بائبل وقتوں میں تلیم
”اور تم ان کو اپنے لڑکوں کو سکھانا۔“—استثنا ۱۱:۱۹۔
۱. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ اپنے خادموں کی تلیم میں دلچسپی رکھتا ہے؟
یہوواہ عظیم ملم ہے۔ اس نے اپنے خادموں کو جہالت کی حالت میں کبھی نہیں چھوڑا۔ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ علم بانٹنے کو رضامند رہا ہے۔ وہ انہیں اپنی مرضی اور راہوں کی تلیم دیتا ہے۔ اسکا اکلوتا بیٹا انگنت ہزاروں سالوں سے زیادہ عرصہ سے اسکے ساتھ تھا، اور خدا کے ”ماہر کاریگر کی مانند“ اس سے مسلسل سیکھتا رہا تھا۔ (امثال ۸:۳۰) جب یسوع زمین پر تھا تو اس نے بیان کیا: ”جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔“ (یوحنا ۸:۲۸) لاثانی ملم کے طور پر خدا کا ذکر کرتے ہوئے، الیہو نے پوچھا: ”کونسا استاد اسکی مانند ہے؟“ (ایوب ۳۶:۲۲) یسیاہ نبی نے یہوواہ کے اپنے لوگوں کا [”عظیم ملم“، NW] ہونے کے طور پر ذکر کیا اور پیشینگوئی کی: ”تیرے سب فرزند خداوند سے تلیم پائیں گے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔“ (یسیاہ ۳۰:۲۰، ۵۴:۱۳) مسلمہ طور پر، یہوواہ چاہتا ہے کہ اس کی ذیشور مخلوقات روشن خیال اور خوب تلیمیافتہ ہو۔
آبائی بزرگوں کی تلیم
۲، ۳. (ا) ایماندار آبائی بزرگوں نے اپنے بچوں کی تلیم کو کیسا خیال کیا، اور یہوواہ نے ابرہام کو کیا ہدایت دی؟ (ب) ابرہام کی اولاد کو تلیم دینے کی ہدایت کے پسپردہ کیا شاندار مقصد تھا؟
۲ آبائی بزرگوں کے وقتوں میں خاندانی سردار کے خاص بنیادی استحقاقات میں سے ایک اپنے بچوں کو اور اپنے گھرانے کو تلیم دینا تھا۔ خدا کے خادموں کیلئے اپنے بچوں کی تلیم ایک مذہبی فریضہ تھا۔ یہوواہ نے اپنے خادم ابرہام کی بابت کہا: ”کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹوں اور گھرانے کو جو اسکے پیچھے رہ جائینگے وصیت کریگا کہ وہ خداوند کی راہ میں قائم رہ کر عدل اور انصاف کریں تاکہ جو کچھ خداوند نے ابرہام کے حق میں فرمایا ہے اسے پورا کرے۔“—پیدایش ۱۸:۱۹۔
۳ یہ الہٰی بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہوواہ نے تلیم کو بہت اہم خیال کیا۔ خدا نے ابرہام، اضحاق، اور یقوب سے اپنے گھرانوں کو اسکے عدل اور انصاف کی راہوں کے مطابق تلیم دینے کا تقاضا کیا تاکہ مستقبل کی نسلیں یہوواہ کی راہ پر قائم رہنے کی حالت میں ہونگی۔ پس، یہوواہ ابرہام کی نسل اور ”زمین کی سب قوموں“ کی برکت کے سلسلے میں اپنے وعدوں کو پورا کریگا۔—پیدایش ۱۸:۱۸، ۲۲:۱۷، ۱۸۔
اسرائیل میں تلیمی نظام
۴، ۵. (ا)کس چیز نے اسرائیل کے تلیمی نظام کو دوسری قوموں سے فرق بنا دیا؟ (ب) انسائیکلوپیڈیا جوڈیکا میں اور کس اہم فرق کا خاکہ بیان کیا گیا ہے، اور بلاشُبہ کس چیز نے اس فرق کی ماونت کی؟
۴ انسائیکلوپیڈیا جوڈیکا بیان کرتا ہے: ”قدیم اسرائیل میں تلیمی طریقہکار کو سمجھنے کیلئے بائبل ہی سب سے اولین ذریہ ہے۔“ یہوواہ نے موسی کو اسرائیل کے پہلے انسانی استاد کے طور پر استمال کیا۔ (استثنا ۱:۳، ۵، ۴:۵) موسی نے یہوواہ کی طرف سے دئے ہوئے سخن کو آگے منتقل کیا۔ (خروج ۲۴:۳) پس حقیقت میں خدا اسرائیل کا اولین ملم تھا۔ اس چیز نے بذاتخود اسرائیل کے تلیمی نظام کو دیگر اقوام کے نظام سے فرق کر دیا۔
۵ وہی حوالہجاتی کتاب بیان کرتی ہے: ”مسوپتامیہ اور مصر میں اعلی تلیم اور کتابی علم رسمی تھا اور فقیہانہ جماعت تک محدود تھا، ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ اسرائیل میں ایسا ماملہ رہا ہو۔ بلاشُبہ یہ فرق تحریر کے سادہ ابجدی نظام کی وجہ سے تھا جسے عبرانی استمال کرتے تھے۔ . . . تلیم کی تاریخ کیلئے ابجدی تحریر کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ مصر، مسوپتامیہ، اور دوسرے عہدہزار سالہ کے کنان کی روایتی فقیہانہ تہذیبوں سے علیٰحدگی کا دور لے آیا۔ پڑھا لکھا ہونا اب ان فقیہوں اور کاہنوں کی پیشہوارانہ جماعت ہی کی مخصوص اور شناخت کرانے والی خصوصیت نہ رہی، جو پیچیدہ اسوری خط میخی اور مصری خط تصویری کی دستی تحریروں میں ماہر تھے۔
۶. کونسی بائبلی شہادت موجود ہے کہ اپنی تاریخ کے شروع ہی سے اسرائیلی پڑھے لکھے لوگ تھے؟
۶ بائبل ثبوت مہیا کرتی ہے کہ اسرائیلی پڑھے لکھے لوگ تھے۔ ملک موعود میں داخل ہونے سے پہلے ہی، انہیں یہوواہ کے آئین کو اپنے گھر کی چوکھٹوں اور پھاٹکوں پر لکھنے کیلئے کہہ دیا گیا تھا۔ (استثنا ۶:۱، ۹، ۱۱:۲۰، ۲۷:۱-۳) اگرچہ یہ حکم بلاشُبہ علامتی تھا تو بھی یقینی طور پر ایک عام اسرائیلی کیلئے یہ کوئی منی نہ رکھتا اگر وہ لکھنا اور پڑھنا نہ جانتا ہوتا۔ یشوع ۱۸:۹ اور قضاہ ۸:۱۴ جیسے صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے بہت پہلے کہ اسرائیل میں شہنشاہیت قائم ہوئی موسی اور یشوع جیسے لیڈروں کے علاوہ دوسرے بھی لکھنا جانتے تھے۔—خروج ۳۴:۲۷، یشوع ۲۴:۲۶۔
تلیم دینے کے طریقے
۷. (ا)صحائف کے مطابق، اسرائیلی بچوں کو بنیادی تلیم کون دیتا تھا؟ (ب) ایک فرانسیسی بائبل عالم نے کیا ملومات دی ہیں؟
۷ اسرائیل میں، بچوں کو بہت چھوٹی عمر ہی سے ماں اور باپ دونوں کی طرف سے سکھایا جاتا تھا۔ (استثنا ۱۱:۱۸، ۱۹، امثال ۱:۸، ۳۱:۲۶) فرانسیسی دکسیونئیر دے لابیبل میں، بائبل عالم ای۔ مونگژنو نے لکھا: ”جونہی وہ بولنے کے قابل ہوتا تو بچہ شریت سے چند ایک اقتباس سیکھ لیتا۔ اسکی ماں اسکے سامنے ایک آیت دہراتی، جب وہ اسے جان لیتا تو وہ اسے ایک اور دیتی۔ بد میں آیات کا تحریری مسودہ بچوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا جسے وہ پہلے ہی زبانی دہرا سکتے تھے۔ یوں انہیں پڑھائی سے روشناس کرایا جاتا تھا اور جب وہ بڑے ہو جاتے تھے تو وہ خداوند کی شریت کو پڑھنے اور اس پر غوروفکر کرنے سے اپنی مذہبی تلیم کو جاری رکھ سکتے تھے۔“
۸. (ا)اسرائیل میں کونسا بنیادی تلیمی طریقہ استمال کیا گیا تھا، لیکن کس اہم خصوصیت کیساتھ ؟ (ب) یادداشت کیلئے کونسی امدادی چیزیں استمال ہوتی تھیں؟
۸ یہ تجویز کرتا ہے کہ تلیم دینے کا ایک بنیادی طریقہ جو استمال ہوتا تھا وہ چیزوں کو زبانی یاد کرنا تھا۔ یہوواہ کی شریت اور اپنے لوگوں کیساتھ اسکے برتاؤ سے متلق سیکھی ہوئی باتوں کو دل میں سما جانا تھا۔ (استثنا ۶:۶، ۷) ان پر غوروفکر کی جانی تھی۔ (زبور ۷۷:۱۱، ۱۲) یاد کرنے میں بوڑھوں اور جوانوں کی مدد کرنے کیلئے یادداشت کی کئی امدادی چیزیں استمال کی جاتی تھیں۔ ان میں ابجدی توشیحات، ایک زبور میں مختلف حرف کیساتھ شروع ہونے والے مسلسل مصرعے، ابجدی ترتیب (جیسے کہ امثال ۳۱:۱۰-۳۱)، تجینس (ایک ہی حرف یا آواز کیساتھ شروع ہونے والے الفاظ )، اور اعداد کا استعمال شامل تھا جیسے کہ ۳۰ باب کے دوسرے نصف حصے میں استمال ہوئے ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ گیزر کیلنڈر، قدیم عبرانی تحریر کے نہایت پرانے نمونوں میں سے ایک کو بض عالموں نے سکول جانے والے بچے کی زبانی یاد کرنے کی مشق خیال کیا ہے۔
نصاب
۹. (ا)کونسی چیز اسرائیلی بچوں کیلئے مطالے کے پروگرام کا اہم حصہ تھی؟ (ب) سالانہ تہواروں کے سلسلے میں دی جانے والی تلیم کی بابت ایک بائبل انسائیکلوپیڈیا کیا بیان کرتا ہے؟
۹ اسرائیل میں تلیم پڑھنا اور لکھنا سیکھنے تک محدود نہ تھی۔ سکھایا جانے والا ایک ضروری مضمون تاریخ تھا۔ اپنے لوگوں کی حمایت میں یہوواہ کے عجیبوغریب کاموں کی بابت سیکھنا نصاب کا ایک بنیادی حصہ تھا۔ ان تاریخی حقائق کو نسلدرنسل سکھایا جانا تھا۔ (استثنا ۴:۹، ۱۰، زبور ۷۸:۱-۷) سالانہ تہواروں کے منائے جانے نے خاندانی سردار کیلئے اپنے بچوں کو سکھانے کا عمدہ موقع مہیا کیا۔ (خروج ۱۳:۱۴، احبار ۲۳:۳۷-۴۳) اس سلسلے میں دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”گھر میں والد کی ہدایت اور تہواروں کی اہمیت کی بابت اسکی تشریحات کے ذریے عبرانی بچوں کو سکھایا گیا تھا کہ خدا نے خود کو ان پر ماضی میں کسطرح ظاہر کیا، انہیں حال میں کیسے رہنا تھا، اور اسکے لوگوں کے مستقبل کے سلسلے میں خدا کے وعدے کیا تھے۔“
۱۰. کونسی عملی تربیت دی جاتی تھی، لڑکیوں کو؟ لڑکوں کو؟
۱۰ والدین کی طرف سے تلیم میں عملی تربیت شامل تھی۔ لڑکیوں کو خانگی مہارتیں سکھائی جاتی تھیں۔ امثال کا اختتامی باب ظاہر کرتا ہے کہ وہ متعدد اور طرح طرح کی بھی تھیں، ان میں دھاگہ کاتنا، بننا، کھانا انکے والد کا دنیاوی پیشہ سکھایا جاتا تھا، خواہ وہ کھیتیباڑی ہوتا یا کوئی دستکاری یا کاریگری۔ بد کے وقتوں میں یہ کہنا یہودی ربیوں کا دستور تھا: ”جو اپنے بیٹے کو کوئی مفید کام نہیں سکھاتا وہ اسکی ایک چور بننے کیلئے پرورش کر رہا ہے۔“
۱۱. اسرائیل میں تعلیم کے بنیادی مقصد کو کیا چیز ظاہر کرتی ہے، اور اس میں آجکل کے نوجوانوں کے لئے کیا سبق شامل ہے؟
۱۱ اسرائیل میں تلیم دینے کے جو طریقے استمال ہوئے انکی روحانی گہرائی امثال کی کتاب کے ہر حصے سے ظاہر ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ [”ناتجربہ کاروں“، NW] کو ایسی بلندپایہ باتیں جیسے حکمت، تربیت، فہم، بصیرت، عدل، ہوشیاری، علم، اور استدلال—یہ سب کچھ ”خداوند کے خوف“ میں سکھانا مقصود تھا۔ (امثال ۱:۱-۷، ۲:۱-۱۴) یہ ان محرکات کو نمایاں کرتا ہے جنہیں آجکل خدا کے خادموں کو اپنی تلیم کو بہتر بنانے کی تحریک دینی چاہیے۔
کاہن، لاوی، اور انبیا
۱۲. اسرائیل میں والدین کے علاوہ تلیم دینے میں کس نے حصہ لیا، اور عبرانی کے جس لفظ کا ترجمہ ”شریت“ کیا گیا ہے اس کا بنیادی مطلب کیا ہے؟
۱۲ جبکہ بنیادی تلیم والدین کے ذریے فراہم کی گئی تھی تو بھی یہوواہ نے اپنے لوگوں کو کاہنوں، غیر کہانتی لاویوں، اور نبیوں کے ذریے مزید تلیم دی۔ لاوی کے قبیلے پر اپنی آخری برکت میں، موسی نے بیان کیا: ”وہ یقوب کو تیرے احکام اور اسرائیل کو تیری شریت سکھائینگے۔“ (استثنا ۳۳:۸، ۱۰) پرمنی طور پر، لفظ ”شریت“ عبرانی میں (تورہ) اس مصدر سے حاصل کیا گیا ہے جو اپنے فل کی شکل میں ”دکھا نے،“ ”سکھانے،“ ”ہدایت کرنے“ کے منی رکھتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا جوڈیکا بیان کرتا ہے: ”پس لفظ [تورہ] کا مطلب ”تلیم،“ ”عقیدہ،“ یا ”ہدایت“ ہے۔
۱۳. اسرائیل کی شریت دوسری اقوام کے قانونی نظاموں سے کیوں مختلف تھی؟
۱۳ اس بات نے بھی اسرائیل کو دیگر اقوام اور یہانتک کہ جدید زمانے کی اقوام سے الگ کر دیا۔ آجکل سیاسی قومیں مجموعہقانون رکھتی ہیں جسکی بابت عام لوگ صرف تھوڑا سا علم رکھتے ہیں۔ جب لوگوں کا قانون سے تصادم ہو جاتا ہے تو انہیں وکلا کو بھاری ماوضے ادا کرنے پڑتے ہیں تاکہ ان کا دفاع کریں۔ قانون کی درسگاہیں ماہرین کیلئے ہیں۔ تاہم، اسرائیل میں شریت اپنے لوگوں کو یہ بتانے کا خدائی ذریہ تھی کہ وہ ان سے کس طریقے سے اپنی پرستش کرانا اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرانا چاہتا تھا۔ دیگر قانونی ضوابط کے برعکس، اس میں خدا اور پڑوسی کیلئے محبت شامل تھی۔ (احبار ۱۹:۱۸، استثنا ۶:۵) شریت سردمہر تحریری قانون کی کتاب ہونے سے کہیں بید تھی۔ اس نے ایک طرززندگی میں عقیدہ، تلیم، اور ہدایت فراہم کی جسے سیکھنا لازم تھا۔
۱۴. یہوواہ کے لاویوں کی کہانت کو رد کر دینے کی ایک وجہ کیا تھی؟ (ملاکی ۲:۷، ۸)
۱۴ جبتک کاہن اور لاوی وفادار رہے، انہوں نے لوگوں کو تلیم دینے کی اپنی ذمہداری کو پورا کیا۔ لیکن اکثروبیشتر کاہنوں نے قوم کو تلیم دینے کی اپنی ذمہداری کو نظرانداز کیا۔ خدا کی شریت کی تلیم میں یہ کمی کاہنوں اور لوگوں دونوں کیلئے بہت برے نتائج حاصل کرنے کا سبب بنی تھی۔ آٹھویں صدی ق.س.ع. میں یہوواہ نے پیشینگوئی کی: [”میرے لوگ یقیناً خاموش کرا دئے جائینگے، کیونکہ کوئی مرفت نہیں ہے، NW] چونکہ تو نے مرفت کو رد کیا اسلئے میں بھی تجھے رد کرونگا تاکہ تو میرے حضور کاہن نہ ہو اور چونکہ تو اپنے خدا کی شریت کو بھول گیا ہے اسلئے میں بھی تیری اولاد کو بھول جاؤنگا۔“—ہوسیع ۴:۶۔
۱۵. (ا)کاہنوں کے علاوہ، یہوواہ نے اسرائیل میں استادوں کے طور پر کن کو برپا کیا، اور ایک بائبل عالم نے ملموں کے طور پر ان کے کردار کی بابت کیا لکھا؟ (ب) انجامکار یہوواہ کی مرفت اور اس کی راہوں کو رد کرنے کی وجہ سے اسرائیل اور یہوداہ کے ساتھ کیا واقع ہوا؟
۱۵ یہوواہ نے کاہنوں کیساتھ ساتھ نبیوں کو بھی ملموں کے طور پر برپا کیا۔ ہم پڑھتے ہیں: ”خداوند سب نبیوں اور غیببینوں کی مرفت اسرائیل اور یہوداہ کو آگاہ کرتا رہا کہ تم اپنی بری راہوں سے باز آؤ اور اس ساری شریت کے مطابق جسکا حکم میں نے تمہارے باپدادا کو دیا اور جسے میں نے اپنے بندوں نبیوں کی مرفت تمہارے پاس بھیجا ہے میرے احکاموآئین کو مانو۔“ (۲-سلاطین ۱۷:۱۳) ملموں کے طور پر نبیوں کے کردار کی بابت، فرانسیسی بائبل عالم رولان داوہ نے لکھا: ”نبیوں کے پاس بھی لوگوں کو ہدایت دینے کا کام تھا، یہ مستقبل کی بابت پیشبینی کرنے کے طور پر ان کے کام کا یکساں حصہ تھا۔ اور نبوتی الہام نے انکی منادی کو خدا کے کلام کی سند دی۔ یہ یقینی بات ہے کہ شہنشاہیت کے تحت، نبی لوگوں کے مذہبی اور اخلاقی استاد تھے، اور ہم اضافہ کر سکتے ہیں، کہ اگرچہ انکی بات پر زیادہ دھیان نہ بھی دیا گیا تو بھی وہ انکے سب استادوں میں سے بہترین تھے۔“ کاہنوں اور لاویوں کی طرف سے صحیح تلیم کی کمی اور یہوواہ کے نبیوں کی بات سننے میں ناکامی کے باعث، اسرائیلیوں نے یہوواہ کی راہوں کو چھوڑ دیا۔ سامریہ نے ۷۴۰ ق.س.ع. میں اسوریوں سے شکست کھائی، اور یروشلیم اور اسکی ہیکل ۶۰۷ ق.س.ع. میں بابلیوں کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔
اسیری کے دوران اور اسکے بد تلیم
۱۶، ۱۷. (ا)دانیایل اور اسکے تین ساتھیوں پر کس تلیمی پروگرام کو مسلّط کیا گیا تھا؟ (ب) کس چیز نے انہیں اس بابلی تلیم کی مشکلات میں سے گزرنے اور پھر بھی یہوواہ کے وفادار رہنے کے قابل بنایا؟
۱۶ یروشلیم کی تباہی سے کوئی دس سال پہلے، نبوکدنضر بادشاہ، شاہ یہویاکین اور شہزادوں اور امرا کو اسیر کرکے بابل کو لے گیا تھا۔ (۲-سلاطین ۲۴:۱۵) ان میں دانیایل اور تین دوسرے نوجوان امرا شامل تھے۔ (دانیایل ۱:۳، ۶) نبوکدنضر نے ان چاروں کو ”کسدیوں کے علم اور . . . زبان“ کی تین سال کے خاص تربیتی کورس حاصل کرنے کا حکم دیا۔ اسکے علاوہ، انکے لئے ”شاہی خوراک میں سے اور . . . پینے کی مے میں سے روزانہ وظیفہ“ فراہم کیا گیا تھا۔ (دانیایل ۱:۴، ۵) یہ کئی وجوہات کی بنا پر امکانی طور پر خطرناک تھا۔ غالباً نصاب محض تین سالہ زبان کا کورس نہیں تھا۔ اس اقتباس میں ”کسدیوں“ کی اصطلاح کو بض نے ”بابلیوں کو بطور ایک قوم کے نہیں، بلکہ عالم فاضل جماعت“ خیال کیا۔ (دی سونسینو بکس آف دی بائبل) دانیایل پر اپنی کمنٹری میں، کے۔ ایف۔ کائل بیان کرتا ہے: ”دانیایل اور اسکے ساتھیوں کو کسدی پجاریوں اور عالم فاضل لوگوں کی حکمت میں تلیمیافتہ ہونا تھا، جسکی بابل کی درسگاہوں میں تلیم دی جاتی تھی۔“ خوراک کے شاہی وظیفے نے بھی انہیں موسی کی شریت کے ذریے عائدکردہ پرہیزی غذا کی پابندیوں کی خلافورزی کرنے کے خطرے میں ڈال دیا۔ انکا حال کیسا رہا؟
۱۷ چار جوان یہودی شرفا کے نمائندے کے طور پر، دانیایل نے شروع ہی سے واضح کر دیا کہ وہ اپنے ضمیر کی خلافورزی میں نہیں کھائیں یا پئیں گے۔ (دانیایل ۱:۸، ۱۱-۱۳) یہوواہ نے اس مضبوط موقف کو برکت دی اور بابلی سرکاری نگران کے دل کو نرم کر دیا۔ (دانیایل ۱:۹، ۱۴-۱۶) انکے تحصیلعلم کے سلسلے میں چاروں عبرانی نوجوانوں کی زندگیوں میں بد کے واقات یقینی طور پرثابت کرتے ہیں کہ بابلی تہذیب میں انکا تین سالہ لازمی نصاب یہوواہ اور اسکی پاک پرستش کیلئے انکی گہری وابستگی سے انکے منحرف ہونے کا سبب نہ بنا۔ (دانیایل، ۳ اور ۶ ابواب) یہوواہ نے انہیں اعلی بابلی تلیم کے مسلّط کردہ تین سالہ انہماک سے محفوظ نکلنے کے قابل کیا۔ ”خدا نے ان چاروں جوانوں کو مرفت اور ہر طرح کی حکمت اور علم میں مہارت بخشی اور دانیایل ہر طرح کی رویا اور خواب میں صاحبفہم تھا۔ اور ہر طرح کی خردمندی اور دانشوری کے باب میں جو کچھ بادشاہ نے ان سے پوچھا ان کو تمام فالگیروں اور نجومیوں سے جو اسکے تمام ملک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔“—دانیایل ۱:۱۷، ۲۰۔
۱۸. بابلی اسیری کے بد یہوداہ میں کونسا تلیمی پروگرام عمل میں لایا گیا تھا؟
۱۸ بابلی اسیری کے بد، تلیم کے ایک وسیع کام کو عزرا کاہن نے جاری رکھا جو ”آمادہ ہو گیا تھا کہ خداوند کی شریت کا طالب ہو اور اس پر عمل کرے اور اسرائیل میں آئین اور احکام کی تلیم دے۔“ (عزرا ۷:۱۰) اس سلسلے میں وفادار لاویوں نے اس کی مدد کی تھی جو ”لوگوں کو شریت سمجھاتے گئے۔“ (نحمیاہ ۸:۷) عزرا ایک بائبل عالم اور ”ماہر فقیہ،“ یا کاتب تھا۔ (عزرا ۷:۶) اسی کے دنوں میں ایسا ہوا تھا کہ فقہا نے ایک جماعت کے طور پر ممتاز حیثیت حاصل کر لی۔
ربیوں کی درسگاہیں
۱۹. جب یسوع زمین پر آیا تو اس وقت تک اسرائیل میں ملموں کی کونسی جماعت نمودار ہو چکی تھی، اور کن اہم وجوہات کی بنا پر اس نے اور اسکے شاگردوں نے اعلی یہودی تلیم حاصل نہ کی؟
۱۹ جس وقت تک زمین پر یسوع کا ظہور ہوا، فقیہہ استادوں کی ایک ممتاز جماعت بن چکے تھے، جو خدا کے کلام کی سچی تلیمات کی نسبت روایات سے زیادہ جڑے ہوئے تھے۔ وہ ”ربی“ کہلانا پسند کرتے تھے جو ایک تظیمی خطاب بمنی ”میری عظیم (اعلی) ہستی“ بن چکا تھا۔ (متی ۲۳:۶، ۷، فٹنوٹ، NW) مسیحی یونانی صحائف میں فقیہوں کو اکثر فریسیوں کے ساتھی ہی سمجھا گیا ہے، جن میں سے بض خود بھی شریت کے ملم تھے۔ (اعمال ۵:۳۴) یسوع نے دونوں گروہوں پر اپنی روایت اور ”انسانی احکام“ کی تلیم دینے کی وجہ سے خدا کے کلام کو باطل کرنے کا الزام لگایا۔ (متی ۱۵:۱، ۶، ۹) اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ نہ تو یسوع اور نہ ہی اس کے اکثر شاگردوں نے ربیوں کی درسگاہوں سے تلیم پائی تھی۔—یوحنا ۷:۱۴، ۱۵، اعمال ۴:۱۳، ۲۲:۳۔
۲۰. بائبل وقتوں میں تلیم کے اس جائزے نے ہم پر کیا ظاہر کیا ہے، اور کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ کے خادموں کو تلیم کی ضرورت ہے؟
۲۰ بائبل وقتوں میں تلیم کے اس جائزے نے ظاہر کر دیا ہے کہ یہوواہ اپنے لوگوں کا عظیم ملم ہے۔ خدا نے موسی کے ذریے اسرائیل میں ایک اثرآفریں نظامتلیم کو ترتیب دیا۔ لیکن ایک طویل مدت کے بد، ایک اعلی یہودی تلیمی نظام قائم ہو گیا جس نے خدا کے کلام کے برعکس باتوں کی تلیم دی۔ اگرچہ یسوع نے ایسی یہودی درسگاہوں سے تلیم نہیں پائی تھی، پھر بھی وہ ایک لاثانی استاد تھا۔ (متی ۷:۲۸، ۲۹، ۲۳:۸، یوحنا ۱۳:۱۳) اس نے اپنے شاگردوں کو بھی حکم دیا کہ دنیا کے خاتمے تک تلیم دیں۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) ایسا کرنے کیلئے انہیں اچھے استاد ہونا تھا اور انجامکار اسکے لئے تلیم درکار ہوگی۔ پس سچے مسیحیوں کو آجکل تلیم کو کیسا خیال کرنا چاہیے؟ اسی سوال کا جائزہ اگلے مضمون میں لیا جائیگا۔ (۱۰ ۱۱/۱ w۹۲)
یادداشت کا امتحان
▫ ہم کیونکر یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے خادموں کی تلیم میں دلچسپی رکھتا ہے؟
▫ کس لحاظ سے اسرائیل کا تلیمی نظام دوسری اقوام سے مختلف تھا؟
▫ اسرائیلی بچوں نے کیا تلیم حاصل کی؟
▫ اسرائیل میں سکھانے کیلئے کونسے طریقے استمال کئے جاتے تھے؟
▫ یسوع اور اس کے شاگرد اعلی تلیم کی یہودی درسگاہوں میں کیوں نہ گئے؟
[تصویر]
بابل میں لازمی تلیم نے دانیایل اور اس کے ساتھیوں کو یہوواہ سے منحرف نہ کیا