف اشخاص نے بادشاہت کی بابت گواہی دینے میں حصہ لیا ہے۔ کیا بعض ایسے بھی ہیں جنکے نمونے کی آپ نقل کر سکتے ہیں؟ ہم سب کے لئے بہت سے مواقع کھلے ہیں۔ دعا ہے کہ یہوؔواہ کے لئے ہماری محبت ان کا اچھا استعمال کرنے کے لئے ہمیں تحریک دے۔‏

۱۹.‏ جب ہم صحیح مذہب کو جاننے کیساتھ وابستہ ذمہ‌داری کو قبول کرتے ہیں تو ہم کیسے مستفید ہوتے ہیں؟‏

۱۹ پس، جب ہم خود کو یہوؔواہ کی مرضی بجا لانے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو ہمیں اس سوال کا جواب مِل جاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ (‏مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ کھوکھلے‌پن کے احساس میں چھوڑ دئے جانے کے ساتھ ہم پھر ٹٹولتے نہیں رہتے۔ یہوؔواہ خدا کی خدمت کے لئے پورے دل سے خود کو استعمال کرنے سے بڑھکر اور کوئی ایسا پیشہ نہیں ہے جس کے لئے آپ خود کو وقف کر سکیں اور جو بڑی آسودگی کا باعث بنے گا۔ اور یہ کیا ہی شاندار مستقبل تھامے ہوئے ہے!‏ اُس کی نئی دنیا میں اطمینان‌بخش زندگی کی ابدیت، جہاں پر ہم اُس پُرمحبت مقصد کی مطابقت میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور استعمال کرنے کے قابل ہوں گے جس کے لئے خدا نے نوعِ‌انسانی کو خلق کیا تھا۔ (‏۱۳ ۶/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹیڈ کی شائع‌کردہ۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ ایک مذہب کیلئے بائبل کو خدا کے کلام کے طور پر قبول کرنا اور سچے خدا کے طور پر یہوؔواہ کی تعظیم کرنا کیوں نہایت اہم ہے؟‏

▫ سچا مذہب فدیہ دینے والے کے طور پر یسوؔع کے کردار کی بابت کیا تعلیم دیتا ہے؟‏

▫ مسیحیوں کو کیوں دنیا سے علیٰحدہ رہنا اور بے‌لوث محبت کو عمل میں لانا چاہئے؟‏

▫ صحیح مذہب میں بادشاہتی گواہی دینے کا کیا کردار ہے؟‏

‏[‏تصویریں]‏

سچی پرستش کی ذمہ‌داری کو قبول کر نے میں بپتسمہ ایک نہایت اہم قدم ہے۔ پوری دنیا میں ہر ماہ کوئی ۲۵،۰۰۰ یہ قدم اُٹھاتے ہیں

روس

سینیگال

پاپوآ نیو گنی

یو.‏ایس.‏اے.‏

‏[‏تصویریں]‏

دوسروں کو بائبل سچائیوں میں شریک کرنا سچی پرستش کا حصہ ہے

یو.‏ایس.‏اے.‏

برازیل

یو.‏ایس.‏اے.‏

ہانگ کانگ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں