آپ کے مرے ہوئے عزیز—کیا آپ انہیں دوبارہ دیکھیں گے؟
جاؔن صرف نو برس کا تھا جب اس کی ماں وفات پا گئی۔ بعدازاں، اس کو یاد آیا کہ جنازگاہ پر کیا واقع ہوا تھا: ”میں نے اس کے لئے ایک تصویر بنائی اور اس سے یہ التجا کرتے ہوئے اُس پر ایک چھوٹی سی عبارت لکھی کہ آسمان میں ہم سب کا انتظار کرے۔ میں نے اُسے ڈیڈی کو دیا کہ اس کے ساتھ تابُوت میں رکھ دیں، اور اگرچہ وہ مُردہ تھی، مجھے یہ سوچنا اچھا لگتا ہے کہ اسے میری طرف سے یہ آخری پیغام پہنچ گیا تھا۔“—ہاؤ اِٹ فیِلز وین اے پیرنٹ ڈائیز (جب والدین میں سے کوئی مر جائے تو کیسا لگتا ہے)، از جلؔ کریمنٹس۔
اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ جاؔن اپنی ماں سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ اس کی اچھی خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد، اس نے کہا: ”یہ ہو سکتا ہے کہ میں منفی باتوں کو یاد ہی نہیں کرنا چاہتا، لیکن میں اسکی بابت کوئی منفی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ سب سے زیادہ خوبصورت خاتون تھی جسے میں نے کبھی اپنی ساری زندگی میں دیکھا ہو۔“
جاؔن کی طرح، بہتیرے لوگ اپنے مرے ہوئے عزیزوں کی خوشگوار یادیں رکھتے ہیں اور اُنہیں دوبارہ دیکھنے کی جذباتی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایڈؔیتھ، جسکا ۲۶ سالہ بیٹا کینسر سے مر گیا، اُس نے کہا: ”میں یہ یقین رکھنے پر مجبور ہوں کہ میرا بیٹا کہیں نہ کہیں ضرور زندہ ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ کہاں پر۔ کیا میں اسے دوبارہ دیکھونگی؟ مجھے معلوم نہیں مگر اُمید ہے کہ میں دیکھونگی۔“
یقیناً، انسان کا پُرمحبت خالق اس عام انسانی خواہش سے بےحس نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وقت ضرور آئیگا جب لاکھوں لوگوں کو انکے مرے ہوئے عزیزوں کیساتھ پھر سے ملا دیا جائیگا۔ خدا کے کلام میں آنے والی مُردوں کی قیامت کے اس وعدے سے متعلق متعدد حوالہجات پائے جاتے ہیں۔—یسعیاہ ۲۶:۱۹؛ دانیایل ۱۲:۲، ۱۳؛ ہوسیع ۱۳:۱۴؛ یوحنا ۵:۲۸، ۲۹؛ مکاشفہ ۲۰:۱۲، ۱۳۔
کون آسمان کے لئے قیامت پاتے ہیں؟
آئیے جاؔن کی اُمید پر غور کریں کہ اسکی پیاری ماں آسمان میں اسکا انتظار کر رہی ہے۔ گرجا گھروں میں جانے والے بہتیرے لوگ یہ اُمید یا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ایسے نظریات کی حمایت کرنے کی کوشش میں، پادری اور بعض سماجی کارکن بائبل سے آیات کا غلط اطلاق کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، سوگواروں کی مدد کرنے میں ماہر، ڈاکٹر الزؔبتھ کوبلر-روس نے اپنی کتاب آن چلڈرن اینڈ ڈیتھ (بچوں اور موت پر) میں کہا: ”مرنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے جسم کو بالکل اسی طرح چھوڑ دیتے ہیں، جسطرح ہم ایک پھٹے پرانے کوٹ کو پھینک دیتے ہیں یا ایک کمرے سے دوسرے میں چلے جاتے ہیں۔ واعظ، ۱۲:۷ میں، ہم پڑھتے ہیں: ’اور خاک خاک سے جا ملے جس طرح آگے ملی ہوئی تھی اور روح خدا کے پاس جس نے اسے دیا تھا واپس جائے۔‘ یسوؔع نے کہا: ’میں تمہارے لئے جگہ تیار کرنے کو جاتا ہوں تاکہ جہاں میں ہوں وہاں تم بھی ہو۔‘ اور صلیب پر ڈاکو سے: ’آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔‘“
کیا مندرجہ بالا آیات کا واقعی یہ مطلب ہے کہ ہمارے مرے ہوئے عزیز اس وقت زندہ ہیں اور آسمان میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں؟ واعظ ۱۲:۷ سے شروع کرتے ہوئے آئیے بڑی احتیاط کیساتھ آیات پر غور کریں۔ ظاہر ہے کہ ان الفاظ کو تحریر کرنے والے دانشمند آدمی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ بائبل کی اسی کتاب میں جو کچھ وہ پہلے بیان کر چکا تھا اس کی تردید کر دے: ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔“ (واعظ ۹:۵) وہ عام مفہوم میں نوعِانسانی کی موت پر بات کر رہا تھا۔ کیا یہ ایمان رکھنا معقول بات ہے کہ تمام اقبالی دہریے اور عادی مجرم اپنی موت کے وقت خدا کے پاس واپس چلے جاتے ہیں؟ بمشکل۔ درحقیقت، ہم میں سے کسی کے حق میں بھی ایسا نہیں کہا جا سکتا، اس سے قطعنظر کہ ہم خود کو اچھا سمجھتے ہیں یا بُرا۔ چونکہ ہم میں سے کوئی بھی خدا کے ساتھ آسمان میں نہیں رہا اس لئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس کے پاس واپس چلے جاتے ہیں؟
تو پھر، بائبل کے مصنف کی یہ کہنے سے کیا مراد تھی کہ مرنے کے وقت ’روح سچے خدا کے پاس واپس لوٹ جاتی ہے‘؟ عبرانی لفظ کو استعمال کرنے میں جسکا ترجمہ ”روح“ کیا گیا ہے، وہ کسی ایسی منفرد چیز کا حوالہ نہیں دے رہا تھا جو ایک انسان کو دوسرے سے فرق کرتی ہے۔ بلکہ، واعظ ۳:۱۹، میں یہی مُلہَم بائبل نویس وضاحت کرتا ہے کہ انسان اور جانور ”سب میں ایک ہی سانس [”روح،“ اینڈبلیو] ہے۔“ بدیہی طور پر اسکا مطلب یہ تھا کہ ”روح“ خلیوں کے اندر قوتِحیات ہے جو انسان اور جانوروں کے مادی جسموں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہم نے یہ روح براہِراست خدا سے حاصل نہیں کی۔ یہ ہمارے والدین کے ذریعے اسوقت ہم میں منتقل کی گئی جب ہم نے استقرارِحمل پایا تھا اور بعدازاں پیدا ہوئے تھے۔ علاوہازیں، موت کے وقت یہ روح سچمچ خلا میں سفر کرتی ہوئی خدا کے پاس واپس نہیں جاتی۔ یہ اظہار کہ ’روح سچے خدا کے پاس واپس لوٹ جاتی ہے،‘ ایک استعارہ ہے جسکا مطلب ہے کہ کسی مُردہ شخص کی آئندہ زندگی کے امکانات اب خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ فیصلہ کرنا اب اس کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس کو یاد رکھے گا اور انجامکار زندہ کرے گا۔ خود اس پر غور کریں کہ بائبل زبور ۱۰۴:۲۹، ۳۰ میں اس بات کو کتنی صفائی سے واضح کرتی ہے۔
یہوؔواہ خدا نے قصد کیا ہے کہ مسیح کے وفادار پیروکاروں کی ایک محدود تعداد، مجموعی طور پر صرف ۱،۴۴۰۰۰ کو بطور خدا کے روحانی فرزندوں کے آسمانی زندگی کے لئے زندہ کیا جائیگا۔ (مکاشفہ ۱۴:۱، ۳) یہ مسیح کیساتھ زمین پر نوعِانسانی کو برکت دینے کے لئے ایک آسمانی حکومت کو تشکیل دیتے ہیں۔
اس بات کا علم حاصل کرنے والے پہلے لوگ یسوؔع کے وفادار رسول تھے جن سے اس نے کہا تھا: ”میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں۔ اگر نہ ہوتے تو میں تم سے کہہ دیتا کیونکہ میں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے جگہ تیار کروں۔ اور اگر میں جا کر تمہارے لئے جگہ تیار کروں تو پھر آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے لونگا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو۔“ (یوحنا ۱۴:۲، ۳) وہ رسول اور دیگر ابتدائی مسیحی وفات پا گئے اور اُنکو یسوؔع کی آمد کے وقت تک موت میں بےخبری کی حالت میں انتظار کرنا تھا تاکہ اُنہیں ایک آسمانی قیامت کا انعام بخشے۔ اسی لئے ہم پڑھتے ہیں کہ پہلا مسیحی شہید، ستفنسؔ، ”موت میں سو گیا۔“—اعمال ۷:۶۰، اینڈبلیو؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۳۔
زمین پر زندگی کے لئے قیامت
لیکن اس مجرم کے ساتھ یسوؔع کے وعدے کی بابت کیا ہے جس نے اس کے پہلو میں وفات پائی؟ اس زمانے کے بہتیرے یہودیوں کی طرح، اس آدمی کا بھی ایمان تھا کہ خدا ایک مسیحا کو بھیجے گا جو ایک بادشاہت کو قائم کریگا اور یہودی قوم کے لئے زمین پر امن اور سلامتی کو بحال کریگا۔ (۱-سلاطین ۴:۲۰-۲۵ کا لوقا ۱۹:۱۱؛ ۲۴:۲۱ اور اعمال ۱:۶ کے ساتھ مقابلہ کریں۔) اس کے علاوہ، اس بدکار نے یہ ایمان ظاہر کیا کہ بادشاہ ہونے کے لئے یسوؔع ہی خدا کا برگزیدہ شخص ہے۔ تاہم، اس وقت پر، ایک مجرم شخص کے طور پر یسوؔع کی سر پر کھڑی موت نے اس بات کو بعیدازقیاس بنا دیا۔ اسی لئے ان الفاظ کے ساتھ اپنے وعدے کو متعارف کرانے سے یسوؔع نے اس مجرم کو یقین دہانی کرائی: ”میں آج تجھ سے سچ کہتا ہوں، تُو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“—لوقا ۲۳:۴۲، ۴۳، اینڈبلیو۔
ایسے بائبل ترجمے جو لفظ ”آج“ سے پہلے سکتہ (Comma) دیتے ہیں ان لوگوں کے لئے مشکل پیدا کرتے ہیں جو یسوؔع کے الفاظ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یسوؔع اسی دن کسی فردوس میں نہیں گیا تھا۔ اس کی بجائے، وہ تین دن تک موت کی حالت میں بےخبر پڑا رہا جبتک کہ خدا نے اسے زندہ نہ کر دیا۔ یسوؔع کی قیامت اور آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد بھی، اُسے اپنے باپ کے دہنے ہاتھ انتظار کرنا تھا جب تک کہ نوعِانسانی پر بطور بادشاہ کے اُسکا حکمرانی کرنے کا وقت نہ آ گیا۔ (عبرانیوں ۱۰:۱۲، ۱۳) جلد ہی، یسوؔع کی بادشاہتی حکمرانی نسلِانسانی کے لئے مخلصی لائیگی اور تمام زمین کو ایک فردوس میں بدل دے گی۔ (لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱، ۲۵-۳۱) تب وہ اس مجرم کو زمین پر زندگی کے لئے زندہ کرنے سے اپنے وعدے کو پورا کریگا۔ اور یسوؔع اس مفہوم میں اس آدمی کے ساتھ ہوگا کہ وہ اُس شخص کی تمام ضروریات کو پورا کریگا جن میں اس کے طرزِزندگی کو خدا کے راست قوانین کی مطابقت میں لانے کی حاجت بھی شامل ہوگی۔
بہتیروں کی قیامت
اس تائب مجرم کی طرح، زیادہتر انسانوں کی قیامت یہاں زمین پر واقع ہوگی۔ یہ انسان کو خلق کرنے کے خدا کے مقصد کی مطابقت میں ہے۔ پہلے آدمی اور عورت کو ایک فردوسی باغ میں رکھا گیا اور زمین کو محکوم کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اگر وہ خدا کے فرمانبردار رہے ہوتے تو اُنہیں کبھی بھی بوڑھے ہونا اور مرنا نہ پڑتا۔ خدا کے وقتِمقررہ پر، تمام زمین کو محکوم کر لیا گیا ہوتا اور آدؔم اور اس کی کامل اولاد کے ذریعے ایک عالمگیر فردوس بنا دی گئی ہوتی۔—پیدایش ۱:۲۸؛ ۲:۸، ۹۔
تاہم، چونکہ آدؔم اور حوؔا نے جان بوجھ کر گناہ کیا اس لئے وہ خود پر اور اپنی آئندہ اولاد پر موت لے آئے۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷؛ ۳:۱۷-۱۹) اسی لئے بائبل بیان کرتی ہے: ”ایک آدمی [آدؔم] کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سب نے گناہ کیا۔“—رومیوں ۵:۱۲۔
صرف ایک ہی انسان ایسا رہا ہے جو موروثی گناہ سے مبرا پیدا ہوا تھا۔ وہ خدا کا کامل بیٹا، یسوؔع مسیح تھا، جس کی زندگی کو آسمان سے ایک کنواری یہودن، مریم کے رحم میں منتقل کر دیا گیا۔ یسوؔع بیگناہ رہا اور مارے جانے کا سزاوار نہ تھا۔ اس لئے، اس کی موت ”دنیا [کے] گناہ“ سے چھٹکارا دلانے والی قدروقیمت رکھتی ہے۔ (یوحنا ۱:۲۹؛ متی ۲۰:۲۸) اسی وجہ سے یسوؔع کہہ سکتا تھا: ”قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہیگا۔“—یوحنا ۱۱:۲۵۔
پس، آپ اپنے مرے ہوئے عزیزوں کے ساتھ پھر سے ملنے کے اِمکان کو ذہن میں رکھ سکتے ہیں، لیکن یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ یسوؔع پر اپنے فدیہ دینے والے کے طور پر ایمان ظاہر کریں اور خدا کے مقررکردہ بادشاہ کے طور پر اس کی اطاعت کریں۔ جلد ہی خدا کی بادشاہت اس زمین پر سے تمام بدکاری کو ختم کر دے گی۔ تمام انسان جو اس کی حکمرانی کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے ہیں تباہ کر دئے جائیں گے۔ تاہم، خدا کی بادشاہت کی رعایا زندہ بچ جائے گی اور اس زمین کو ایک فردوس میں تبدیل کرنے کے کام میں خود کو مصروف کر لیگی۔—زبور ۳۷:۱۰، ۱۱؛ مکاشفہ ۲۱:۳-۵۔
پھر قیامت کے شروع ہونے کا ہیجان خیز وقت آئیگا۔ کیا آپ مُردوں کا استقبال کرنے کے لئے وہاں موجود ہونگے؟ اس سب کا انحصار جو کچھ آپ اب کرتے ہیں اُس پر ہے۔ شاندار برکات ان کی منتظر ہیں جو اب اس کے بیٹے، یسوؔع مسیح کے ذریعے یہوؔواہ کی حکمرانی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (۵ ۶/۱۵ w۹۴)