یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏6 ص.‏ 4-‏6
  • آلودگی کو جڑ سے ختم کرنا دل اور ذہن سے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آلودگی کو جڑ سے ختم کرنا دل اور ذہن سے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کے نظریہ کو اپنانا
  • سرگرم شمولیت؟‏
  • ایک روحانی صفائی
  • مستقبل قریب میں صاف زمین پر خوشی کریں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • فردوس یا کوڑے کرکٹ کا ڈھیر آپ کسے ترجیح دیتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • صفائی‌ستھرائی کسقدر اہم ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • صفائی‌ستھرائی—‏درحقیقت اس کا کیا مطلب ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏6 ص.‏ 4-‏6

آلودگی کو جڑ سے ختم کرنا دل اور ذہن سے

یہوواہ نے انسانوں کے اندر گندگی یا بے‌ترتیبی کی آرزو کو نہیں رکھا۔ ان کے سیارے گھر کو ایک صفائی، قرینے اور خوبصورتی والی فردوس ہونے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔ خدا کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ ایک گھناؤنے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی شکل میں بگڑ جائے۔—‏پیدایش ۲:‏۸، ۹‏۔‏

تاہم، جب انسانوں نے الہٰی راہنمائی کو رد کر دیا تو انہوں نے اپنی ہی طرز کے عالمی نظام کو تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ الہٰی حکمت سے مستفید ہوئے بغیر اور تجربے کی کمی سے، وہ درست حل کیلئے ایک یا کئی طریقے آزمانے سے سیکھنے پر مجبور تھے۔ دنیاوی تاریخ بائبل کی اس سچائی کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان خود کامیابی سے حکومت نہیں کر سکتے، کیونکہ ہزاروں سالوں سے ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا [‏لایا]‏ ہے۔“‏ (‏واعظ ۸:‏۹،‏ یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏)‏ آلودگی کا جدید مسئلہ، اپنی تمام صورتوں میں، انسان کی غلط حکمرانی کا نتیجہ ہے۔‏

خدا کے نظریہ کو اپنانا

لوگ جو خدا کو خوش کرنے کے خواہشمند ہیں وہ صفائی کے متعلق خالق کے معیاروں پر چلنے کیلئے سخت محنت کرتے ہیں۔ پس، یہوواہ کے گواہوں کو اس وقت ایک مسئلہ درپیش آیا جب، ۱۹۹۱ کے وسط میں پراگ چیکوسلواکیہ میں ایک انٹرنیشنل کنونشن کو منعقد کرنے کیلئے جدول بنایا گیا۔‏a تقریباً ۷۵،۰۰۰ لوگوں کے حاضر ہونے کی توقع تھی، ایک اتنا بڑا ہجوم جسے سٹراہوف سٹیڈیم آسانی سے اپنے اندر سما سکتا تھا۔ لیکن سٹیڈیم پانچ سال سے استعمال نہیں ہوا تھا۔ یہ بوسیدہ حالت میں تھا، موسم کی سختیوں کا گھناؤنا شکار۔ کوئی ۱،۵۰۰ کے لگ بھگ گواہوں نے اسے مرمت کرنے اور دوبارہ پینٹ کرنے میں ۶۵،۰۰۰ سے زائد گھنٹے صرف کئے۔ کنونشن کے وقت تک صفائی کی اس مہم نے سٹیڈیم کو ایک ایسی قابل‌احترام جگہ بنا دیا جس میں سچے خدا، یہوواہ کی پرستش کی جا سکے۔‏

کیا چیز یہوواہ کے گواہوں کو فرق ہونے کی تحریک دیتی ہے، جب کہ دنیا عام طور پر صفائی اور قرینے کیلئے کم‌قدری ظاہر کرتی ہے؟ بائبل کی اس مشورت کیلئے قدردانی کہ مسیحیوں کو خودغرضی، دوسروں کیلئے فکرمندی کی کمی، لالچ، اور محبت کی کمی جیسی منفی خصلتوں کو جڑ سے ختم کر دینا چاہیے۔ بائبل کہتی ہے، ”‏پرانی انسانیت کو اس کے کاموں سمیت اتار [‏ڈالو]‏۔“‏ اس کی جگہ ”‏نئی انسانیت کو پہن [‏لو]‏ .‏.‏.‏ جو معرفت حاصل کرنے کیلئے اپنے خالق کی صورت پر نئی بنتی جاتی ہے۔“‏ ایک ایسی شخصیت جس کی کردارنگاری صفائی، قرینے، اور خوبصورتی کیلئے محبت سے ہوتی ہے اس میں آلودہ کرنے والے رجحانات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔—‏کلسیوں ۳:‏۹، ۱۰،‏ ۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱،‏ فلپیوں ۴:‏۸،‏ ططس ۲:‏۱۴‏۔‏

نئی انسانیت تقاضا کرتی ہے کہ مسیحی آلودگی سے ہوشیار رہیں۔ نہ کہ بلا‌وجہ آلودگی پھیلائیں یا آلودگی پھیلانے کے خلاف ان قوانین کو نافرمانی سے نظرانداز کریں جو حکومتیں نافذ کرتی ہیں۔ یہ انکی مدد کرتی ہے کہ لاپرواہی سے چیزیں ضائع کرنے، خودغرضی، اور کاہلی کا رجحان اپنانے سے گریز کریں جو کہ گندگی پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ دوسروں کی ملکیت کیلئے احترام کو فروغ دینے سے یہ دیواروں پر لکھنے کو اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کے طور پر، بے‌ضرر تفریح کے طور پر، یا متبادل فنکاری کی ایک قسم کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیتی ہے۔ یہ تقاضا کرتی ہے کہ گھر، کاریں، کپڑے، اور بدنوں کو صاف ستھرا رکھا جائے۔—‏مقابلہ کریں یعقوب ۱:‏۲۱‏۔‏

ایسے لوگوں کی بابت جو اس نئی انسانیت کو پہننے کیلئے تیار نہیں کیا اپنی آنے والی فردوس میں انکو زندگی سے محروم رکھنے کیلئے خدا پر الزام لگایا جا سکتا ہے؟ بمشکل ہی۔ کوئی بھی جس کے دل یا ذہن میں ابھی تک آلودہ کرنے کی رغبتیں چھپی ہوئی ہیں وہ اس زمینی سیارے کی بحال‌شدہ فردوسی خوبصورتی کیلئے ایک خطرہ ہوں گی اور ان سب کیلئے جو انہیں برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں یہ نہایت غم کا باعث ہوگا۔ خدا کا یہ فیصلہ کہ ”‏زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ کیا جائے“‏ راست اور پرمحبت بھی ہے۔—‏مکاشفہ ۱۱:‏۱۸،‏ ۲۱:‏۸‏۔‏

سرگرم شمولیت؟‏

تاہم، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مسیحیوں سے آلودگی کے خلاف یا صفائی کے اقدام کو فروغ دینے کا تقاضا کیا جاتا ہے؟‏

بلا‌شُبہ آلودگی صحت اور تحفظ‌عوام کیلئے نقصان‌دہ ہے۔ ایسے معاملات کیلئے یہوواہ موزوں فکر رکھتا ہے جیسے کہ ہم ان قوانین سے دیکھ سکتے ہیں جو اس نے اسرائیلیوں کو دئے۔ (‏خروج ۲۱:‏۲۸-‏۳۴، استثنا ۲۲:‏۸، ۲۳:‏۱۲-‏۱۴)‏ لیکن اس نے ان کو یہ ہدایت کبھی نہیں دی کہ دوسرے لوگوں کو عوامی تحفظ جیسے معاملات کیلئے ترغیب دیں، نہ ہی پہلی صدی کے مسیحیوں کو کبھی ایسا کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔‏

آجکل، ماحولیاتی معاملات بڑی آسانی سے سیاسی معاملات بن سکتے ہیں۔ دراصل، بعض سیاسی پارٹیاں تو بالخصوص ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے ہی تشکیل دی گئی ہیں۔ ایک مسیحی جو سیاسی نقطہءنظر سے خود کو کسی بھی طرفین سے متاثر ہونے دیتا ہے وہ پھر سیاسی طور پر غیرجانبدار نہیں رہتا۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کیلئے یہ اصول وضع کیا:‏ ”‏جس طرح میں دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔“‏ ایک مسیحی جو اس تقاضے کو نظرانداز کرتا ہے وہ ”‏اس جہان .‏.‏.‏ اور اس جہان کے نیست ہونے والے سرداروں“‏ کا ساتھی بن جانے کے خطرے میں ہے۔—‏یوحنا ۱۷:‏۱۶،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۶‏۔‏

یسوع نے اپنے زمانے کے تمام معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، اور نہ ہی اس نے اپنے شاگردوں کو ایسا کرنے کیلئے کہا۔ ان کیلئے اس کا حکم یہ تھا:‏ ”‏پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور .‏.‏.‏ بپتسمہ دو۔ اور انکو یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جنکا میں نے تم کو حکم دیا۔“‏ اس نے انہیں ماحولیاتی پالیسیوں کی بابت کوئی حکم نہیں دیا تھا۔—‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

ایک مسیحی کی زندگی میں کس چیز کو اولیت دی جانی چاہیے اس کی وضاحت کرتے ہوئے، مسیح نے کہا:‏ ”‏بلکہ تم پہلے اسکی بادشاہی اور اسکی راستبازی کی تلاش کرو۔“‏ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ جب یہوواہ، مسیحائی بادشاہت کے ذریعے، عالمی پیمانے پر اپنے راست اصولوں کو نافذ کریگا تو ماحولیاتی مسائل سب کے اطمینان کیلئے مستقل طور پر حل ہو جائینگے۔‏

پس، یہوواہ کے گواہ ایک متوازن موقف رکھتے ہیں۔ رومیوں ۱۳:‏۱-‏۷ کے پیش‌نظر، یہ حکمیہ بات ہے کہ وہ ایمانداری سے ماحول سے متعلق حکومتی قوانین کی تابعداری کریں۔ مزیدبرآں، پڑوسی کیلئے خدائی محبت بھی انہیں اسکو خراب کرنے اور غیردانشمندی سے گندگی ادھر ادھر بکھیرنے سے گریز کرتے ہوئے، دوسروں کی ملکیت—‏عوامی یا ذاتی—‏کیلئے احترام ظاہر کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ لیکن واضح طور پر انہیں دنیاوی صفائی کے اقدام میں پیشوائی کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ وہ مناسب طور پر پہلا درجہ خدا کی بادشاہت کے پیغام کی منادی کو دیتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ سب سے زیادہ ابدی بھلائی کا طریقہ یہی ہے۔‏

ایک روحانی صفائی

قدیم اسرائیلیوں کو بار بار زمین کو خون بہانے سے، ایک بداخلاق طرززندگی اختیار کرنے سے یا مقدس چیزوں کیلئے احترام نہ ظاہر کرنے سے آلودہ کرنے کے نتائج کے خلاف آگاہ کر دیا گیا تھا۔ (‏گنتی ۳۵:‏۳۳،‏ یرمیاہ ۳:‏۱، ۲،‏ ملاکی ۱:‏۷، ۸)‏ نہایت اہم طور پر، انہیں اس روحانی آلودگی کی وجہ سے ہی رد کیا گیا تھا نہ کہ کسی جسمانی آلودگی کی بنا پر جس کے شاید وہ قصوروار ہوئے ہونگے۔‏b

اسلئے، یہ روحانی آلودگی یا ناپاکی ہی ہے جس سے کہ آج کل اولین طور پر ایک مسیحی گریز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ”‏نئی انسانیت“‏ کو پہن لینے سے ایسا کرتا ہے جو کہ آلودہ کرنے والی رغبتوں کو دل اور ذہن سے جڑ سے ختم کر دیتی ہے۔ چار ملین سے زائد یہوواہ کے گواہ اس روحانی صفائی سے مستفید ہو رہے ہیں، اور اپنی صفوں میں مذہبی اور اخلاقی صفائی اور اسکے ساتھ ساتھ قابل‌ذکر جسمانی صفائی بھی حاصل کر رہے ہیں۔—‏افسیوں ۴:‏۲۲-‏۲۴‏۔‏

آج کل روحانی صفائی کی مہم کا وقت ہے۔ پوری زمین پر جسمانی صفائی کی مہم اسکے بعد مقررہ وقت پر ہوگی اور ہمارے گھر کو وہ آلودگی سے پاک فضا فراہم کرنے سے جس کا وہ مستحق ہے، کوڑے کرکٹ کا ایک عالمی ڈھیر بننے سے بچا لے گی۔—‏واعظ ۳:‏۱‏۔ (‏۴ ۲/۱۵ w۹۳)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a مشرقی یورپ کی ان سلسلہ‌وار کنونشنوں کی مفصل رپورٹ کیلئے اویک!‏ برائے دسمبر ۲۲، ۱۹۹۱ کو دیکھیں۔‏

b اسرائیلی خام دھات کو پگھلا کر صاف کرنے کے عمل سے واقف تھے۔ انکی تانبے کی بعض کانوں کے کھنڈرات ملے ہیں اور تانبے کو پگھلا کر ہیکل کیلئے سامان تیار کیا جاتا تھا۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏سلاطین ۷:‏۱۴-‏۴۶‏۔)‏ یہ بعیدازقیاس دکھائی دیتا ہے کہ دھوئیں، فضلہ، اور دھات کے فاضل مادہ کی شکل میں آلودگی پھیلائے بغیر اور شاید دیگر ضمنی اثرات کے بغیر ہی خام دھات کو پگھلانے کا کام کیا جاتا ہو۔ تاہم، بظاہر یہوواہ کسی حد تک اس کم آباد اور الگ تھلگ علاقے میں گندگی کو چھوٹے پیمانے پر برداشت کرنے کو رضامند تھا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں