فردوس یا کوڑے کرکٹ کا ڈھیر آپ کسے ترجیح دیتے ہیں؟
کسی نے بھی اسکو جو کچھ وہ تھا اس کے علاوہ اور کچھ نہ سمجھا ہوگا: ایک یورپی سیاح جسے آرام کی ضرورت تھی اور جو کہ ایک فردوسنما جزیرے پر دھوپ سے لطفاندوز ہونے کا مشتاق تھا۔ ساحلسمندر کی حدود مقرر کرنے والے ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو عبور کرتے ہوئے، وہ ناکارہ بوتلوں، ڈبوں، پلاسٹک کی تھیلیوں، چوینگ گم اور ٹافیوں کے کاغذوں، اخبارات، اور رسالوں کے کوڑے میں سے بڑی احتیاط کیساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ بظاہر جھنجلا کر، اس نے یہ سوچا کہ کیا واقعی یہی وہ فردوس ہے جس تک پہنچنے کیلئے وہ سفر کرکے آیا ہے۔
کیا آپ کو بھی کبھی ایسا تجربہ ہوا ہے؟ کیوں لوگ کسی فردوس میں چھٹی گزارنے کے خواب دیکھتے ہیں، لیکن جب وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں تو بظاہر اسے کوڑے کرکٹ کا ایک حقیقی ڈھیر بنا ڈالنے میں کوئی ضمیر کی خلش محسوس نہیں کرتے؟
صرف ”فردوس“ میں ہی نہیں
خوبصورتی، صفائی، اور صفائیپسندی کی یہ کھلمکھلا بےقدری ان ”فردوسی مقامات“ کے لئے معمولی بات نہیں جن کا رخ بہتیرے سیاح کرتے ہیں۔ جدید معاشرہ تقریباً ہر جگہ آلودگی سے بری طرح تنگ ہے۔ بیشمار کاروبار ٹنوں کے ٹن ردی پھینکنے سے بہت وسیع پیمانے پر آلودگی پیدا کرتے ہیں۔ نامناسب طور پر پھینکا گیا زہریلا کوڑا اور اچانک بکھرنے والا تیل زمین کے بڑے بڑے حصوں کو تباہ کرنے کی دھمکی ہے جو کہ انہیں زندگی کیلئے غیرموزوں بناتا ہے۔
جنگیں بھی آلودگی پھیلاتی ہیں۔ جبکہ دنیا دہشت میں تماشا دیکھتی تھی، ۱۹۹۱ کی خلیجفارس کی جنگ نے ایک اور رخ کا اضافہ کر دیا۔ جیسے کہ ایک یورپی اخبار نے اسے بیان کیا، عراقی فوجوں نے جان بوجھ کر تیل کے ۶۰۰ کنوؤں کو آگ لگا دی اور یوں کویت کو ”دوزخ کی ایک نبوتی رویا“ میں بدل کر رکھ دیا۔ جرمن رسالے گیو نے اس دوزخ کو ”انسانوں کے ہاتھوں پہلے کبھی نہ لائی گئی ایک بہت بڑی ماحولیاتی تباہی“ کا نام دیا۔
جنگ کے اختتام پر، فوراً ہی صفائی کی مہم شروع ہو گئی۔ تیل کے جلتے ہوئے کنوؤں کو بجھانے ہی میں کئی مہینوں کی انتھک محنت درکار تھی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے رپورٹ دی کہ ہو سکتا ہے کویت میں یہ اضافی آلودگی وہاں پر موت کی شرح میں ۱۰ فیصد اضافے کا باعث بنے۔
کم خطرناک مگر بیحد پریشانکن
وسیع پیمانے پر ماحولیاتی آلودگی کی ہر نمایاں اور سنگین مثال کے لئے ہزاروں چھوٹی چھوٹی مثالیں ہوتی ہیں۔ ردی کے ڈھیر اور دیواروں پر لکھنے والے ”آرٹسٹ“ شاید کم خطرناک آلودگی پھیلانے والے دکھائی دیں لیکن وہ کسی حد تک زمینی سیارے کے ایک فردوس بننے کے امکان کو ختم کرنے میں مددگار ضرور ہیں۔
بعض مقامات پر تو دیواروں پر لکھنا اس قدر عام ہے کہ وہاں کے شہری ”دیواروں کی تحریروں کی طرف سے نابینا“ ہو گئے ہیں یعنی وہ ان پر اب بمشکل ہی کچھ دھیان دیتے ہیں۔ وہ زمیندوز ریل گاڑیوں پر، عمارتوں کی دیواروں پر، اور ٹیلیفون بوتھ پر نظر آتی ہیں۔ اب دیواروں پر لکھنا عوامی بیتالخلاؤں کی دیواروں تک ہی محدود نہیں۔
بعض شہر شکستہ اور متروک عمارتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ رہائشی علاقے گندے گھروں اور احاطوں سے داغدار ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی کاریں، ناکارہ مشینری اور کاٹ کباڑ کا ملبہ ان کھیتوں میں بکھرا پڑا ہے جو کہ بصورتدیگر دلکش طور پر دکھائی دے سکتے تھے۔
بعض حلقوں میں لوگ گندے اور آلودہ جسموں کی بابت بھی بےفکر دکھائی دیتے ہیں۔ لباس اور بننے سنورنے میں ڈھیلی ڈھالی وضع کی نمودونمائش کرنا نہ صرف قابلقبول بلکہ فیشنایبل بھی ہو سکتی ہے۔ وہ جو صفائی اور صفائیپسندی کی قدر کرتے ہیں انہیں بالکل ہی دقیانوسی خیال کیا جاتا ہے۔
کیا ہی بڑا کام!
ہمارے زمینی گھر کے ساحلوں، جنگلوں، اور پہاڑوں کو ایسی فردوس میں تبدیل کرنے کیلئے کیا ہی بڑی صفائی کی مہم درکار ہوگی جس کی تصویرکشی سیاحوں کے رسالوں کے خوبصورت سرورق پر کی گئی ہوتی ہے۔—اس کے علاوہ شہروں، قصبوں، اور کھیتوں اور خود لوگوں کے لئے تو نہ جانے کیا کیا کرنا پڑے گا!
مذکورہبالا سیاح اسی دن بعد میں اس علاقے میں صفائی کرنے والے ایک گروہ کو دیکھ کر بیحد خوش تھا جو کہ کوڑے کے ڈھیر کو ہٹا رہا تھا۔ تاہم، وہ ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑے، بوتلوں کے ڈھکنے، ٹین کے ڈبوں کے ڈھکنے اور سگریٹ کے بیشمار ٹکڑے تو پیچھے ہی چھوڑ گئے تھے۔ پس صفائی کے بعد بھی، اس بات کا کافی ثبوت تھا کہ یہ زمینی قطعہ فردوس کی بجائے ایک کوڑے کرکٹ کا ڈھیر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
زمینی سیارے کو ایک عالمگیر کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بننے سے بچانے کیلئے ایک وسیع صفائی ان تباہکاریوں کے نامونشان سے نجات حاصل کرنے کا تقاضا کرے گی۔ کیا اس کے کوئی امکانات ہیں کہ ایسی صفائی رونما ہوگی؟ اگر ایسا ہے تو کیسے؟ کون اسے کریگا؟ کب؟ (۳ ۲/۱۵ w۹۳)